خواتین کے خود ساختہ مسائل‎ —- سمیع کلیا

0

خواتین چاھے گاؤں کی ہوں یا شہر کی سب کے ذہنی، جذباتی اور جسمانی مسائل ایک جیسے ہوتے ہیں، ان میں وقت اور ماحول کے ساتھ اتار چڑھاؤ تو آتا رہتا ہے مگر ان کی نوعیت یکساں ہی رہتی ہے۔ عورتوں کے اکثر مسائل کے ذمہ دار حالات اور دیگر عوامل ہوتے ہیں مگر آج ہم صرف ان مسائل کے بارے میں بات کریں گے جو ان کے اپنے بناۓ ہوۓ خود ساختہ ہوتے ہیں اور ان کا کوئی حل نہیں ہوتا۔

’’ کھانا خود گرم کرلو‘‘، ’’مائی باڈی از ناٹ یور بیٹل گرائونڈ‘‘، ’’مَیں آوارہ، مَیں بدچلن‘‘، ’’میرا جسم، میری مرضی‘‘، ’’عورت بچّہ پیدا کرنے کی مشین نہیں‘‘، ’’اگر دوپٹا اتنا پسند ہے، تو آنکھوں پہ باندھ لو‘‘، ’’تمہارے باپ کی سڑک نہیں‘‘، ’’آج واقعی ماں، بہن ایک ہورہی ہیں‘‘، ’’لو بیٹھ گئی صحیح سے‘‘، ’’دیکھو، مگر میری رضامندی سے‘‘، ’’طلاق یافتہ ہوں لیکن بہت خوش ہوں‘‘، ’’مجھے کیا معلوم، تمہارا موزہ کہاں ہے؟‘‘، ’’نظر تیری گندی اور پردہ میں کروں‘‘، ’’کھانا خود گرم کرنا سیکھ لو، آئو کھانا ساتھ بنائیں‘‘، اور ’’اپنا ٹائم آگیا‘‘ ہم ان سب خود ساختہ مسائل کو ڈسکسس نہیں کریں گے میری پہلے ہی بہت دشمنیاں چل رہی ہیں ۔

مرد ہونا بھی کسی عذاب سے کم نہیں۔ عورت پر ظلم کے عنوان پر ہونے والی اس ہیجان انگیزی کو اب ختم ہو جانا چاہیئے۔ گزشتہ دنوں مجھے کسی نے کہا کہ بیٹا آپ عورت کے مسائل پر کچھ لکھیں میں نے برجستہ جواب دیا، کہ عورت کوبظاہر تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن اسکے اندر خود ساختہ ایک مسئلہ ہے جو بہت سے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ یہ مسئلہ ہاتھی کے ان دانتوں جیسا بھی ہے جو کھانے اور دکھانے کے اور ہیں۔ حقیقتاً ا س معاشرے کا سب سے قابل رحم طبقہ تو مرد ہے۔ ایک مرد کو اپنی بہتر زندگی اور روشن مستقبل کیلئے اعلیٰ تعلیم، بہترین تربیت، مخلص دوست، اچھی نوکری، خوبصورت گھر، وفا شعار بیوی، سعادت مند اولاد اور سب سے بڑھ کر اچھی ساکھ اور نیک نامی چاہیئے ہوتی ہے۔ وہ یہ سب حاصل کرنے کے لئے اپنی پوری زندگی صرف کر دیتا ہے جبکہ ایک عورت کو اپنی بہترین زندگی اور روشن مستقبل کیلئے مندرجہ بالا خوبیوں پر مشتمل مرد مل جائے تو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتی۔

عورت دراصل اس قدر پیچیدہ مسئلہ ہے جسکی سمجھ خود عورت کو بھی نہیں آتی۔ یہ چاہتی کچھ اور ہے اور کر کچھ اور جاتی ہے۔ جو کہہ رہی ہوتی ہے وہ دراصل کہنا نہیں چاہتی اور جو کہنا چاہتی ہے وہ کہتی نہیں لیکن چاہتی ہے کہ جو نہیں کہا وہ ہو جائے اور جو کہا ہے وہ نہ ہو۔ ہر عورت کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اندر سے انتہائی دکھی ہوتی ہے، کچھ کو یہ دکھ ہوتا ہے کہ انہیں دکھ کیوں ہے جبکہ کچھ اس دکھ میں مری جاتی ہیں کہ انہیں کوئی دکھ ہی نہیں۔ جو برسرروزگار ہیں انہیں یہ غم کھائے جاتا ہے کہ انکی زندگی نوکری کرنے میں تما م ہوگئی اور باقی ساری گھروں میں آرام کررہی ہیں جبکہ گھریلو خاتون اس بات پر شکوہ کناں ہیں کہ انکی زندگی میں جھاڑو برتن کے علاوہ کچھ نہیں رہا۔ یہ چاہتی ہیں کہ مرد ان پر حکم چلانے کے بجائے سب کچھ انکی مرضی پر چھوڑ دے اور جب ایسا ہو تا ہے تب اس بات پر روتی ہیں کہ ہم تو سب کچھ خود کر رہی ہیں کوئی بتانے والا نہیں۔

مرد ظالم بھی ہوتے ہونگے، مار پیٹ اور دوسری برائیاں بھی ہوتی ہونگی لیکن کیا عورتیں ساری اچھی ہوتی ہیں؟ کیا وہ مردوں پر مختلف طریقوں سے ظلم نہیں کرتیں؟ کیا انہوں نے مرد کی زندگی کو جہنم نہیں بنایا ہوا؟ کیا عورت نے خاندان کے خاندان تباہ نہیں کر دیے؟ مرد عورت ہی کے کسی روپ کے ہاتھوں میں پل کر جوان ہوتا ہے، اچھائی برائی سب تربیت عورت ہی کرتی ہے، اگر تربیت کا اثر واقعی ہوتا ہے تو گویا غلط مردوں کی تربیت بھی غلط عورتوں کے ہاتھوں ہوئی۔ ہر اک فعل کی ذمہ داری مردوں پر ڈال خود کو معصوم پیش کرنے سے حقیقت نہیں چھپتی۔ یہ سچ ہے کہ اچھے اور برے مرد ہر جگہ ہوتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے اچھی اور بری عورتیں لیکن یہ جو ہم بے عزتی کے پلڑے میں سب کو جمع کر دیتے ہیں یہی سب سے بڑی برائی ہے اور یہی مرد کو سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے۔ خداراہ عزت دینا اور اچھائیاں تلاش کرنا سیکھیں، برائیاں خود ہی دب جائیں گی۔

ہمارا تو ان فیمینزم کی پرچارک، نام نہاد روشن خیال، لبرل خواتین سے صرف ایک سوال ہے کہ موقع تو ’’عالمی یومِ خواتین‘‘ کا تھا، تو پھر دنیا بھر کی عورت اور خصوصاً پاکستانی عورت کے اصل مسائل کیوں اُجاگر نہیں کیےگئے۔ وہ کاروکاری، ونی، وٹہ سٹہ، قرآن سے نکاح، تعلیم کا حق، لڑکیوں کی خرید و فروخت، وراثت میں حصّہ، تیزاب گردی، زیادہ مشقّت، کم اُجرت، بیٹا، بیٹی میں تخصیص، بچّیوں سے زیادتی، جنسی ہراسانی، کیریئر بنانے کی آزادی، ملازمتوں کے مواقع نہ ملنا، مرضی پوچھے بغیر رشتہ طے کردینا، علاج معالجے کی مناسب سہولتیں حاصل نہ ہونا اور نان نفقہ جیسے معاملات، مسائل کیا ہوئے۔ کیا اس عورت مارچ کا محور و مرکز، چارٹر محض مَردوں پہ طعنہ زنی، ذمّے داریوں سےآزادی ہی ٹھہرا۔ عورت کا کوئی ایک دیرینہ مسئلہ ہی ہائی لائٹ ہوجاتا۔ کوئی ایک پریشانی کم ہوتی، ایک شکایت دُور ہوجاتی۔ پبلک ٹرانس پورٹ میں ویمن پورشن بڑھانے، دفاتر کے ساتھ ڈے کیئر سینٹر بنانے، اپنی مرضی سے کیریئر کا انتخاب کرنے، اہم پوزیشنز پر عورتوں کی تقرّری ہی کی بات کرلی جاتی۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ایک عام پاکستانی عورت کے بنیادی مسائل کیا ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کے حق، وراثت سے محرومی، علاج معالجے کی عدم دستیابی، غیرت کےنام پر قتل، گھریلو تشدّد وغیرہ، مگر ان مسائل پر بات کرنے کے بجائے ہاتھوں میں چند واہیات پوسٹرز اٹھانے کامقصد ایک عام عورت سے دشمنی کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم شاعر ادیب برادری سے ہیں، جہاں خواتین نے بڑے احسن، منظّم انداز سے مَردوں تک یہ بات پہنچائی کہ ہم اُن کی حریف نہیں، حلیف بن کر ساتھ چلنا چاہتی ہیں۔ تاکہ ترقّی کی رفتار کو بڑھایا جاسکے۔ تو ہم غیر مُلکی فنڈنگ یا مغرب کی مصنوعی چکا چَوند سے متاثر ان چند عورتوں کو ہر گز یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ آزادیٔ نسواں کے نام پر تضحیک ِ نسواں کا سامان پیدا کریں۔ مَردوں سے ناحق تصادم کی فضا کسی صُورت پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ ہم اس شدّت پسندی کی مخالفت کرتے ہیں کہ یہ کسی کے لیے فیشن سہی، مگر ہماری عام عورت کےحقوق کے قتل کا سامان ہے۔

(Visited 125 times, 17 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: