ایسے زخموں کا کیا کرے کوئی – سلگتے سوال — ظل ہما

2

کسی زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا جس کی ملکہ بہت خوبصورت تھی۔ بادشاہ کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی اور محل میں کتنے مہینے جشن بپا رہا۔ بادشاہ حسب ِ عادت اپنی نئی ملکہ کے ساتھ کچھ روز تو بہت خوش رہا پھر اسے بھی محل کے سامان کی طرح کمرے میں رکھ کر بھول گیا۔ وہ سارا سارا دن راہداریوں میں بولائی بولائی پھرتی لیکن بادشاہ تو بادشاہ ٹھہرا۔ اسے ایک بڑی عجیب سی عادت لاحق تھی اور وہ یہ کہ جب بھی سفر پر نکلتا اپنی ملکہ کو لوہے کا زیر جامہ پہنا دیتا اور چابی جیب میں ڈال کر رخصت ہو جاتا۔ وہ سارا دن کمرے کی کھڑکی میں لوہے کا لباس پہنے گزار دیتی، تنہائی اس کے جسم کو گھلانے لگی تھی۔ محل کی دیواریں اس کے حالِ دل سے واقف تھیں اس لیے جلد ہی اس کی تنہائی میں نقب لگ گئی۔ محل کا وزیر اس ملکہ کی تنہائی بانٹنے لگا، وہ دونوں گھنٹوں کھڑکی کے آمنے سامنے کھڑے ہو کر باتیں کرتے اور غم غلط کرتے۔ دونوں کی غم خواری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ لوہے کا لباس تھا جس کی چابی بادشاہ کے پاس تھی۔ وزیر چونکہ باتدبیر تھا اس لیے اس نے کسی طریقے سے لباس کی چابی بنوا لی۔ ملکہ کی تنہائی کی دیوار اب ٹوٹ چکی تھی اور بھولا بادشاہ اپنی شکارگاہ میں مست ہرنوں کو پکڑنے میں ہی مصروف رہا۔

کہنے کو یہ دیومالائی قصہ ہے لیکن حقیقت سے اس کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ آج بھی ایسے بے شمار بادشاہ سلامت موجود ہیں اور ایسی ہی ملکائیں اور وزیروں کا ٹولا بھی آپ کو کہیں نا کہیں دکھائی ضرور دے گا۔ کسی کی تنہائی میں نقب لگانا تبھی آسان ہوتا ہے جب گھر والے آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اندھے ہوں۔ اگر کل میں اپنی غم خوار دوست سے نہ ملی ہوتی تو شاید مجھے یہ داستان کا ٹکڑا یاد نہ آتا۔ صبیح چہرہ اور ملیح رنگت اب گھل گھل کر زرد پڑ گئی تھی۔ اس کی آنکھوں کے گرد حلقے بھی گہرے تھے اور سر کے بال جو کبھی کمر تک جاتے تھے اب ماتھے سے اڑے اڑے دکھائی دئیے۔ وہ جذبات و احساسات میں لتھڑی مجھے بھی شرمندگی میں شرابور کر رہی تھی لیکن میں اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتی بس کڑھ سکتی ہوں یا ایسے بہت سے مضامین لکھ سکتی ہوں۔

شریف عورت کے لیے زندگی امتحان ہے جس کا نتیجہ بھی صفر ہی نکلتاہے۔ ہم برسوں سے ایسی بہت سی خبریں پڑھتے آ رہے ہیں کہ پانچ بچوں کی ماں آشنا کے ساتھ فرار ہوگئی یا فلاں عورت نے اپنا شوہر مار ڈالا۔عزت اور غیرت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہمارے جسم و جاں کو جھنجھوڑنے لگتا ہے اور ہمارا بس نہیں چلتا کہ اس حرافہ کو بھی سنگسار کر دیا جائے۔ بلاشبہ ایسی تمام عورتیں سزا کی مستحق ہیں جن کی وفاداریاں اپنے شوہروں کے ساتھ نہیں لیکن تھوڑی دیر کے لیے رک کر کبھی کسی نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ عورت کا یہ سفاک چہرہ کیوں ایسا بنا۔ وہ کون سے عوامل تھے جن کے سبب وہ گمراہی کی اتھاہ گہرائیوں میں گری۔ کیا ہمارے مرد پورے مرد ہیں؟ کیا ان کی وفاداریاں اپنی بیویوں سے ہی وابستہ ہیں؟ کیا ان کی نظریں دوسروں کی چوکھٹوں کے پار تو نہیں جھانکتیں؟ وفاداری بشرط استواری کا یہ فارمولا کتنے مرد و عورت پر لاگو ہوتاہے؟

کسی کی بیوی مرجائے تو اسے فوراً شادی کی ترغیب نسخے کے طور پر لکھ کر دی جاتی ہے لیکن عورت کے لیے ہمارے حوصلے کمزور ہیں۔گھرکی عورت شوہر کی دید کو ترسے تو بے شرم کہلائے اور بازار میں بیٹھی طوائف گندے اشارے کرکے بستر گرم کر لے تو انٹرٹینمنٹ۔

یہ وہ تمام سوالات ہیں جن کے جوابات سب کے پاس ہیں لیکن سوچنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ ہمارہ معاشرہ ابھی بھی قدیم روایات کا امین ہے جس میں عورت کو صرف بچے پیدا کرنے والی مشین ہی سمجھا گیاہے۔ یہاں میاں بیوی کو اے پلس بی ان بریکٹ از ایکول ٹو اے بی نہیں سمجھا جاتا۔ مائیں بیٹوں کی شادیاں کرنے کے بعد بھی انھیں بیویوں کے سپرد نہیں کرتیں۔ میرا ہے یا تیرا ہے، مسئلہ کشمیر کی طرح لاینحل رکاوٹ ہے۔ ہمارے ہاں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح میں بھی اسی مسئلے کا ہاتھ ہے۔ بہوئیں ذہنی طورپر تیار ہو کر آتی ہیں کہ انھیں گہری شراکت میں سے اپنا حصہ کیسے وصول کرنا ہے۔ جب تک اختیارات کی یہ جنگ سمجھوتوں کی ٹیبل پر حل نہیں ہوتی طلاقیں ہوتی رہیں گی۔

دوسرا مسئلہ بڑا عجیب اور پیچیدہ ہے جو آج کل تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جس کی وجہ ہے توجہ کی طلب اور رسدکی کمی، اب چاہے یہ شوہر کی طرف سے ہو یا بیوی کی جانب سے خیرسگالی کا جذبہ روا نہ رکھا جائے، دونوں صورتوں میں تصادم کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ جن شوہروں کے نزدیک ان کی بیویوں کا استعمال بس افزائش نسل تک ہی متعین ہے تو وہ سمجھ لیں کہ انھوں نے اپنے ہاتھوں بیویوں کو لوہے کا لباس پہنا کر ان کی چاکری پر وزیر باتدبیر بٹھا دیے ہیں۔ ہم کس منہ سے سنت نبویﷺ کی بات کرتے ہیں جب کہ ہم آپﷺ کی زندگی سے کوئی ایک بھی سبق سیکھنے کے قابل نہیں ہیں۔ مجھے کوئی اس بات کا مفہوم سمجھا دے کہ اپنی عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ یہ بڑے نازک مرحلے ہیں، بڑی دقیق باتیں ہیں لیکن سمجھنے والوں کے لیے روشن امکانات ہیں اور جو سمجھنا ہی نہیں چاہتے ان کے لیے زندگی امتحان گاہ بن جاتی ہے۔ شریف عورت کے لیے زندگی مشکل ہے اور حرافہ کے لیے نہایت آسان اور ہم بڑی آسانی کے ساتھ اچھی اور بری عورت میں تخصیص بھی کر لیتے ہیں لیکن اس کے بننے کے عمل کو روک نہیں پاتے۔

ہماری دیواریں مردانہ کمزوری کے اشتہاروں کے دبیز پلسترسے بھری رہیں گی، ناجائز بچے پیدا ہونے سے پہلے ہی مار دیے جائیں گے لیکن گھر آنے والا مرد اسی طرح بے پرواہ اور ہرجائی رہے گا۔ افزائش نسل کا کلیہ تعویز بنا کر گلے میں پہنے رکھنے سے مرادیں بر نہیں آتیں بلکہ آفتیں نازل ہوجاتی ہیں۔ میری غم خوار دوست کی طرح جو شریف عورت ہے لیکن اپنے شوہر سے حق پرستی کی بات نہیں کر سکتی۔ دو بچوں کا باپ زمانے کو بتا چکا ہے کہ وہ مرد ہے لیکن اپنی عورت کے لیے وہ نامرد ہی ٹھہرے گا۔

میں شکرادا کرتی ہوں کہ عورت ہوں مرد نہیں۔ میں اپنے رب کے سامنے اپنے کردار کی پختگی کی جواب دہ ہوں۔ میرے پاس محسوس کرنے والا دل ہے پتھر نہیں۔ روز محشر میرے کندھوں پر اپنے شوہر کے حقوق کا بوجھ نہیں ہوگا۔ بس وہاں انصاف کی امید ہے کہ اللہ سے بہتر منصف کوئی نہیں۔

میری غم خوار بول رہی تھی اور میں سوچنے پر مجبور تھی کہ کسی کو مارنا ہو تو اسے تنہا چھوڑ دیں اور اگر بیوی کو مارنا ہو تو اس سے اپنا بستر الگ کرلیں وہ انشااللہ جلد ہی قبر میں اتر جائے گی۔ اک نظر میری طرف کی طلب گارعورتوں کے زخموں کو سلام کہ مرہم ہمارے پاس بھی نہیں۔

ایسے زخموں کا کیا کرے کوئی
جن کو مرہم سے آگ لگ جائے

یہ بھی پڑھیئے:  ٹی وی ڈرامہ، عورت اور سیکس اپیل —— اورنگ زیب نیازی
(Visited 1,323 times, 3 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. مقصد تحریر سے افشا ذات نکال دیں تو موضوع مضبوط ہے ۔ ہم نے افسانہ آدھا عورت لکھا تھا۔

  2. کسی زمانے کی جومثال آپ نے دی ہے اب وہ زمانے نہیں رہے نا ہی بادشاہ رہے ہیں اور ان کی درجنوں کے حساب سے بیویاں اب بھی اگر آپ یو ٹیوب پر جائیں تو آپ کو وڈیوز کے اوپر لکھا ہوا ملے گا فلاں بادشاہ کا نسخہ استعمال کریں اور سو مردوں جتنی طاقت حاصل کریں آخر اب نا وہ خوراک رہی ہے اور نہ ہی وہ مرد باقی جو کمی تھی میڈیسن کمپنیوں نے پوری کر دی سیکس پاور بڑھانے والی دوائیاں اب جو لڑکی یاعورت کسی ایسے مرد کے ساتھ تعلق استوار کرے گی جو ان میڈیسن کاسہارا لے گا تو عورت اپنے مرد سے کیسے مطمئن ہو گی بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی جب آپ میں حیا ء نہ ہو تو جو دل چاہے وہ کرو اور ویسے بھی جب کسی کو گند میں منہ مارنےکی عادت پڑ جائے تو وہ خود کو نہیں روک سکتاچاہے وہ مرد ہو یاپھر عورت۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: