پھٹیچر: نقطے ۔۔۔ نوید تاج غوری

0

پی ایس ایل ہونا چاہیئے تھا یا نہیں، دلائل سب کے پاس تھے۔ لیکن ایک بات طے تھی کہ طرفین پاکستان کی محبت میں ہی بات کر رہے تھے۔ فیصلہ کرنے والوں نے میرے اور آپ کے فیس بک اور ٹوئٹر سے پڑھ کر اپنی رائے نہیں بنائی۔ لیکن جب ہو گیا کہ فائنل ہونا پاکستان میں ہی ہے تو اس کے بعد خان صاب سمیت سب کو اس کے کامیاب ہونے کی دعا اور اپنی جگہ کوشش کرنی چاہیئے تھی۔ اب بندہ ایک بیان دے کر مخالف ہوا میں گھر گیا. اوپر سے اس پر روایتی ضد باندھ کر غلط پرغلط کمنٹ کرنا. دیکھا جائے تو ایک آدھ کو چھوڑ کر پھٹیچر ہی تھے پلیئرز، اس میں کونسا جھوٹ ہے کہ بڑے نام اور پلیئرز نہیں آئے۔ آپ ان کو قائل کرنے میں ناکام رہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جو کھلاڑی پاکستان آئے، تھکے ہوئے تھے یا غیر معروف، جو بھی آئے، پاکستان کے مہمان تھے۔ ہماری عزت اور ذمہ داری تھے۔ ان کو ویلکم کرنا بنتا تھا۔ میچ کی ہائپ اتنی تھی کہ اس کی علامتی حیثیت بہت بلند ہو چکی تھی۔ پھر دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ انڈیا کو بھی پیغام دینا مقصود تھا۔ عوام، حکومت، پولیس، میڈیا اور آرمی واقعی ایک پیج پر تھے۔ اس تناظر کے باوجود خان صاب نے صرف مخالفت برائے مخالفت میں عامیانہ جملے کہے جو ایک قومی سطح کے اتنی گرومنگ والے بندے کو زیب نہیں دیتا۔

خان کا ایک تعارف دنیا بھر کی بڑی جگہوں پر لیکچر دینے والے کا، مختلف فورمز کے سپیکر ہونے کا اور کتابوں اور آرٹیکلز کے لکھاری کا بھی ہے۔ بندے کی عمر، مقام اور پوزیشن کے اعتبار سے ایسی بد لحاظی افسوس ناک ہے، کہ سیاست اس کے نتائج اپنی جگہ لیکن دنیا عمران خان کو ایک جینٹلمین اور شرافت و نجابت کے پیکر. کے طور پر یاد رکھتی تو اچھا تھا۔ تاہم ان کے اخلاص پر اب بھی شبہ نہیں ایک امید سی بندھی تھی کہ خان صاب ایک دانشور سے سیاست دان بن پائیں گے، افسوس پچھلے چند سالوں میں ان کا معیار پنجابی اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے والے اداکاروں والا بنتا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ بھی لکھا ہوا کونسا خان صاب نے پڑھنا ہے لیکن آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ ایسی صورتحال پیدا ہو کسی کے ساتھ تو یا اس کو دوست بدل لینے چاہئیں یا استاد بدل لینے چاہئیں۔

دوسرا یہ کہ اگر چول (معذرت کہ کوئی بہتر مترادف لفظ نہیں ملا) مار ہی دی تو بہتر تھا کہ کھلے دل سے معذرت کر لیتے۔ اس ہر مستزاد یہ کہ ان کے سپورٹرز بھی بلا وجہ ایک ہلکے بیان کو جسٹی فائی کر رہے ہیں۔ یہی حرکت جب دوسرے کرتے ہیں تو آپ ان کو پٹواری اور پتا نہیں کیا کیا کہتے ہیں۔ خود یہ دعوی کرتے ہیں کہ کپتان نے لوگوں کو شعور دیا، تو شعور غلط کو صحیح سے جدا کرنے کی صلاحیت کو کہتے ہیں، اگر اس میں اگر اپنے کیمپ پر بھی بات آئے تو کہنے کا حوصلہ رکھیں۔ آپ جیالے ہوں، متوالے یا جنونی، ذہنیت وہی ہے سب سپورٹرز اور فالورز کی تو اس ملک میں کبھی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ باقی، اس ملک میں وہ عمران خان کو زبان و بیان کے طعنے دے رہا ہے جس کے خمیر میں تعصب اور تفریق ہے۔ ابھی سب کی والز اور پیجز پہ دس منٹ لگائیں ان کی بھی قلعی بھی کھل جائے گی۔ مغرب نے تو نیگرو کہنا تک چھوڑ دیا ہم آج تک افریقن، ویسٹ انڈیز، انڈین، سری لنکن، اور کسی بھی گہرے رنگ والے یا سیاہ فام کو ان کو کالے منہ والا، حبشی، اور پتا نہیں کیا کیا کہتے آئے ہیں۔ ان کو چھوڑیں ہم اپنے سانولے پاکستانیوں کو آج تک جو القابات دیتے ہیں کس کو نہیں پتہ خان نے ان کو جو بھی کہا، اب تنقید کرنے والوں کو دیکھیں ان کی فیس بک پر خان کے لئے کیا کیا لفظ استعمال ہو رہے ہیں۔ اگر شائستگی کا اطلاق عمران خان پر ہوتا ہے تو آپ پر بھی روا ہے کہ اسی طرح آپ کسی کو بھی گرے ہوئے الفاظ سے مخاطب نہ کریں۔

نون لیگی مداحین سے عرض ہے کہ آپ کے اکابرین کے منہ سے بھی صرف شگوفے نہیں نکلتے تب تو آپ کی زبانیں بند اور تنقید کی چھریاں کند پڑی ہوتی ہیں۔ آئیں ایک اصولی موقف پر اپنے قلم کو استعمال کرتے ہیں۔ کسی کی بھی نوک زباں سے نکلا ہوا کمتر لفظ ہو، ہم اس کی برابر مذمت کریں گے۔ ہم حمد اللہ، طلال چوہدری، عابد شیر علی، خواجہ آصف و شہباز شریف سے بھی معافی کا مطالبہ کریں گے۔ ہم عمران خان کو طالبان خان کہنے اور لکھنے والوں کا بھی محاسبہ کریں گے۔ ہم داڑھی و جبہ و دستار کا مذاق بنانے والوں سے بھی نمٹیں گے۔ ہم معاشرے میں کسی کو خواجہ سرا، مزارع، کمی کمین، چوڑا اور اقلیت ہونے کا طعنہ سوشل میڈیا اور نجی محافل میں نہیں دیں گے۔ ہم آئندہ کسی طور قائد اور اقبال کی کی تضحیک کی اجازت نہیں دیں گے اور مذاہب کی مقدس ہستیوں کی توہین، چاہے بھینسوں کے باڑے سے ہو یا مغرب کے ویڑے سے، اس کے خلاف بھی ایسے ہی کمر کس کر لکھیں گے۔ گر یہ نہیں تو بابا سب کہانیاں ہیں۔ محض بغض معاویہ ہے!

بہرطور، ایک پی ایس ایل کا فائنلحکمرانوں کی سیاست اور کردار سے داغ دھو نہیں دیتا۔ کار مملکت ایک بالکل الگ معاملہ ہے، لیکن خیر یہ بات ستر سال میں ہماری سمجھ آتی تو بھلا لوگ آج اس حال میں ہوتے؟

About Author

"کچھ ہڈ بیتی، کچھ جگ بیتی، تحریریں مگرلاؤڈ تھنکنگ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ زندگی کی فسوں کاری میں غم روزگاراورغم جاناں کے بیچ، بس نمک کی کان میں نمک ہونے سے بچتا ہوں۔ "

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: