مارے گئے جے !، چھاپا! (قسط ۱۱) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زاہد عظیم

0

دائرے چھوٹے بڑے ہوتے رہے، گیت کی آواز دور نزدیک سے آتی رہی، ڈھول کی تھاپ دھڑکن بن کر چلتی رہی لیکن مجھے کالاش کے شیش محل کے سحر سے آزاد ہونے میں بہت دیر لگی۔ یہ بہت بڑا تحفہ تھا جو کالاش نے مجھے دیا تھا۔ میں اس سحر کو اپنی یادوں میں نقش کر لینا چاہتا تھا۔ مجھے تنہائی چاہیے تھی تاکہ میں ان نقوش کو اپنے پاس کہیں کندہ کر سکوں۔ میں اس رقص گاہ سے باہر آگیا اور دور چراگاہ میں اخروٹ کے درختوں کے جھنڈ میں ایک ندی کے کنارے بیٹھ گیا۔ یہاں گیتوں اور ڈھول کی آواز نہیں پہنچتی تھی لیکن وہ گیت، آوازیںاور منظر جو میں اپنے ساتھ یہاں تک لے آیا تھا، تنہائی کی اس ساعت میں میری یادوں میں رقم ہوتے چلے گئے۔ ۔ ۔ ایک خزانے کے طور پر۔ ۔ ۔ اب میں جب بھی چاہوں گا اس ماحول میں واپس جا سکوں گا۔ ۔ ۔ اسی شیش محل میں قید ہو سکوں گا۔ اپنے اندر وہی گیت سن سکوں گا۔

میں خود کو بڑا ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا جیسے بہت بڑا کام سرانجام دینے کے بعد انسان خود کو مسرور اور شاداں پاتا ہے۔

’’یار تم لچ تل دیا کروــ۔ ۔ ۔ اچھا خاصا ماحول بنا ہوا تھا۔ ۔ ۔ بیڑا غرق کر دیا۔ ‘‘ واجد مجھ پر برس رہا تھا۔

’’اُدھررقص ہو رہا ہے اور تم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ادھر بیٹھے ہو‘‘واجد خوب تپا ہوا تھا۔

’’اچھا ! چلتے ہیں۔ ۔ ۔ تم بتاؤ تصویریں وغیرہ بنائیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ ہاں ہاں بہت بنائی ہیں۔ ۔ ۔ چلو اور وہاں جا کر بانسری بجاؤ‘‘ وہ جذباتی ہو کر بولا۔

’’ بس یار میں تھک گیا ہوں۔ اب صرف رقص ہی دیکھیں گے‘‘میں نے جواب دیا۔

’’ اچھا اٹھو تو سہی‘‘ اس نے میرا بازو کھینچتے ہوئے کہا۔

ہم دونوں اس چراگاہ کی جانب چل دیے جہاں کالاش کا حسن قدرت کے حسن کو دو چند کر رہا تھا۔

جب ہم وہاں پہنچے رقص کا انداز بدل چکا تھا۔ بڑے دائروں نے کئی چھوٹے دائروں کا روپ دھار لیا تھااور وہ مختلف سمتوں میں گھوم رہے تھے۔ پھر دس دس خواتیں پر مشتمل کئی قطاریں ایک دوسری کے سامنے صف آرا ہو گئیں۔ ہر دو قطاریں کبھی الٹے پاؤں ایک دوسری سے پرے ہٹ جاتیں اور کبھی ایک دوسری کی طرف تیزی سے بڑھتیںاور ٹکرانے سے ذرا پہلے رک جاتیں۔ گیتوں میں کھنکھناتی ہنسیاں بھی شامل ہونے لگی تھیں۔

مزے کی بات یہ تھی کہ دس دس بارہ بارہ سال کی کالاش بچیاں اپنی ہم عمروںکے ساتھ اسی طرح محوِرقص تھیں جب کہ عمر رسیدہ خواتین کی ٹولیاں بھی ایک طرف کسی روحانی جذبے سے سرشار رقص کر رہی تھیں۔

کچھ دیر بعد رقص ختم ہوا اور یہ سارا قافلہ اپنے برتن اٹھا کر ایک طرف کو چل دیا۔ ہم بھی ساتھ ہو لیے۔ چند منٹ چلنے کے بعد یہ قافلہ ایک باڑے کے پاس رکا۔ کچھ خواتین باہر اگے چلم جوشت کے پیلے پھول توڑنے لگیں اور کچھ لڑکیاں گیت گاتی ہوئیں باڑے میں داخل ہو گئیں۔ ہم ان ٹولیوں کے رقص میں محو تھے جو باڑے سے باہر پیلے پھول توڑتے ہوئے گیت گا رہی تھیں۔ وہ لڑکیاں جو باڑے میں گئی تھیں، جب واپس آئیں تو ان کے ساتھ کچھ خواتین اور برتن بڑھ چکے تھے۔ اب یہ قافلہ ایک اگلے باڑے کی طرف رواں دواں تھا اور دور تک پھیلے ہرے بھرے کھیتوں، ندیوں اور اخروٹ کے گھنے تناور درختوں میں پھولوں کی مہک میں رچے بسے گیتوں سے اس ماحول کو رومانوی رنگ میں رنگ رہا تھا۔ کالاش خواتین کے پرانے پچکے ہوئے ایلومینیم کے برتن، ان روایات کی قدامت کے منہ بولتے ثبوت تھے۔

ان برتنوں میں سے دودھ اور دودھ نما سیال ایک دوسرے کو پلایا جانے لگا۔ کچھ گوروں نے بھی روشن خیالی کے ثبوت کے طور پر یہ دودھ مانگ کر پیا اور ردِعمل کے طور پر عجیب عجیب شکلیں بناکر تبصرے کرنے لگے۔

مجھے دور سے ایک جوڑی آتی دکھائی دی۔ عورت نے شوخ رنگ کے پھولوں والی گلابی قمیض پہن رکھی تھی اور مرد نے سفید شلوار کرتا پہن رکھا تھا۔ اس کی گود میں ایک ڈیڑھ پونے دو سال کا بچہ تھا اور گلے میں کیمرہ لٹک رہا تھا۔

جیسے ہی یہ لوگ قریب آئے بہت سی کالاش لڑکیاں آنے والی لڑکی سے لپٹ گئیں۔ کوئی اسے گلے مل رہی تھی تو کوئی اس کے ہاتھ چوم رہی تھی۔

’’کوئی بلا چیز ہی لگتی ہیـ‘‘ اظہار نے آنے والی خاتون کو دیکھ کر کہا اور پھر حالات کا جائزہ لینے کے لیے آہستہ آہستہ انھی کی طرف چل دیا۔

کالاش خواتین میں سے کچھ تو اس نئی آنے والی خاتون سے مل رہی تھیں اور جو مل چکی تھیں انہوں نے اپنے دودھ والے ڈول اور ڈبے اٹھائے اور دوسرے باڑے کا رخ کیا۔

سب لوگ ان کے پیچھے پیچھے ان پگڈنڈیوں پر چلنے لگے جو کھیتوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی تھیں۔ اظہار پگڈنڈیاں چھوڑ کر کھیتوں میں سے ہوتا ہوا لوگوں کو اوورٹیک کر کے اس آدمی کے ساتھ ساتھ چلنے لگا جس کی بیوی سے کالاش خواتین مل رہی تھیں۔

جب کالاش قافلہ کسی باڑے کے پاس رکتا اور خواتین رقص کرنے یا دودھ پلانے میں مصروف ہو جاتیں تو اظہار اس آدمی سے گفتگو شروع کر دیتا۔ ایک دو ایسے پڑائو گزرنے کے بعد اظہا ر اس آدمی سے بہت گھل مل کر باتیں کرنے لگا۔ جب ایک نئے باڑے پر رقص کی محفل سجی تو اظہار اس شخص کو ہم سے ملوانے لے آیا۔

وہ صاحب جن کا نام عبدالوحید تھا پارا چنار میںمحکمہ زراعت کے ریشم بانی مرکز میں ملازم تھے۔ بمبوریت میں ان کا آدھا خاندان آباد تھااور خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے ایک کالاش لڑکی کو مسلمان کر کے اس سے شادی کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ کالاش لڑکیوں نے اس کی بیوی کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا تھا۔ یہ صاحب اپنی بیوی کی خواہش پر اسے چلم جوشت کے تہوار پر خاص طور پر لائے تھے تاکہ ان کی بیوی اپنی سہیلیوں سے مل سکے۔ ویسے بھی وہ اس تہوار کی یاد تازہ کرنا چاہتی تھی۔ میں نے دیکھا وہ اب بھی رقص کے دائرے سے باہر کھڑی وہی گیت گا رہی تھی جو وہ چند سال قبل تک اس دائرے میں شامل ہو کر سیاہ چوغے میں گایا کرتی ہو گی۔ ان گیتوں کی یاد اب اسے یہاں کھینچ لائی تھی۔

یاد کہنے کو تو ایک چھوٹا سا لفظ ہے، مگر اس میں کتنے زمانے، کتنے انسان اور کتنے واقعات اپنی اصل شکل و صورت کے ساتھ رقم ہوتے ہیں۔ یادوں کی بستی میں اتر جانے سے انسان اسی دور کا ہو جاتا ہے جس دور میں اسے محفوظ کیا تھا۔ کتنا سکون دینے والی ہے یاد اور رلا دینے والی بھی۔ اپنی پرانی تصویریں دیکھ کر ہنسی آتی ہے کہ میں ایسا ہوتا تھا، مگر اپنے بارے میں سوچ کر آنکھیں بھر آتی ہیں کہ میں کبھی ویسا بھی ہوتا تھا۔ ماضی کے دریچوں سے چھن چھن کر آنے والی یادیں کبھی کبھی تو وجہِ زندگی بن جاتی ہیں اور کبھی زندگی کے لیے عذاب۔

ـِ’’یہ جو چھوٹی چھوٹی کالاش بچیاںپھر رہی ہیں غور کریںان کے چہروں پر کالی کالی چیز ملی نظر آتی ہے‘‘۔ وحید صاحب نے تین چار بچیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ واقعی انہوں نے ماتھے، گالوں، ہونٹوں کی بالائی جلد، ٹھوڑی اور گردن پر کالک سی ملی ہوئی تھی۔

’’یہاں ایک خاص قسم کی گائے ہوتی ہے جس کے سینگ جلا کر اور کچے برتن میں گھس کر ایک لئی سی بنا لی جاتی ہے۔ یہ لئی چھوٹی بچیوں کے چہرے پر ایک خاص مدت تک لگانے سے فالتو بال نہیں آتے‘‘ وحید صاحب بتا رہے تھے۔

’’یہ ٹوٹکا صرف چہرے کے بالوں کے لیے ہے یا۔ ۔ ۔ ‘‘ واجد نے استفسارکیا۔

’’یار تمہارا ذہن بہت گنداہے ہمیشہ الٹی طرف ہی جاتا ہے‘‘ اظہار بولا۔

’’اس کا مطلب ہے تمہارا ذہن بھی وہیں اٹکا ہوا تھا جو اتنی جلدی بولے ہو‘‘ واجد نے مسکراتے ہوئے کہا اور بات بدلنے کے لیے ایک اور سوال وحید صاحب سے پوچھنے لگا۔

’’کالاش عورتیں کس عمر میں شادی کرتی ہیں۔ ‘‘

’’میرے خیال میں اس سوال کو اگر یوں پوچھا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا کہ کالاش عورتوں کی شادی کس عمر میں کر دی جاتی ہے تو میرا جواب ہے کہ جوانی کی پہلی سیڑھی چڑھتے ہی انہیں بیاہ دیا جاتا ہے ‘‘وحید صاحب کا لیکچر جاری تھا کہ واجد نے پھر ٹوکا،

’’مگر یہ جوانی کی پہلی سیڑھی ہے کیا؟‘‘۔

’’یہ جان بوجھ کر مچلا بنا ہواہے۔ مزے لیتا ہے بدمعاش‘‘ اظہار نے جملہ کسا۔

’’ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جوانی کی پہلی سیڑھی چڑھتے ہی لڑکی کو کسی مرد کے پلے باندھ دیا جاتا ہے۔ وہ مرد کسی عمر کا بھی ہو سکتا ہے‘‘

’’چل بھئی واجد تو بھی اس عمر میں۔ ۔ ۔ ‘‘

’’بد تمیزی نہ کرو یار بات سننے دو‘‘ زبیر نے ڈانٹ کر کہا۔ وحید صاحب پھر بتانے لگے،

’’رشتہ پسند کا بھی ہو سکتا ہے اور زبردستی کا بھی۔ لڑکی بہرحال کم عمر میں ہی بیاہی جاتی ہے۔ ‘‘

’’میرا سوال ابھی وہیں ہے کہ جوانی کی پہلی سیڑھی کیا۔ ۔ ۔ ‘‘

’’میں بتاتا ہوں، ‘‘وحید صاحب نے واجد کو چپ کرایا اور بولنے لگے،

’’یہاں عورت کو ہمارے معاشرے کے مقابلے میں کمتر درجہ دیا جاتا ہے۔ اور مخصوص ایا م میں خواتین کو رہائشی علاقے سے باہر دریا کے کنارے بنے ایک کمرے میں رکھا جاتا ہے جسے بشالا کہا جاتا ہے۔ زچگی کے ایام میں بھی وہ یہیں رہتی ہیں، جب تک کہ وہ پاک نہیں ہو جاتیں۔ انہیں وہاں کھانا پہنچانا اور دیکھ بھال کرنا بھی چند خواتین ہی کے ذمے ہوتا ہے۔ پاک ہونے کے لیے نہانا، دریا کے پانی سے سر دھونایا کنگھی گیلی کر کے بالوں میں پھیرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہ کنگھی، لباس اور استعمال کے برتن اور دوسری اشیا بشالامیں ہی چھوڑ دی جاتی ہیں کیونکہ یہ ناپاک چیزیں بستی میں لانا منع ہیں۔ اس طرح بلوغت کو پہنچنے والی لڑکی جب پہلی بار بشالا لائی جاتی ہے تو اس کی جوانی کی پہلی سیڑھی چڑھنے کا علم سب کو ہو جاتا ہے اور بشالا سے واپسی پر اس کی شادی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں‘‘۔

’’بشالا ہے کدھر‘‘ واجد نے پوچھا۔

’’تم نے کنگھیاں اور برتن چرانے ہوں گے‘‘اظہار بولاتو اس بار واجد نے اس کی کمر پر ایک مکا جما ہی دیا۔

’’ چلو یار قافلہ آگے جا رہا ہے‘‘ شعیب نے سب کی توجہ کالاش خواتین کی طرف مبذول کرائی جو کسی نئے باڑے کی طر ف جا رہی تھیں۔

’’میں بیٹا اس کی ماں کے حوالے کر کے آتا ہوں‘‘وحید صاحب تیز قدم اٹھاتے ہوئے اپنی بیوی کی طرف چل دیے جو کالاش لڑکیوں کے ایک گروپ میں گھری آہستہ آہستہ بڑے قافلے کی پیچھے چل رہی تھی۔

’’میرے خیال میں وحید صاحب کو کیمرہ دیتے ہیں وہ نزدیک سے خواتین کی تصاویر بنا دیں گے‘‘ اظہار کی آنکھوں میںامید کی چمک تھی۔

’’ بھئی تمہاری مرضی، یوں بھی کر دیکھو‘‘ میں نے کہا اور وحید صاحب کو دیکھنے لگا جو کھڑے کالاش لڑکیوں سے یوں گپیں مار رہے تھے جیسے خود بھی کالاشی ہوں۔

’’یہ مہرہ کام دکھائے گا۔ ۔ اللہ نے ہماری سن لی‘‘ اظہار سرگوشی میں شعیب سے مخاطب تھا۔

’’تم بات کر کے دیکھ لو‘‘ شعیب بولا۔

’’صرف بات کرنے کو نہیں میں تو منت ترلا کرنے کو بھی تیار ہوں‘‘اظہار کے چہرے سے معصومیت ٹپک رہی تھی۔

کچھ دیرمیں ہی وحید صاحب پھرہمارے ساتھ تھے اور ہم کالاش لوگوں کے پیچھے پیچھے چلتے تھے اور گپیں سناتے اور سنتے جاتے تھے۔ تمام قافلہ کھیتوں کی پگڈنڈیوں اور چھوٹے چھوٹے نالوں اور کھالوں کے کنارے چلتا ہوا ایک ایسی جگہ جا پہنچا جو کبھی کسی ندی کی گزرگاہ تھی۔ ہم سب اس خشک ندی میں جا اترے۔ یہاں بھی رقص کی محفل سجی اور یہ ایک محفل نہ تھی بلکہ کئی محافل کا مجموعہ تھی کیونکہ ندی کا پاٹ کم تھا اور رقاصائیںزیا دہ تھیں اس لیے ہم عمر سکھیوں کی ٹولیاں ایک دوسری سے کچھ فاصلے پر اپنے اپنے انداز میں رقصاں تھیں۔

وحید صاحب نے بتایا کہ یہ ندی سردیوں کے بعد گلیشئرکے پگھلنے سے بہتی ہے اور جیسے ہی چوٹیوں پرسے گلیشئرکی دستار اتر جاتی ہے، ندی بھی چپ سادھ لیتی ہے۔ خاموش ہو جاتی ہے۔

دستار اترنے پر خاموش ہو جانا انسانی فطرت ہے اور بہت سے حساس لوگ تو خاموشی کی چادر اوڑھے اس دنیا سے ہی کوچ کر جاتے ہیں۔

’’بارش کے دنوں میں یہ ندی پھر گنگنانے لگتی ہے‘‘ وحید صاحب کی آواز پر میں چونکا۔ قدرت نے کتنے ہی سبق فطرت کے اوراق پر لکھ کر ہمارے لیے ہر جگہ آویزاں کر دیے ہیں۔

’’پس یقینا دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ ‘‘

’’میں نے بات کر لی ہے، وحید صاحب ہمارے کیمرے سے تصویریں بنائیں گے انہوں نے ہامی بھر لی ہے۔ ‘‘ اظہار خوشی سے پھولا نہ سماتا تھا۔ وہ وحید صاحب کے آگے پیچھے پھر رہا تھا۔ اب اس کی بے چینی دیدنی تھی۔ پہلے وہ بے چین تھا کہ رقص شروع ہو، اب وہ بے چین تھا کہ رقص ختم ہو تا کہ وہ کسی خوبصورت چہرے کو اپنے زومیٹک کی آنکھ سے دل یعنی فلم رول پر اتار سکے۔ اس نے وحید صاحب کو ایک چہرہ دکھایا کہ اس کی تصویر ضرور لینی ہے۔

جب وحید صاحب کیمرہ لیے مناسب’ اینجل‘ اور’ اینگل ‘کی تلاش میں نکلے تو ہم سب پر وہ کیفیت تھی جیسے پانی میں کانٹا ڈال کر شکاری مچھلی پھنسنے کے لیے بے چین ہوتے ہیں۔

کچھ دیر میںڈھول کی تھاپ مدھم ہو ئی اور تال پر پڑتے قدم آہستہ ہونے لگے۔ خشک ندی میں رقصاں چھوٹے چھوٹے گھومتے دائرے گویا بھنور تھے اور یہ ندی اب بھی بہ رہی تھی۔ سُر اور تال کے بہاؤ میں رقاصاؤں کے بھنورکسی دیو مالائی ندی کا روپ دھارے مجھے منجدھار میں لیے جاتے تھے۔ یہ سیاہ پوش حسینائیںکالی گھٹاؤں کی صورت ندی پراتری ہوئی تھیں

باور آیا ہمیں پانی کا’’ گھٹا‘‘ ہو جانا

’’سرکار چلو، وحید صاحب کے ساتھ رہنا ضروری ہے‘‘ زبیر نے مجھے بازو سے کھینچتے ہوئے کہا۔ رقص ختم ہو گیا تھا۔ کچھ خواتین سستانے کے لیے ندی کے کناروں سے اور کچھ اخروٹ اور شہتوت کے گھنے پیڑوں سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں اور کچھ نے واپسی کی راہ لی۔ وحید صاحب نے بتایا کہ دوپہر میں گرمی کی وجہ سے رقص میں اب وقفہ ہو گا اور شام کی چادر اوڑھ کر سب خواتین رات گئے تک محوِسرور ہوں گی۔

جس گروپ میں اظہار کا منتخب چہرہ موجود تھا وہ درختوں کے سائے میں سستا رہا تھا اور ہوا کے دوش پر ان کے قہقہوںکی مترنم آوازسے کمپوز ہوا آرکسٹرا کسی ان دیکھی دنیا کی سحر انگیز میلوڈی میں محبت بھرا وہ گیت الاپ رہا تھا جسے سننے والا سن کر اپنے ہوش کھو بیٹھتا ہے اور الف لیلوی داستانوں کی تصویر کشی کرتے ہوئے اپنے سننے والوں کو اپنی اور کھینچتا ہے۔

ہم سب ایک دوسرے سے بے نیاز درختوں کے اس جھنڈ کی طرف جا رہے تھے جہاں طلسم ہوشربا کی کسی ان کہی داستان کے کردار ایک نئی کہانی رقم کرنے نئے زمانے اور نئی دنیا میں اتر آئے تھے۔

’’ آپ ذرا فاصلے پر ہی رکیں میں آگے جاؤں گا۔ ـ‘‘ وحید صاحب نے سب کو ہاتھ کے اشارے سے روکا اور کالاشی رسم و رواج کے بارے میں کچھ بولنے لگے۔ میں ابھی تک ہزار داستان کے سحر میں تھا۔ میرے باقی دوست تو معلوم نہیں کیا سوچ رہے تھے لیکن اظہار کی بے چینی بتا رہی تھی کہ اسے ان یادگار لمحوں کو ساکت کر لینے کی تڑپ بے قرار کر رہی تھی۔

کچھ ہی دیر میں غولِ غزالاں چوکڑیاں بھرتا ہوا اخروٹوں کے تناور اورگھنیرے درختوں کی چھاؤں میں بسی ایک چھوٹی سی بستی کی طرف چل نکلا۔ وحید صاحب بھی کیمرہ سنبھالتے ہوئے ایک پگڈنڈی پر چل دیے۔

ہم سب بھی محتاط انداز میں مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے اسی طرف چل دیے جدھر کالاش بستیاں اور باڑے تھے۔ جیسے ہی کسی کالاش خاتون کا گھر یا باڑہ نزدیک آتا، وہ اپنے گروہ سے الگ ہو کر اس پگڈنڈی پر چل دیتی۔ گروہ چھوٹا ہوتا جا رہا تھا اور اس کے افراد اپنے اپنے گھروں یا باڑوں میں جاتے تو اپنے پیچھے اپنے ہونے کی ایک اداس موہوم یاد چھوڑ جاتے۔

پھر اچانک وہ لڑکی بھی ایک پگڈنڈی پر مڑی اور اپنے قافلے سے الگ ہو کر ایک باڑے کی طرف چل دی۔ نجانے کیسے ہم سب بھی اسی طرف چل پڑے۔

مجھے ڈور کوئی کھینچے تیری اور لیے جائے

اس نے چلتے چلتے دو تین بار مڑ کر دیکھا اور مسکرا تی ہوئی ایک باڑے کی طرف چلتی رہی۔ پھر باڑے کے عقب میں ایک گھر میں داخل ہو ئی اور دروازے پر رک کر وہ مڑی، ایک بھرپور نظر ہم سب پر دوڑائی اور مسکراتی ہوئی اندر چلی گئی۔ اس کی مسکراہٹ بہت معنی خیر تھی اور اس کے موتیا دانتوں کی چمک بھی کسی الہڑ گھٹا کی پہلی بے قابو کوندتی برق کی طرح بہت روشن اور وارفتگی سے بھر پور تھی۔

’’تم سب بھی ادھر پہنچ گئے ہو!۔ میں نے کہا تھا ذرا دور ہی رہو۔ ‘‘ وحید صاحب نے پاس آ کر کہا۔

’’ میں اس گھر میں جا کر اس کی تصویر لے لوں گا، آپ لوگ یہاں سے جاؤ۔ ‘‘ وحید صاحب نے ہمیں متنبہ کرتے ہوئے کہا اور اس گھر کی طرف چل دیے۔

جہاں ہم کھڑے تھے وہاں چارا کاشت کیا گیا تھا اور دور تک سارے کھیت چارے کی نئی فصل کے ہرے کچور ہلالی لہلہاتے پتوں کے روپ میں جھوم جھوم کر چلم جوشت کے پیلے پھولوں کی خوشیوںمیں ان کا ساتھ دے رہے تھے۔

وحید صاحب انھی کھیتوں میں سے گزرتے ہوئے اس گھر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اسی اثنا میں وہ لڑکی اپنے گھر کی چھت پر آئی اور ہمیں دیکھ کر نیچے اتر گئی۔ اس بار اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔ ہم ابھی اس حوالے سے کوئی بات کر بھی نہ پائے تھے کہ ہم نے دیکھا ایک کالاش مرد شور مچاتا ہوا اسی باڑے سے بھاگ کر نکلا۔ اس کے ہاتھوں میں ایک بہت موٹے تنے کا کانٹے دار سوکھا پودا تھا۔ ایسے ہی پودوں اور ان کی خشک شاخوں سے ان باڑوں کے اطراف حفاظتی باڑبنانے کا رواج تھا۔ وہ خشک ’’چھاپا‘‘ اس نے مارنے کی غرض سے اٹھا کر اپنے سر سے بلند کیاہوا تھا اور وہ غصے کی حالت میں اسے اٹھائے تیزی سے چل رہا تھا۔ اظہار جو وحید صاحب کو چھوڑنے ذرا آگے تک گیا تھا اس نے فوراََ حالات کی نزاکت کو سمجھا اور دوڑ کر ہمارے پیچھے آ چھپا۔ وہ شخص اس پگڈنڈی کی طرف آ رہا تھا جس کے ایک سرے پر ہم تھے اور دوسرے سرے پر وحید صاحب اپنے دھن میں مگن اس گھر کی طرف رواں تھے جس میں وہ دوشیزہ تھی۔

 

پچھلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

اگلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: