کھٹے میٹھے رشتوں کا بندھن ——- اسما ظفر

0

کہیں پڑھا تھا کہ “جب سالن میں دم نا ہو تو شوہر حضرات کھانے کے ساتھ بار بار اچار چٹنی مانگتے ہیں۔”
شاید ان میں اتنا دم نہیں ہوتا کہ بیوی سے کہہ سکیں کہ یہ کھانا بدذائقہ ہے۔

زوجین کے باہمی تعلقات بھی کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں جب درمیان سے محبت کا ذائقہ اٹھ جائے تو دل باہر کی اچار چٹنیوں میں اٹک جاتا ہے۔اور کسی کو ایک بار ان چٹپٹے ذائقوں کا مزہ لگ جائے تو اکثر واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔

ہم اکثر شادی شدہ جوڑوں کو دیکھتے ہیں جو ایک دوسرے سے بےزار نظر آتے ہیں جبکہ ایک مدت تک آپس میں پیار محبت سے رہتے رہے ہوتے ہیں پھر اچانک ایسا کیا ہوتا ہے کہ انکے درمیان اتنی دوری اور بے گانگی پیدا ہو جاتی ہے؟

اکثر تو محبت کی شادی کا انجام بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ساری دنیا سے لڑ کر جن دو لوگوں نے آپس میں رشتہ بنایا وہی آپس میں لڑ لڑ کر اس رشتے کو برباد کر دیتے ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے اسکی وجوہات ہر دوسرے جوڑے کے لیے الگ ہو سکتی ہیں مگر انجام ایک ہی ہوتا ہے یعنی گھر کی بربادی۔

ہم اکثر ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرتے چلے جاتے ہیں جو اکھٹی ہو کر بہت بڑی بن جاتی ہیں۔

شادی کسی بھی شخص کے لیے ایک یادگار اور حسین لمحہ ہوتی ہے۔چاہے وہ والدین کی رضامندی سے ہوئی ہو یا اپنی پسند سے ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ وہ جس سے بھی شادی کرے وہ اسکی زندگی میں خوشیاں بھر دے مگر اکثر ایسا نہیں ہوتا اور شادیاں ناکام ہو جاتی ہیں اسکی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں بعض دفعہ ہم شادی سے پہلے اپنے لائف پارٹنر سے بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں اور انکے پورا نا ہونے کی صورت میں دل برداشتہ ھو جاتے ہیں اور نتیجتاً لڑائی جھگڑے رشتے میں کھنچاؤ پیدا کر دیتے ہیں۔

کبھی کبھی ہم خود شادی سے پہلے اپنے ہونے والے شریک سفر سے بلند و بانگ دعوے کر بیٹھتے ہیں جو شادی کے بعد پورا نا ہونے کی صورت میں دوسرے کی دل شکنی کی وجہ بنتا ہے ایسے وعدے نا کریں جنکا پورا کرنا آپکے بس میں نا ہو اور توقعات کا محل گرنے سے آپکی ازدواجی زندگی مشکلات کا شکار ہوجائے۔شادی سنت نبوی ہے اسے ہنسی کھیل نا سمجھیں۔

رسول اللہ کاارشاد ہے۔
لم یر للمتحابین مثل التزویج

ترجمہ۔ “دو آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے شادی کی مثل کوئی چیز نہیں دیکھی۔” ( ابن ماجہ کتاب النکاح 1597)

اسلام میں شادی کی بڑی اہمیت ہے اسلام نے نکاح کے تعلق سے جو فکر اعتدال اور نظریہ توازن پیش کیا ہے وہ نہایت جامع اور بے نظیر ہے اسلام کی رو سے شادی محض انسانی خواہشات کی تکمیل اور فطری جذبات کی تسکین کا نام نہیں ہے بلکہ اسے انسانی بقاء و تحفظ کے لیئے ضروری بتایا گیا ہے۔ اس سے اس بندھن کی اہمیت کا اندازہ ہم بخوبی لگا سکتے ہیں۔

اس رشتے کے قائم کرنے کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہوں تب ہی قائم کریں ورنہ زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے مخلص رہیں کبھی ایک دوسرے کو دھوکہ نا دیں کامیاب رشتے کی بنیاد ہمیشہ بھروسے اور یقین پر قائم ہوتی ہے۔

مقام افسوس یہ ہے کہ آج امت مسلمہ نے نکاح کے احکام و اغراض سے کنارہ کشی کا رویہ اختیار کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے نا صرف یہ کہ نکاح مشکل سے مشکل تر ہو رہا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں قائم ہونے والا تعلق بھی کمزور تر ہو رہا ہے اور نتیجتاً طلاق کی شرح میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے۔

نکاح سے بننے والا تعلق یا بندھن بیک وقت بہت مضبوط اور بہت نازک ہوتا ہے زرا سی بھول٫ شک اور بدگمانی اس رشتے کو توڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔ ضروری ہے کہ ایک دوسرے کو عزت اور اعتماد دیں۔
جتنی عزت آپ اپنے لیے توقع کریں اتنی اپنے لائف پارٹنر کو بھی دیں جتنے حقوق آپ کے ہیں اتنے ہی آپ کے شوہر یا بیوی کے بھی ہیں یک طرفہ معیار مت بنائیں اپنے لیے کچھ اور اپنے پارٹنر کے لیے کچھ اور ۔
ارشاد باری ہے۔۔

ھن لباس لکم وانتم لباس لھن
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں۔

سوچیں یہ بات شوہر اور بیوی کے لیے کہی گئی۔ ماں بیٹے٫ باپ بیٹی٫ یا بھائی بہن کے رشتے کے لیے نہیں کی گئی۔ اس چیز سے اس تعلق کی قربت اور نزاکت کا اندازہ کریں۔

آپس کے رشتوں کو زرا سی بات کے لیے خراب نا کریں ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا سیکھیں۔ باہر سکون ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کریں ایسا وقت اگر آ جائے تو اپنا تجزیہ ضرور کریں۔

سورہ الروم کی آیت 21 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے۔

” تمھارا جوڑا تم میں سے پیدا کیا ہے تاکہ تمھیں اس سے سکون ملے۔”

ایک حلال رشتے کی خوبصورتی کبھی ایک ناجائز رشتے کے برابر نہیں ہوسکتی آپس کی چھوٹی چھوٹی رنجشوں کو کبھی اتنا نا بڑھنے دیں کہ وہ آپ کے رشتے کو دیمک کی طرح چاٹ جائیں۔
حاصل کلام یہ بات ٹھہری کہ اپنے رشتے میں محبت کا ذائقہ بڑھانے کی ذمہ داری دونوں زوجین کی ہے اسے وفا اور خلوص کی چاشنی سے بھرا رکھیں اور باہمی اعتماد سے اسے دوام بخشیں۔
محبت سے زیادہ ضروری باہمی اعتماد ہے کوشش کریں وہ کبھی کم نا ہونے پائے آپ کی زندگی پرسکون ہو جائے گی۔

(Visited 161 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: