منٹو اور ظفر عمران —- داود ظفر ندیم

0

اردو کی ادبی دنیا میں ہونے والے ایک بڑے دھماکے کا سنجیدہ طریقے سے نوٹس نہیں لیا گیا۔ یہ دھماکہ ظفر عمران کے پہلے افسانوی مجموعے کی اشاعت ہے۔ ظفر عمران کو تنازعات میں الجھنے اور پھنسنے میں لطف آتا ہے۔ بعض کے نزدیک انھوں نے منٹو کی طرح فحش افسانہ نگاری کا راستہ تلاش کیا ہے تو بعض دوسروں کے نزدیک وہ محض باغیانہ خیالات کے مالک ہیں۔ اور بعض دوست انھیں حقیقت پسند سمجھتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ لکھنا کہ وہ فحش لکھتے ہیں اسی طرح کی مبالغہ آرائی ہے جیسا منٹو کے بارے کی گئی تھی بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ ظفر عمران بھی منٹو کی طرح سماج کی ایک حقیقی تصویر کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں اس سچائی کی گواہی ان کی دوسری تحریریں بھی دیتی ہیں جہاں سماج کی درست، غیر جانبدارانہ اور باغیانہ طور عکاسی نظر آتی ہے، جیسے ظفر عمران کے ڈرامے، ان کے مضامین، کالم، خاکے وغیرہ۔ یہ سب تحریریں ظفر عمران کی شخصیت کی غمازی کرتی ہیں۔ خاص طور پر ظفر عمران کے مضامین اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ وہ محض باتونی نہیں ہیں، بلکہ دنیا کا درد اپنے سینے میں چھپائے رکھتے ہیں۔

جب ابھی ایک طرف پاکستان انتہا پسندوں کی گرفت میں تھا۔ اور دوسری طرف محدود جمہوریت کا نیا تجربہ ہونے جا رہا تھا۔ ظفر عمران داد کے مستحق ہیں، جنھوں نے نڈر اور بے باکی سے اس زمانے میں اپنے مضامین سے وہ ساری باتیں کہہ ڈالیں جو اس وقت کا دانشور ہمت بھی نہیں کرپا رہا تھا۔ یہ کہنا حقیقت پر مبنی ہے کہ ظفر عمران نے آنے والی نسلوں کو بھی کہانی لکھنا سکھایا ہے۔ “آئنہ نما” ظفر عمران کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ منٹو نے اپنے ایک دیباچے میں لکھا تھا کہ
“یہ افسانے دبی ہوئی چنگاریاں ہیں۔ ان کو شعلوں میں تبدیل کرنا پڑھنے والوں کا کام ہے۔ ”

ظفر عمران کے افسانے پڑھتے ہوئے منٹو کے یہ الفاظ شدت سے یاد آئے۔ ان کی تحریریں مضامین، ڈراموں، اور افسانوں کی شکل میں آج کے سیاسی اور سماجی حالات اور ان حالات کے پیدا کیے ہوئے احساسات کی عکاسی ہے۔ ظفر عمران نے امید پرستوں کا فرقہ جیسے افسانہ لکھ کر دراصل ان جذبوں کی قدر میں اضافہ کیا ہے جو باطل کے ہاتھوں شہید ہوجاتے ہیں۔ دراصل انھوں نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ یوں لگتا ہے “بچپن سے انتہا پسندوں کی تشدد پسندی کا تماشا دیکھنے والا ظفر عمران بالغ النظر ہوکر جب شکیل عادل زادہ صاحب کی صحبت میں آتا ہے عالمی کہانیوں کا مطالعہ کرتا ہے اور تو ان کے لکھے مختلف ڈراموں سے ہی انکی ذہنی ساخت کا اندازہ ملتا ہے۔

“فرقہ امید پرستوں کا” ظفر عمران کا ایک شاہکار افسانہ ہے۔ اس افسانے کا اختتام ظفر عمران نے بڑے ہی پُر اثر انداز میں کیا ہے۔ گو ظفر عمران نے اپنے افسانوں میں تکنیک، زبان و اسلوب اس کے اجزائے ترکیبی وغیرہ کو ہمیشہ اہم جانا ہے۔ یہ سچ ہے ظفر عمران کسی بندھے ٹکے نظریے کے قائل نہیں ہے، بلکہ وہ باغیانہ خیالات کو اپنے افسانوں کے ذریعہ پیش کررہا ہے، ظفر عمران کبھی کسی عمل یا رد عمل کا شکار نہیں ہوا۔ ظفر عمران نہ کبھی بنیاد پرست بن سکا اور نہ لبرل۔ وہ ایک کہانی نگار ہے اور صرف کہانی نگار رہے گا۔ ”

سچ ہے ظفر عمران کسی تحریک کا شکار نہ ہوا بلکہ وہ خود اپنے آپ میں ایک تحریک ہے۔ بعض کے نزدیک ظفر عمران لبرل تو بعض کے نزدیک رجعت پسند یا بعض کے نزدیک فحش نگار اور بعض تو بنیاد پسند بھی سمجھتے ہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اسے ایسے لیبل کرنا غلط ہے اسے زیادہ سے زیادہ حقیقت پسند ضرور کہہ سکتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ منٹو کی طرح ظفر عمران کے بغاوت کے عناصر بھی جنسی نگاری اور عریاں نگاری سے کہیں آگے کی چیز ہے۔ جیسا منٹو نے کہا تھا وہی بات ظفر عمران کے بارے بھی سچ ہے کہ اس کی تحریریں پڑھنے والوں کو بڑی کڑوی کسیلی لگتی ہیں نیم کے پتے کڑوے سہی مگر خون ضرور صاف کردیتے ہیں

من کا پاپی اور عشق ممنوع ظفر عمران کا ایک زبردست نفسیاتی افسانہ ہے۔ جس میں ظفر عمران نے انسانی نفسیات کا ایک پرت بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے۔

میرے لئے ممکن نہیں کہ میں ظفر عمران کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کو پیش کر سکوں مگر اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں، کہ ظفر عمران کو صرف افسانہ نگار کے طور پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ ظفر عمران کو جاننے کے لئے ضروری ہے کہ ظفر عمران کے افسانوں کے ساتھ ان کے ڈراموں اور مضامین کا بھی تجزیہ کیا جائے، ظفر عمران نے افسانوں کے علاوہ ڈرامے، خاکے، فلمیں، خطوط اور شاید ایک نامکمل ناول بھی لکھا ہے، یقیناً بنیادی طور پر وہ ایک کہانی نگار ہے وہ اپنی کہانی کو مختلف طریقوں سے پڑھنے والوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ظفر عمران کی کہانی کے کردار گوشت پوست کے عام انسانوں سے کہیں زیادہ سچے، کہیں زیادہ درد انگیز بن جاتے ہیں۔

(Visited 39 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: