All is Well —– خبیب کیانی

0

سیلف ڈویلپمنٹ کی دنیا کو ذہنی سائنس کی دنیا کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہو گا۔ دنیا بھر کے ٹرینرز اپنے اپنے انداز میں اور اپنے اپنے الفاظ میں اسی ایک نقطے کو بیان کرتے نظر آتے ہیں کہ کامیابی کو قابو کرنے کے لیے ہمیں خود کو قابو کرنا چاہیے اور خود کو قابو کرنے کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ اپنے ذہن پر قابو پایا جا ئے۔ ذہن اتنا اہم کیوں ہے اور اس کا کامیابی سے اس قدر گہرا تعلق کیوں ہے اور اسے کیسے قابو کیا جا سکتا ہے یہ وہ سوالات ہیں جن کا اکثر ٹرینرز کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کچھ ماہ پہلے شام کے وقت بھاگ دوڑ اور ورزش کے معمول پر کام کرنا شروع کیا۔ اس شروعات کو ایک لمبے عرصے تک کھیل کود کے میدان سے دوری کی وجہ سے شروع میں ہی کافی جھٹکے لگے اور ہمیں لگا کہ شاید اب ہم کبھی بھی فٹنس کا وہ معیار حاصل نہیںکر پائیں گے جو کبھی ماضی میں ہوا کرتا تھا۔ ہلکا پھلکا بھاگنے کے بعد ہی دل اچاٹ ہو جاتا، تھکاوٹ غالب آنا شروع کر دیتی اور ہمیں یوں لگتا کہ بھائی وہ وقت بیت گیا جب بھاگ دوڑ اور جسمانی مشقت جیسے کام آسانی سے کر لیے جاتے تھے۔ بہرحال اس سے پہلے کہ ہم دل ہار کر اپنا معمول ترک کرتے ایک واقعہ ایسا ہوا کہ جس سے ہمٰیں اس باریک بات کو سمجھنے کا موقع ملا دنیا کے اس کار زار میں کسی بھی انسان کے ذہن کو ہی اس کا بہترین ہتھیار کیوں کہا جاتا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم نے بھاگ دوڑ اور ورزش کے اس معمول کے شروع میں طے کر لیا کہ ہم ہمت کر کے ریس کورس پارک لاہور کا ایک مکمل چکر لگایا کریں گے۔ یہ چکر تقریبا پونے تین کلو میٹر پر مشتمل ہوتا اور پیدل چلتے، دوڑتے، ہانپتے کانپتے یہ ایک چکر کسی نہ کسی طرح مکمل کر کے ہم چند ورزشوں کے بعد تھک ٹوٹ کر گھر آجاتے۔ یہ ایک چکر ہمارے جسم کو اس حد تک تھکا دیتا کہ ہم رات کو صرف گھوڑے ہی نہیں بلکہ دنیا جہان بیچ کر سویا کرتے تھے۔ اب ہوا کچھ یوں کہ ایک دن جب ہم شام کو اپنے معمول کے ایک چکر کو مکمل کرنے کے قریب تھے ہمیں ایک دوست کی کال آگئی جس کے گھر میں کچھ مسائل تھے جن کے سلسلے میں مشورہ درکار تھا۔ کیونکہ مسائل گھمبیر تھے اور لمبی بات چیت کے متقاضی تھے تو ہم نے کال ٹریک پر تیز واک کرتے ہوئے سننا شروع کر دی، بات ایک چکر سے آگے نکل گئی اور ہم ذہنی طور پر اس کال میں اس قدر مگن ہو گئے یا کر لیے گئے کہ ہمیں یہ بھول گیا کہ ہم اس وقت بھاگنے دوڑنے یا ورزش کرنے آئے ہوئے ہیں، طوالت کے باعث کال ایک دو بار منقطع بھی ہوئی لیکن پھر ملا لی گئی، کال کے دوران ان مسائل کو غور سے سننے اور ایک بہتر مشورہ دینے کی فکر میں ہم سب کچھ بھول گئے، بس جب چکر پورا ہوتا تو ہم گن لیتے کہ کتنے چکر ہو گئے۔ دوست کو مکمل طور پر سننے کے بعد اور بہترین مشورہ دینے کے بعد جب ہم رکے تو ہم ریس کورس پارک کا چوتھا چکر یعنی گیارہ کلو میٹر کا فاصلہ ختم کرنے کے بالکل قریب تھے اور وہ تھکاوٹ جو ہر روز ایک چکر کے بعد ہی ہم پر حملہ آور ہوجاتی تھی اس کا کہیں نام و نشان بھی نہیں تھا۔ کہاں ایک ہی چکر کے بعد تھکاوٹ کا شدید احساس اور کہاں چار چکروں کے بعد کی ہشاش بشاش حالت؟ بس پھر کیا تھا ہم نے کان پکڑ خود کو پاس ہی موجود بینچ پر بٹھا لیا اور اس تضاد کو پرکھنا شروع کر دیا۔ تسلی سے اس بات پر غور کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ جسم کی برداشت کی حد ذہنی طور پر ریگولیٹ ہوتی ہے۔ اگر ذہن ایک چکر کے بعد جسم کو سگنل دے دے کہ بس ہو چکی ہے تو جسم اس سگنل کے مطابق شدید تھکاوٹ محسوس کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اسی ذہن کو اگر جسمانی مشقت کے دوران کہیں اور مصروف کر لیا جائے تو یہ جسم کو تھکنے کا سگنل نہیں دے پاتا اور معمول سے کہیں زیادہ برداشت کا مظاہرہ کر جاتا ہے۔ یہ وہ اصول ہے جسے سیلف ڈویلپمنٹ کے سیکھنے والے طالب علم کے طور پر ہم نے کئی بار پڑھا لیکن یقین تب ہوا جب ہم نے اس واقعے میں جسم اور ذہن کے تعلق اور اس تعلق کے کارکردگی پر اثرات کو سمجھا۔

گولڈ کوسٹ آسٹریلیا میں ہونے والی حالیہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی طرف سے سونے کا واحد تمغہ جیتنے والے پہلوان انعام بٹ پہلوانی جیسے زور آور کھیل میں بھی اپنی جیت کو ذہنی کنٹرول کے سبب قرار دیتے ہیں۔ گولڈ میڈل تک پہنچنے کے لیے انعام کو چار مقابلے لڑنے پڑے جن میں سخت ترین جوڑ تب پڑا جب کوارٹر فائنل میں انعام کومد مقابل بھارتی پہلوان سومویر کا سامنا کرنا پڑا۔ سومویر چھیاسی کلو گرام کی کیٹیگری کے گزشتہ کامن ویلتھ مقابلوں کا ونر تھا اور ہر کوئی یہی رائے رکھتا تھا کہ اس کیٹیگری میں اب کی باربھی گولڈ میڈل سومویر کا ہی ہو گا۔ انعام مقابلے کے ماحول کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کے میدان میں موجود تماشائیوں کی بہت بڑی تعداد بھارتی تھی اور وہ سب مل کر سومویر کے لیے شدید نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس قدر سپورٹ، گزشتہ ریکارڈ اور مقابلوں کی تیاری کے لیے بہتر حکومتی مراعات جیسے تمام عوامل مل کر اشارہ کر رہے تھے کہ سومویر آسانی سے یہ میچ جیت جائے گا۔ کرائوڈ سپورٹ کسی بھی کھلاڑی کا حوصلہ بڑھانے اور اس کے مخالف کا حوصلہ گرانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انعام جو مقابلے کی بھر پور تیاری کر کے آئے تھے کرائوڈ پریشر کے ہاتھوں اس انتہائی اہم میچ میں اپنا فوکس کھو کر گولڈ میڈل کی دوڑ سے باہر نہیں ہونا چاہتے تھے۔ اب اس ماحول میں ایسا تو ممکن نہیں تھا کہ انعام انتظامیہ سے کہتے کہ کچھ پاکستانی کرائوڈ بھی بلائیں اس لیے انعام کو اپنے ذہن سے مدد لینا پڑی۔ انعام بتاتے ہیں کہ مقابلے سے پہلے میں نے خود سے یہ کہا کہ نعروں سے گبھرانے کی بجائے یہ سمجھو کہ یہ سومویر کا کرائوڈ نہیں ہے یہ تمھارا کرائوڈ ہے جو تمھارے حق میں نعرے بازی کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ تم جلد سے جلد سومویر کو پچھاڑ دو۔ مقابلے سے صرف چند سیکنڈ پہلے ہونے والے اس ذہنی ڈائیلاگ نے انعام کومقابلے کے دوران بھر پور سپورٹ دی۔ انعام ہر نعرے کو ذہنی طور پر اپنے حق مٰیں سمجھ کر لڑا اواس نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں سابقہ چمپئن سومویر کو چلتا کیا۔ ذہن کی طاقت اور اس سے رونما ہونے والے ایسے ہی واقعات سے کھیلوں، جنگوں اور روزمرہ زندگی کی کہانیاں بھری پڑی ہٰیں۔

اب سوال یہ پیدا ہتا ہے کہ اگرذہن کی مدد سے اس قدر بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے جا سکتے ہیں تو پھر ذہن اور جسم کو اس کے لیے تیا ر کیسے کیا جائے؟وہ کیا اصول ہیں جو ذہن میں چھپے اس طاقت کے ذخیرے تک پہنچنے میں ہماری مدد کر سکتے ہیں؟ اس بات کا جواب دنیا بھر میں ہونے والی شدید سخت کمانڈو ٹریننگ کے انسٹرکٹرز بہت اچھی طرح سے جان چکے ہیں اور وہ چالیس فیصد کے اصول کو وضع کر کے اپنے جوانوں کی ٹریننگ کرتے ہیں۔ چالیس فیصد کے اصول کے مطابق اگر آپ کا جسم کوئی بھی مشقت بھرا کام جیسے کہ ورزش، بھاگ دوڑ، کشتی یا روزمرہ زندگی کے مسائل سے نبٹتے ہوئے اگر آپ کو یہ سگنل دے کہ توانائی کی کمی کی وجہ سے اب اس کام کو مزید جاری رکھنا نا ممکن ہے تو یہ ایک غلط سگنل ہوتا ہے۔ چالیس فیصد کے اصول کے مطابق جب ہمارا جسم ہمیں یہ سگنل دیتا ہے تو در حقیقت اس نے صرف چالیس فیصد توانائی ہی استعمال میں لائی ہوتی ہے۔ اس موقعے پر ہمیں اپنے جسم کے سگنل کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے کام کو جاری رکھنا چائیے۔ دنیا بھر شدید ترین حالات میں لڑتے ہوئے کمانڈوز اسی ایک نکتے پر اپنے ذہن کو مرکوزکرتے ہوئے ہزاروں نا قابل یقین کارنامے سرانجام دیتے ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنا اہم ہے کہ انسانی ذہن اس طرح کے کسی بھی اصول کو ایک دم سے اپنے سسٹم کے لیے قابل قبول نہیں بناتا۔ آہستہ آہستہ اپنی limits کو چیلنج کر کے ہی ہم ساٹھ فیصد غیر استعمال شدہ توانائی کے ذخیرے تک پہنچ سکتے ہیں۔

آپ اپنی زندگی کے جس بھی چیلنج سے نبٹ رہے ہیں یا د رکھیں کہ ذہن آپ کا بہترین ہتھیار ہے، اسے استعمال میں لائیں، جلد شکست مان لینے یا گبھرا جانے کے رویے پر نظر ثانی کریں اور اپنے ذہن کو ایک چمپئن کے ذہن کے طور پر پروگرام کریں جو ہر طرح کے حالات میں کے حا لات میںALL IS WELLکے منتر کو نہ صرف جاپنا جانتا ہو بلکہ اس پر یقین بھی رکھتا ہو۔ ایسا کرنے سے ضروری تو نہیں کہ آپ زندگی کی ہر جنگ جیت جائیں مگر ایسا ضرور ہو گا کہ آپ اپنے چیلنجزسے بہتر طور پر نبٹ پائیں۔ تودوستو، یارو اور پیارو! چالیس کی دوڑ سے نکل کر ساٹھ کی دوڑ میں شامل ہونے کے بارے میں کیا خیال ہے ؟

(Visited 128 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: