مارے گئے جے: چھاپا! (قسط ۱۲) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زاہد عظیم

0

جب وہ آدمی پگڈنڈی پر پہنچا تووحید صاحب کی طر ف مڑ گیا جو حالات سے بے خبر تھے کہ ان کی پشت کی طرف کیا حالات ہیں۔ جیسے ہی وہ ادھر مڑا، زبیر نے اس کی طرف دوڑ لگا دی۔ اظہار بھی پیچھے پیچھے تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ حملہ کرتا، دونوں نے اسے جا لیا۔ اظہار نے اسے پکڑا اور زبیر نے وہ موٹی شاخ اس کے ہاتھ سے کھینچ لی۔ وحید صاحب بال بال بچ گئے ورنہ وہ اچانک پڑنے والے چھاپے سے زخمی ہو جاتے، ویسے بھی اچانک پڑنے والا چھاپا بہت نقصان دیتا ہے۔ اس کے باوجود بھی اس وزنی اور کانٹے دار چھاپے سے ان چاروں کو خراشیں آئیں۔

وہ شخص خود کو چھڑانے کے لیے زور لگا رہا تھا اور نجانے اونچی آواز میں کیا بول رہا تھا۔ وحید صاحب کو تو سمجھ ہی نہیں آئی کہ ہوا کیا تھا۔ اس شور شرابے سے نزدیکی باڑوں سے نکل کر کچھ اور لوگ بھی آنے لگے۔ وحید صاحب کو جب سمجھ آئی تو انہوں نے بھی غصے سے بولنا شروع کر دیا اور اس آدمی سے اسی کی زبان میں شدید لڑائی شروع کر دی۔ دوسرے لوگ جب پاس پہنچے تو ہم نے انہیں مسئلہ سمجھایااور لڑائی کو ٹھنڈا کرنے کے لیے نرم الفاظ میں بتایا کہ سب کچھ غلط فہمی کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔

وہ سب لوگ توٹھنڈے ہو گئے لیکن وحید صاحب کسی کی سننے کو تیار نہ تھے۔ وہ اپنا تعارف بھی کراتے اور دھمکیاں بھی دیتے جاتے۔ گاہے بگاہے وہ اپنا داماد ہونے کا رشتہ بتا کر بھی انہیں شرمندہ کر رہے تھے۔ مقامی لوگوں نے وحید صاحب کو پہچان کر معاملہ رفع دفع کرنے کی بہت کوشش کی مگر وحید صاحب چوتھے گیئر سے نیچے ہی نہیں اترتے تھے۔ کالاشی مرد کہہ رہا تھا کہ نیچے سے آنے والے لوگ ہماری بچیوں کی تصاویر بنانے کے لیے پیسے کی پیشکش بھی کرتے ہیں اور ہماری لڑکیوں کی غلط طور پرتشہیر کرتے ہیں۔ وحید صاحب کہہ رہے تھے کہ ہم ایسے نہیں اور اپنے بارے میں بتا رہے تھے کہ میں تو گھر کا آدمی تھا مجھے ہی مارنے آ گئے ہو۔

’’شکر کرو اس کا سٹیرنگ دوسری طرف گھوم گیا، اگر ہماری طرف آ جاتا تو بہت ٹھکائی ہونی تھی اور ہم تھے بھی نیچے والے ‘‘۔ واجد نے آہستہ سے کہا۔

’’ اور کھینچ بھی تصویر رہے تھے ‘‘۔ شعیب بولا۔

وحید صاحب کا پارا بہت ہائی تھا۔ وہ بول رہے تھے کہ میں برادری بھی اکٹھی کروں گا اور حکومتی سطح پر بھی معاملہ اٹھاؤں گا۔ اب سب لوگ ان کو منانے اور ٹھنڈا کرنے لگے۔ واجد اور زبیر نے انہیں الگ لے جا کر سمجھانا شروع کیا اور ان کی مجروح انا پر منت سماجت کا مرہم رکھا تو وہ نارمل ہوئے۔ صلح صفائی کے بعد سب لوگوں نے اپنی راہ لی۔ میں نے دیکھا وہ حسینہ پھر چھت پر موجود تھی اور اس کے ساتھ اس کی چار پانچ ہمجولیاں بھی موجود تھیں۔ اب اس کی نظروں میں نفرت اور بیزاری کی چبھن تھی اور اس کا دیکھنا دیکھا نہ جاتا تھا۔

مجھے ایسی بہت سی فلموں کے ڈراؤنے سین یاد آنے لگے جن میں اسی طرح کی حسینائیں اجنبی مسافروں کو بہلا پھسلا کر کسی ویران ٹھکانے پر لے جاتی ہیں اور پھر ان کی آنکھوں کی ساخت اور رنگت تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ ایک ڈائین یا بد روح بن کر اس اجنبی کا خون پی جاتی ہیںاور اسے مار دیتی ہیں۔

وہ لڑکی بھی اب ایک ظالم حسینہ نظر آتی تھی۔ کہاں وہ بار بار مڑ کر دیکھنا اور مسکرانا اور کہاں اب آنکھوں سے نکلتے شرارے اور انگارے!۔

ہم وحید صاحب کو ساتھ لیے ہوٹل کی طرف چل پڑے جو سارے راستے غصے کی حالت میں ہی بات کرتے تھے اور ہم سب باری باری انہیں ٹھنڈا کرتے تھے۔

شعیب نے شرمندگی میں ڈوبے اظہار کی طرف دیکھا

’’ تیرا مہرا تو سچ مچ پٹ گیا یار‘‘۔ وہ کچھ نہیں بولا۔

میں اظہار کو جانتا ہوں۔ اسے شرمندگی نہ مہرہ پٹنے کی تھی اور نہ ہی اس ناکامی پر کہ ہم تصاویر نہ بنا پائے بلکہ اس کا معصوم دل نہ صرف دکھا تھا بلکہ ٹوٹ گیا تھا۔ اسے کالاش سے اس رویے کی شاید امید نہ تھی۔ اس نے تھوڑے سے عرصے میں کالاش کو بہت زیادہ پسند کر لیا تھا۔

تھوڑے عرصے میں بہت پسند کر لینا بعض اوقات جان کا روگ بن جاتا ہے۔ دیکھنا تو یہ ہوتا ہے جسے آپ نے پسند کیا اس نے بھی آپ کو پسند کیا یا نہیں!؟۔

کالاش نے شاید اسے اتنا پسند نہیں کیا تھا جتنا اظہار نے اسے پسند کر لیا تھا۔

یہ بات کسی کو بھی معلوم نہیں ہوتی کہ وہ دوسرے کو جتنا پسند کر بیٹھا ہے، جتنا چاہتا ہے، اتنا اسے بھی چاہا جائے گا یا نہیں۔ اس سوال کا جوا ب اگر فوراََ مل جائے تو شاید محبت کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے۔ محبت کا تقاضا ہی یہ ہے کہ وارفتگی کی بارش بوند بوند برسے تا کہ محبت کا پودا ہرا بھرا رہے اور آہستہ آہستہ ایک گھنیرا تناور درخت بن جائے۔ اگر وارفتگی کی بارش جذبوں کی منہ زور ہواؤںکے ہاتھوں، طوفان کا روپ دھار لے تو محبت کا پودا اس سیلاب اور جھکڑ کا سامنا کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ ہوا اور پانی مناسب مقدار میں رحمت ہیں ان کی زیادتی زحمت بن جاتی ہے۔

طارق خان ہوٹل کے دروازے پر ہمارا منتظر تھا۔ ’’صاحب آپ کھانے کا بتا کر ہی نہیں گئیـ‘‘۔

’’طارق خان پہلے چائے پلاؤ پھر کچھ سوچتے ہیں‘‘ میں نے کہا اور فارن ٹورسٹ ان کے سبزہ زار میں پھلدار پودوں کی چھاؤں میں بچھی کرسیوں پر نیم دراز ہو گیا۔

وحید صاحب کا موڈ ابھی تک خراب تھا اور اسے ٹھیک کرنے کا ایک ہی طریقہ تھاکہ موضوع کو کالاش سے باہر منتقل کر دیا جائے۔

ـ’’کیا پارا چنار ریشم کے لیے بہت موزوں جگہ ہے؟‘‘ میں نے سوال کیا۔

’’بس ٹھیک ہی ہے۔ اصل مسئلہ تو علاقے کی ترقی کا ہے اور اس صنعت پر بہت زیادہ لاگت بھی نہیں آتی اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو جاتے ہیںـ‘‘۔ وحید صاحب کا موڈ ایک سوال سے ہی ٹھیک ہو گیا تھا۔ پھر انہوں نے دفتر کے بارے میں اور علاقے کی اب تک کی ترقی کے حوالے سے اعداد و شمار دینے شروع کر دیے۔ میرا مقصد پورا ہو گیا تھا اور وحید صاحب اب بہت ہلکے پھلکے ہو گئے تھے۔ ان کے چہرے کا تناؤ بھی شگفتگی میں بدل گیا تھا۔

’’صاحب دیکھو ذرا کیسی زبردست چائے لایا ہوں‘‘ طارق خان کی آواز میں بھی چائے کی تازگی جھلکتی تھی۔

اس نے میز پر برتن لگانے شروع کیے۔ کیتلی سے ایسی بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی کہ تھکاوٹ اترنے لگی۔ چائے کا رسیا شعیب بھلا کب چین سے بیٹھ سکتا تھا۔ اس نے فوراََ چائے کپوں میں ڈالنا شروع کی۔

’’ساتھ کچھ کھانے کو لاؤں صا حب ؟‘‘ طارق خان بہت مؤدب کھڑا تھا۔

’’نہیں خان صاحب ہم بہت کچھ کھا کر آ رہے ہیں‘‘ اظہار نے کہا۔ سب نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا۔ طارق خان کچھ جاننے کے لیے سب کے چہروں کو باری باری دیکھ رہا تھا۔

’’ لے آؤ خان ہم بسکٹ کھائیں گے‘‘ زبیر نے آرڈر دیا۔

’’ صبح ناشتا توڈٹ کر کیا تھا۔ ابھی بھوک لگ گئی ہے آپ لوگوں کو یار!؟‘‘اظہار بولا۔

وہ دوپہر کا کھانا گول کرنا چاہتا تھا لیکن سب اس کے پیچھے پڑ گئے۔

’’ تو ابھی تک بوکھلایا ہوا ہے ۔ تیری عقل تبھی ٹھکانے آتی جو تجھے چار پانچ اعلی درجے کی پڑ جاتیںـ‘‘ شعیب اسے چھیڑ تے ہوئے بولا۔

’’آپ لوگ چائے پی لیں پھر ہم اوپر کالاش آبادی میں ان کے گاؤں جائیں گے‘‘ وحید صاحب نے اعلان کیا۔ ہم سب کی نگاہیں وحید صاحب کے چہرے پر جم گئیںکہ وہ مذاق تو نہیں کر رہے تھے! اور وہ واقعی مذاق نہیں کر رہے تھے۔

’’ابھی کوئی کسر باقی رہ گئی ہیـــ‘‘ میں نے وحید صاحب سے پوچھا۔ ’’ ویسے بھی ان حالات کے بعد وہاں جانے میں لطف نہیں آئے گا‘‘۔

میرے خیالات سے وحید صاحب متفق نہیں تھے۔

’’کہیں اوپر جاتے جاتے بالکل ہی اوپر نہ چلے جائیں‘‘ میرے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے زبیر نے لقمہ دیا۔

’’ضروری تو نہیں کہ ہر جگہ ہر بار ایک سا سلوک ہی ہمارے ساتھ ہو‘، جو ہونا تھا ہو گیا‘‘ وحید صاحب نے اختلاف کرتے ہوئے کہا۔

’’میں تو کہیں نہیں جا رہا، آپ جاتے ہیں توجائیں‘‘ زبیر نے سختی سے کہا۔

’’ میں بھی شاید نہ جاؤں‘‘ اظہار بولا۔

’’اوپرتمہارے پروفیسرصاحب ملیںگے۔ ۔ ۔ سرگوشیاں۔ ۔ ۔ پروگرام۔ ۔ ۔ یہ۔ ۔ ۔ وہ۔ ۔ ۔ ‘‘ واجد اظہار کے زخموں پر نمک چھڑکنے لگا۔

’’او چھوڑ یار! وہ پروفیسر نہیں کوئی ماسٹر ہے بلکہ ماشٹرہے‘‘اظہار جل کر بولا۔

’’پہلے چترال میں ہمارا پروگرام الجھایا کہ بس ابھی فوراََ کالاش پہنچو۔ پھر جو ہوٹل لے کر دیا وہ بالکل صندوق تھا بلکہ اٹیچی کیس تھا۔ اور پھر اس کی غلط بیانیاں کہ کالاشی لڑکیاں پچاس روپے لے کر تصویر بنوا لیتی ہیں، میں نے تو سو روپے کی آفر کی پھر بھی بات نہیں بنیـ‘‘ وہ بولا۔

’’کیا ؟کیا؟۔ ۔ کیا کہا؟۔ ۔ پیسے ! تم نے پیسے دینے کی بات کی ؟۔ ۔ ۔ مطلب یہ کیاکہہ رہے ہو؟‘‘ میں نے حیرت اور غصے سے اظہار کی طرف دیکھا۔ اس کا رنگ اڑ گیا۔

’’زاہد بھائی اس وقت آپ آگے آگے تھے۔ ۔ میں نے تب ایک لڑکی سے بات کی تھی کی سو روپے لے لے اور تصویر بنوالے‘‘اظہار کی آواز میں شرمندگی اور خوف کی آمیزش تھی۔

’’تم بالکل احمق اور چوَل انسان ہو‘‘ زبیر نے چڑھائی کر دی۔

’تمہاری وجہ سے ہی یہ سب کچھ ہواہے اورہم صفائیاں پیش کرتے پھرتے ہیں۔ ‘‘

’’چلو جو ہونا تھا ہو گیا۔ ۔ آؤ سب چلیں کالاش کی سیر پر‘‘ شعیب نے ایک نعرہ مستانہ بلند کیا اوراپنا چائے کا کپ میز پر رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔

’’کیا بات ہے ! اب تمہاری چائے ٹھنڈی نہیں ہو رہی؟۔ کیتلی میں تو ابھی بہت سی چائے ہے‘‘ واجد نے شعیب کو چھیڑا۔

’’وقت وقت کی بات ہے، اٹھو یار وقت ضائع نہ کرو‘‘ شعیب کے اعلان پر سب اٹھے لیکن زبیر لیٹا رہا۔ وہ کسی طور بھی ہمارے ساتھ چلنے کو تیار نہ تھا۔ ۔ کچھ تھکن کی وجہ سے۔ ۔ کچھ پچھلے واقعے کی بوریت کی وجہ سے۔ ۔ اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ آئندہ کسی ایسے واقعے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ ۔ ۔ اسے کالاش سے بہت محبت ہو گئی تھی۔ وہ اس محبت کو ہمیشہ زندہ رکھنا چاہتا تھا۔ اس محبت کو عزت دینا چاہتا تھا لہٰذا اسکا ایک یہی طریقہ اسے سوجھا۔

اچھی یادوں کا پلڑا بہت بھاری تھا اور دوسرے پلڑے میں گزشتہ واقعے کا وزن پڑ گیا تھا۔ اگر ایک دو اور ایسی باتیں ہو گئیں تووہ جانتا تھا کہ اچھی یادوں والا پلڑا جوابھی تک زمین سے لگا ہوا تھاوہ ایسے اٹھے گا کہ پھر کبھی واپس نہیں آئے گا۔ تلخ یادیں کم بھی ہوں، ان کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے۔

’’چل بھئی اظہار! وہ دیکھ سامنے سے پروفیسر صاحب آرہے ہیں ـ‘‘ واجد نے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔ واقعی سامنے ہی پروفیسر صاحب اپنے کچھ طلبا کے ساتھ ہنستے کھیلتے آ رہے تھے۔

’’مجھے اس پروفیسر سے بچا لو یار!‘‘ اظہار نے واجد کے پیچھے چھپتے ہوئے کہا۔

’’آہا! تو پھر ملاقات ہو ہی گئی‘‘ پروفیسر صاحب بہت اچھے موڈ میں بات کرتے ہوئے ہمارے پاس آگئے۔

’’آپ رقص کے موقع پر نظر نہیں آئے‘‘واجد نے پوچھا۔

’’ہم اپنے رقص میں مصروف تھے ‘‘ پروفیسر صاحب ایک آنکھ دبا کر بولے۔

’’ہمارا دن اوپر گاؤں میں بہت عمدہ گزرا ہے‘‘ ان کی بانچھیں کھلی ہوئی تھیں اور وہ لہک لہک کر بول رہے تھے۔

’’چلو اب ہم جا کر دیکھ لیتے ہیں‘‘ واجد نے کہا۔

’’اب تو کچھ بھی نہیں۔ ۔ ۔ اب تو رات کو ہنگامہ ہو گا‘‘ پروفیسر صاحب نے پھر مخصوص انداز میں کہا۔

’’ہم نے تو دن میں ہنگامہ کر دیا تھا‘‘ اظہار ذو معنی ہنسی کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔ ہم بھی باہر چل دیے تو پروفیسر صاحب اپنے گروپ کو لے کر نکل گئے۔

ہم جلد اسی چوک پر پہنچ گئے تھے جہاں سے صبح رقص کے لیے ہم بائیں طرف مڑے تھے۔ اب ہم دائیں طرف مڑے تو راستہ اوپر اٹھتی ڈھلوان پر تھا۔ ہم آہستہ آہستہ بلندی کی طرف جا رہے تھے۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے ہم کالاش گاؤں کے قریب جا رہے تھے۔ ہمارے دل میں خوف بدستور موجود تھا اور اس بات کا دھڑکا لگا ہوا تھاکہ تصویر والی بات پھر کالاش والوں کے زیرِ بحث نہ آجائے۔

اس راستے کے دونوں طرف پتھر کی تقریباََ تین فٹ اونچی دیوار تھی جس پر خاردار جھاڑیاں رکھ دی گئی تھیں۔ اس طرح آس پاس کے کھیتوں کو جانوروں کی دخل اندازی سے محفوظ کر لیا گیا تھا۔

یہ راستہ اٹھتے اٹھتے ایک ایسے مقام تک آ گیا جہاں پانی کی ایک چھوٹی سی ندی بہتی تھی اور الٹے ہاتھ پر شاہ بلوط کے چھوٹے قد کے بوڑھے درختوں کا وسیع ذخیرہ تھا۔ شاہ بلوط کے مخصوص نوکیلے سخت پتے اتنے سبز تھے کی ان پر سیاہی کا گمان ہوتا تھااور ان کی چھاؤں تو تھی ہی سیاہ۔

یہاں سے ایک ہموار سطح پر پہنچ کر یہ راستہ ختم ہو گیا۔ یہاں اخروٹوں کے بہت بڑے بڑے عمر رسیدہ درخت تھے جو قد و قامت میں پنجاب کے پرانے بڑ اور پیپل کے درختوں سے مشابہ تھے۔ ایک بڑے درخت کے نیچے لکڑی سے بنی بوسیدہ اشکال کسی مذہبی مقام یا عبادت گاہ کی نشانیاں تھیں۔ اس جگہ سے آگے کالاش لوگوں کے دو اور تین منزلہ مکانات شروع ہو رہے تھے۔

وحید صاحب ہمیں بڑے بازار سے تنگ گلیوں میں لے گئے۔ ہم جیسے ہی ان گلیوں میں اترے، ایک مخصوص قسم کی نا مانوس مہک نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہمارے پوچھنے پر وحید صاحب نے بتایا کہ یہ بو کالاش کے بند ماحول کی پہچان ہے۔ سردیوں کی وجہ سے کالاش لوگ جو کمرے بناتے ہیں ان میں دروازے یا کھڑکیاں زیادہ نہیں بنائی جاتیں تا کہ سخت سردی میں باہر کی ہوا اندر نہ آسکے اور اندر جلائی جانے والی آگ کی تمازت ضائع ہو نے سے بچائی جا سکے۔ کمرے ہوا دار نہ ہونے کی وجہ سے ان میں سے ایک خاص قسم کی بو آنے لگتی ہے جس میں بہت سا ہاتھ ان کے رہن سہن اور مال مویشیوں کا ہے جو ان کی زندگی کا لازمی جزو ہیں۔

ہم اس ماحول میں ایسے چلتے تھے جیسے نئے خریدے گئے غلام ہانک کر اس بستی میں لائے جا رہے ہوں جہاں انہیں مشقت کرنی تھی۔ وہ غلام اپنے اصل آقا کے مزاج سے نا واقف تھے اور آنے والی سختیوں کا انہیںخوف بھی لاحق تھا۔

ہم حواس باختہ چلے جا رہے تھے کہ ایک گلی میں سے آتی بڑی بوڑھیوں کو اپنے اوپر ِچلّاتے دیکھا۔ وحید صاحب نے بھی اونچی آواز میں کچھ جواب دیا اور آگے بڑھ گئے۔

وحید صاحب ہمیں لمحہ بلمحہ تنگ اور تاریک گلیوں میں لیے جا رہے تھے اور ہر گلی میں ہمارے اوپر آوازے کسے جا رہے تھے۔ وحید صاحب بھی رکے نہیں جواب دیتے جاتے لیکن وہ ہمیں کچھ بتاتے نہیں تھے کہ کیا کہا جا رہا ہے۔

ہمارے قدم تیز اٹھ رہے تھے اور ایک خوف ہمارے قدموں کو آگے کی جانب کھینچتا تھا۔ وحید صاحب ہمیں تنگ سے تنگ گلی میں لے جانے پر مُصر تھے۔ چلتے چلتے وہ ہمیں ایک عبادت گاہ تک لے گئے۔ لکڑی کے موٹے تختوں اور شہتیروں سے بنے اس کے بھاری بھر کم دروازوں پر کندہ کاری کی گئی تھی۔ دہلیز کے دونوں طرف لکڑی سے بنے گھوڑوں کے دو سر جڑے ہوئے تھے۔ جن کا سائیز ڈیڑھ فٹ کے لگ بھگ تھا۔

وحید صاحب ہمیں زبردستی اس عبادت گاہ میں لے گئے۔ وہ ہمیں ہر جگہ اورہر چیز دکھانا چاہتے تھے۔

اس عبادت گاہ کے اندر لکڑی کے تین موٹے موٹے شہتیروں کے منقش ستونوں نے چھت کو سہارا دے رکھا تھا۔ چھت میں روشنی کے لیے ایک بڑا سا چھید تھا جبکہ فرش کچا تھا اور دیواروں پر جا بجا چلم جوشت کے پھول لٹک رہے تھے۔ یہی پھول باہر دروازے پر بھی سجائے گئے تھے۔

میں نے جلدی سے کچھ تصاویر بنائیں اور پھر باہر نکل کر وحید صاحب سے درخواست کی کہ وہ ہمیں اب یہاں سے ہوٹل لے چلیں۔ مجھے زبیر کا نہ آنے کا فیصلہ درست لگ رہا تھا۔ وحید صاحب ہمیں کچھ اور عبادت گاہیں اور قربان گاہیں دکھانے پر مصر تھے جبکہ میں نے دیکھا کالاش خواتین ہماری موجودگی کو ناگواری سے دیکھتی تھیں اور ان کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی تھیںجن میں لڑائی پر آمادگی کا رنگ غالب تھا۔

اسی لمحے ہمیں کچھ عورتیں اظہار کی طرف اشارے کر کے باتیں کرتی نظر آئیں اور دور کچھ مرد بھی اکٹھے ہوتے نظر آئے تو میں نے وحید صاحب کو پکڑ کر وہاں سے نکالا۔ انہوں نے ایک محفوظ راستے کا بتا کر ہمیں سنسان ویرانے کی طرف راہبری کی۔ کچھ ہی دیر میں ہم اس گاؤں سے دور نکل آئے تھے۔ وحید صاحب نے بتایا کہ اسی راستے پر کالاش قبرستان ہے۔ جب ہم قبرستان پہنچے تو وہاں لکڑی کے ٹوٹے پھوٹے تابوتوں اور بکھرے تختوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ ایک تابوت میں کچھ بوسیدہ ہڈیاں نظر آئیںجبکہ کچھ کھوپڑیاں جھاڑیوں میں بھی نظر آئیں۔ وحید صاحب نے بتایا کہ کسی دور میں یہاں مرنے پر جو جشن منایا جاتا تھا وہ قابلِ دید ہوا کرتا تھا۔ اس موقعے پر ناچ گانا اور عمدہ کھاناکھلانے کا رواج تھا۔ پہلے وقتوں میں مردے کو کھلے تابوت میں لٹا کر کھلی جگہ رکھ دیا جاتا تھا اس طرح اس کا جسم خیرات کر دیا جاتا تھا لیکن اب مردے کو دفن کر دیا جاتا ہے لیکن جشن اب بھی ماضی کی طرح منایا جاتاتھا۔

’’مرنے پر ناچ گاناکیوں کیا جاتا ہے‘‘ واجد نے پوچھا۔

’’یہاں کا عقیدہ ہے کہ مرنے والا بیتابی سے ان روحوں سے ملنے کا خواہشمند ہوتا ہے جو پہلے اس دنیا سے جا چکیں ہیں۔ بچھڑی روحوں کے ملاپ کی خوشی میں ناچ گانا کیا جاتا ہے۔ ‘‘ وحید صاحب نے تفصیل بیان کی۔

اسی طرح کی معلومات لیتے ہم قبرستان سے نکل کر ایک ڈھلوان راستے پر آ گئے۔ وہاں سے نیچے اترے اور کھیتوں سے ہوتے ہوئے بمبوریت کے بازار میں آنکلے جہاں سے ہمارا ہوٹل چند قدموں کے فاصلے پر تھا۔

دھوپ اپنی چادر کالاش کے کھیتوں سے اٹھا کر عقبی چوٹیوں پر پھیلا رہی تھی۔ پرندے واپسی کے سفر پر تھے اور دور دور تک پھیلے کالاش مکانوں اور باڑوں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔

ہوٹل پہنچ کر وحید صاحب نے اگلے دن پھر ملنے کے وعدے کے بعد رخصت لی۔ انہوں نے جاتے جاتے بتایا کہ اگلی صبح کالاش گاؤں کے اندر رقص گاہوں میں رقص ہو گا۔ گیت گائے جائیںگے اور مذہبی پیشوا، رسومات ادا کریں گے۔ ان کے مطابق اگلا دن بہت اہم تھا۔

جب ہم کمرے میں پہنچے تو زبیر سو رہا تھا۔ سردی بڑھ رہی تھی اور بادل بھی گھر آئے تھے اس لیے ہم سب اپنے بستروں میں دبک گئے۔ گرم بستروں نے ہمیں بہت جلد نیند کی وادی میں لا اتارا اور ہم سب معاملات سے بے نیاز ہو کر سو گئے۔

میری آنکھ کھلی تو ایک پہر رات گزر چکی تھی۔ باہر بارش ہو رہی تھی۔ میں نے باقی ساتھیوں کو جگایا تاکہ کھانے کا کچھ کیا جا سکے۔ اسی اثنا میں دو لالٹینیں لیے طارق خان آ پہنچا۔ اس نے بتایا کہ وہ کئی چکر لگا چکا تھا لیکن سب کو سوتا دیکھ کر واپس چلا جاتا تھا۔ طارق خان نے ہماری دن بھر کی کارگزاری سنی لیکن اس کا دھیان ہماری خدمت کی طرف ہی رہا۔

’’صاحب کھانے میں دال چاول ہیں۔ اگر آپ کہیں تو مرغ کڑاہی بھی بن سکتی ہے‘‘

’’طارق خان سب کچھ بنا لاؤ اور بہت سی روٹیاں بھی لاؤ، بہت بھوک لگ رہی ہے۔ ‘‘ میری بات سنتے ہی وہ کچن کی طرف دوڑ گیا۔

بارش بہت تیز ہو گئی۔ بوندیں ٹین کی چھتوںسے اس زور سے ٹکراتی تھیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ ہمارے کمرے کی کھڑکیاں ایک لان میں کھلتی تھیں اور اسی لان میں دوسری طرف بھی کمرے بنے تھے جن کے سامنے ایک برآمدہ تھا۔ میں نے باہر دیکھا تو اس برآمدے میں لالٹین کی روشنی میں ایک گوری بیٹھی نظر آئی جو بہت انہماک سے بارش کا نظارہ کر رہی تھی۔ اس کے پاس تین چار کمانڈوز بھی کھڑے تھے۔ اظہارجب بارش دیکھنے کے لیے باہر نکلا تو اس کی نظر بھی ان لوگوں پر پڑی تو اس نے شور مچا دیا،

’’ زاہد بھائی واقعی یہ فارن ٹورسٹ ان ہے۔ لگتا ہے یہاں بہت سی گوریاں ٹھہری ہوں گی۔ بس ذرا بارش بند ہو جائے تو میں ان گوریوں سے گپیں مارنے باہر جاؤں گا‘‘۔ وہ تازہ دم ہو چکا تھا۔

اظہار کی یہ خوبی ہمیں بہت پسند ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ سوشل ہے۔ وہ قوم، ملک، رنگ، نسل، زبان اور مذہب سے ہٹ کر دوستی نبھانے اور خدمت کرنے کا قائل ہے۔ سامنے کوئی بھی ہو اور جو بھی زبان بول رہا ہو، یہ اس سے نہ صرف دوستی کر لے گا بلکہ ابلاغ کی راہ بھی نکال لے گا۔ یہ اپنے زبان میں ہی ایسی لفظی اختراعات کر لے گا کہ بات ہو سکے۔ ہاتھ کے اشاروں اور لہجے کے زیر و بم کے ساتھ چہرے کے تاثرات سے یہ بات کو جاری رکھنے پر قادر ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے افغان ہوٹل میں ’افغانستان آزادم‘ لکھا دیکھ کربہت سی باتیں خود ہی ایجاد کر لیں تھیں۔ گوروں اور گوریوں کے ساتھ تو وہ بہت آسانی سے بات کر سکتا تھا۔

’’ صاحب ذرا کھانا کھا کر دیکھو کیا نعمت آئی ہے‘‘ طارق خان ایک بڑی سی ٹرے میں دال کے ڈونگے اور برتن لایا تھا۔ پھر کڑاہی اور روٹیاںآ گئیں۔ وہ چاول لینے گیا تو کھانے کی خوشبو نے ہمارے انتظار کا پیمانہ لبریز کر دیا۔ ہم لوگ چمچ کے ساتھ دال کھانے لگے۔ طارق خان کو بھی شاید ہماری بھوک کااندازہ ہو گیا تھا۔ وہ صرف چاول نہیں بلکہ دال بھی لایا اور جب تک ہم کھاتے رہے اس نے کوئی چیز بھی ختم نہ ہونے دی۔ وہ لگاتار ایک گھنٹے تک کچن اور ہمارے کمرے کے درمیان گردش میں رہا۔ ہم نے ڈٹ کر کھانا کھایا اور شاید آپس میں بھی بات نہ کی۔ لیکن جیسے ہی پیٹ بھرا، اظہار کا جملہ آیا، ’’طارق خان ! اس سامنے والی گوری نے کیا کھایا ہے‘‘۔

’’صرف ابلے چاول اور مرغ کی یخنی صاحب‘‘۔

’’بس؟‘‘اظہار نے کریدا۔

’’جی صاحب‘‘۔

’’وہ اکیلی ہے یا ساتھ اور بھی کوئی ہے‘‘۔ اس نے اصل سوال پوچھا۔

’’صاحب اس کا خاوند ہے، بیٹی ہے، چار محافظ ہیں‘‘۔ جواب آیا۔

’’چپ کر کے کھانا کھاؤ یار باتیں نہ کرو‘‘۔ اظہارخود ہی پسپا ہو گیا۔

’’بڑی جلدی بد دل ہو گئے ہو‘‘ واجد بولا۔

’’چپ یار ! کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے‘‘ اظہار نے مصنوعی بیزاری ظاہر کرتے ہوئے کہا۔

کھانا بہت لذیذ تھا جس کے بعد چائے کا دور چلا اور شعیب کی چائے سرد گرم ہوتی رہی۔ اسی دوران میں سارے دن کی کارگزاری پر سیر حاصل گفتگو ہوتی رہی۔ زبیر کو گاؤں کی سیر کے حوالے سے کہانی سنائی گئی تو اس نے سنی ان سنی کر دی۔

زبیر کا کہنا تھا کہ اس نے کالاش کو بہت انجوئے کیا تھا۔ جس طرح پھل کے ساتھ چھلکے اور گٹھلی ہوتی ہے اور انہیں اہمیت نہیں دی جاتی، اسی طرح کالاش کے ساتھ جڑے کچھ نا پسندیدہ واقعات بھی پھل کے چھلکے اور گٹھلی کی طرح تھے جسے اس نے اپنی یادوں سے نکال پھینکا تھا۔ اب اس کے لیے کالاش ایک سہانی صاف شفاف صبح، بے خودی میں ڈوبا ایک رقص اور نامانوس دھنوں میں گندھے گیتوں کا نام تھا۔ وہ انہی چیزوں سے خوش رہے گا اور ہمیشہ لطف اٹھاتا رہے گا۔

سب لوگ بارش کے شور اور لالٹین کی خوابناک روشنی کے طلسم میں جلد ہی سو گئے۔

میں ایک بار پھر کالاش کے نیلے شیش محل کی یادوں میں کھو گیا جہاں آئینے پلکیں جھپکتے تھے اور ان میں میرے کئی کئی عکس تھے۔

میرے ارد گرد بہت سی نیلی تتلیاں اڑنے لگیں۔ ۔ ۔ نیل کنٹھ، نیل گگن میں پرواز کرنے لگے۔ ۔ ۔ دور تک جھلملاتی نیلی جھیلوں کے کنارے اتری پریاں، اپنے نیلے پیرہن کناروں پر اتارے پانی میں اترنے لگیں توان کے ساتھ کھیلنے کو نیلی جل پریاں پانی کی سطح پر آگئیں۔ ۔ ۔

 

پچھلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

اگلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: