بادشاہ ننگا ہے ۔۔ پھٹیچر بیان پہ محمود فیاض کا تجزیہ

0

کہتے ہیں کہ کسی ملک کے بادشاہ کو منفرد نظر آنے کا خبط تھا۔ اس کے لیے وہ ہر روز کچھ نہ کچھ نرالا کرنے کے لیے تیار رہتا تھا۔ کبھی اپنی پگڑی میں کبوتر کے انڈے ڈال لیتا تو کبھی اپنی عبا پر انوکھے ڈئزائن کرواتا۔
ایک روز اس نے اپنے شاہی درزی کو حکم دیا کہ میں روز روز لباس بدلنے سے تنگ آ چکا ہوں، مجھے کوئی ایسا لباس بنا کر دو جو روزانہ کچھ نیا بن جائے، ایسا لباس جو کسی کے پاس نہ ہو۔ اور اگر تم ایسا نہ کر سکے تو تمہاری گردن اڑا دی جائے گی۔

درزی بیچارے کی مجال کہ وہ انکار کرتا اور اپنی زندگی کے چند دن جو بچے تھے وہ بھی اسی دم ختم کروا دیتا۔ اس نے ہامی بھر لی اور دن گزارنے لگا۔ ایسا لباس نہ بننا تھا نہ بنا۔ آخر بادشاہ کا بلاوہ آگیا۔ درزی نے اپنی زندگی کی آخری بازی کھیلنے کا فیصلہ کر لیا، جان تو ویسے بھی جانا ہی تھی، کچھ چالاکی کر کے آخری کوشش کیوں نہ کی جائے۔ یہی سوچ کر وہ ایک مرصع صندوق لیکر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ لباس تیار ہے، بس حضور یہ احتیاط فرمائیں کہ اسکو غسل کے بعد اکیلے میں زیب تن فرمائیں۔ اور یہ کہ ایسا لباس بس دنیا میں ایک ہی ہے، اور اسکی خؤبیاں بے شمار ہیں۔ آخری خوبی اسکی یہ ہے کہ یہ لباس صرف عقلمند اور دوراندیش بندے کو ہی نظر آئے گا، باقی کسی عقل کے اندھے کو اس لباس کا ایک دھاگہ بھی دکھائی نہ دے گا۔

بادشاہ خوشی خوشی صندوق لیکر غسل کرنے گیا اور جیسا کہ آپ نے جان لیا، جب وہ حمام سے باہر نکل کر لباس پہننے لگا تو صندوق خالی تھا۔ بادشاہ نے سوچا کہ لباس تو موجود ہے، مگر چونکہ وہ خود الو کا پٹھا ہے، اس لیے اسکو نظر نہیں آ رہا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ وہ باہر کیسے جائے۔ خیر رستہ ایک ہی بچا تھا، وہ ننگا ہی کمر پر ایسے ہاتھ رکھ کر ایک بازو پھیلائے ، جیسے وہ لباس کا ایک پلو سنبھالے ہوئے ہے، دربار میں آ نکلا۔

اب دربار میں ہر شخص کو علم تھا کہ آج بادشاہ ایسا لباس پہن کر آنے والا ہے جو صرف عقلمندوں کو نظر آتا ہے۔ بے وقوف کو اس لباس کا دھاگہ تک نظر نہیں آتا۔ سب سے پہلے وزیر اعظم نے اپنی نوکری بچائی، اور واہ واہ کا شور بلند کر دیا، کہ کیا لباس ہے، ایسا لباس کبھی دیکھا نہ سنا، کیا سنہری تاریں ہیں، کیا لاٹیں مارتا دامن ہے، واہ سبحان اللہ۔ جب درباریوں نے ننگے بادشاہ کے بارے میں وزیر اعظم کا یہ بیان سنا تو سب لباس کی تعریف میں رطب اللسان ہوگئے۔ کوئی اس کے بٹنوں کی تعریف کرنے لگا، کوئی رنگ کی، اور کوئی بنت کی۔ پورے دربار میں کوئی ایسا نہ تھا جو بادشاہ کو ننگا کہہ کر اپنی عقل کے بارے میں سوال اٹھواتا اور راندہ درگاہ ہو جاتا۔

اتنے میں وزیر اعظم نے صلاح دی کہ ایسے نادرروزگار لباس کے ساتھ بادشاہ کو صرف دربار میں ہی نہیں بیٹھے رہنا چاہیے، بلکہ پوری رعایا کو اس لباس کی زیارت کروانا چاہیے۔ سب درباریوں نے اسکی تائید کی، اور اگلے روز منادی والے ڈھول لیکر شہر کے گلی کونوں میں پھیل گئے اور ڈھول پیٹ پیٹ کر منادی کروا دی کہ ظل سبحانی، بادشاہ سلامت، ایک انوکھے لباس کے ساتھ پورے شہر کا دورہ کریں گے۔ اس لباس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ صرف عقلمند کو نظر آئے گا، بے وقوف کو اس کا ایک دھاگہ بھی نہ دکھ پائے گا۔ حکم حاکم ، منادی گھر گھر پہنچ گئی، اور اگلے روز کے انتظار میں رات کاٹنا مشکل ہو گئی۔
اگلے روز کے سورج نے وہ انوکھا لباس تو نہ دیکھا کہ سورج بھی مہا مورکھ تھا، مگر اس نے اپنی زندگی کا انوکھا منظر ضرور دیکھا، کہ ایک بادشاہ الف ننگا گھوڑے پر سوار، ایک ہاتھ ہوا میں ایسے اٹھائے ، جیسے لباس کا پلو پکڑے ہوئے ہے، چلا جارہا ہے، اور اسکے جلو میں سینکڑوں چاپلوس درباری چلے آرہے ہیں، اور رعایا سڑکوں کے کنارے کھڑی بادشاہ پر پھول برسا رہی ہے۔ ہر کوئی اس اندیکھے لباس کو دیکھ کر واہ واہ کر رہا ہے، جو کسی کو بھی نظر نہیں آ رہا۔ کوئی دوسرے کو یہ بتانے کو تیار نہیں کہ اسے لباس نظر نہیں آ رہا کیونکہ اسے ڈر ہے کہ اسکو بے وقوف سمجھ لیا جائے گا۔ رعایا میں اگر کچھ لوگ ایسے تھے بھی جو حق سمجھتے تھے کہ بادشاہ ننگا ہے، وہ بھی خلقت کا رجحان دیکھ کر چپکے ہو رہے، کہ اتنے لوگوں کی دشمنی کون مول لے۔ کچھ واقعی میں خود کو بے وقوف سمجھ کر غم کر شکار ہوگئے ، مگر منہ سے کچھ نہ بولے۔
کرنا خدا کا یہ ہوا کہ یہ جلوس ایک کھیل کے میدان کی طرف جا نکلا ، جہاں بچے کھیل رہے تھے۔ وہاں کھیلتے سب سے چھوٹے بچے نے جب یہ ہییت کذائی دیکھی تو چلا اٹھا، ارے دیکھو، بادشاہ ننگا ہے، ارے دیکھو دیکھو، سارے دیکھو، بادشاہ ننگا ہے۔ باقی بچوں نے بھی جب دیکھا تو سب اکٹھے ہو کر چلانے لگے، بادشاہ ننگا، بادشاہ ننگا ۔ ۔ ۔

دوستو! یہ کہانی تو یہاں ختم ہو گئی، بادشاہ کا کیا بنا، درزی بچا یا نہیں، اس کے بارے میں داستان گو خاموش ہے۔ مگر ایک ایسی ہی کہانی پچھلے دنوں ہمارے یہاں دہرائی گئی۔

انوکھے کام کرنے والی حکمران جماعت کے ہاتھ ایک ایسا کرکٹ میچ آیا جس کو ماتھے پر سجا کر وہ رعایا کی واہ واہ سمیٹ سکتی تھی۔ تو بس پھر کہانی شروع ہو گئی۔ اس کرکٹ میچ کے حوالے سے ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا کہ ہر کوئی اسکی حمائت کرنے پر مجبور ہو گیا، اور جس کسی نے اسکی مخالفت کی، یا کسی قسم کی حقیقت بیانی سے کام لینے کی کوشش کی ، اس کو اس طرح رگیدا گیا کہ بے وقوفوں نے بھی عقلمندوں کا روپ دھار لیا، اور عقلمند خلقت کا رجحان دیکھ کر خاموش ہو گئے۔

ایک ایسا میچ جو اگر دبئی میں بھی ہو جاتا تو ہرگز کوئی قیامت نہ آتی، اور اسکے لاہور ہونے پر بھی بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کی رینکنگ وہی رہنا تھی، جو اس سے پہلے تھی۔ یہ صرف اس رعایا کے ساتھ ایک نفسیاتی دھوکہ تھا کہ شائد بہت کچھ بدل گیا ہے، اور اب پاکستان کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے کھل جائیں گے، یا پاکستان دنیا کے لیے ایک بہترین سرمایہ کاری آپشن بن جائے گا، یا پاکستان کا پاسپورٹ 198 ویں کے درجے سے اٹھ کر 99 پر ہی آ جائے گا۔ ایسا تھا نہیِں، ایسا بنا دیا گیا۔ ایک ہوا بنا دی گئی۔ جو لوگ ہوا کے جھونکے پر تجزیے لکھتے ہیں، انہوں نے سر کے سر ملانا شروع کر دیا، اور باقی عوام کو تو ایک سراب چاہیے تھا، سو انکو مل گیا۔ پاکستان کے ایک شہر لاہور مٰیں ایک دن کا میلہ سجا کر قومی مورال کو ہائی کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ پاکستان کے باقی سو شہر کے لوگ ویسے ہی سوئے ، ویسے ہی جاگے، انکی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ یہ جشن جو دہشت گردی کے آخر پر منانا چاہیے تھا، دہشتگردی کے تین لگاتار دھماکوں، اور سو سے زیادہ جانوں کے تلف ہونے پر منایا گیا۔

دوستو! آپ میں سے جو ضمیر اور منطق دونوں کو عزیز رکھتے ہیں، دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، کیا بادشاہ کا ننگا لباس ، ہماری اس حرکت سے زیادہ عجیب تھا ؟

عمران خان نے کیا کہا؟ اس نے پالیسی بیان دیا یا اسکی خفیہ ویڈیو بنائی گئی۔ اس کو یہ لفظ استعمال کرنا چاہیے تھا، یا وہ لفظ، اس بحث کو ایک طرف رکھ کر سوچیں۔ اس نے جو کہا ہے کیا وہ غلط ہے؟ کیا آدھے کھلاڑی واپس نہیں چلے گئے؟ کیا جو کھلاڑی آئے، ان میں ایک بھی بین الاقوامی خبر لگوا سکتا تھا؟ کیا جو میچ ہوا بین الاقوامی کرکٹ میں اس کی کوئی حیثیت تھی؟ کیا دنیا بھی بادشاہ کو ویسے ہی دیکھ رہی تھی، جیسے ہم ایک شہر کے لوگ دیکھ رہے تھے؟
اگر ایسا نہیں ہے تو شائد ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ عمران خان کے ایک ایسے بیان پر جو بیان سے زیادہ ایک واقعے پر اسکی کمنٹری تھی، کو اتنا دل پر کیوں لے رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ عمران خان نے اس نادان بچے کی طرح سچ بول دیا ہے کہ “بادشاہ ننگا ہے” ، اور اب ہم سب جو اس سراب کو سچ سمجھے بیٹھے تھے، اسکی حقیقت جان کر اپنا سارا غصہ، شرمندگی، کھسیاہٹ، اور بدلہ عمران خان سے لے رہے ہیں؟

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: