رد انقلاب کا اصلی تے وڈا کیڑ (۱) — جاوید چوہدری کو فرحان شبیر کا جواب

2

ایسا نہیں ہے حضور ہے کہ پاکستان میں کچھ نہیں بدل رہا بس آپ اور کچھ اور احباب کو یہ “رد انقلاب” کا کیڑا کاٹ رہا ہو تو کیا کہیئے ورنہ تو جس عمران خان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے آپ اسے ملک کی تباہی کا ذمہ دار اور اپنے خوابوں کے ٹوٹنے کا قصور وار ٹھہرا رہے ہیں اسی عمران خان کی حکومت کے آنے پر چین کے پاکستان میں سفیر نے مبارکبادی مضامین لکھے تھے۔ دنیا بھر کے سربراہان بشمول اکھڑ مزاج ڈونلڈ ٹرمپ کے عمران خان کو دورے کی دعوت دے رہے ہیں ۔ چین نے اسی عمران خان کے دورے کے دوران ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور آسیان ممالک کے برابر کے ٹریڈ اسٹیٹس دیے تھے۔ اور روس کے صدر پوٹن کو تو عمران خان کے ساتھ ڈنر ٹیبل پر لگاتار محو گفتگو سب نے ہی دیکھا تھا۔

حکومت کے بنتے ہی ملائیشیا کے جہاندیدہ اور سرد و گرم چشیدہ مہاتیر محمد بھی اسی عمران خان کی بلائیں لے کر گئے تھے۔ اور ہاں سعودیہ کے ولی عہد شاہ سلمان کے الفاظ تو آپکو یاد ہی ہونگے کہ انہیں (محمد بن سلمان کو) سعودیہ میں پاکستان کا سفیر سمجھیں اور یہ ہم انتظار میں تھے کہ پاکستان میں آپکی (عمران خان) کی حکومت آئے۔ اب یا تو چین کے صدر شی چن پنگ بھی بے وقوف ہیں کہ اپنے سی پیک اور 62 ارب ڈالرز کے ڈوبنے کا بالکل بھی ڈر نہیں کیونکہ جاوید چوہدری کے فتوے کے مطابق تو تباہی کا دوسرا نام عمران خان ہے۔ روس کے صدر پوٹن، یو اے ای محمد بن ذید MBZ جنہیں محمد بن سلمان کا بھی مینٹور کہا جاتا اور خود MBS تک سب کے سب بے وقوف ہیں جو اپنے اپنے ملکوں کا اربوں روپیہ پاکستان میں لا رہے ہیں اور عقلمند صرف جاوہد چوہدری صاحب۔ کیا جاوید چوہدری صاحب بتانا پسند کرینگے کہ آخر کیوں انکے ممدوح میاں نواز شریف اور انکے بھائی جاوید چوہدری کے اصل دوست شہباز شریف دس سال سے پنجاب اور مرکز پر حکمرانی کرتے ہوئے بھی سعودیوں، قطریوں، ترکوں سے اتنے خاندانی تعلقات رکھنے کے باوجود اتنی انویسٹمنٹ کیوں نہ لا سکے۔ پھر آرمی، عدلیہ، نیب اور دوسرے ادارے عمران خان کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ چھوٹے شہر سے بڑے شہر آکر کاروبار کرنے والے جاوید چوہدری کو تو پتہ ہے کہ عمران خان بیڑہ غرق کردے گا لیکن اگر نہیں پتہ تو 62 ارب ڈالرز کی انویسٹمنٹ کرنے والے چین، 500 ارب ڈالرز کے انویسٹمنٹ فنڈ کو مینیج کرنے والے سعودی ولی عہد مُحَمَّد بن سلمان ، امریکہ کو ناکوں چنے چبوا کر روس کو دوبارہ سے زندہ کرنے والے پوٹن اور ملائیشیا کے مہاتیر محمد کو نہیں پتہ۔

یہ تو سب ہی جانتے تھے کہ پاکستان کی معیشت آئی سی یو میں پڑی ہوئی تھی۔ سو ارب ڈالرز سے زائد قرضوں کا بوجھ ، انسٹھ ارب ڈالرز کی امپورٹس جبکہ تئیس چوبیس ارب ڈالرز پر اٹکی ہوئی امپورٹس ، ٹیکس کلیکشن ٹو جی ڈی پی ریشو پیتھیٹک ۔ ٹیکس مشینری ذنگ آلودہ مافیا زدہ اور کرپٹ، کوئی ایک ادارہ یا محمکہ ایسا نہیں جو کما کر دے رہا ہوں سب عوام کی کمائی پر بوجھ، سفید ہاتھی ۔ پھر ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئیے درکار ون ونڈو ٹائپ سسٹم کی عدم موجودگی۔ موبائل ایپس کے دور میں بھی ہر ادارہ کا اپنے پرائویٹ کاروباری حریفوں سے کمتر معیار۔ کسٹمر سیٹسفیکشن کا دور دور تک کوئی تصور نہیں۔ چھتیس چھتیس محمکوں کا ایکدوسرے کے ساتھ چھتیس کا آنکڑہ، زمین خریدنے والے دن سے لے کر فیکٹری بنانے کے لئیے قبضہ ملنے تک دو سو اسی دن تک لگ جاتے ہیں۔ کاروبار اور جائداد کی تقسیم کا چھوٹے سا چھوٹا کیس بھی چھ ماہ سے جلدی حل نہیں ہوتا۔

ایسے آئی سی یو میں پڑے مریض کو اگر کوئی ایک ہی سال میں 100 میٹر کا اسپرنٹر بنانا چاہتا ہے یا Five K میراتھون جتوانا چاہتا ہے تو اس کو یہی کہا جاسکتا یے ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پے دم نکلے ۔ آئیگا ، انشاللہ بہتر وقت بھی آئیگا اور آتا جاتا رہا ہے۔ مریض کو سرجری، دوا اور پرہیز کی سختیوں سے گزرنا ہی پڑیگا اور اہل خانہ کو کچھ نہ کچھ تو تکلیف اٹھانی پڑیگی لیکن یہ پیروں کا وہ درد ہوگا جو واک کے بعد ہوتا ہے اور آپ کے اپنے فائدے کے لئیے۔

ہماری معیشت کو درکار مسائل میں سے ایک ٹریڈ ڈیفیسٹ یا تجارتی خسارہ تھا ہم ہر ماہ صرف دو ارب ڈالرز کی چیزیں بیچ رہے تھے اور پانچ ارب ڈالرز کی امپورٹس کر رہے تھے ۔ امپورٹس پر روک لگانے سے پچھلے دس ماہ میں ٹریڈ ڈیفیسٹ میں 29% کی کمی آئی ہے ۔ ایکسپورٹ بھی پک پکڑینگی تو ڈیفیسٹ اور بڑے گا بھی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباو بھی کم ہوگا۔ امپورٹس پر بریک لگے گا تو ڈالر کی ڈیمانڈ بھی گرے گی۔ “قرضے” اگر لئیے بھی گئے تو 9 ارب ڈالرز سود اور قسطوں کی مد میں واپس بھی کئیے گئے ہیں۔ PIA نے جان پکڑنا شروع کر دی ہے سی پیک میں شامل ریلوے آپ گریڈیشن کے 1۔8 ارب ڈالرز کے معاہدے کو بھی عمران خان کے دورہ چین میں GO ahead دیا جاچکا ہے ۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو دی جانے والی تفصیلات کے مطابق اس سال ریلویز کے ذریعے سفر کرنے والے لوگوں میں چوالیس لاکھ کا اضافہ ہوا اور کل چھ کروڑ لوگ سال بھر ریلوے کے مسافر رہے۔ پوسٹ آفس کا ادارہ اب موبائل ایپس پر آگیا ہے لوگ بھی خوشی خوشی پاکستان پوسٹ آفس کی سہولیات لے رہے ہیں۔

معیشت کو لاحق دوسری بڑی بیماری بڑی کرپشن منی لانڈرنگ، بے نامی اثاثے، جعلی بینک اکاونٹس ، Tax evasion ، بل کھاتے وغیرہ وغیرہ تھے۔ ان شارٹ کہیں کہیں تو ادارے ہی غائب تو کہیں قوانین۔ پچھلے ایک سال میں ہی کرپشن سے لیکر بے نامی اثاثوں کو منظر پر لانے میں بہت تیزی سے ہوتا ہوا کام یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر وزیر اعظم عمران خان کا یہی عزم رہا ہے کسی کو پاکستان کا ایک پیسہ بھی ہڑپ کرنے نہیں دیا جائگا اور عدلیہ نیب ، ایف آئی اے ، کسٹمز بشمول عسکری ادارے اسی طرح اپنی تندہی سے لگے رہے تو اگلے پانچ سالوں میں ہی معیشت کے یہ سارے امراض ٹھیک ہوجائینگے۔ بڑے بڑے لوگ منی لانڈرنگ ، بے نامی جائیدادوں، کرپشن اور اسمگلنگ کے دھندوں میں جیل جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ پہلے تو جب کبھی ریاست نے یا پہلے کی کسی پارٹی یا جنرل نے احتساب کرنا چاہا تو غیر ممالک سے معلومات ہی نہیں آتی تھیں ۔ اب دبئی سے لیکر سوئٹزرلینڈ تک ڈیٹا ٹرانسفر ہورہا ہے ۔ خود FBR کی ویب سائٹ پر پچپن لاکھ لوگوں کا سارا DATA آن لائن کردینا ہی کچھ لوگوں کی نیند اڑا دینے کے لئیے کافی تھا مگر حکومت نے اس سے بھی بڑا قدم اٹھا لیا ۔ FBR کی تاریخ میں اتنے بڑے تبادلوں اور اکھاڑ پچھاڑ کا کسی نے سوچا بھی نہیں تھا جو اب ہو چکا ہے ۔ 2500 افسران و اہلکاروں کو ادھر ادھر کیا گیا ہے۔ کیونکہ جب تک ان اداروں میں بنی ہوئی پوری پوری مافیاز کو نہیں بریک کیا جائگا تب تک حکومت اپنا کوئی ہدف نہیں پورا کر سکتی ۔ جس ایمنسٹی اسکیم پر اپوزیشن کا رونا چل رہا تھا اس نے تین مہینوں میں بینکوں کے پاس ڈپازٹس میں ایک ہزار ارب روپے کے ڈپازٹس کا اضافہ کردیا جو کہ پہلے کی کسی ایمنیسٹی اسکیم سے نہیں آیا کیونکہ اس دفعہ عمران خان کے بار بار قوم سے خطاب کرکے اثاثے ڈیکلئر کرنے کی اپیل کرنا بھی اسی بات کا اشارہ تھا کہ بعد میں پچھتانا مت۔ یہ ایک ہزار ارب روپیہ ، پرائس بانڈ اینکیچمنٹ، گولڈ اور زمین جیسے تین ہزار ارب کے اثاثوں کو ڈیکلیئر کرنے سے آیا ۔ یعنی یہ تین ہزار ارب روپے بھی معیشت میں داخل ہوگئے white ہوگئے ڈاکیومینٹیشن میں آگئے ۔

پھر اسی طرح فارن Ramittance میں پچھلے مالی سال 2017-18 کے مقابلے میں پورے 10 % کا اضافہ ہوا ہے ۔ حکومت نے اس سال Ramittance کا ہدف 2۔21 ارب ڈالرز رکھا تھا جو نہ صرف یہ کہ پورا ہوا بلکہ اس میں 3% فیصد یا 640 ملین ڈالرز کا اضافہ ہو کر ہوکر 84۔21 ارب ڈالرز کے Ramittances آگئے ۔ اسکی ایک بڑی وجہ ہوالہ اور ہنڈی کے کاروبار پر کیا جانے والا کریک ڈاون ہے جو پہلی دفعہ ہوتا ہوا نظر بھی آرہا ہے ۔ سیاسی ہو کہ غیر سیاسی سب پر ہاتھ ڈالا جارہا ہے ۔ حمزہ شہباز ہو شرجیل میمن ہو یا زلفی بخاری سب اپنی اپنی TTs کا حساب دیں ساتھ میں روپیہ ڈی ویلیو کرنے سے جہاں امپورٹس پر بریک لگا وہیں وہیں یورپ اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ریمٹینسز کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوا اور ریمٹینسز ہدف سے زیادہ ہی ہوگئی۔

پھر معاشی ہی نہیں دفاعی اور گلوبل لیول پر بھی پاکستان کا کردار اہم ترین ہوتا جارہا ہے۔ ستائیس فروری کو بھارت کو طمانچہ مار کر پاکستان نے چین سے لیکر مڈل ایسٹ کے عرب ممالک تک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو ثابت کر دیا ہے خود عرب ممالک ایک دفعہ پھر پاکستان کی چھتری تلے جمع ہوتے چلے جارہے ہیں۔ قطر، یو اے ای، اور سعودیہ عرب تو پندرہ پندرہ بیس بیس بلین ڈالرز کی انویسٹمنٹ کرنے کے معاہدے کر رہے ہیں ۔ افغانستان کے طوطے میں امریکی جن کی جان خلاصی کے لئیے اب تو باقاعدہ منتیں ترلے کئے جارہے ہیں۔ جس عمران خان کو امریکی میڈیا نے الیکشن سے پہلے مذاق کا نشانہ بنایا اب اسی عمران خان کو جولائی کے اختتام میں امریکہ پہنچنے پر ڈونلڈ ٹرمپ خود ریسیو کرنے آئیگا ۔

درحقیقت پاکستان کا امریکی مدار سے نکلنا اور شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کا فعال حصہ بنتے چلے آنا بہتر ثابت ہورہا ہے۔ جس میں پہلے سی پیک کی سکیورٹی کی ذمہ داری اپنے ہاتھوں میں لیکر پاکستان کی فوج نے امریکہ کو ٹاٹا بائے بائے کردیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے کولیشن سپورٹ فنڈ کی رقم دبا لی ایف سولہ کے پیسے کھا گیا اور جب پاکستان نے ماسکو کے دفاعی اور آرمی افسران کی ٹریننگ کا معاہدہ کیا تو امریکہ نے پاکستانی فوج کے افسران کی امریکی ملٹری وار کالجز میں ٹریننگ کا معاہدہ ختم کر دیا ۔ دو ہزار سولہ سے پاکستان فوج نے امریکہ سے کوئی اسلحہ نہیں خریدا ۔ جبکہ اس دوران چین سے جے ایف سیونٹین تھنڈر سے لیکر میزائل ٹیکنالوجی بھی شامل ہے اور 2015 کے اسٹریٹیجک معاہدے کے بعد پاکستان اور چین ایک دوسرے کے دفاع کے بھی معاہدے دار ہیں ۔ پاکستان اور چین کی کمیونیکیشن کی بریچیز کو روکنے کے لئیے پنڈی ٹو کاشغر آپٹیکل فائبر بھی پچھلے سال چالو کیا جاچکا ہے اور پاکستانی ملٹری اور ائیر فورس امریکی گلوبل پوزشننگ سسٹم GPS کے ساتھ ساتھ چائنا کے سیٹیلائٹ کمیونیکیشن اور پوزیشننگ سسٹم Baidu کو بھ استعمال کر رہے ہیں ۔ ہائی ویز تک پر انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بسز کی دنیا میں چین کی کمپنی Youtong کی گاڑیاں زیادہ نظر آرہی ہیں اور ڈائیوو کمپنی کی کم ۔ آنے والے وقتوں کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ کراچی کی انجئنرنگ کی یونیورسٹی NED میں چائینیز لینگویج Compulsory سبجیکٹ کے طور پر ڈالی جاچکی ہے یعنی اسے چھوڑا نہیں جاسکتا ۔ 25 ہزار سے زائد طالبعلم اس وقت چین میں اسکالر شپ پر زیر تعلیم ہیں اور Huwaei کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت ایک ہزار نوجوانوں کو اسکالر شپس کے ذریعے ایڈوانس آئی ٹی اور انٹرنیٹ آف تھنگ پڑھنے بھیجا جائے گا۔

پاکستان میں کرپشن مکاو مہم میں بھی چینی ایفیکٹ بڑا گہرا ہے۔ چین پاکستان میں اپنی باسٹھ ارب ڈالر کی انویسٹمینٹ کو کرپشن میں لٹنے نہیں دے سکتا۔ سی پیک کی ناکامی چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اینیشٹیو کی ناکامی ہے لہذا اس سال ہونے والے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے سالانہ اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ نے SCO بلاک اور OBOR میں شامل ہونے والے ممالک کو کرپشن کا خاتمہ کرنے پر ذور دیا تھا اور خود چین بھی پچھلے پانچ سالوں میں کرپشن کے خاتمے کی تاریخ کی سب بڑی مہم چلا چکا ہے جس چینی صدر Xi Jinping نے کمیونسٹ پارٹی ہائیسٹ فورم “پولٹ بیورو” کے سات میں سے پانچ ارکان کو بھی کرپشن چارجز پر سزا سنانے سے گریز نہیں کیا ۔

پاکستان میں غربت کے خاتمے سے لیکر کرپشن مٹانے اور معیشت کی بہتری کے لئیے چینی تجربے سے استفادہ حاصل کرنے کے بیانات انہی کوششوں کا نمایاں اظہار ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے پر تنقید تو کی جارہی ہے لیکن سوچنے والی بات ہے چین کو کوئی تشویش کیوں نہیں ہے خود آئی ایم ایف کی جانب سے بار بار سی پیک کی تفصیلات مانگے جانے پر خود چین نے پاکستان کو کہا کہ اسے کوئی اعتراض نہیں، دے دی جائیں تفصیلات ۔

چین کا Soft power اس خطے سے آہستہ آہستہ امریکی ہیجیمونی کو کمزور کرتا چلا آرہا ہے ۔ جوکہ پاکستان جیسے ملک کے لئیے خوش آئند ہے کیونکہ امریکی اور ویسٹرن تہذیب کے برعکس چینی بہت قوم ہیں۔ خود چین جسطرح پچھلے چالیس سالوں اور بالخصوص پچھلے بیس سالوں سے ترقی کی چھلانگیں لگا رہا ہے وہ حیران کن ہے۔ چین بزنس بھی کر رہا ہے ، ملٹری بھی بنا رہا ہے ، ہائی ٹیک اور ایڈوانس ٹیکنالوجی میں چین کے پیٹینٹس اب یورپ کے مجموعی پیٹینٹس سے بھی زیادہ ہونے لگے ہیں ۔ سلیکان ویلی کے امریکی chip maker چین کی چپ میکنگ کی صلاحیتوں امریکی سلامتی کے خلاف قرار دے رہے ہیں ۔ امریکہ اور یورپی ممالک سے چینی کمپنیوں کو دیس نکالا دیا جانا اسی اکنامک ہیجیمونی کے خاتمے کا خوف ہے ۔ بھلے امریکہ اور چین کی فوجیں ایکدوسرے کے بالمقابل دو بدو نہیں لڑ رہیں لیکن تجارتی جنگوں سے لیکر پراکسیز کے ذریعے جنگوں کے کئی میدان شام سے لیکر سوڈان اور افغانستان سے لیکر پورے مڈل ایسٹ تک گرم ہیں ۔ پاکستان کو بھی ہندوستان کے ذریعے جنگ تک میں الجھانے کی پوری کوشش کی جاچکی ہے تاہم پاکستان نے نہ صرف اپنا سکہ جما دیا بلکہ کو طاقت کو رکھتے ہوئے امن کی بات کر کے بھارت کو سفارتی سطح پر بھی طمانچہ رسید کیا ہے ۔ امریکہ کے بعد عمران خان کا دورہ روس بھی بہتر نتائج کا حامل ہوگا ۔ اگلے چار پانچ سالوں میں اگر چین روس بلاک اپنے اپنے داخلی مسائل پر اسی طرح قابو پاکر امریکہ کو ٹف ٹائم دیتا رہا تو عین ممکن ہے 2050 تک چین اپنے پلان کے مطابق soul super power بن جائے اور پاکستان بھی چینی تجربے سے استفادہ کر کے اپنی انفرادیت کو مذید نکھار دیتا چلا جائے اور کیا پتہ کہ اس سے اگلی صدی پاکستان کی ہو ۔

جاوید چوہدری صاحب سے درخواست ہے جہاں آپ اور ہم جیسوں کی سوچ ختم ہوتی ہے وہاں سے آرمی چیف، نواز شریف، شی چن پنگ، عمران خان، محمد بن سلمان اور خود جاوید چوہدری کے باس سلطان لاکھانی کی سوچ شروع ہوتی ہوگی۔ آپ سے درخواست ہے کہ اپنے قلم کا وہی استعمال کریں جس سے خدا نے آپکو عزت دی اور ہم جیسے طالبعلموں نے بہت کچھ سیکھا لیکن اگر آپ مایوس ہوگئے ہیں یا آپکو بھی لبرلز کی دیکھا دیکھی نسیم حجازی کے ناولوں سے چڑ ہوگئی ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ قوم بھی مایوس ہوجائے اور ہم بھی چپ کر کے بیٹھ جائیں۔ آپ اور آپکے احباب کو اگر کچھ بھی اچھا ہوتا نظر نہیں آرہا تو برائے مہربانی اپنی آنکھوں پر بندھی بغض عمران کی پٹی اتار لیں تاکہ روشنی اور اندھیرے میں فرق پتہ چل سکے ۔ بہت
والسلام
فرحان شبیر

یہ بھی پڑھیئے: تحریک انصاف اور بدتمیزی —— فرنود عالم

(Visited 1,389 times, 4 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. اس حکومت نے اگر سود کے ساتھ قرض واپس کیا ہے تو کوئئ بڑی بات نہیں پچھلی حکومتیں بھی کرتی رہی ہیں اور اس حکومت کو بھی کرنا تھا چین نے اگر پاکستان میں پیسہ لگایا تو عمران خان کے کہنے پر یا اس کے حکومت میں ہونے کی وجہ سے تھوڑی لگایا یہ معائدےعمران خا ن کے حکومت میں آنے سے پہلے کے ہیں رہی سعودیہ کی بات تو پوری دنیا جانتئ ہے سعودیہ نے پاکستان کی ہر حکومت کی مدد کی چاہے پیسے دئیے ہوں یا پھر تیل کیونکہ ان کی حفاظت کے لیے ہماری فوج ضروری ہے

  2. اس حکومت نے اگر سود کے ساتھ قرض واپس کیا ہے تو کوئئ بڑی بات نہیں پچھلی حکومتیں بھی کرتی رہی ہیں اور اس حکومت کو بھی کرنا تھا چین نے اگر پاکستان میں پیسہ لگایا تو عمران خان کے کہنے پر یا اس کے حکومت میں ہونے کی وجہ سے تھوڑی لگایا یہ معائدےعمران خا ن کے حکومت میں آنے سے پہلے کے ہیں رہی سعودیہ کی بات تو پوری دنیا جانتئ ہے سعودیہ نے پاکستان کی ہر حکومت کی مدد کی چاہے پیسے دئیے ہوں یا پھر تیل کیونکہ ان کی حفاظت کے لیے ہماری فوج ضروری ہے

Leave A Reply

%d bloggers like this: