بے چُون و چرا اطاعت — محمد خالد مسعود

0

“مان گئی؟

“ہاں، چُوں تک نہیں کی۔”

“ہم نے کہا تھا نہ۔ ویسے تو بیوی کو خاوند کا حکم بے چون و چرا ماننا چاہئے۔ لیکن اکثر دوسرے حربے ہی کام آتے ہیں۔ “۔

” واقعی۔ میں بھی اس کی چوں چوں سے تنگ آگیا تھا۔ آپ نے جو ترکیب بتائی اس کے بعد تو وہ ساری چیں چپڑ بھول گئی”

“اب دیکھنا کبھی برقعے کے بغیر گھر سے نہیں نکلے گی۔”

 

آپ وہ ترکیب جاننے کے لئے بے تاب ہوں گے جس کے استعمال سے خواتین کو برقعے کے بغیر گھر سے باہر نکلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ لیکن ہم یہ گفتگو  اتنی ہی سن سکے۔ سیر کے دوران یہی ہوتا ہے۔ ٹی وی پر اگلی قسط ہوتی ہے لیکن سیر کی ادھوری کہانی خود ہی پوری کرنا پڑتی ہے۔ آئیے اس ادھوری گفتگو سے اندازہ لگائیں کہ کہانی کیا ہو سکتی ہے۔

اس گفتگو میں اکثر الفاظ سے جو کسی واقعی یا متوقع نافرمانی  کا حوالہ لگتے ہیں بیوی سے شدید نفرت ٹپکتی نظر آتی  ہے ۔ ان سے یہ پتا بھی چلتا ہے کہ خاوند کی بے چون و چرا اطاعت خاوند کا حق اور  بیوی کا فرض سمجھا جاتاہے ۔ برقعے کا حوالہ ظاہر کرتا ہے کہ بیوی کے ذہن میں پردے کے بارے میں شکوک و شبہات ہوں گے جو کیوں اور کیسے وغیرہ قسم کے سوالات کی شکل میں جنم لیتے رہتے ہوں گے ۔اندازہ لگائیے کہ ان سوالات کے الفاظ میں اتنی نفرت  کا اظہار ہے تو اصل سوال  کے خلاف غصہ کتنا شدید ہوگا۔

دیکھنا یہ ہے کہ ان الفاظ میں  یہ نفرت کیوں اور کیسے بھری گئی۔ آپ چون اور چرا کو تو پہچانتے ہوں گے۔ اصل میں یہ فارسی الفاظ ہیں اور کیوں، کس لئے، کیسے اورکیا وغیرہ قسم کے سوالوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ وہ سوال ہیں جو کسی نہ کسی طرح اعتراض، تمسخر اور نافرمانی  کی علامت بن کر خاوند کی غیرت کو للکارتے ہیں۔ اندازہ کریں کہ ان سوالوں  سے خاوند کا درجہ حرارت کتنی تیزی سے چڑھتا ہوگا ۔لگتا ہے کہ ہروہ لفظ جو چ سے شروع ہو آدمی کو چڑچڑا بنا دیتا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اردو نے ان لفظوں کے ساتھ  وہ سلوک کیا ہے کہ قیامت تک سر نہیں اٹھا سکتے۔ چون و چرا کے ساتھ  ساتھ چونکہ، چناں کہ، چوں، چوں چوں، چیں اور چیں اور چاں وغیرہ  کی وہ دُرگت بنائی ہے کہ کسی کی آواز نہیں نکلتی۔ کیوں کا گلا  اس طرح گھونٹا ہے  کہ صرف چوں سنائی دیتی ہے ۔  یہی وجہ ہے کہ “اس نے چُوں تک نہ کی ” کا جملہ بول کر  سینے میں جو ٹھنڈ پڑتی ہے “اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا”  کہنے سے  وہ خوشی نہیں ملتی ۔ اگر کسی تحریر یا گفتگو میں بہت زیادہ سوال اٹھائے گئے ہوں، خصوصاً ایسی رپورٹ  کو جس میں زخموں پر نمک بھی ڈالا گیا ہو چوں چوں کا مربہ کہ کر اس کی کڑواہٹ کو ختم اور چبھتے سوالوں کو بے معنی کر دیا جاتا ہے۔ “چُوں چُوں” کو عام طور پر چڑیوں سے  بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ جو  اپنی بے معنی آوازوں اور ان کی تکرار سے صبح سویرے افسران کی نیند میں خلل ڈالتی ہیں۔ افسروں کا موڈ اچھا ہو تو  یہی چڑیاں چہچہا تی لگتی ہیں۔ چڑیاں چوں چوں کریں ، چیں چیں  یا چہ چہ فضول اورناقابل فہم ہی رہتی ہیں۔

عربی میں بحث تحقیق اور ریسرچ کا نام ہے، اردو نے بحث کا مطلب فضول گفتگو بیان کرکے واضح کردیا ہے کہ سوال کتنی شکلیں بدل کر آئے ہمیں رام نہیں کر سکتا۔ بحثنا  تکرار اور خواہ مخواہ جھگڑنے کو کہتے ہیں۔ اسی طرح عربی میں حُجّت کے معنی دلیل اور ثبوت پیش کرنا ہے۔ اردو میں حُجت حیلے بہانے اور گھما پھرا کر ایک ہی بات کو دہرانے اور تکرار کو کہتے ہیں۔ اردو اور انگریزی میں حجت ثبوت کے لئے نہیں ، زِچ کرنے کے لئے پیش کی جاتی ہے۔ ایسی گفتگو کو کٹ حجتی بھی کہا جاتا ہے۔ آج کل اس کے لئے ایک نیا لفظ پانامہ رائج ہوگیا ہے۔

اردو زبان کے لفظ  “چیں چپڑ”  کا تو جواب نہیں۔ فضول قسم کے سوالات  کو چیں اور ان  سوالات سے بھری گفتگو کو چیں چپڑ کہا جا تا ہے۔ یہ لفظ زبان کو دانتوں میں دبا کر بولا جائے تو چیں کو اپنی اوقات یاد آجاتی ہے” ۔ چپڑ خود تو بے معنی لفظ ہے کیونکہ یہ کتے کے پانی پینے کی کوشش کی آواز ہے۔ وفادار جانور ہے اس لئے چوں چرا کی بجائے بے معنی آوازیں نکالتا رہتا ہے اورپانی پر زیادہ توجہ نہیں دے پاتا۔  اسی لئے پیاس کے مارے زبان منہ سے باہر نکلی رہتی ہے۔  چیں کا مطلب چن چن کر سوال کرنا اور دوسروں میں خامیاں نکالنا ہے۔ ایسے لوگوں کو نکتہ چین بھی کہتے ہیں۔

زہریلا ڈنک نکال دینے کے بعد ان الفاظ کو نفرت کا دھاگہ باندھ کر جیسے چاہیں اڑائیں۔ اسی منظرکو بے چون و چرا اطاعت کہتے ہیں۔ سوال کا کلچر اسی طرح ختم ہوتا ہے۔ خوش قسمتی سے اردو لشکری زبان ہے جو بے چون و چرا اطاعت کے رموز خسرواں کی راز داں ہے۔ اردو ایسے تمام الفاظ سے سوال کی کاٹ نکال دیتی ہے جن سے نافرمانی، جھگڑے اور تکرار کی بو آتی ہو ۔ اردو آداب کا تقاضا ہے کہ اگر ناگزیر ہو تو سوال سے پہلے اجازت مانگی جائے، معذرت کی جائے یا نامعلوم افراد کے حوالے سے سوال پوچھا جائے۔ مثلاً با ادب طریقے سے  تمہید یوں باندھی جاتی ہے کہ “لوگ سوال کرتے ہیں ۔۔۔”،  “اگر کوئی یہ پوچھے ۔۔۔”۔ لفظ  فارسی کا ہو، عربی کا یا انگریزی کا یہ تمہید اس کی تنک مزاجی کی ساری ہوا نکال دیتی ہے۔  لفظ سوال کو ہی لے لیں عربی میں سوال جواب چاہتا ہے۔ اردو میں سوال کرنے والا سوالی کہلاتا ہے جو نسل در نسل گردشی قرضوں میں اس بری طرح پھنس جاتا ہے کہ وہ  بار بار کشکول توڑنے کے دعوے  تو کرتا ہے لیکن اسے احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے ہاتھ ہی کشکول بن چکے ہیں۔ نتیجہ بے چون و چرا اطاعت۔

بے چون و چرا اطاعت کے لئے پہلے بندے کی چوں چرا نکالی جاتی ہے ۔ وارث شاہ نے رانجھا کی یہی تصویر کھینچی ہے۔

باراں برس اوس مجھیاں چاریاں نیں     نئیں کیتوس چوں چرا میاں

(اس نے بارہ سال بھینسوں کی دیکھ بھال کی، اور جناب ایک مرتبہ بھی کیوں اور کیسے کا سوال نہیں کیا)۔

بقول صوفیا بندہ مرشد کے لئے مردہ بدست زندہ ہوتا ہے جیسے بیوی خاوند کی بے دام غلام اور دیندارشخص علمائے دین کا مقلد اور خدمت گذار ۔ تاریخ شاہد ہے کہ بے چون و چرا کا نظام قائم کرکے مسلمان اقلیت میں ہونے کے باوجود بارہ سو سال حکمران رہے اور انگریز بھی اتنی کم تعداد کے باوجود آسانی سے تین سو سال حکومت کر گئے۔  

پاکستان آزاد ہوا تو پوری کوشش کے باوجود بے چون و چرا اطاعت کا نظام رائج نہ ہو سکا۔ رانجھے ہیر کو بھول کر بھینسوں کی محبت میں گرفتار ہونے لگے، مرید زندہ مرشد کی بجائے مزارات کا رخ کرنے لگے، بیویاں چوں چوں کرکے خاوندوں کو عاجز بنانے لگیں۔ دیندار غیر مقلد ہوتے گئے ۔ اور اب تو یہ حال ہے کہ  ٹاک شو میں  آن لائن علما سے سر عام سوال کئے جاتے ہیں۔ اور ان کی ہمت ہے کہ وہ پوری مستقل مزاجی سے یہی بتا رہے ہیں کہ  دین بے چون و چرا اطاعت  کا نام ہے۔ حکم میں کیوں کا سوال نہیں ہو سکتا۔ کلام کا مطلب پوچھے بغیر حکم بجا لانا لازم ہے۔ قانون فقط فرمانبرداری چاہتا ہے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ چون و چرا سے نفرت کی وجہ سے ہماری ساری مشکلات آن لائن ہو گئی ہیں۔ ہمارے سوالوں کو زبان مل گئی ہے۔  ہم پوچھنے لگے ہیں کہ معاشی اور سماجی ناانصافیوں  کے وجود کو اسلام دین کی تکذیب کیوں بتاتا ہے۔  یتیم کو دھکے دینا دین سے بے وفائی کیوں ہے۔ ناداروں اور مساکین کے لئے روزی روٹی کا انتظام نہ کرنا دین اور آخرت کو جھٹلانے کے مترادف کیوں ہے۔ قرآن کیوں بتا تا ہے کہ نماز برائیوں سے روکتی ہے، روزہ سے  خدا کا ڈر  پیدا ہوتا ہے اور زکوة وصدقات سے معیشت پھلتی پھولتی ہے۔

کہیں  چون و چرا کی نفرت میں ہم نے حکم کو اس کے مقصد سے جدا تو نہیں کردیا۔ قرآن نے احکام دئے تو ان کا مقصد بھی بتایا ۔ حسب و نسب تعارف کے لئے ہیں برتری اور امتیاز کے لئے نہیں۔ پردہ کا حکم  اس لئے ہے کہ خواتین پہچانی جائیں اور ان کو ایذا نہ دی جائے، ہراساں نہ کیا جائے۔ ہم نے پردے  کے حکم کو مقصد سے الگ کردیا۔ پردے کو رواج کا حصہ تو بنایا لیکن  وہ معاشرت تشکیل نہیں دی جس میں عورت کو ایذا نہ دی جائے۔ اس گھر سے باہر ہراساں نہ کیا جائے۔ وہ امن سے نقل و حرکت کرسکے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مقصد کے حصول کی جدو جہد سے بچنے کے لئے ہم نے  فتنے کے بہانےمقصد کو ہی بھلا دیا۔ عورت کو فتنے سے بچانے کے لئے مسجد جانے سے روکا اور فتنے کا خاتمہ کرکے خواتین کے لئے جمعے اور حج کی آسانیاں مہیا کرنے کی بجائے ان کو جمعے اور حج سے مستثنی قرار دے دیا۔

حکم کو مقصد سے الگ کرنے سے بے چون و چرا اطاعت کا تصور مستحکم ہوتا ہےاورمعاشرت اور سیاست دلائل کی ضرورت سے بے نیاز ہو جاتی ہے۔  فتنہ خود ایک بڑی عقلی دلیل بن جاتا ہے۔ فتنے کے دور میں پردے کے  تصور میں وسعت آتی ہے۔ ظلم، رشوت، بدعنوانی، منافع خوری  اور منی لانڈری شریفانہ غلطیاں قرار پاتی ہیں جن پر پردہ ڈالنے سے  ثواب ملتا ہے۔ شرفا سوالات کے کٹہرے میں آنے کی زحمت سے بچتے ہیں۔ شرافت کا تقاضا ہے کہ اشرافیہ کو بے ضرورت گھروں سے نکلنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ اگر نکلیں بھی تو پروٹوکول کے برقعے میں تاکہ وہ پہچانے جائیں اور عوام ان پر بری نظر ڈال کر ہراساں نہ کرسکیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: