ترک وطن: اکیسویں صدی کے اکیس اسباق (9) یوول نوح حریری

0

چند ثقافتیں شایدافضل ہیں
اگرچہ عالمگیریت نے پوری دنیا میں ثقافتی اختلافات بہت حد تک گھٹادیے ہیں، مگر ساتھ ہی اجنبی لوگوں سے ملاقاتیںآسان ہوگئی ہیں، اورعجیب حالات سے واسطے بھی پڑنے لگے ہیں۔ اینگلو سیکسن انگلینڈ اور انڈین پالا ایمپائر میں بہت فرق تھا جبکہ آج کے بھارت اور برطانیہ میں یہ فرق بہت کم رہ گیا ہے۔ جیسے جیسے زیادہ سے زیادہ لوگ روزگار، بہتر مستقبل، اور تعلیم کی تلاش میں سرحدیں پار کرتے ہیں، مقامی سیاست میں تارکین وطن کے حوالے سے تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ شناختوں میں تصادم کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس صورتحال سے سب سے زیادہ یورپ متاثر ہے۔ یورپی یونین اس عزم پر مستحکم ہوئی تھی کہ یونانیوں، ہسپانویوں، جرمنوِ ں اور فرانسیسیوں کے درمیان فاصلے کم کرے گی۔ افریقی باشندوں، ایشیائی باشندوں، اور یورپی اقوام کے مابین یہ ثقافتی خلیج شاید ختم نہ کی جاسکے، اور یہ نااہلی یورپی یونین کوشایدلے ڈوبے۔ یہ تلخ ھقیقت ہے کہ یورپ ابتدا میں بین الثقافتی ماحول قائم کرنے میں کامیاب رہا، جس کی وجہ سے تارکین وطن کی یورپ میں بھرمار ہوئی۔ شامی تارکین وطن سعودی عرب، ایران، یا روس کی نسبت جرمنی نقل مکانی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جرمنی بھرپور خیرمقدم کرتا ہے، اوربودو باش کی بہترین سہولیات مہیا کرتا ہے، اس حوالے سے اس کا ریکارڈ بہت اچھا ہے۔

تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے یورپی باشندوں میں ملا جلا ردعمل پیدا کیا ہے۔ یورپ کی شناخت اور مستقبل پر تلخ مباحث چھڑگئے ہیں۔ کچھ یورپی مطالبہ کرتے ہیں کہ براعظم کا دروازہ بند کردیا جائے: کیا یہ لوگ یورپ کی بین الثقافتی پہچان سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، اور برداشت کی اعلٰی روایات سے منہ موڑ رہے ہیں؟ یا بڑی تباہی سے بچنے کی معقول توجیح پیش کررہے ہیں؟ جبکہ دیگر کہتے ہیں کہ براعظم کے دروازے پوری طرح سے کُھلے رکھنے چاہیئں: کیا یہ لوگ یورپی اقدار سے وفادار ہیں؟ یا یہ یورپ کی غلط توقعات کو بڑھا چڑھا رہے ہیں؟ یہ بحث کبھی کبھی لڑائی میں ڈھل جاتی ہے۔ اس معاملہ کی صراحت کے لیے ضروری ہے کہ ترک وطن کا مسئلہ تین مراحل کی روشنی میں سمجھا جائے۔ اول: میزبان ملک تارکین وطن کوداخلے کی اجازت دے۔

دوئم: اس کے بدلے تارکین وطن لازما مقامی معاشرے کی اقدارقبول کرے، خواہ اس کا مطلب اپنی روایات اور اقدار ترک کرنا ہو۔

سوم: اگر تارکین وطن مقامی اقدار کو کافی حد تک اپنا لیتے ہیں اور میزبان ملک کے شہریوں جیسے بن جاتے ہیں، یعنی ’وہ‘ سے ’ہم‘ بن جاتے ہیں۔

یہ تین مراحل تین واضح مباحث کو جنم دیتے ہیں۔ چوتھی بحث ان مراحل پر مکمل عملدرآمد کی ہے۔ جب لوگ امیگریشن کے معاملے پر ان مباحث میں پڑتے ہیں۔ وہ اکثر الجھ جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کا الگ الگ جائزہ لیا جائے۔

بحث اول: میزبان ریاست تارکین وطن کا خیر مقدم کرے۔ مگر وہ ایسا ڈیوٹی سمجھ کر کرے یا مہربان بن کر؟ کیا یہ میزبان ریاست کا فرض ہے کہ ہر کسی کے لیے اپنے دروازے کھول دے یا درست انتخاب سے کام لے، یا پھر تارکین وطن کا راستہ بالکل بند کر دے؟ جو تارکین وطن کی میزبانی کے حق میں ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ پناہ گزینوں اور غربت کے مارے تارکین وطن کو قبول کرنا ریاست کی اخلاقی ذمے داری ہے۔ خاص طور پر ایک عالم گیر دنیا میں یہ ضروری ہے۔ سب انسانوں کی دیگر انسانوں کی طرف اخلاقی ذمے داریاں بنتی ہیں اور جو ان اخلاقیات پر عمل نہیں کرتے وہ انا پرست اور نسل پرست ہیں۔ مزید یہ کہ تارکین وطن کا بہاؤ مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں ہے۔ خواہ ہم کتنی ہی دیواریں اٹھا دیں اور باڑیں لگا دیں۔ مایوس اور پریشان حال لوگ کسی نہ کسی طرح رستہ نکال لیتے ہیں۔ اس لیے یہ بہتر ہے کہ امیگریشن کو قانونی جواز مہیا کیا جائے اور زیر زمین انسانی اسمگلنگ جیسی لعنت سے بچا جائے۔

امیگریشن کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اگر آپ مناسب طاقت کا استعمال کریں تو تارکین وطن کو مکمل طور پر روکا جا سکتا ہے۔ بدحال پناہ گزینوں کے سوا کسی کے لیے سرحدیں کھولنا اخلاقی ذمے داری نہیں۔ ترکی کی شاید یہ اخلاقی ذمے داری بنتی ہے کہ شامی باشندوں کو پناہ دے، مگر سوئیڈن کی یہ ذمے داری نہیں کہ وہ ترکی سے نقل مکانی کرنے والے شامی باشندوں کوقبول کرے(۱)۔ امیگریشن مخالفین کہتے ہیں کہ ہرفرد کا حق ہے کہ بیرونی حملے سے اپنا بچاؤ کرے چاہے وہ تارکین وطن کی صورت میں ہو۔ سوئیڈن کے لوگوں نے لبرل جمہوریت کے قیام کے لیے بڑی محنت کی ہے، بہت قربانیاں دی ہیں۔ اگر شام کے لوگ لبرل جمہوریت نہیں اپناسکے تواس میں سوئیڈن کا کیا قصور ہے؟(۲)

بہت سے ممالک ہیں، جو غیر قانونی تارکین وطن کی جانب سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں، یا انہیں عارضی طورپرقبول کرلیتے ہیں کیونکہ انہیں سستے مزدوراورٹیلنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، بعد میں یہ ریاستیں ان سستے مزدوروں کوقانونی حیثیت دینے سے انکارکردیتی ہیں۔ یہ وہ معاشرے ہوتے ہیں جہاں مقامی باشندوں کا اعلٰی طبقہ غیر ملکی مزدورطبقے کا استحصال کرتا ہے۔ جیسا کے قطراوردیگرخلیج ممالک میں ہوتا ہے۔ جب تک یہ تنازع حل نہیں ہوتا۔ دیگرذیلی سوالات کبھی سلجھائے نہیں جاسکتے۔ اس بحث کے دوپہلو ہیں۔ ایک تارکین وطن کے حق میں ہے، دوسرا ان کے خلاف ہے۔ اگرتارکین وطن میزبان ملک میں انتشاراور عدم برداشت کا سبب ہیں، توبہت جلد لبرل یورپی باشندے اپنی رائے ترک کردیں گے، اورامیگریشن کے خلاف ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس، اگر تارکین وطن خود کو لبرل ثابت کردیں گے، اورمذہب کی طرف سے خود کوکھلے دل ودماغ کا ظاہرکریں گے، توامیگریشن کے خلاف دلائل کمزورپڑسکتے ہیں(۳)۔ تاہم، اس کے باوجود یورپ کے لیے بے مثال قومی شناختوں کا سوال اپنی جگہ رہے گا۔ برداشت عالمی قدر ہے۔ جب تک یورپی ممالک اپنی اپنی قدروں میں تقسیم رہیں گے، امیگریشن کے معاملہ پرکسی واضح پالیسی پرنہیں پہنچ سکتے(۴)۔ اگریہ سوال حل ہوجائے توپچاس کروڑیورپی باشندوں کے لیے دس لاکھ پناہ گزینوں کوجذب کرنا یا انہیں نکالنا کوئی مسئلہ نہ بنے گا۔

اس بحث کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر وقت کا تعین کیا جائے، کہ آیا کتنے عرصہ میں تارکین وطن مقامی معاشرے میں جذب ہوسکتے ہیں؟ اگر اجتماعی گروہوں کی سطح پر دیکھا جائے تو چالیس سال کا عرصہ بہت کم ہے۔ مقامی معاشرے سے یہ توقع رکھنا مشکل ہے کہ وہ چند دہائیوں میں تارکین وطن کے بڑے گروہوں کو جذب کرسکے۔ ماضی میں بڑی تہذیبوں نے غیر ملکیوں کو آسانی سے جذب کرلیا تھا۔ رومی تہذیب، مسلم خلافت، چینی سلطنت اور امریکی ریاست سب کو غیر ملکیوں کوقبول کرنے میں صدیوں کا عرصہ لگا(۵)۔ تاہم ایک نوجوان کے لیے چالیس سال کا عرصہ زندگی پر محیط ہے۔ ایک الجزائری لڑکی جو فرانس میں پیدا ہوئی ہو، جس نے کبھی الجزائر نہ دیکھا ہو، اور جوعربی کی نسبت فرانسیسی زیادہ بولتی ہو، اُس سے یہ کہنا کہ وہ واپس الجزائر چلی جائے، کیا یہ مناسب لگتا ہے؟

ان سارے مباحث کی تہ میں ایک بڑا بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ کیا کچھ ثقافتیں دوسری ثقافتوں سے افضل ہیں؟ یا ساری ثقافتیں یکساں ہیں؟ کیا جرمن یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ شامی باشندے کم تر ثقافت سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے انہیں جذب کرنے میں احتیاط ضروری ہے؟

نسل پرستی سے بین الثقافتی ہم آہنگی تک
ایک صدی پیچھے یورپی باشندوں کا یہ خیال تھا کہ وہ کوئی اعلٰی نسل ہیں، جوباقی نسلوں سے افضل ہیں۔ ۱۹۴۵ کے بعد ایسے خیالات نفرت انگیز قرار دیے گئے۔ نسل پرستی نہ سرف اخلاقی طورپر قبیح سمجھی گئی، بلکہ سائنسی طورپربے بنیاد قرار پائی۔ ماہرین جینیات نے اس بات کے ٹھوس شواہد مہیا کردیے ہیں کہ یورپی باشندوں اوردیگرنسلوں کے باشندوں میں حیاتیاتی تفریق ناقابل توجہ ہے، بہت ہی خفیف سا فرق ہے۔ تاہم، ماہرین بشریات، ماہرین سماجیات، مؤرخین، ماہرین معاشیات نے بھرپور ڈیٹا جمع کیا ہے، جوانسانی ثقافتوں کے درمیان نمایاں اختلافات واضح کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرثقافتوں کااختلاف نہ ہوتا تومؤرخین اور ماہرین بشریات کی ضرورت ہی کیا تھی؟ کیوں معمولی سے فرق کے مطالعہ پرسرمایہ کاری کی گئی؟ اگریہ ثقافتی اختلافات اتنے ہی غیراہم ہوتے توہارورڈ کے انڈر گریجویٹ کے حوالے سے جوکچھ دریافت کیا گیا ہے، وہ کالاہاری کے شکاریوں پرصادق آنا چاہیے تھا۔ اکثرلوگ تسلیم کرتے ہیں کہ انسانی ثقافتوں میں اختلافات موجود ہیں۔ ان اختلافات کو کس طرح دیکھنا چاہیے؟ کلچرل ریلیٹوسٹ دلیل دیتے ہیں کہ لوگ مختلف انداز میں سوچ سکتے ہیں مگرہمیں اس گونا گونی کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ سب کی اقدار، عقائد، اوراعمال کویکساں اہمیت دینی چاہیے۔ بدقسمتی سے یہ ذہنی وسعت حقیقت میں نایاب ہے۔ تمام ثقافتیں یکساں طورپرقبول نہیں کی جاتیں۔ اکیسویں صدی کے اوائل میں جرمن ثقافت سعودی ثقافت کی نسبت غیرملکیوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہے۔ ایک مسلمان کے لیے جرمنی منتقل ہونا آسان ہے، مگرایک عیسائی کے لیے سعودی عرب منتقل ہونا دشوارہے۔ یہاں تک کہ ایک شامی پناہ گزین کے لیے جرمنی منتقل ہونا زیادہ آسان ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے توجرمن ثقافت سعودی ثقافت سے بہترہے(۶)۔ اس قسم کا ثقافتی فرق درحقیقت نسل پرستی نہیں بلکہ ‘کلچرسٹ’ کااپنی ثقافت کی حمایت کرنا ہے۔ روایتی نسل پرستی یوں بھی علم حیاتیات کی نئی تحقیق میں زمین بوس ہوچکی ہے۔ جولوگ نسل پرستانہ باتیں کرتے ہیں اُن کی پشت پرکوئی سائنسی توجیح موجود نہیں۔ ان کی کوئی سیاسی وقعت نہیں۔ لہٰذا اصل مسئلہ ڈی این اے میں نہیں بلکہ ثقافتی وابستگی میں موجود ہے۔ لوگ نسلی تعصب حیاتیاتی فرق کے سبب ظاہرنہیں کرتے بلکہ تاریخی رویے کے طورپراپناتے ہیں۔ کہاجاسکتا ہے کہ آج کے کلچرسٹ روایتی نسل پرستوں سے شاید بہترثابت ہوں۔ اگرتارکین وطن ہماری ثقافت قبول کرتے ہیں توہم انہیں برابری کی بنیاد پرقبول کرلیں گے۔ بصورت دیگراُن (تارکین وطن) پراس قبولیت کے لیے شدید دباؤہوگا۔ آپ کسی کالے کو اس لیے مورد الزام نہیں ٹھہراسکتے کہ وہ اپنا رنگ گورا کرلے۔ مگرافریقیوں اور مسلمانوں کو اس بات کا ذمے دار ٹھہراسکتے ہیں کہ وہ مغربی ثقافت کی اقدارکیوں قبول نہیں کرتے؟

کلچرازم اختلافات کی سائنسی بنیادیں نسلی تفاوت کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہیں۔ علوم بشریات اور سماجیات کے ماہرین ثقافتی اختلافات کی اہمیت نہیں جھٹلاسکتے۔ تاہم، ہم کلچرسٹ کے سارے دلائل قبول نہیں کرسکتے۔ اکثر کلچرسٹ کہتے ہیں کہ تین مسائل انہیں درپیش ہیں۔ پہلی الجھاؤ مقامی بالادستی اور معروضی بالادستی میں امتیازکا ہے۔ برداشت اور عدم برداشت کا تعین کرنا دشوار ہے۔ ثقافت سے ہماری کیا مراد ہے؟ کیااسلامی ثقافت ساتویں صدی کے جزیرے نما عرب کی ثقافت ہے؟ یا سولہویں صدی کی سلطنت عثمانیہ کی ثقافت ہے؟ یا اکیسویں صدی کے پاکستان کی ثقافت ہے؟ ثقافت جانچنے کا کیا طریقہ حتمی ہے(۷)؟ اگرہم مذہبی اقلیتوں کے بارے میں برداشت کی بات کریں توسولہویں صدی کی سلطنت عثمانیہ کی ثقافت اپنے دور کے مغربی یورپ کی ثقافت سے بہت زیادہ اعلٰی وارفع تھی۔ اگرہم آج کے طالبان والے افغانستان کا موازنہ آج کے ڈنمارک سے کریں، توہم بالکل مختلف نتیجے پر پہنچیں گے۔ لہذا ترک وطن پالیسی کے مخالفین کوفاشست کہنا آسان نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح امیگریشن کے حامیوں کے لیے ’ثقافتی خودکشی‘ کی اصطلاح استعمال کرنا بھی دشوارہے۔

اس وقت یہ واضح نہیں کہ یورپ درمیان کی کون سی راہ اختیار کر سکتا ہے۔ جس میں تارکین وطن کو جذب کرنا اور مقامی اقدارکا تحفظ بہ یک وقت ممکن ہو سکے۔ اگر یورپ ایسا کرنے میں کامیاب ہو سکا، تو پوری دنیا میں یہ طریقہ رائج کیا جا سکے گا۔ اگر یورپی فارمولا نا کام ہوتا ہے، تو واضح ہو جائے گا کہ لبرل اقدار بین الثقافتی تنازعات حل نہیں کر سکتیں اور نہ ہی انسانیت کو متحد کر سکتی ہیں۔ ایسا ہونا بدقسمتی ہو گا، کیونکہ دہشتگردوں کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ دہشتگردی انسانیت کے کمزور حصے کا بڑا ہتھیارہے(۸)۔


حواشی
۱) پروفیسرنوح ہراری شام کے جنگی تھیٹرپرنگاہ غلط اندازڈالے بغیرتعصب زدہ تبصرہ فرمارہے ہیں۔ شام میں یورپ، امریکا، اور روس نے حسب توفیق تباہی مچائی ہے، ظالم آمربشارالاسد کومکمل تحفظ فراہم کیا ہے۔ امریکا اور روس نے شام کی انسانی آبادیوں پربھرپوربمباری کی، شہر حلب باقاعدہ تباہ کیا گیا۔ شام کی بربادی میں یورپ سمیت پورا مغرب مرکزی مجرم ہے۔ لہٰذا شامی پناہ گزینوںکی بدحالی کی ذمے داری مغرب پر براہ راست عائد ہوتی ہے۔ جبکہ ترکی وہ واحد ملک ہے، جس کا شام کی بربادی میں کوئی ہاتھ نہیں، اس کے باوجود شامی باشندوں کی سب سے کثیرتعداد ترکی میں پناہ گزین ہے، اوروہاں انہیں عزت دی گئی ہے۔

۲) پروفیسر صاحب مسلمان پناہ گزینوں کے بارے میں یورپی تعصب نمایاں کررہے ہیں۔ اول تولبرل جمہوریت کوئی معیارنہیں۔ دوئم لبرل یورپ میں مسلمان خواتین کے پردے پرجس طرح حملہ کیا گیا ہے، وہ آمریت اور بادشاہت کے بس کی بات نہیں۔ یورپ اور امریکا نے جمہوریت کی ترویج کے نام پرمسلم دنیا میں جس طرح آمریتوں کی سرپرستی کی ہے، اُس کی بدترین مثال مصرہے جہاں فرعون صفت جنرل السیسی یورپ کی آشیرباد سے جمہورکی رائے کچل چکا ہے۔

۳) یعنی مسلمان تارکین وطن اسلام ترک کردیں تومغرب میں قابل قبول ہیں۔ یہ ہیں لبرل اقدارکے علمبردار، جنہیں آرتھوڈکس یہودی عورت کا سخت ترین پردہ قبول ہے، عیسائی دلہن کا نقاب اور راہباؤں کا اسکارف قبول ہے مگرمسلمان عورت کا پردہ قبول نہیں۔

۴) یورپ کواسلامی اقدار کے خلاف متحد ہونے کی دعوت دی جارہی ہے۔

۵) یہ غلط بیانی ہے، مسلم اندلس اور بغداد میں عیسائی، یہودی، اوردیگرتہذیبوں کے باشندے روز اول سے جذب کرلیے گئے تھے۔

۶) پروفیسرہراری صاحب نے دیگرمغربی مؤرخین کی طرح ’ثقافت‘ کو ’تہذیب‘ کے ساتھ خلط مبحث کردیا ہے۔ جبکہ تہذیب کے موضوع پربھی باقاعدہ مضمون اس کتاب میں شامل کیا ہے، وہاں بھی یہ ’سقم‘ موجود ہے۔ سعودی حکومت کا طرز عمل اسلام کا ترجمان نہیں ہے۔ یہ واضح رہنا چاہیے کوئی بھی مسلمان حکومت اسلامی تہذیب کی نمائندہ نہیں۔ اس لیے اسلامی تہذیب کے خلاف حجت بھی نہیں۔ اس کے لیے پروفیسرصاحب کومسلمان حکومتوں کے بجائے اسلام کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

۷)پروفیسرہراری یہاں تسلیم کرتے ہیں کہ اُن پرتہذیب اور ثقافت کا فرق واضح نہیں۔

۸) غیر منطقی بات ہے۔ کمزورطبقہ مظلوم ہوسکتا ہے دہشتگرد نہیں۔ دہشت گردی صرف طاقت ورقوتوں کا ہتھیارہے۔ پہلی بار’دہشتگردی‘ کی اصطلاح انقلاب فرانس میں استعمال ہوئی، جن کے لیے استعمال ہوئی وہ ہرگزکمزورطبقہ نہیں تھے۔

اس کتاب کے پہلے باب کا ترجمہ و تلخیص اس لنک پر ملا حظہ کیجے۔

اس کتاب کے ساتویں باب کا ترجمہ و تلخیص اس لنک پر ملا حظہ کیجیے۔

اس کتاب کے آٹھویں باب کا ترجمہ و تلخیص اس لنک پر ملا حظہ کیجیے۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: