کالاش، نیلا شیش محل اور پلکیں جھپکتے آئینے (قسط ۱۰) ۔۔۔۔۔۔۔۔ زاہد عظیم

0

چالیس پچاس کالاش خواتین اپنے مخصوص سیاہ لباس میں ملبوس چھوٹے چھوٹے گروہوں میں ایک دوسری کی کمر میں اور کندھوں پر ہاتھ ڈالے دائروں میں گھومتی رقص کرتی گا رہی تھیں۔ ان کے مرد گلے میں کالاشی ڈھول ڈالے سنگت کر رہے تھے۔

کچھ دیر کے بعد یہ لوگ ہاتھ میں ڈول اور دوسرے برتن لیے ا یک طرف کو چل دیے تو میں نے پہلی بار بمبوریت کو غور سے دیکھا۔

اخروٹوں کے تناور درختوں کے سائے میں پھیلا یہ گاؤں طویل اور دو منزلہ تھا۔ سڑک کے ساتھ ساتھ مقامی اور چترالی لوگ آباد تھے جو مسلمان تھے جبکہ اس آبا دی سے پیچھے اوپر کی طرف پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر کالاش لوگ آبادتھے۔ اس طرح دو الگ الگ قومیں اور تہذیبیں ایک ہی فضا میں سانس لے رہی تھیں۔

’’ جاگ گئے او سرکار‘‘ واجد نے پاس آکر پوچھا۔ اس کے کندھے پر تولیہ اور ہاتھ میں برش تھا۔

’’ تم تو فارغ ہو کر آرہے ہو!‘‘ میں نے اسکا حلیہ دیکھتے ہوئے کہا۔

’’ میں صبح اٹھ کر شعیب وغیرہ کے کمرے میں گیا تو وہ خالی تھا۔ میں نے سوچا شایدوہ سب تیار ہونے کہیں باہر نکل گئے ہیں۔ میں بھی ان کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا مگر وہ نہ ملے تو سوچا چلو خو د تو تیار ہو جاؤں‘‘۔

’’ اوئے اٹھ گئے او‘‘ اظہار کی آواز دور سے آئی۔ دیکھا تو اس کے ساتھ باقی لوگ بھی تھے۔

’’ جناب ایسا ہوٹل ڈھونڈ کر آئے ہیں کہ بس‘‘شعیب نے آتے ہی مژدہ سنایا۔

’’ یار رات تو بہت تنگ ہوئے یہاں‘‘ زبیر اپنے خیالات کا اظہار کر رہا تھا۔

’’ جلدی جلدی سامان سمیٹو ہم ادھر بکنگ کروا کر آئے ہیں، ناشتا بھی بن رہا ہے‘‘ وہ کہہ رہا تھا۔

میں نے سنی ان سنی کر کے پوچھا ’’ تم لوگوں نے کالاش رقص دیکھا؟‘‘۔

’’کیا؟۔ ۔ ۔ رقص؟۔ ۔ کب ہوا؟۔ ۔ کہاں؟۔ ۔ ‘‘ کئی سوال سب طرف سے اٹھے تو میں نے تفصیلات بتائیں۔ سب کے منہ لٹک گئے۔ اظہار تو خاص طور پر خلاؤںمیں گھورنے لگا۔

’’ میں نہ کہتا تھا جو کرنا ہے اکٹھے کرو‘‘ وہ سب سے جھگڑنے لگا۔

’’ تو پھر زاہد بھی نہ دیکھ پاتا‘‘ شعیب بولا۔

’’اب بھی جلدی جلدی شفٹنگ کرو، ناشتا کرو اور فارغ ہو جاؤ تا کہ کوئی اور موقع ضائع نہ ہو‘‘اظہار تیز قدم اٹھاتا ہوا بولا اور تاج محل ہوٹل کی طرف بڑھ گیا۔

’’واقعی تم نے رقص دیکھا ہے یا مذاق کر رہے ہو؟‘‘ شعیب نے پوچھا۔

’’میں نے کچھ دیکھا تھا۔ ۔ ۔ غنودگی کی سی کیفیت میں۔ ۔ ۔ دھندلکے میں کہیں۔ ۔ ۔ سیاہ لباس میں ملبوس خواتین نظر تو آئی تھیں۔ ۔ ۔ شاید رقص کرتی ہوئیں۔ ۔ ۔ اور گاتی ہوئیں۔ ۔ ۔ ‘‘

نہیںمیرا وہم ہے۔ شاید میں نے خواب دیکھا تھا۔ لیکن نہیں !!!میں تو جاگا ہی اس گیت کی آواز سے تھا جو ان کے ہونٹوں پر رقصاں تھا۔ ۔ ۔ اور رقص بھی تو تھا۔ ۔ ۔ کوہ قاف کی پریاں۔ ۔ ۔ نہیں کالاش کی پریاں۔ ۔ ۔ میں نے خود دیکھا تھا انہیں۔ ۔ ۔ وہ ایک لمحہ تھا جس میں یہ سب ہوا تھااور پھر وہ لمحہ ہاتھ نہیں آیا۔

لمحہ کبھی ہاتھ نہیں آتا۔ ۔ ۔ جب وہ دسترس میں ہوتا ہے تو ہم اس سے صرف لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ اسے قید کرنے کا سوچتے ہیں تو وہ پہنچ سے دور جا چکا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ بہت دور۔

ہم نے اپنا سامان سمیٹا اور دوسرے ہوٹل کی طرف چل دیے۔ مجھے یاد تھا رات ہم اس ہوٹل کے پاس سے گزرے تھے۔ ایک تاریک اور بھیگی رات۔ جو کل ہی تو گزری تھی۔ ۔ ۔ یہ کل ہی کی بات ہے۔ ۔ ۔

’فارن ٹورسٹ ان‘ کا مالک طارق خان دھیمے مزاج کا خالص مہمان نواز شخص تھا۔ اس نے ہمارا سامان خود اٹھا کر کمرے تک پہنچایا۔ اور یہ کمرا ایک ہال تھا جس میں ہمارے پانچ بستروں کے علاوہ اتنے ہی اور بستروں کی گنجائش تھی۔

اس ہوٹل کی تعمیر ابھی حال ہی میں ہوئی تھی کیونکہ رنگ و روغن اور کچی لکڑی کی خوشبو ابھی آس پاس ہی تھی۔ یہ ہوٹل تاج محل ہوٹل کے مقابلے میں کسی پی۔ سی سے کم نہ تھا۔ طارق خان نے ہوٹل کے صحن میں لگے سیبوں کے درختوںکی چھاؤں میں ہمارے لیے کرسیاں اور میز لگوا دیے، اور خود ناشتے کی نگرانی کرنے لگا۔ اظہار اور شعیب بھی اس کے ساتھ کچن میں چلے گئے، اور اپنی پسند کے مطابق پراٹھے تیار کروائے۔

یہ ناشتا بھوک اور ضرورت سے کہیں زیادہ تھا مگر پھر بھی ختم ہو گیا۔ ہمارا پروگرام تھا کہ دوپہر کا کھانا نہ کھایا جائے تا کہ سارا دن کالاش کی نذر کیا جا سکے۔

جتنی دیر ہم ناشتا کرتے رہے طارق خان ہمیں اس دن کی اہمیت اور چلم جوشت کے تہوار پر لیکچر دیتا رہا۔

’’یہ جو پھول آپ دیکھ رہے ہیں نا صاحب! پیلا والا، یہی چلم جوشت ہے۔ ‘‘ وہ پاس اگے پھولوں کی طرف اشارہ کر کے بتا رہا تھا۔

’’لیکن وہ تو اس تہوار کا نام ہے۔ ‘‘ شعیب نے کہا۔

’’ان پھولوں کی وجہ سے ہی اس تہوار کا یہ نام رکھا گیا ہے۔ ‘‘ طارق خان نے وضاحت کی۔

اس کا لیکچر جاری تھا مگر میرادھیان تو کسی اور طرف تھا اس لیے ہم ہوٹل سے باہر نکلے اور واپس تاج محل ہوٹل کی طرف چل دیے۔ دن کے اجالے میں اس ہوٹل کا جغرافیہ واضح ہوا۔ اس ہوٹل کے ساتھ ہی ایک راستہ اوپر پہاڑوں کی طرف جاتا تھا جہاں سے کالاش گاؤں شروع ہوتا تھا۔ ہم بائیں طرف چلے گئے اور یہ راستہ ایک چراگاہ عبور کر کے دریائے بمبوریت کے کنارے جا پہنچا۔ یہ دریاایک ناچتی اٹھلاتی ندی نظر آیا جس پر مو جود چھوٹا سا لکڑی کا پل عبور کر کے ہم ایک اور بڑی چرا گاہ میں جا اترے جہاں ہر طرف کالاش لوگوں کے باڑے تھے جن میں ان کی بھیڑ بکریاں اور دوسرے مویشی بندھے تھے۔ یہ باڑے ہری چراگاہوں میں مٹی اور پتھر سے تعمیر کیے گئے تھے اور چھت پر اخروٹ اور دوسرے درختوں کی لکڑی کی شہتیریاں تھیں۔ چھت پر پھوس ڈال کر ان پر مٹی کا لیپ کر دیا گیا تھا۔ یہ باڑے بہار کے دنوں میں عارضی قیام گاہ کے طور پر مستعمل تھے کیونکہ ان میں بستر اور گھر کا دوسرا سامان نظر آرہا تھا۔

’’ اے ے ے ے ے۔ ہے ے ے ے ے ے۔ ۔ ۔ ‘‘

’’دھم دھک ک۔ دھم دھک ک۔ ۔ ۔ ‘‘

کہیں دور سے گانے اور ڈھول کی آواز آنے لگی تو سب کے کان کھڑے ہو گئے۔ اظہار اس آواز کی طرف سب سے پہلے لپکا، اس کے پیچھے باقی سب لوگوں نے دوڑ لگا دی۔

درختوں کے جھنڈ میں ایک باڑے کے پیچھے سبز گھاس اور پیلے پھولو ں کی ایک چراگاہ تھی جس میں سو سے زائد کالاش خواتین اپنے مخصوص رقص میں محو تھیں۔ ان کے آس پاس کالاش بچے اور مرد بیٹھے تھے جن کے پاس ایلمونیم کے بہت سے ڈبے اور ڈول پڑے تھے۔ بہت سے لوگ رقص دیکھنے امڈے آتے تھے اور ذرا سی دیر میں یہ چراگاہ لوگوں سے بھر چکی تھی۔ بہت سے غیر ملکی بھی اس رقص سے محظوظ ہو رہے تھے اور بہت سے گورے، گوریاں الگ کھڑے یہ دلچسپ ناچ دیکھ رہے تھے۔ ظاہر ہے اُن کا ناچ خالصتاََ مغربی تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ کالا ش خواتین جن کی نسبت یورپ اپنے آپ سے جوڑتا ہے اور جن کے رسم و رواج کو یونان اور اس کے آس پا س کے علا قوں کے رسم و رواج سے نتھی کرتا ہے وہ جس انداز کے رقص میں محو تھیں وہ خالصتاََ مشرقی اور پہاڑی طرز کا تھا۔ انکے گانے کا انداز، ڈھول کی تال اور رقص سب کچھ مشرقی تھا۔

’’ فوٹو نہ نکالو!۔ ۔ ۔ فوٹو نہ نکالو!۔ ۔ ۔ ‘‘ ایک کالاش مرد اظہار کی طرف لپکا جو اس رقص کی تصاویر اتارنے کے لیے کیمرہ آنکھ سے لگائے کھڑا تھا۔

’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، آرام سے بیٹھو!‘‘اظہار کیمرہ کور میں ڈالتے ہوئے بولا۔ اور ایک طرف کو چل دیا۔

میں نے دیکھا کچھ گورے اس پورے فنکشن سے لاتعلق سے ہو کر دور بیٹھے تھے۔ مجھے لگ رہا تھا کہ وہ مصروف ہیں۔ ۔ ۔ لیکن وہ کیا کر رہے تھے ؟ اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں تھا۔ میں بھی سب سے لا تعلق ہو کر آگے بڑھ گیا اور جب میں ان گوروںکے پاس سے گزرا تو دیکھا کہ وہ ان مناظر کو اپنے وڈیوز اور آڈیوز پر منتقل کر رہے تھے۔ پانچ سو ایم ایم کے زوم اور ہزار ایم ایم کے ٹیلی لنز لگے ان کے کیمرے درختوں کے پیچھے سٹینڈ پر لگے تھے اور کچھ کے گلے میں لٹکتے بیگوں میں سے وڈیو کیمروں کے لنز اور مائیک جھانک رہے تھے۔ میری مسکراہٹ کی حقیقت جان کر ایک گورا میرے پاس آیا اور اس نے مجھے بتایاکہ وہ لوگ فرانس سے اس تہوار کی دستاویزی فلم بنانے آئے تھے اور اس طرح الگ سے بیٹھ کر ریکارڈنگ کرنا اس لیے ضروری تھا تاکہ تمام کالاش لوگوں کی قدرتی مصروفیات کی عکس بندی کی جا سکے۔ وہ لوگ واقعی بے دھڑک ہو کر ہر قسم کی خوبصورتی کواپنی مرضی کے زاویوں سے ریکارڈ کر رہے تھے۔

’’لیڈر بانسری نکال یار۔ ۔ ۔ ہم بھی تو یہ تہوار منانے آئے ہیں‘‘ زبیر بولا۔

اور اس تہوار کو منانے کے لیے ہمارا پورا گروپ بانسری کی دھن پر کالاش لوگوں کے اس جشن میں شامل ہوگیا۔ میں بانسری بجا رہا تھا اور باقی دوست تالیاں بجا کر تال دے رہے تھے۔

بانسری کی آواز پر دور بیٹھے فرانسیسیوں کے کیمرے ہماری طرف گھوم گئے اور میں نے دیکھا کالاش خواتین کا رقص کرتا ہوا گروہ آہستہ آہستہ ہماری طرف بڑھنے لگا۔ شعیب اور زبیر تما شائیوں میں جا بیٹھے، واجد کیمرہ سنبھال کر ایک طرف بڑھ گیااور اظہار نے بھی دور جا کر اپنا کیمرہ آنکھ سے لگا لیا۔ میں بانسری بجاتا ہوا کالاش گروہ کا حصہ ہو گیا۔ میرے ساتھ ہی خواتین کے دائرے کے درمیان ڈھول والے کالاشی مرد پوری طاقت سے ڈھول بجا رہے تھے اور اس ہری پھولوں بھری چراگاہ میں میرے گرد کالاش خواتین رقص کرتی تھیں اور کن انکھیوں سے، مسکراتی نظروں کے ساتھ لگاتار مجھے دیکھتی تھیں۔

جس طرح کی تال ہوتی میں ویسی ہی دھن بجا نے لگتا اور مجھے محسوس ہوا میں کئی صدیاں پیچھے چلا گیا ہوںکیونکہ صدیوں پرانے تہوارکو صدیوں پرانے ساز بجا کر منایا جا رہا تھا۔

اظہار دھڑا دھڑ فوٹو ’’نکال‘‘ رہا تھا مگر اب کوئی کالاش مرد اسے نہیں روک رہا تھا۔ انہیں بھی علم ہو گیا تھا کہ فطرت سے محبت کے اظہار کا تہوار منانے کے لیے فطرت سے محبت کرنے والے لوگ ان کے ساتھ ہیں اور یہی ایک باہمی دلچسپی کا ’امور‘ تھا جس پر ہم لوگ ان میں گھل مل گئے تھے ورنہ تو فوٹو نہ نکالو کا حکم صادر ہو چکاتھا۔

کالاش کے مرد جو ڈھول بجا رہے تھے وہ ہمارے علاقے کی ڈھولکی کے حجم کے تھے اور شکل سے بڑی سی ڈُگڈُگی نظر آتے تھے۔

مردوں کا لباس شلوار قمیض ہی تھا۔ سر پر چترالی پٹی کی ٹوپیاں جن میں سامنے کی طرف رنگین پر لگے ہوئے تھے اورپاؤں میں ربڑ کے بوٹ تھے۔ ڈھول بجانے کے لیے انکا ایک ہاتھ ڈھول کے چمڑے پر دو بار پڑتا اور پھر دوسرا ہاتھ دوسری طرف کے چمڑے پر پڑتا اور یہ تال لگاتار چلتی رہتی۔

خواتین نے جو لباس پہن رکھا تھا وہ ا ن کی خاص پہچان ہے۔ ٹخنوں تک لمبا سیاہ اونی چغا جو وہ خودبُنتی ہیں، خود ہی اس پر کڑھائی کرتی ہیںاور خود ہی اسے سیتی ہیں۔ کھلے بازوؤں کے اس چغے پر شوخ رنگوں کی اون سے کڑھائی کی جاتی ہے اور سادہ جیومیٹری کی اشکال مثلاََ تکون، چوکھٹے، آڑی ترچھی اور زنجیر نما اونی لکیریںبنائی جاتی ہیں۔ اس کڑھائی میں عام طور پر آتشی، پیلی، سرخ اور سبز رنگ کی اون استعمال کی جاتی ہے۔ اس چغے پر گلے سے کمر تک اسی طرح کی کڑھائی ہوتی ہے اور کمر پر بھی کڑھائی شدہ پیٹی باندھی جاتی ہے جس سے اس پہناوے میں ایک خاص قسم کی خوبصورتی پیدا ہو جاتی ہے اور کام کاج کرنے میں بھی سہولت رہتی ہے۔ اس چغے کے گھیرے اور آستین پر بھی کڑھائی ہوتی ہے۔

کالاش خواتین گلے میں موتیوں کے ہار پہنتی ہیں جو اُن دھاگوں سے ملتے جُلتے رنگوں کے ہوتے ہیںجن سے کڑھائی کی جاتی ہے۔

سر پر پہننے کے لیے دو طرح کی چیزیں ہیں۔ ایک تو پیٹی ہی ہے جوعام طور پر تین فٹ کے لگ بھگ لمبی ہوتی ہے اور اسکی چوڑائی کوئی اڑھائی تین انچ ہوتی ہے۔ اس پر بھی کڑھائی کی جاتی ہے۔ اس پیٹی کے ایک سرے پر ایسی ہی پیٹی سے بنا، سر کے ماپ کا ایک دائرہ سی دیا جاتا ہے۔ یہ دائرہ نما حصہ سر پر فٹ ہو جاتا ہے اور باقی پیٹی چٹیا کی طرح پیچھے جھولتی رہتی ہے۔

اس کے اوپر جو پہناوا سر پر پہنا جاتا ہے وہ کالاش کی خاص پہچان ہے۔ اسے کھوپس کہتے ہیں۔ یہ تقریباََ پون فٹ چوڑی اور دو فٹ لمبی سیاہ اونی پٹی ہوتی ہے جسے کالاش خواتین خود ہی بُنتی ہیں اور پھر ان پر رنگین اون سے کڑھائی کرتی ہیں۔ آخر میں اس پر سیپیاں اور کوڑیاں جڑ ی جاتی ہیں۔ کمر کی طرف والے آخری حصے پر بٹن، موتی اور دھات کے ٹکڑے بھی جڑے جاتے ہیںجبکہ سر والے سرے پر اون کا ایک بڑا سا پھول بنا دیا جاتا ہے۔ یہ سجاوٹی اوڑھنی دنیا میں اپنی طرز کا واحدپہناوا ہے اور کالاش کی خاص پہچان ہے۔

اس وقت اس سبزہ زار میں اس طرح کی سینکڑوں پہچانیں محوِ رقص تھیں۔

اس رقص کا انداز ایسا ہے کہ ایک لڑکی اپنے دائیں اور بائیں طرف والی لڑکیوں کے کندھوں پر اپنے بازو رکھتی ہے جبکہ اگلی لڑکی اپنے بازو اپنے ساتھیوں کی کمر کے گرد حائل کرتی ہے اور اسطرح وہ ایک دائرہ بنا تی ہیں۔ ایسے بہت سے بڑے اور چھوٹے دائرے دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں طرف گھوم رہے تھے۔ جب کالاش لڑکیاں رقص کرتی ہوئیں آگے کی طرف قدم اٹھا تیں تو یہ دائرے سمٹ جاتے تھے اور جب وہ پیچھے ہٹتی تھیں تو دائرے بڑے ہوتے جاتے تھے۔ ان دائروں میں سے ہنسی اور گیتوں کی چنچل آوازیں آرہی تھیں۔ ظاہر ہے یہ گیت کالاش لڑکیوں کے لبوں پر مچل رہے تھے اور ان میں بہار کی آمد اور شکرانے کا ذکر تھا۔

ایک بڑے دائرے میں پانچ چھے ڈھول بجانے والے کالاش لڑکوں کے ساتھ کھڑا میںبانسری بجا رہا تھا۔ تیس چالیس نوجوان کالاش لڑکیاں اس دائرے کو کبھی سمیٹ دیتیں اور کبھی پھیلا دیتیں۔ ان کے گیتوں کو اس جگہ سے سننے کا تجربہ ہی انوکھا تھا۔ ہر طرف سے ایک ہی سُر اور ایک جیسی آواز مسلسل آرہی تھی۔ یہ سٹیریو گانا شاید اس دھرتی پر گایا جانے والا واحد ایسا گیت تھا جس میںصدیوں کے آہنگ کی داستان کبھی ہجر اور فراق کا تاثر لیے دل میں دکھ بھر تی تو کبھی وصال کے اثر سے دھڑکنوں کو جلا بخشتی تھی۔

گیت کے ساتھ رقص کا انداز۔ ۔ ۔ اور وہ بھی ان جادوگر حسیناؤں کا رقص جن کا جادو سر چڑھ کر تو بول ہی رہا تھا لیکن بولنے والوں کی زبان گنگ کر رہا تھا۔ آس پاس کے چھتنار درختوں پر بیٹھے پرندے بھی اپنے گیت بھول چکے تھے۔ ان کی آوازیں حیرت انگیز خاموشی میں ڈھل گئی تھیں۔ میری بانسری ایک وجد کے عالم میںان گیتوں کے حضور اپنا نذرانہء عقیدت پیش کر رہی تھی اور ان سُروں میں اپنے سُر ملا رہی تھی۔

پھر ایک بارطوفان اٹھنا شروع ہوا۔ کالاش رقاصاؤں کا دائرہ چھوٹا ہونا شروع ہوا تو اتنا سمٹ گیا کہ ان کے دلوں کی دھڑکنوںنے میری دھڑکنوں کو بے ترتیب کر دیا۔ سانسیں بے ربط ہو گئیں تو بانسری کے گیت اس کے گلے میں اٹک کر رہ گئے۔ حسن کے حصار میںہوش بھی جاتا رہا۔ اس لمحے شاید میں زمان و مکان کی قید سے ہی گزر گیا تھا۔

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم
بہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم
پری پیکر نگارے، سرو قدِ لالہ رخسارے
سراپا آفتِ دل بود شب جائے کہ من بودم

چاروں طرف سے نیلی آنکھیں میری طرف امڈی چلی آتی تھیں۔ کالاش کا سارا حسن قدرت نے مجھ پر انڈیل دیا تھا اور میری نظریں ان نیلی بھول بھلیوں میں کہیں راستہ بھول گئی تھیں جہاں سے واپسی کا سفر جان بوجھ کر ترک کر دینے کو جی چاہتا تھا۔

میرے آس پاس جتنی آنکھیں تھیں وہ نیلی تھیں اور میرے اتنے قریب تھیں، اتنی روشن کھلی اور شفاف تھیں کہ مجھے ان میں اپنے کئی کئی عکس نظر آرہے تھے۔ ۔ ۔

جب پیار کیا تو ڈرنا کیا۔ ۔ ۔ مدھوبالا۔ ۔ ۔ عکس۔ ۔ ۔ رقص۔ ۔ ۔

میں اس دم شہزادہ سلیم تھا۔ ۔ ۔ اور زندہ آئینوں کا شیش محل میرے آس پاس اتر آیا تھا۔ میں کالاش کے شیش محل میں تھا جس کی سیاہ اونی دیواریں مجھے زندہ چُن دینے کو بیتاب تھیں اور ایک گیت تھا جو میرے کانوں کے اتنا قریب تھا کہ اس کی آواز مجھے اپنے اندر سے آتی سنائی دیتی تھی۔ اس لمحے میرے لیے ساری دنیا اس دائرے میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔ ۔ ۔ باہر کچھ نہیں تھا۔ ۔ ۔ اس خوبصورت سیاہ دیوار سے پرے سوچیں بھی سفر نہ کر سکتی تھیں۔ ۔ ۔

میں پلکیں جھپکتے آئینوں کے طلسم کدہ میں قید ہو چکا تھا۔

پچھلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

اگلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: