کتابِ اُمید: باب چہارم — مغرب: مذہب کا ضرورت مند (4)

0

اس سلسلہ کا پچھلا مضمون اس لنکۘ پر پڑھیئے۔

تصور کرو:
رات کے دو بج رہے ہیں، اور تم اب تک صوفے پر دراز ٹیوی پر نظریں جمائے ہو، دماغ پر دھند سی چھائی ہے اور آنکھیں چندھیائی ہوئی ہیں۔ کیوں؟ تم نہیں جانتے! کاہلی وبے دلی اٹھنے نہیں دے رہی، بستر تک جانے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی۔ بس تم ٹی وی کی اسکرین کو تکے جا رہے ہو۔

بالکل ٹھیک، میں تمہیں یہیں پالینا چاہتا ہوں: جب کہ تم بیگانگی میں گُم پڑے ہو اور اپنی تقدیر کے آگے لاچار سے لگتے ہو۔ اگر کل کسی کے ذمہ کوئی اہم کام ہو تو وہ پاگل نہیں جو آج رات گئے ٹی وی کے سامنے یوں بے کار پڑا ہو۔ جب تک کسی کے اندر زندگی کی کوئی امنگ باقی نہ رہے، جب تک کسی کے اندر امید ماند نہ پڑ چکی ہو، جب تک کسی کے وجود پر بے معنویت کا اندھیرا نہ چھایا ہو، وہ یوں گھنٹوں بے مصرف ٹی وی پر خالی خالی نظریں جمائے نہیں رہ سکتا! یہی ہے ’امید‘ کا وہ بحران جس پر میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں۔

میں تمہاری ٹی وی اسکرین پر ابھرتا ہوں۔ توانائی کے بگولے کی سی ایک صورت بنتی ہے۔ بھونڈی سی آواز ہے۔ بھدے سے رنگ ہیں۔ میں چِلا رہا ہوں۔ مگر میرے چہرے پر پرسکون مسکراہٹ ہے۔ میں تم سے آنکھیں دوچار کر رہا ہوں، صرف تم سے: ’’اگر میں تم سے کہوں کہ تمہارے مسائل کا حل صرف میرے پاس ہے‘‘۔

تم سوچتے ہو:’’ چھوڑو دوست تم کیا جانو میرے مسائل!‘‘
’’اگر میں کہوں کہ تمہارے سارے خواب سچے ہو سکتے ہیں؟‘‘ میں پھر کہتا ہوں۔
’’چھوڑو یار کیا بے پر کی اُڑا رہے ہو؟‘‘ وہ جھلایا۔
میں اصرار کرتا ہوں: ’’دیکھو میں جانتا ہوں تم کیسا محسوس کر رہے ہو!‘‘
تمہارے دکھی دل میں خیال آتا ہے:’’کوئی نہیں جانتا میرا درد، میرے احساسات کی کسی کو کچھ خبر نہیں‘‘۔

میں کہتا ہوں: ’’مجھ پر بھی وہی گزر چکی ہے جو تم پر گزر رہی ہے، کبھی میں بھی تنہا ہوا کرتا تھا، رات رات بھر بیکار پڑا ٹی وی اسکرین کو تکا کرتا تھا، مایوس تھا، حیران پریشان رہا کرتا تھا کہ آخر میرے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ کیا شے مجھ میں اور میرے خوابوں میں حائل ہے؟ میں جانتا ہوں تم بھی بالکل وہی کچھ محسوس کر رہے ہو! جیسے کہ تم نے کچھ کھو دیا ہے، مگر وہ کیا ہے تم نہیں جانتے!‘‘

یہ سچ ہے، میں یہ سب اس لیے جانتا ہوں کیونکہ ہر ایک ان ہی تجربات سے گزر رہا ہے۔ یہ تجربات انسانی حال کی تلخ حقیقت بن چکے ہیں۔ ہم ُاس اندرونی پچھتاوے کی تلافی میں جُتے ہیں جو ہمارے وجود پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ ہم سب دکھ اٹھا رہے ہیں، خاص طور پر نوجوان بڑے ہی کرب سے گزر رہے ہیں۔ ساری زندگی اس کرب کی تلافی میں بسر ہو رہی ہے (۱)۔ ہماری زندگی کے وہ لمحات جب سب کچھ گڑبڑ ہو، ہم مایوس ہو جاتے ہیں۔

تم خود کو بہت دکھی کر لیتے ہو، یہ تک بھول جاتے ہو کہ زندگی کی یہ مشقت اور آزمائش عام ہے (انسان مشقت میں پیدا کیا گیا ہے۔ القرآن، مترجم))، اور یہ آزمائش صرف تمہاری نہیں ہے۔ بلکہ پوری کائنات حالت اضطرار میں ہے۔ ہر لمحہ آزمائش میں ہے۔ بہت سارے لوگ جدوجہد سے بھرپور بامقصد زندگی بھی بسر کر رہے ہیں۔ یہاں سب ہی کار مسلسل سے گزر رہے ہیں۔ لیکن سنو، ’’میں تمہاری روح کے آر پار دیکھ رہا ہوں، تمہارے دل کی کہانی تمہیں سنا رہا ہوں۔ ‘‘ اب تم چونکتے ہو، سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے ہو۔

میں کہتا ہوں: ’’کیونکہ میرے پاس تمہارے تمام مسائل کا حل موجود ہے‘‘اب میں نشاندہی کر رہا ہوں۔ میری انگلی تمہاری اسکرین پر پھیلتی چلی جاتی ہے۔ ’’ میرے پاس ہمیشہ کی زندگی کا راز ہے، ابدی مسرت کی کنجی ہے۔ ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ‘‘

اب میں جو کچھ کہنے جا رہا ہوں وہ تمہیں اس قدر عجیب اور بیزار کن لگے گا کہ تم سوچو گے کہ’’ یہ شاید ہی سچ ہو!‘‘ (۲)۔ مسئلہ یہ ہے کہ تم مجھ پر یقین کرنا چاہتے ہو۔ مجھ پر یقین کرنا تمہاری ضرورت ہے۔ میں تمہیں وہ امید دے رہا ہوں اور اُس مایوسی سے نجات دلارہا ہوں، جس کے لیے تمہارے احساسات ترس رہے ہیں۔ یوں دھیرے دھیرے تمہاری حسیات اس نتیجے پر پہنچ رہی ہیں کہ میرا آئڈیا اس قدر بے کار ہے کہ شاید ہی کچھ کام دکھائے!

مگر حقیقت یہ ہے کہ ’وجود کے معنی‘ کی تلاش اس قدر شدید ہے کہ تمہاری نفسیات کا دفاعی نظام ناکام ہو جاتا ہے، اور میں اس میں داخل ہو جاتا ہوں۔ آخرکار، میں تمہارے درد کی مافوق الفطرت دوا کرنے میں کامیاب ہو گیا ہوں، پچھلے دروازے سے تمہارے خفیہ سچ تک رسائی پا چکا ہوں۔ کسی دکھتی نس کے رستے تمہارے دل میں راہ پاچکا ہوں۔ اس لیے اب تم میرے پیچھے پیچھے چلو!

اب میں چلتا جا رہا ہوں۔ کیمرے آگے پیچھے دائیں بائیں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ اچانک، سامنے اسٹوڈیو میں حاضرین نظر آتے ہیں۔ سب میرے الفاظ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ ایک عورت زار و قطار رو رہی ہے۔ ایک مرد سر پکڑے بیٹھا ہے۔ میں سب کے مسئلے حل کر دوں گا۔ بس بہت ہی کم قیمت میں سائن اپ کیجیے! فون اٹھایے۔ ویب سائیٹ پر جایے۔ سچائی اور راہ نجات ! سب آپ کے دروازے پر ! یہ سب آپ کا ہو گا! کیا آپ تیار ہیں ؟(۳)

مایوسوں کے لیے امید کہاں ہے؟
خوش آمدید، مبارک ہو کہ تم نے اس جانب ایک قدم بڑھایا ہے جہاں خواب پورے ہو سکتے ہیں! اس کورس کے آخر میں تمہارے سارے مسائل حل ہو چکے ہوں گے۔ تم ایک ایسی زندگی میں داخل ہو جاؤ گے جہاں خوشی اور آزادی ہو گی۔ تم ہر جانب سے محبت کرنے والے دوستوں میں گھر جاؤ گے۔ گارنٹی!

دیکھو ہم سب کو اجتماعیت کی ضرورت ہے تا کہ ’اُمید‘ کی کوئی راہ نکل سکے۔ صرف مذاہب ہیں جو اجتماعی ’امید‘ کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ مذاہب بہت دلنشیں ہیں۔ جب تم بہت سارے افراد کو ایک جیسی اقدار پر جمع پاتے ہو، وہ ایسا رویہ اپناتے ہیں جو وہ بطور فرد کبھی اختیار نہ کر سکتے تھے۔ ان سب کی امیدیں مل کر ایک جاندار نیٹ ورک بن جاتی ہیں۔ ان کی حسیات بے اثر ہو جاتی ہیں اور اُن کے احساسات بھر پور طور پر سرگرم ہو جاتے ہیں۔ مذاہب لوگوں کو مجتمع کر دیتے ہیں، یہ سب ایک دوسرے کو اس قدر اہمیت دیتے ہیں کہ امید مستحکم ہو جاتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا خاموش معاہدہ ہوتا ہے، اور ’مایوسی‘ کا ’تلخ سچ ‘ کہیں دور بھاگ جاتا ہے۔ یہ اطمینان نفس کا کافی شافی سامان ہے۔ یہ صرف اجتماعیت ہی ہے جو فرد میں ضبط نفس کی بھرپور صلاحیت پیدا کر دیتی ہے۔ احساسات تک ایسی براہ راست رسائی جذباتیت اور نا معقولیت کا خطرہ بھی بڑھا دیتی ہے۔ یوں محبت و یگانگت سے بھر پور یہ اجتماع قاتل ہجوم بھی بن سکتا ہے!

میں کبھی نہیں بھولوں گا جب پہلی بار کسی نے مجھے بتایا تھا کہ میرے ہاتھ ناحق خون سے رنگے ہیں۔ مجھے آج بھی یہ بات کل کی سی لگتی ہے۔ سن دو ہزار پانچ کی بات ہے۔ یہ بوسٹن کی ایک خوشگوار صبح تھی۔ میں یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا اور کلاس کی طرف جا رہا تھا، میں نے بچوں کے ایک گروہ کو دیکھا جو نو گیارہ حملوں کی تصاویر تھامے کھڑا تھا، ایک تصویر کے کیپشن پر لکھا تھا ’’امریکا ان حملوں کا مستحق تھا‘‘۔ اب جب کہ میں خود کو پرجوش محب وطن خیال نہیں کرتا، مگر مجھے دن دیہاڑے ایسا سائن بورڈ دیکھ کر بڑا غصہ آیا، دل چاہا ایک گھونسا دے ماروں!

میں رکا اور بچوں سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ وہ ایک چھوٹی سی میز پر پمفلٹ سجائے ہوئے تھے۔ ایک نے ڈک چینی کا پورٹریٹ اٹھایا ہوا تھا جس پر ’بہت بڑا قاتل‘ درج تھا، اُس کے شیطانی سینگ بھی نکلے ہوئے تھے۔ ان طلبہ کا تعلق لاروشے یوتھ موومنٹ سے تھا۔ یہ تحریک انتہائی بائیں بازو کے نظریہ ساز لنڈن لاروشے نے ہیمشائر سے شروع کی تھی، اس کے شاگرد شمال مشرق کے کالجوں میں گھنٹوں کھڑے رہتے تھے اور بچوں کے ذریعہ فلائرز اور پمفلٹس تقسیم کروایا کرتے تھے۔ جب میں ان تک پہنچا، تو دس سیکنڈ یہ سمجھنے میں لگے کہ یہ بھی ایک’ مذہب‘ تھا۔ بالکل ٹھیک، یہ ایک نظریاتی مذہب سے متعلق تھے: حکومت مخالف، سرمایہ دار مخالف، اور اسٹیبلشمنٹ مخالف۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایک عالمی نظام ہے، جو اوپر سے نیچے تک کرپٹ ہے۔ عراق جنگ اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ بش اور اُس کے دوست مزید دولت کمانا چاہتے تھے۔ دہشتگردی اور قتل عام کے واقعات کا کوئی وجود نہ تھا، اس طرح کے واقعات حکومت کی جانب سے عوام کو قابو میں رکھنے کی کوششیں تھیں۔ کئی سالوں بعد ان ہی لوگوں نے اوباما کی بھی ہٹلر کی جیسی مونچھیں نکالیں اور یہی دعوے کیے۔

جو کچھ لاروشے والے کررہے تھے، وہ خالص ذہانت تھی۔ کورے کاغذ جیسے طلبہ جوبے معنی زندگی سے جھنجلائے ہوئے تھے، انہیں یہ باور کرنا آسان تھا کہ جوکچھ(غلط) ہورہا ہے اس میں اُن کا کوئی قصور نہ تھا۔ انہوں نے یہ سوچا کہ سارا قصور حکومت کا تھا۔ یہ سب نظام کا قصور تھا، جس کا وہ حصہ تھے۔ یہ لاروشے والوں کا ایمان تھا کہ اس نظام کو اکھاڑ پھینکو پھر سب ٹھیک ہوجائے گا: نہ کوئی جنگ ہوگی، نہ تکالیف ہوں گی، اور نہ ہی کہیں ناانصافی ہوگی۔

یہ امید تک پہنچنے کا ایک سلسلہ تھا۔ یہاں ایک بہتر مستقبل کی ضرورت کام کررہی تھی۔ یہاں ہم خیال لوگوں کی ضرورت تھی جو ایک بڑی اجتماعیت میں ڈھل سکیں۔ نوجوانی کا زمانہ وہ ہوتا ہے جب لوگ اقدار اور اجتماعیت کے لیے بھرپور جدوجہد کے اہل ہوتے ہیں۔ طلبہ کو زندگی میں پہلی بار اس اظہار کا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ کون ہیں اور کیا بننا چاہتے ہیں۔ یہ ان کے احساسات اور جذبات کی پرورش کے لیے بہت کارآمد ہوتا ہے۔ یہیں سے وہ شناخت حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح لاروشے جیسے لوگ نوجوانوں کو ’امید‘ فراہم کرتے ہیں۔

’’کیا تم لوگ نہیں سمجھتے کہ یہ کچھ زیادہ ہوگیا ہے؟‘‘ میں نے اُس دن بچوں سے پوچھا، میرا اشارہ ٹوئن ٹاورز کی تصاویرکی جانب تھا۔ ’’ہرگز نہیں ہم کہتے ہیں یہ بالکل بھی زیادہ نہیں‘‘ بچونںنے جواب دیا۔ ’’دیکھو میں نے بُش کو ووٹ نہیں دیا، اور نہ ہی میں عراق جنگ کا حامی ہوں، مگر۔ ۔ ۔ ‘‘ میں نے کہنا چاہا، مگر بچوں نے بات کاٹ کر کہا’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم نے کسے ووٹ دیا اورکسے نہیں! کسی کے لیے بھی ایک ووٹ اس کرپٹ اور ظالم نظام کے حق میں جاتا ہے! تمہارے ہاتھ خون سے رنگے ہیں!‘‘ کچھ دیر میں اُن سے بحث کرتا رہا مگر یہ نہ محسوس کرسکا کہ معاملہ حسیات کا نہیں احساسات کا تھا۔ اور احساسات پرمبنی اقدار کو محض عقلی دلیل سے نہیں بدلا جاسکتا، یہ صرف تجربہ سے ہی ممکن ہے۔ میں جب اُن کی تحریک کو سائن اپ کیے بغیر آگے بڑھا توپیچھے سے آواز آئی’’تمہیں ذہن کھولنے کی ضرورت ہے! سچ بہت ہی کڑوا ہے!‘‘۔ میں نے پلٹ کر کارل سیگان کا قول اُن کے سامنے دہرادیا’’ میرا خیال ہے کہ تمہارا ذہن اتنا زیادہ کُھل چکا ہے کہ دماغ باہر آچکا ہے‘‘۔ اُس دن ہم میں سے کسی کا ذہن نہ بدلا۔

جب چیزیں بدترین ہوجائیں توہم بہت زیادہ اثر لیتے ہیں۔ جب زندگی بیکار ونامراد ہونے لگے، یہ احساس بڑھ جاتا ہے کہ ہماری اقدار ناکام ہورہی ہیں۔ ہم اندھیروں میں نئی اقدار کی تلاش شروع کردیتے ہیں۔ جو لوگ روحانی خدا پر ایمان کھونے لگتے ہیں، وہ کسی دنیاوی خدا کا سہارا ڈھونڈتے ہیں۔ جولوگ خاندان کھودیتے ہیں وہ اپنی نسل، عقیدے، اور قوم سے بھی جاتے رہتے ہیں۔ جولوگ اپنی حکومت اور ریاست پر سے بھروسہ کھونے لگتے ہیں وہ انتہاپسند نظریات میں اپنے لیے امید تلاش کرتے ہیں(گویا کسی بھی مذہب کی بنیادوں سے گہری وابستگی ’انتہا پسندی ‘ ہے! مترجم)۔ یہی وجہ ہے بڑے مذاہب غریب نادار اور مایوس لوگوں میں زیادہ مقبول ہوتے ہیں۔

اپنے ایمان کا انتخاب کیجیے
ہم سب کو لازما کسی پر ایمان رکھنا چاہیے۔ بغیر ایمان، کوئی امید نہیں۔ لادین لوگ لفظ ’ایمان‘ پر جزبز ہوتے ہیں، مگر ایمان ناگزیر ہے۔ شواہد اور سائنس کی بنیاد ماضی کے تجربہ پر ہے۔ مگر امید کی بنیاد مستقبل کے تجربہ پر ہے(۴)۔ اور تم کسی نہ کسی درجے میں مسرت آمیزمستقبل پر ایمان رکھنا چاہتے ہوکہ کچھ نہ کچھ ضرور دہرایا جانا ہے۔ تم اپنے بچوں کو تاکید کرتے ہو کہ ہوم ورک لازما کریں تاکہ تعلیمی مستقبل خراب نہ ہو۔ تم اس بات پر یقین رکھتے ہو کہ خوشی کا وجود ہے اور یہ ممکن ہے۔ تم طویل صحت مند زندگی کے امکان پرایمان رکھتے ہو اس لیے صحت مند رہنا چاہتے ہو۔ تم محبت پرایمان رکھتے ہو، اورروزگار کے معاملات میں جدوجہد پر ایمان رکھتے ہو(غرض ایمان ویقین کے بغیر ایک دن کی زندگی بھی ممکن نہیں، مترجم)۔

لہٰذا کہیں کوئی لادین نہیں ہے۔ ہم سب کسی نہ کسی بات پرایمان رکھتے ہیں کہ وہ سب سے اہم ہے۔ یہاں تک کہ اگر تم nihilist ہو، تب بھی اس بات پر ایمان کھتے ہو کہ کچھ بھی نہ ہونا ہونے سے بہتر ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سب ہی ایمان رکھنے والے ہیں۔ مگر ایمان کس پر رکھنا چاہیے؟ یہ ہر کوئی اپنی اقدار کے مطابق طے کرتا ہے۔ کسی کے لیے پیسہ خدا ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ سارے رشتے دولت کی وجہ سے قائم ہیں۔ سب لوگ پیسے کی وجہ سے احترام کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے نزدیک محبت خدا ہے۔ یہ ہرشے کو محبت کے ترازو میں تولتے ہیں۔ یہ تشدد کی ہر شکل کے خلاف ہوتے ہیں۔ یہ ہراس شے کے خلاف ہوتے ہیں جولڑانے اور تقسیم کرنے والی ہو۔

واضح طور پر بہت سارے لوگ یسوع مسیح، بدھا اور محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی اقدار میں خدا تلاش کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی ہر قدر روحانی رہنما سے حاصل کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے آپ ہی کو خدا سمجھتے ہیں۔ اپنی مسرتوں اور طاقت کو ہی سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔ یہ خود پسند سرکش قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔

اب کچھ سائنسی ذہن رکھنے والے یہاں اعتراض اٹھائیں گے، کہیں گے کہ یہاں بہت سارے حقائق کے شواہد موجود ہیں، اور ہمیں سچائی جاننے کے لیے ایمان کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ مگرشواہد کا مسئلہ یہ ہے کہ کچھ بدل نہیں سکتے۔ ان کا تعلق حسیات سے ہے۔ جبکہ اقدار کا فیصلہ احساسات کرتے ہیں۔ تم ان اقدار کی تحقیق اور تصدیق نہیں کرسکتے۔ یہ موضوعی اور من مانی ہوتی ہیں۔ تمہارے شواہد اور حقائق کا یہاں کچھ زور نہیں چلتا۔ لوگ اپنے تجربات کی روشنی میں ہی اقدار کی تشریح کرتے ہیں۔ جو شواہد پر ایمان رکھتے ہیں، ان کے مذہب کو ’سائنس‘ کہا جاتا ہے۔

رسوم اور قربانیاں
میں جب ٹیکساس میںجوان ہورہا تھا۔ یسوع مسیح اور فٹبال، بس یہی دونوں زندگی کا مرکز و محورتھے۔ فٹبال میں میری دلچسپی کافی تھی مگریسوع مسیح میری سمجھ سے باہرتھے۔ وہ زندہ تھے، مگر پھرفوت ہوگئے، مگروہ پھر زندہ ہوگئے، پھر وہ مرگئے۔ وہ بشر تھے، مگر وہ خدا بھی تھے، اور اب وہ انسان خدا اور روح کامجموعہ تھے جوہرانسان سے محبت کرتے تھے۔ یہ سب میرے لیے قابل قبول نہ تھا۔

مجھے غلط مت سمجھیے گا! میں یسوع مسیح کی بہت سی اعلٰی تعلیمات کا سہارا لے سکتا ہوں: نیک بنو اور پڑوسی سے محبت کرو اور وغیرہ وغیرہ۔ ایمان داری کی بات ہے مجھے مسیحی ہونا پسند نہیں تھا۔ مجھے یاد ہے بچپن میں میرے سوالات ڈیڈ کوبہت زچ کیا کرتے تھے: جب خدا نے ہمارے سارے گناہ معاف کردیے توپھرہم کیوں نہ چوری کریں جھوٹ بولیں اور دھوکا دیں؟ جواب میں ہمیشہ ایک ’’شش‘‘ سنائی دیتا اور میں چُپ ہورہتا۔ یہاں تک کہ میرے سوالات نے سنڈے اسکول ٹیچرکو مجبورکردیا کہ مجھ سے سودے بازی کرے۔ وہ ایک دن مجھے کلاس سے باہر لے گیا اورکہا کہ ’’تم سوال کرنا چھوڑدو، انجیل کی غیر منطقی باتوں پراعتراضات چھوڑدو، میں تمہیں اچھے نمبروں سے پاس کردوں گا!‘‘ میں نے سودا منظورکرلیا۔ یہ بات شاید تمہیں حیران کرے کہ میری طبیعت روحانی نہیں۔ ۔ بدقسمتی سے اس صورتحال نے مجھے زندگی کے اُس اندھیرے میں دھکیل دیا ہے جہاں ’تلخ سچ‘ (ناامیدی) ہروقت کچوکے لگاتا رہتا ہے۔ مگرمیں نے اس صورتحال کو قبول کیا ہے۔ میں اب بڑا ہوچکا ہوں، اورمذہبی رسومات اورقربانیوں کا احترام کرتا ہوِں۔

یاد رکھیے، جذبات ہی اعمال ہیں۔ یہ دونوں ایک ہی شے ہیں۔ یہی بات انہیں اہم بناتی ہے۔ اس لیے کچھ ایسے اعمال ضروری ہیں، جنہیں بار بار دہرایا جائے تاکہ لوگوں میں اس کی اہمیت اور تقدس قائم رہے۔ انہیں رسوم کہاجاتا ہے۔

رسم ورواج قدیم زمانے سے چلے آرہے ہیں۔ یہ علامتی ہوتے ہیں۔ اقدار کی مانند، رسوم بھی اپنا بیانیہ رکھتی ہیں۔ جیسے یسوع مسیح کی قربانی کو مختلف رسوم میں پیش کیا جاتا ہے۔

دنیا کے سب ہی ملکوں میں قومی دنوں پررسوم ادا کی جاتی ہیں۔ پریڈ ہوتی ہیں۔ پرچم لہرائے جاتے ہیں۔ قوم کے بیٹوں کی بہادری کے قصے سنائے جاتے ہیں۔ نئے عیسوی سال پرآتش بازی کی جاتی ہے۔ یہ رسم ورواج ہمیں ماضی سے جوڑتی ہیں۔ یہ ہمیں ہماری اقدارسے منسلک کرتی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہم کون ہیں۔

یہ رسوم قربانی سے متعلق ہوتی ہیں۔ قدیم معاشروں میں دیوی دیوتاؤں کے آگے قربانیاں دی جاتی تھیں، اچھی فصل اور دیگربخششوں کے لیے مختلف خود ساختہ قربانیاں دی جاتی تھیں، یہاں تک کہ انسانوں کوجاہلانہ رسوم کی خاطربُتوں کی بھینٹ چڑھایا جاتا تھا۔

غرض رسومات قربانیوں سے متعلق ہیں، اور قربانیاں ماضی کی عظمت سے متعلق ہیں، اور یہ عظمت شناخت کی پائیداری سے متعلق ہے۔ اس لیے انسان خواہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی، رسومات کو عزیز رکھتے ہیں، انہیں دہراتے ہیں، اورشناخت کی تکرار سے تسکین حاصل کرتے ہیں۔

چاہے تم محسوس کرو یا نہ کرو، تم کسی نہ کسی گروہ کے عقائد اور اقدار اپناچکے ہو۔ تم رسم ورواج پر بھی چلتے ہو اور قربانیاں بھی دیتے ہو۔ تم ’اپنے‘ اور ’دوسروں‘ کے درمیان خط تنسیخ کھینچتے ہو، ہم سب یہی کرتے ہیں۔ مذہبی عقائد ہمارے فطرت کا لازمی جز ہیں۔ انہیں نہ اپنانا ممکن نہیں۔ اگر تم سمجھتے ہو مذہب سے بالاتر ہوکیونکہ تم منطق اور عقل سے کام لیتے ہو، تو معاف کرنا تم غلط ہو: تم بھی ہم میں سے ایک ہو۔ اگر تم سمجھتے ہو کہ بہت زیادہ علم رکھتے ہو اور اعلٰی تعلیم یافتہ ہو، تو وہ تم ہرگز نہیں ہو۔

ہم سب کا کسی نہ کسی پر لازما ایمان ہونا چاہیے۔ ہمیں کہیں نہ کہیں اعلٰی قدر تلاش کرنی چاہیے۔ یہی طریقہ ہے کہ ہم نفسیاتی طور پر بقاء اور جدوجہدکا کچھ سامان کرسکیں۔ امید پانے کا یہی رستہ ہے۔ اور اگر تمہارے پاس مستقبل کا کوئی بہتر وژن ہے، تب بھی یہ تنہاپانا دشوار ہے۔ کسی بھی خواب کی تکمیل کے لیے اجتماعیت کی ضرورت ناگزیر ہے۔

یہ ہماری اقدار کا وہ سلسلہ ہے، جن کا اظہار مذہب کی داستانوں میں ملتا ہے، یہ لاکھوں کروڑوں ماننے والوں میں گردش کرتی ہیں، انہیں متاثر کرتی ہیں، انہیں منظم کرتی ہیں۔ مذاہب وسائل دنیا کی زندگی میں مسابقت کرتے ہیں۔ فاتح مذاہب کی اقدار آگے بڑھ جاتی ہیں۔ شکست خوردہ مذاہب کی اقدار مٹ جاتی ہیں۔ فاتح مذاہب مستحکم ہوجاتے ہیں، اور عظیم تہذیبوں کی بنیاد بن جاتے ہیں۔

مگر یہاں ایک مسئلہ ہے۔ جیسے جیسے مذہب کی اقدار وسعت وگیرائی حاصل کرتی ہیں، اقدار کی نوعیت بدلتی جاتی ہے۔ مذہب جن ابتدائی اقدار کی بدولت مستحکم ہوا تھا، وہ ماند پڑتی جاتی ہیں۔ اور یہی ہے وہ مقام جہاں سے بگاڑ شروع ہوتاہے۔ جب اصل اقدار جومذہب کی تعریف وتوضیح کرتی ہیں، تحریک برپا کرتی ہیں، انقلاب لاتی ہیں، انہیں دنیاوی تقاضوں کی بھینٹ چڑھادیا جاتا ہے۔ یہی ہے وہ رستہ جو یسوع مسیح سے صلیبی جنگوں کے جنون تک لے جاتا ہے۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے، توناکامی کی نسبت کامیابی غیر یقینی سی ہوجاتی ہے۔ یوں کامل مستقبل کی امید خطاؤں اور آزمائشوں سے خالی نہیں۔ خواب کی تعبیر تک پہنچنا ان دیکھی قربانیوں کا متقاضی ہے۔ (۵)


حواشی:
۱) لا یعنی زندگی کے کرب کی جانب اشارہ ہے۔ یہ کرب زندگی کی اُس بے معنویت کا ہے جس نے مغربی اور مغرب زدہ معاشرے کی زندگی پرجمود طاری کردیا ہے۔ حسیاتی ضروریات کے گرد کوہلو کا بیل بن کر رہ گئے ہیں۔ امریکا میں انتہائی ترقی کے باوجود عام فرد کی حالت ہراعتبار سے خرابی کا شکا ر ہے۔ کتاب Winners take all کے مصنف آنند گری دھراداس نے اس حوالہ سے بھرپور تجزیہ کیا ہے۔

۲)مغرب زدہ مادی ذہن کی مذہب بیزار نفسیات کی جانب اشارہ ہے۔

۳)مسٹر مینسن یہاں الجھاؤ کا شکار ہیں۔ مذہب کی ناگزیر ضرورت پر زور دے رہے ہیں مگر ساتھ ہی مذہب کو مافوق الفطرت بھی ظاہر کررہے ہیں۔

۴) ”اور جو لوگ ایمان لا ئے اور نیک عمل کئے وہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ” (بقرہ، ۸۲)

۵)اس باب میں مسٹر مینسن مذہب کی ناکافی تحقیق پرناکافی تجزیہ کرگئے ہیں۔ لہجے میں مذہب (عیسائیت) کے لیے استہزاء ہے۔ دیگر مغربی دانشوروں کی مانند انہوں نے بھی عیسائیت کے تجربات اور اثرات کو بطور حجت’مذہب‘ پر قائم کرنے کی سعی کی ہے۔ اس تناظر میں سمجھا جائے تو اس باب میں مذہب کا موضوع خالصتا عیسائیت ہے۔ مسٹر مینسن ایمان، یقین، احساسات، اور امید کے لیے مذہب کے فطری نظام کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں مگر ’دین فطرت‘ کی تحقیق کے بجائے ’تخلیق مذہب‘ کی گمراہی میں جانکلتے ہیں، اور یہ سادہ سا اعتراف نہیں کرتے کہ ’تحقیق مذہب‘ کے سلسلے میں سنگین غفلت کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اس باب کے مطالعہ سے واضح ہے کہ مسٹر مینسن نے مذہب کی تحقیق میں مطالعہ قرآن کی سرسری سی زحمت بھی گوارا نہیں کی، ورنہ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ ’تخلیق مذہب‘ کی ضرورت محسوس ہوتی۔

ترجمہ و تلخیص ناصر فاروق۔

(Visited 58 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: