اچی۔ گچی۔ گو (قسط ۱۳) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زاہد عظیم

0

ہمارے ہوٹل کے لان میں سے ایک چھوٹی سی ندی شور مچاتی گزرتی تھی اور اسکا پانی بہت صاف اور یخ تھا۔ صبح اٹھ کر ہم نے اسی ندی پر ہاتھ منہ دھویا۔ چمکیلی نیلی صبح میں لدے پھندے سیبوں کے پیڑوں کے نیچے سبز مخملیں قالین جیسے نرم گھاس پر بیٹھ کر ہم کالاش کی فضاؤں میں تیرتے بادلوں اور ہوا کے ان دیکھے تالاب میں غوطہ زن ہونے والے پنچھیوںکو دیکھتے تھے اور چلم جوشت کی بہارکی خبر دینے والے ان طیور کے گیت بھی سنتے تھے جو ہمارے آس پاس کے گھنے درختوں میں نغمہ زن تھے۔

آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ زن
اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی

’’زمیں پر کیوں بیٹھا ہے صاحب، ادھر آؤ نا کرسیوں پر‘‘۔ ہمیں نیچے بیٹھا دیکھ کر طارق خان نے فوراََ میز کرسیاں بچھا دیں تھیں۔ اس کے نزدیک مہمانوں کا زمین پر بیٹھنا معیوب تھا۔ ہم کرسیوں پر بیٹھ تو گئے لیکن جو لطف ہم پہلے لے رہے تھے یہاں وہ میسر نہ تھا۔

جب تک ہم نے چائے پی، اظہار سامنے والی کھڑکی کے چاندکے ٹکڑے کے محافظوں سے ملاقات کر آیا۔ اس نے بتایا کہ موصوفہ اور اسکا خاوند جرمنی کے ڈاکٹرز ہیں اور یو این او کی طرف سے چترال میں افغان پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے ساتھ آنے والے محافظ افغانی نوجوان تھے۔ صبح سے ہی وہ تمام نوجوان کراٹے کی مشقیں اور کاتا کرتے رہے تھے۔ واجد تب سے اظہار کو چھیڑ رہا تھا کہ کالاشیوں سے تو بچ گئے ہو لیکن افغانوں سے ضرور پٹ جاؤ گے۔ اسی اثنا میں کہیں دور سے کالاشی گیت اور ڈھول کی آواز آئی، دور کے ڈھول تو سہانے ہوتے ہی ہیں دور کے گیت بھی سہانے لگ رہے تھے۔

میں ا ٹھا اور ایک نسبتاََ بلند جگہ سے دیکھا، ہمارے ہوٹل کے عقب میں کالاشی آبادی سے ذرا پہلے پہاڑی کی ڈھلوان کے ایک ہموار حصے پرکا لاشی نوجوان ڈھول بجا رہے تھے اور حسینائیں محوِ رقص تھیں۔ دور دور تک دکھائی دیتا تھاکہ لوگ اس مقام کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔

’’چلو بھئی تیاری کرو اس طرح تو دیر ہو جائے گی‘‘ شعیب نے اٹھتے ہوئے کہا۔

ہم سب لوگ تیار ہونے کو اپنے کمرے کی طرف لپکے۔

’’ناشتے کا کیا پروگرام ہے صاحب ؟‘‘ طارق خان نے ہمیں اٹھتے دیکھا تو پوچھا۔

’’فوراََ تیار کرو طارق خان، ہمیں دیر ہو رہی ہے۔ ‘‘ اظہار نے آرڈر دیا اور طارق خان کے ساتھ ہی کچن کی طرف چل دیا۔

ہم تیار ہو کر پھر لان میں آ بیٹھے۔ ہوٹل کے بیرونی گیٹ سے باہر بمبوریت کی بڑی سڑک گزرتی تھی اور اس پر اس وقت بہت رش تھا۔ لوگ تیزی سے کالاش آبادی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ بہت سے ملکی اور غیر ملکی سیاح گروہوں اور ٹولیوں کی صورت میں کالاش گاؤں کی طرف محوِ سفر تھے اور سب کیمرے اٹھائے، ہنستے کھیلتے چلے جا رہے تھے۔

’’لوگ کیسے بے خوف و خطر اُدھر جا رہے ہیں‘‘ واجد نے حسرت بھرے لہجے میں کہا۔ ’’خطرات سے بالکل بے خبر ہیں یہ‘‘ زبیر کا لہجہ بھی ویسا ہی تھا۔

’’اب تو تم ہمارے ساتھ جا رہے ہو نا اوپر رقص دیکھنے؟‘‘ واجد نے پھر پوچھا۔

’’ ہاں یار ! جاؤں گا۔ پھر معلوم نہیں کب ادھر آنا ہو۔ میں یہ منظر ایک بار پھر دیکھنا چاہتا ہوں، اپنے ذہن میں نقش کرنے کے لیے‘‘۔

زبیر ایک انجانی دنیا کے کسی منظر کو بیان کررہا تھا۔

اس کی نگاہیں شاید فضا میں تیرتے اُن گیتوں کو دیکھ رہی تھیں جو اُس ڈھلوان سے پھسل کر ایسے ہوا میں تیرنے لگتے تھے جیسے سمندری پرندوں کے بچے انڈوں سے نکل کر عمودی چٹانوں پر سے اپنی پہلی پرواز کرتے ہیں۔

’’میں خود جا کر دیکھتا ہوں، اتنی دیر کیوں لگا دی انہوں نے‘‘ شعیب بولتا ہوا اٹھا اور کچن کی طرف چل دیا۔

کالاشی گیتوں میں جوش و جذبہ بڑھتا جا رہا تھا اور اب گیتوں اور ڈھول کی آواز زیادہ واضح اور صاف سنائی دیتی تھی۔

کچھ ہی دیر میںناشتا آگیا اور سب نے پراٹھوں اور آملیٹ پر دھاوا بول دیا۔ ظاہر ہے شعیب کے کنٹرول میں چائے کی کیتلی تھی۔

’’جناب ہمیں شامل کیے بغیرناشتے ہو رہے ہیںــ‘‘۔ وحید صاحب کی آواز پر سب چونکے۔ وہ مسکراتے ہوئے پاس آ بیٹھے۔

’’آئیے جناب ! شروع کریں‘‘ زبیر نے ایک پلیٹ وحید صاحب کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔

’’شکریہ! میں تو گھر سے سیر ہو کر آیا ہوں۔ میرا خیال تھا آپ لوگ ابھی سو رہے ہوں گے، لیکن آپ تو تیار شیار ہو کر بیٹھے ہو۔ اصلی سیاح ہیں آپ لوگ‘‘ وحید صاحب بول رہے تھے۔

اصلی تو سلاجیت ہوتی ہے وحید صاحب جو گرم چشمہ کے پہاڑوں میں بہ بہ کر ضائع ہو رہی ہے۔ مجھے تو یہی احساس کھائے جا رہا ہے‘‘ اظہار نے متفکر ہو کر کہا۔

’’یہ بات تمہارے ذہن سے نہیں نکلتی۔ ایسے ہی ہلکان ہوتے رہنا‘‘ شعیب نے کہا۔

’’نکلے کیسے، ملک و قوم کا نقصان ہو رہا ہے اور کسی کو احساس ہی نہیں‘‘۔ اظہار کا لہجہ تحریکِ پاکستان کے کسی بزرگ کارکن جیسا تھا۔

’’ مسئلہ کیا ہے، کچھ مجھے بھی تو بتاؤ‘‘ وحید صاحب جب کچھ نہ سمجھے تو بولے۔

واجد نے گرم چشمہ کے سفر سے متعلق تمام رام کہانی سنا دی۔

’’اوہو! یہ فکر کی بات نہیں ہے جناب۔ آپ نے جو کچھ دیکھا وہ سلاجیت نہیں تھی۔ سلاجیت توقیمتی دوا ہے جہاں سے بھی نکلے، مقامی لوگ اسے حاصل کر لیتے ہیں کیونکہ یہ ان کا روزگار اور کاروبار ہے۔ آپ کو کسی نے غلط بتا دیا ہے۔ ‘‘ وحید صاحب نے تفصیل سے بتایا تو اظہار کو اطمینان ہوا۔

سب نے شعیب سے مانگ مانگ کر چائے پی۔ وحید صاحب بھی اس کارِخیر میں شامل ہوئے۔

’’ ناشتا تو میں گھر سے خوب کر کے آیا ہوں لیکن چائے تو جتنی بھی ملے پی لینی چاہیے‘‘ وہ کہہ رہے تھے۔

’’لیکن عادت نہیں ہونی چاہئے۔ اس کا نشہ نہیں پڑنا چاہییـ‘‘۔ وحید صاحب بول رہے تھے۔ میں سوچنے لگا کہ یہ نشہ کیا چیز ہے اور ا س کی لت انسان کو کیوں پڑ جاتی ہے۔

غور کریں تو کڑوی چیزیں انسان کو ہمیشہ سے نا پسند رہی ہیں۔ وہ کڑوی چیزو ں سے دور بھاگتا ہے لیکن نشہ ہوتا ہی کڑوی چیزوں کا ہے۔ چائے کا نشہ، چائے کڑوی۔ تمباکو کا نشہ، تمباکو کڑوا۔ شراب کا نشہ، شراب کڑوی، ہیروئین کا نشہ، ہیروئین کڑوی۔ گویا کڑوی چیزیں بھی انسان کو اپنا گرویدہ کر لیتی ہیں اور گرویدہ بھی ایسا کہ پھر انسان ان کے پیچھے پیچھے پھرتا ہے۔ انھی کا ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں اتنے میٹھے بھی نہ ہو جاؤ کہ لوگ ہپ ہپ کر کے کھا جائیں اور اتنے کڑوے بھی نہ ہو کہ لوگ تھو تھو کر کے تھوک دیں، مگر اس کڑواہٹ کا کیا کیا جائے جو لوگ تھوک نہیں سکتے بلکہ یہ خون تھکوا دیتی ہے۔ اس کڑواہٹ میں کوئی تو صفت ایسی ہے کہ اسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ یا پھر اسے یوں سمجھا جائے کہ اگر کڑوے ہی ہو تو کوئی صفت ایسی ضرور پیدا کر لو جس کی وجہ سے لوگ آپ کو چھوڑ نہ سکیں۔ آپ کے ہو جائیں تو پھر کہیں اور جانے کا نہ سوچ سکیں۔ خود میں کوئی تو ایسا نشہ ہو کہ آپکے ساتھ رہنے والا کہیں اور کا، کسی اور کا نہ رہے۔

’’اب دیکھ لو بھئی! وہ باہر آگئی ہے‘‘ اظہار نے سب کو مطلع کیا کہ سب دیوی کے درشن کر لیں۔ وہ جرمن ڈاکٹر ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہنے سامنے برآمدے میں کھڑی تھی۔ اظہار صبح سے اس کو دیکھ رہا تھااس لیے کہنے لگا،

’’آئی تھی تو تھل تھل کرتی تھی، اب جائے گی تو بھی تھل تھل کرے گی‘‘۔

اور بھی سب لوگ اسے دیکھ رہے تھے کہ کب تھل تھل ہو گی۔ وہ جرمنی کی بہت صحت مند اور پلی ہوئی حسینہ تھی۔ تھوڑا سا بھی ہلتی تو ایک ہلچل سی مچ جاتی۔ لگتا تھا دوسری جنگِ عظیم میں جرمن فوج کے حملے سے گھبرا کر اتحادی ایک دم ادھر اُدھر اوپر نیچے بھاگ کھڑے ہوئے ہیں۔ کچھ دیر بعد جب وہ اپنے کمرے میں جانے کے لیے مُڑی تو لڑائی میں شدت آ گئی اورجنگ ایک نئے میدان میں منتقل ہو گئی۔

’’اوئے انسان بنو ! تم نے سب کو کس چکر میں ڈالا ہوا ہے‘‘ زبیر اظہار پر برس پڑا۔

’’ مزے سارے لیتے ہو اور چڑھائی مجھ اکیلے پر۔ ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے‘‘ اظہار بولتا ہوا اٹھا اور کمرے میں چلا گیا۔

’’مجھے تو پریشر پڑ گیا ہے میں ٹوائیلٹ سے ہو کر آتا ہوں‘‘ شعیب اپنی جینز کی بیلٹ کھولتے ہوئے اٹھ کر چلا گیااور کچھ ہی دیر میں باہر آکر طارق خان کو ڈھونڈنے لگا۔ وہ بہت پریشان دکھائی دیتا تھا۔ جب وہ ایک دو بار ادھر سے اُدھر دوڑتا ہوا گیا تو واجد اُٹھ کر معاملہ سمجھنے اس کی طر ف چل دیا۔ پھر اسی طرح کبھی سارے ایک طرف جاتے اور کبھی دوسری طرف۔ اب تو طارق خان بھی ان کے ساتھ تھا۔

سب پہلے واش روم میں گئے پھر باہر نکلے اور کچھ دیر بعد طارق خان خالی شاپنگ بیگ اور ایک لمبا سا ڈنڈا لیے پھر واش روم میں چلا گیا۔ طارق خان پھر باہر آیا اور مزید شاپنگ بیگ او ر ایک چمٹا لے کر پھر واش روم میں چلا گیا۔ ابھی ہم حیرت سے سب معاملہ سمجھنے کی کوشش میں تھے کہ واجد آگیا۔ اس نے بتایا کہ شعیب کی رے بین کی عینک کموڈ میں گر گئی تھی۔ ا س نے کچھ بتائے بغیر طارق خان سے کموڈ کے سسٹم اور گہرائی کا پوچھا تو طارق خان نے بتایا کی ایک بڑے گڑھے پر کموڈ دائرکٹ فٹ کر دیا گیا تھا جبکہ گڑھے کی گہرائی اس نے بیس پچیس فٹ بتائی۔ طارق خان نے بتایا تھا کہ جو کچھ کموڈ میں جاتا ہے وہ سیدھا بیس فٹ نیچے گڑھے میں جا گرتا ہے۔ جب شعیب نے اسے بتایا کی اس کی دو ہزار کی عینک اس میں گر گئی ہے تو طارق خان بولا،

’’ اب یہ گڑھا بہت بھر چکا ہے، عینک بہت گہرائی میں نہیں گئی ہو گی‘‘۔

پھر ڈنڈے کی مدد سے اس گڑھے میں عینک ٹٹولی گئی تو معلوم ہواکہ عینک محض ڈیڑھ دو فٹ کی گہرائی میں موجود ہے۔ پھر ہاتھ اور بازوؤں پر شاپنگ بیگ چڑھا کر ایک چمٹے کی مدد سے عینک کی تلاش جاری تھی کہ اظہار شعیب کو تنگ کرنے واش روم کی طرف دوڑا۔ وہ ابھی باہر ہی تھا کہ شعیب چمٹے سے عینک پکڑے باہر آتا دکھائی دیا۔ عینک کوَر میں تھی جو اُس نے باہر آ کر لان میں سے گزرتی ندی میں پھینک دی اور پھر اپنے ہاتھ اور عینک دھونے لگا۔ طارق خان صابن اور تولیہ لے آیا اور خودوہ چمٹا دھونے لگا جس سے پکڑ کر عینک نکالی گئی تھی۔

’’یہ چمٹا تو پراٹھے پلٹنے والا ہے۔ اسی سے طارق خان تم صبح پراٹھے پکا رہے تھے۔ ‘‘ اظہار شور مچا رہا تھا۔

’’ توبہ توبہ صاحب ایسی بات نہ کرو۔ وہ چمٹا تو ابھی بھی توے پر پڑا ہے۔ یہ اور ہے۔ ‘‘ طارق خان صفائی پیش کرنے لگا۔

’’نہیں طارق خان اب ہم تمہارے پاس کھانا نہیں کھائیں گے‘‘ اظہار شور مچاتا رہا اور طارق خان صفائیاں پیش کرتا رہا۔ ہم سب ہنس رہے تھے۔ طارق خان نے اس کے بعد اظہار کو ساتھ لیا اور اسے پراٹھوں والا توا اور اس پر پڑا چمٹا دکھا کر اس کی تسلی کی۔

’’چلیں جی دیر ہو رہی ہے ‘‘ وحید صاحب نے روانگی کا بگل بجایا اور ہم سب اس راستے کی طرف چلے جو رقص گاہ کو جا تا تھا۔

وحید صاحب نے گزشتہ شام والا راستہ اختیار کیا اور زبیر کو کل والی جگہیں دکھاتے ہوئے رقص والی جگہ پر آ گئے۔

میں ایک ایسے بڑے پتھر کی اوٹ میں تھا جہاں سے ساری رقص گاہ نظر آتی تھی۔ اس جگہ سے میں کل والے کالاش لوگوں کو ڈھونڈتا رہا لیکن ان میں سے کوئی بھی نظر نہ آیا۔ رقص دیکھنے والوں میں وہ طلبا تو نظرآ رہے تھے جنہیں پروفیسر صاحب لائے تھے مگر وہ خود غائب تھے۔ ایک دو طلبا نے ہمیں دیکھا تو ہمارے پاس آگئے۔

’’ہاں یار تمہارا ماسٹر کہاں ہے‘‘ اظہار نے پوچھا۔

’’ کون! ہمارے سر؟‘‘ ایک لڑکے نے استفسار کیا۔

’’یہ آپ کے پروفیسر صاحب کا پوچھ رہا ہے‘‘ میں نے وضاحت کی۔

’’وہ تو اپنے ہی کسی چکر میں رہتے ہیں‘‘ لڑکے نے جواب دیا۔

’’ یار کمال چیز ہے تمہارا ماسٹر بھی۔ پہلے کالاش پہنچنے کا شور مچا رکھا تھا۔ اب کہیں نظر ہی نہیں آتا۔ ‘‘اظہار نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

’’سر وہ رات بہت دیر سے آئے تھے اور تھکے ہوئے تھے۔ بس آتے ہی سو گئے۔ آج بھی صبح سویرے کہیں نکل گئے، کہتے تھے میں رات کو دیر سے ہی واپس آؤں گا۔ ‘‘لڑکے نے جواب دیا۔

’’ویسے وہ جاتے کہاں ہیں‘‘ اظہار نے پھر پوچھا۔

’’معلوم نہیں۔ کہتے تھے ٹریکنگ کرنے جاتا ہوں‘‘لڑکا بولا۔

’’لیکن یہ رات کو کونسی ٹریکنگ ہوتی ہے‘‘ واجد بولا۔ ق

لڑکوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ہنسنے لگے۔

’’جو بندہ کئی سالوں سے بلا ناغہ ایک ہی علاقے میں آتا جاتا رہے تو اسے رات کی ٹریکنگ کا کوئی نہ کوئی راستہ مل ہی جاتا ہے۔ ‘‘ ایک لڑکے کے اس جملے کے بعد اظہار ذرا متفکر سا ہو کر شعیب سے بولا،

’’پروفیسر صاحب ٹھیک ہی کہتے تھے کہ اپنے گروپ کو چھوڑ کر مجھے جوائین کر لو، شاید مجھے بھی ٹریکنگ کا موقع مل جاتا‘‘۔

’’ اوئے الو کے پٹھے ! اب ماسٹر ایک لمحے میں پروفیسر ہو گیا ہے۔ تم تھالی کے بینگن ہی رہو گے یا انسان بھی بنو گے‘‘۔ واجد نے چلاکر کہا تو اظہار دوسری طرف منہ کر کے رقص دیکھنے لگا۔

پچھلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

اگلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: