مذہب: اکیسویں صدی کے اکیس اسباق (8) یوول نوح حریری

0

خدا قوم کا خدمت گار بن گیا
تاحال، جدید نظریات، سائنسی ماہرین اور قومی حکومتیں انسانوں کے لیے مستقبل کا کوئی قابل عمل وژن دینے میں ناکام ہیں(۱)۔ کیا ایسا کوئی وژن روایتی مذاہب سے حاصل ہو سکتا ہے؟ ممکن ہے اس سوال کا جواب قرآن، انجیل، یا ویدوں کے صفحات میں کہیں ہمارا انتظار کررہا ہو(۲)۔

سیکولر حضرات اس بات پر شاید استہزاء کریں یا اظہارتشویش کریں۔ کیونکہ مقدس صحیفے ازمنہ وسطٰی سے متعلق تو شاید رہے ہوں، مگر آرٹیفشل انٹیلجنس، سائبر وار فئیر، بائیو انجینئرنگ، اورعالمی حدت کے دورمیں یہ مذاہب کس طرح رہنمائی کرسکتے ہیں؟ (۳)۔ تاہم سیکولرزاب تک ایک اقلیت ہی ہیں۔ اربوں انسانوں کی عظیم اکثریت آج بھی قرآن اور انجیل پر ایمان رکھتی ہے۔ بہت کم لوگ نظریہ ارتقاء پر یقین رکھتے ہیں۔ بھارت، ترکی، اور امریکا جیسی کثیرالثقافتی ریاستوں میں بھی مذہبی تحریکیں سیاست پراثرانداز ہوتی ہیں۔ نائجیریا سے فلپائن تک مذہبی دشمنیاں تنازعات کی آگ بھڑکادیتی ہیں۔

ایسی صورتحال میں اسلام، عیسائیت، اور ہندو مت کس طرح حالات سے متعلق ہوسکتے ہیں؟ کس طرح یہ ہمارے مسائل حل کرسکتے ہیں؟ اگر اکیسویں صدی میں روایتی مذاہب کا کردار سمجھنا ہو، توہمیں مسائل کی تین قسموں کا الگ الگ تجزیہ کرنا ہوگا۔

تکنیکی مسائل: مثال کے طورپر، گرم ممالک کے کسان عالمی حدت کی صورت میں قحط سے بچنے کے لیے کیا کریں؟

پالیسی مسائل: حکومتوں کو عالمی حدت سے بچاؤ کے لیے کیا تدابیر اپنانی چاہیئں؟

شناختی مسائل: کیا ہمیں صرف اپنے قبیلے اور ملک کے کسانوں کی فکر کرنی چاہیے؟ یا دنیا کی دوسری جانب بسنے والے کسانوں کے لیے بھی پریشان ہونا چاہیے؟

جیسا کے ہم دیکھتے ہیں، روایتی مذاہب بہت حد تک تکنیکی اور پالیسی مسائل سے لا تعلق نظر آتے ہیں(۴)۔ جبکہ شناخت کے مسائل سے مذہب کا انتہائی گہرا تعلق ہے۔ مگر اکثر معاملات میں مذہب مسائل حل نہیں کرتا بلکہ ان میں اضافہ کرتا ہے۔ لہٰذا، مذہب اکیسویں صدی کے بڑے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر یہ سوال کہ کیا آرٹیفشل انٹیلجنس کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ انسانوں کی زندگی کے بارے میں فیصلہ کُن کردار ادا کرے؟ (۵)۔ آپ کو کیا پڑھنا چاہیے؟ کیا کام کرنا چاہیے؟ کس سے شادی کرنی چاہیے؟ کیا ان چیزوں کے انتخاب کا اختیارمصنوعی ذہانت کو دینا چاہیے؟ اس حوالے سے اسلام کی کیا پوزیشن ہے؟ یہاں مسلمانوں اور یہودیوں کی کوئی پوزیشن واضح نہیں(۶)۔ انسانیت ممکنہ طورپر دو بڑے کیمپوں میں تقسیم ہونے والی ہے۔ ایک وہ جو آرٹیفشل انٹیلجنس کے اقتدار کا حامی ہوگااور دوسرا وہ جو اس کی راہ میں حائل ہوگا۔ مسلمان اور یہودی ممکنہ طورپر دونوں کیمپوں میں شامل ہوں گے، اور اپنی پوزیشن کو قرآن اور تالمود کی تصوراتی تشریحات میں جواز مہیا کریں گے۔

یقینا کچھ معاملات پرمذاہب شاید سخت مؤقف ہی اختیار کریں، اور اُنہیں مبینہ مقدس عقائد اورتعلیمات کے مطابق ڈھالیں۔ سن ۱۹۷۰میں لاطینی امریکا کے ماہر دینیات نے لبریشن تھیالوجی کا تصور اپنایاتھا، جس سے یسوع مسیح کی شخصیت میں چی گویراکی پرچھائیاں نظرآنے لگی تھیں۔ بالکل اسی طرح، یسوع مسیح کو عالمی حدت کی بحث میں بھی جگہ دے دی جاتی ہے۔ حالیہ سیاست کی صورتحال کچھ ایسی بناکر پیش کی جاتی ہے جیسے ازلی مذہبی اصولوں پر قائم کی گئی ہو۔ یہ سب کچھ کافی پہلے سے شروع ہوچکا ہے۔ یسوع مسیح کے نام پر، پوپ فرانسس عالمی حدت کے خلاف مہم چلارہے ہیں۔ شاید، ۲۰۷۰ تک ماحولیات کا سوال اتنا سنگین ہوجائے گا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ آپ ایونجلسٹ ہیں یا کیتھولک۔ یہ کہنے سے قطعی طورپر کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ ایونیجیلکلز کاربن کے اخراج کے خلاف ہیں یا کیتھولک اس بات پر ایمان لائے ہیں کہ یسوع مسیح نے ماحولیات کے تحفظ کی تبلیغ کی ہے۔ آپ ان کی گاڑیوں تک میں فرق دیکھیں گے۔ ایوینجیلکل گیسولین پر چلنے والی بڑی گاڑیاں استعمال کریں گے جبکہ کیتھولک بجلی سے چلنے والی گاڑیاں چلارہے ہوں گے، جن پر لکھا ہوگا Burn the Planet… and Burn in Hell۔ وہ اس سب کے لیے انجیل کے متن سے اپنے دفاع میں پیراگراف کے پیراگراف تک نکال لائیں گے۔ جبکہ ان کے درمیان فرق سیاسی وابستگی اور سائنسی کلیات کی بنیاد پر ہوگا۔ ان کا یہ اختلاف انجیل کی تعلیمات پر نہیں ہوگا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے، تومذہب ہمارے عہد کی پالیسیوں پر مباحث میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کررہا (۷)۔ جیسا کے کارل مارکس نے کہا تھا کہ مذہب محض ملمع کاری ہے(۸)۔

شناخت کے مسائل: ریت پر لکیریں
کارل مارکس نے مبالغہ آرائی کی جب یہ کہا کہ مذہب محض اوپری ڈھانچہ ہے، جس کے اندر طاقت ور ٹیکنالوجی اور معاشی قوتویں چھپی ہوئی ہیں۔ اس طرح اسلام، ہندو مت، اور عیسائیت جدید معاشی نظام پراستوار ظاہری اور آرائشی انتظام ہے۔ لوگ اکثرظاہری حالت پراپنی شناخت وضع ہیں، اور لوگوں کی یہ شناختیں اہم تاریخی قوت ہیں۔ انسان کی طاقت کا انحصار بڑی بڑی گروہ بندیوں میں ہے۔ اس گروہ بندی کے لیے شناختیں گھڑی جاتی ہیں۔ ان شناختوں کا ماخذ تخیلاتی کہانیاں ہوتی ہیں۔ ان شناختوں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہوتی، اور نہ ہی یہ معاشی ضروریات مد نظر رکھ کروضع کی جاتی ہیں۔ اکیسویں صدی میں بھی مسلمانوں اور یہودیوں میں تقسیم کا انحصار دیو مالائی قصوں پر ہے۔ نازیوں اور کمیونسٹوں کی جانب سے سائنسی بنیادوں پرانسانوں کی نسلی اور طبقاتی شناختوں نے بھی خود کو خطرناک ثابت کیا ہے۔ تب سے سائنس دانوں نے انسانوں کی فطری شناختوں کی وضاحت میں انتہائی محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔

لہٰذا، اکیسویں صدی میں مذاہب نہ بارشیں برساتے ہیں۔ یہ بیماریوں کی شفا کا بھی کچھ سامان نہیں کرتے۔ یہ بم بھی نہیں بناتے۔ مگریہ پھر بھی ’ہم‘ اور ’وہ‘ کی شناختوں کا تعین کرنا چاہتے ہیں۔ کس کا علاج کیا ہو، بم کس پر گرایا جائے، یہ طے کرنا چاہتے ہیں۔ عملا دیکھا جائے، توسنی سعودی عرب، شیعہ ایران، اور یہودی اسرائیل میں کچھ زیادہ فرق نہیں(۹)۔ تینوں بیوروکریٹک قومیں ہیں۔ یہ تینوں سرمایہ دار پالیسیوں پر چلتی ہیں۔ یہ اپنے بچوں کوپولیو کی ویکسین دیتی ہیں۔ یہ سب بم بنانے کے لیے کیمیا دانوں اور ماہرین طبیعات کا سہارا لیتے ہیں۔ یہاں کہیں شیعہ بیوروکریسی، سنی سرمایہ دارانہ نظام، اور یہودی ماہرین طبیعات نام کی کوئی چیز نہیں۔ کس طرح پھر لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ منفرد ہیں۔ اُن میںکس طرح یہ احساس پیدا کیا جائے کہ وہ کسی ایک گروہ کے وفادار اور دوسرے کے دشمن بن جائیں؟

انسانیت کی ریت پر انمٹ اثرات مرتب کرنے کے لیے مذاہب رسومات، عبادات، اور روایات کا سہارا لیتے ہیں۔ شیعہ، سنی، اور آرتھوڈکس یہودی مختلف لباس پہنتے ہیں، مختلف عبادات کرتے ہیں، اور مختلف ممنوعات عائد کرتے ہیں۔ یہ مختلف مذہبی رسومات روز مرہ کی زندگی میں تنوع اور رنگ بھردیتی ہیں۔ لوگ بہت مہربان اور سخی ہوجاتے ہیں۔ دن میں پانچ بار مؤذن کی مدھرآواز بازاروں کے شورشرابے سے بلند ہوجاتی ہے۔ مسلمانوں کو کچھ دیر کے لیے زندگی کی مصروفیات میں سکون کے چند لمحات میسر آتے ہیں، وہ خود کوکچھ دیر کے لیے ابدی سچ سے وابستہ کرلیتے ہیں۔ اُن کے ہندو پڑوسی بھی کچھ ایسے ہی مقاصد کے لیے پوجا پاٹ کا رخ کرتے ہیں، منتر جنترکرتے ہیں۔ ہرجمعہ کی رات یہودی خاندان خاص ضیافت پر یکجا ہوتے ہیں۔ دوروز بعد، اتوار کو مسیحی گرجاگھروں میں انجیل کی آیتیں پڑھتے ہیں، کروڑوں مسیحیوں کی زندگی میں امید کی لو جلاتے ہیں۔

دیگر مذہبی روایات دنیا کوبہت بدنما بنادیتی ہیں، اورلوگوں کا رویہ مزید ظالمانہ اورمکارانہ بنادیتی ہیں۔ مذہب کے حق میں کہنے کوبہت کم ہے، مثال کے طورپرعورت سے نفرت یا ذات پات کی اونچ نیچ کولے لیجیے(۱۰)۔ غرض خوشنما ہوں یا بد نما، مذہبی روایات مخصوص گروہوں کو متحد کرتی ہیں اور دیگرگروہوں سے اُنہیں ممتاز کرتی ہیں۔ آپ اگرباہر سے جائزہ لیں، وہ مذہبی روایات جولوگوں کوتوڑتی ہیں حقیرنظرآتی ہیں، جیسا کہ سگمنڈ فرائڈ نے مذاق اڑایا ہے کہ مذہبی لوگوں کے یہ اختلافات ایک طرح کی نرگسیت ہے(۱۱)۔ مگریہ چھوٹے موٹے اختلافات بہت دور تک جاسکتے ہیں۔ اگر آپ ایک ہم جنس پرست ہیں توایران، اسرائیل، اور سعودی عرب میں یہ آپ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ تاہم اسرائیل ہم جنس پرستوں کوقانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہاں کچھ رابی ایسے بھی ہیں جودوعورتوں میں شادی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ لیکن ایران میں ہم جنس پرستوں کوسخت سزائیں دی جاتی ہیں، سزائے موت بھی سنائی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں دوہزار اٹھارہ تک ہم جنس پرست توبہت دورکی بات، ایک عام عورت تک گاڑی نہیں چلاسکتی تھی(۱۲)۔

جاپان شاید واحد ملک ہے، جہاں مذہبی روایات کی اہمیت زندہ ہے۔ 1853 میں ایک امریکی بیڑے نے جدیددنیا اورجاپان کے درمیان حائل رکاوٹیں بزور طاقت دور کی تھیں۔ جس کے بعد جاپان نے تیزی سے مغربی جدیدیت اختیارکی۔ چند دہائیوں میں یہ طاقت ور بیورو کریٹک ریاست بن چکا تھا، جس کا انحصارسائنس اور سرمایہ دارانہ نظام، اورجدید فوجی ٹیکنالوجی پرتھا۔ یہاں تک کہ اُس دور میں جاپان نے چین اور روس کوشکست دی، تائیوان اور کوریا پرقبضہ کیا، اورامریکی بیڑے کو پرل ہاربرمیں ڈبودیا۔ مگر افسوس ہے کہ آج کا جاپان مغربی بلیوپرنٹ کی اندھادھند نقل نہیں کررہا(۱۳)۔ یہ پھرسے جاپانی شناخت کی بحالی کے لیے سرگرم ہیں۔ اس شناخت کا ماخذ مقامی مذہب ‘شنٹو’ ہے۔ جاپانی ریاست نے ‘شنٹو’ کو دوبارہ زندہ کردیا ہے۔ یہ کئی دیوی دیوتاؤں اور روحوں کا مذہب ہے۔ ہرگاؤں اور عبادت گاہ کی اپنی دیوی دیوتا اوررسم ورواج ہیں۔ ایک ایسی قوم جوجدیدیت کے کریش کورس پر ہو، اُس کے لیے مذہبی شناخت اچھا شگون نہیں۔ دانستہ یا نادانستہ، کئی حکومتیں جاپان کی مثال اپنارہی ہیں۔ جدیدیت اور مذہبی روایات کوساتھ ساتھ لے کرچل رہی ہیں۔ روس میں آرتھوڈکس عیسائیت اور پولینڈ میں کیتھولک عیسائیت نمایاں مثال ہیں۔ کوئی مذہب بظاہر کتنا ہی نامعقول نظر آئے وہ جدید ٹیکنالوجی اپنا رہا ہے، جدید اداروں پر انحصارکررہا ہے۔

مذاہب، روایات، اور رسمیں تب تک اہمیت کی حامل رہیں گی جب تک بڑے بڑے انسانی گروہ تخیلاتی عقائد پرمتحد ومتفق رہیں گے۔ بدقسمتی سے یہ سب انسانوں کے مسائل میں اضافے کا سبب ہے۔ مذاہب آج بھی سیاسی طورپرکافی طاقت ور ہیں۔ یہ تیسری عالمی جنگ تک چھیڑسکتے ہیں۔ لیکن جب بات اکیسویں صدی کے مسائل کی ہو تویہ کوئی حل پیش کرتے نظر نہیں آتے۔ گو کہ یہ مذاہب کائناتی اقدار کی بات کرتے رہے ہیں مگر آج کی دنیا میں انہیں صرف قوم پرست ریاست کے استحکام کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ جوچند درویش صفت مذہبی لوگ کائناتی اقدار کی بات کرتے بھی ہیں، اُن کی کوئی سیاسی وقعت نہیں ہے۔

انسانیت آج واحد تہذیب تشکیل دے رہی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اور ایٹمی جنگ جیسے خطرات درپیش ہیں۔ جنہیں عالمی سطح پرہی حل کیا جاسکتا ہے۔ اس صورتحال میں قوم پرستی اور مذہب انسانی تہذیب کو متحارب خیموں میں تقسیم کر رہا ہے۔ عالمی مسائل اور مقامی شناختوں کے تصادم سے بہت بڑا بحران پیدا ہو چکا ہے۔ جوکثیر الثقافتی معاشروں کے لیے بہت بڑا امتحان بن چکا ہے۔

یوپی یونین جواس وعدے پرمستحکم ہوئی تھی کہ لبرل اقدارکوعالم گیربنایا جائے گا، آج زوال کا شکارہوچکی ہے۔ اس زوال کا بنیادی سبب ترقی میں رکاوٹیں اور امیگرشن کے مسائل ہیں۔


حواشی۔
۱۔ جدید مغربی نظام کی ناکامی کا اعتراف ہے۔

۲۔ سوال معقول ہے۔

۳۔ یہ سوال قرآن حکیم سے واقفیت کے بعد ممکن نہیں۔ یعنی پروفیسر نوح ہراری نے مغرب کے لگے لپٹے تصورمذہب کویہاں دہرادیا ہے۔ انہوں نے مستقبل کے کسی وژن کے لیے قرآن پرسرسری سی نگاہ بھی نہیں ڈالی۔

۴۔ پروفیسرنوح ہراری نے اس باب ’مذہب‘ کے لیے دیانت دارانہ تحقیق اور مطالعہ نہیں کیا۔ یہ یہاں بالکل واضح ہے کہ مصنف مذہب کے بارے میں صدیوں سے قائم غلط تصورات کومحض دہرارہے ہیں۔ اسلام زندگی کی ہر پالیسی کے بارے میں ہدایت دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر مذہب کی ہدایت پرعمل کیا گیا ہوتا، توبے لگام صنعتی تباہ کاری کا امکان ہی پیدا نہ ہوتا، اورعالمی حدت کی نوبت ہی نہ آتی۔ یہ لاتعلقی مذہب کی جانب سے نہیں بلکہ لادین انتظامیہ کی طرف سے ہے۔ اگرمساوات اور حقوق کے لیے مذہب سے رجوع کیا جائے، توصنعتی دنیا

کے اکثرمسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ پروفیسر ہراری نے انتہائی بھونڈی مثالوں سے موازنے کی سعی کی ہے جو خاص طورپراسلام کے بارے میں ان کے مطالعہ کی کمی واضح کرتی ہے۔

۵۔ اسلام قطعی طورپر ایسی کسی اتھارٹی کوقبول نہیں کرسکتا، جواخلاقیات سے عاری ہو۔ مذہب کا جواب بالکل واضح ہے۔ کسی مصنوعی ذہانت کی انسان کے آگے کوئی وقعت نہیں کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔

۶۔ مصنف اسلامی تعلیمات سے قطعی طورپرناواقف نظرآتے ہیں۔

۷۔ مستشرقین کی مانند پروفیسر نوح ہراری نے بھی مذہب کے کمزورترین حصے ’مسیحیت‘ پر تنقید کی ہے، اوراسے عمومیت دے دی ہے۔ یہ مذہب پر تحقیق کا غیر معیاری طریقہ ہے۔

۸۔ مذہب کی مخالفت میں سرمایہ دارپروفیسر اشتراکی فلسفی کے ساتھ مل کر ٹھٹھول فرمارہے ہیں۔

۹۔ یہ بات درست ہے، مگر اس کی وجہ یکسر برعکس ہے۔ سعودی عرب، ایران، اور اسرائیل میں عملا مماثلت کا سبب مذہب نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ عالمی نظام ہے، جس کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ مفاد پرست لادینیت ہے۔

۱۰۔ شاید ہندو مذہب کی طرف اشارہ ہے۔ مذہب کے خلاف دلائل کا یہ اوچھا انداز ہے۔ ہندومت کس طرح اسلام یا عیسائیت کے خلاف حجت ہوسکتا ہے؟

۱۱۔ سگمنڈ فرائڈ کا حوالہ مصنف کا رجحان واضح کرتا ہے۔ یہ مذہب کے خلاف دلائل کے بجائے ’تصور استہزاء‘ سے کام لے رہے ہیں۔

۱۲۔ پروفیسر نوح ہراری چاہتے ہیں کہ ان کے ہم جنس پرست رجحانات کومذہبی ریاستوں میں فروغ دیا جائے، ان ممالک میں اُن کی مرضی کے قوانین نافذ کیے جائیں، اورہم جنس پرستی جیسی تباہ کن اخلاق باختگی کی اجازت دی جائے، مگر ایسا کیوں کیا جائے؟ کیا یورپ اور لادین دنیا مذاہب کی خواہشات کے مطابق قوانین بناتے ہیں؟ یا اُن کا رتی بھر بھی احترام کرتے ہیں؟ کیا لادین معاشروں میں حجاب پرپابندی نہیں؟ عورت کی عزت پرحملے نہیں ہورہے؟ سعودی عرب میں عورت کے گاڑی چلانے نہ چلانے کا اسلام سے کیا تعلق؟

۱۳۔ پروفیسر صاحب کمال کرتے ہیں۔ اُن کے نزدیک جاپان اس لیے ایک اچھا ملک تھا کیونکہ اُس نے جدید مغرب کی غلامی قبول کرلی تھی، اور اسی سبب وہ بڑا تباہ کُن بن چکا تھا۔ یعنی مصنف کے نزدیک صرف وہ قوم کامیاب ہے جو مغربی مادی اقدار کے آگے سرجھکادے اور اسے کامیاب نظام کے طورپر اختیار کرلے۔ انتہائی غیر منطقی مطالبہ ہے۔ بے تکی خواہش ہے۔ آج کا جاپان انہیں اس لیے پسند نہیں کہ وہ مغربی جدیدیت چھوڑ کر مذہب سے رجوع کررہا ہے۔

اس کتاب کے پہلے باب کا ترجمہ و تلخیص اس لنک پر ملا حظہ کیجے۔

اس کتاب کے ساتویں باب کا ترجمہ و تلخیص اس لنک پر ملا حظہ کیجے۔

اس کتاب کے نویں باب کا ترجمہ و تلخیص اس لنک پر ملا حظہ کیجے۔

(Visited 126 times, 4 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: