کالاش، نیلا شیش محل اور پلکیں جھپکتے آئینے (قسط ۹) ۔۔۔۔۔۔۔۔ زاہد عظیم

0

جب چترال کے پہاڑوں پر شام اتر رہی تھی، ہم وادی کالاش کی طرف اپنا سفر شروع کر چکے تھے۔ وہ سفر جس کے پیچھے برسوں کی آرزوئیں تھیں، سالوں کے ارمان تھے اور وہ سینکڑوں ارادے تھے جو کبھی تکمیل کی راہ سے لوٹ آتے اور کبھی مایوسی کی گھٹائیں انہیں گھیر لیتیں۔

چترال، کافرستان، کالاش، بمبوریت، بریراور ریمبور ایسے الفاظ تھے جنہیں سن کر اور بول کر آنکھوں میں نئی دنیائیں اتر آتیں اور خواب رنگین ہو جاتے تھے۔ آج ہمیں رنگین تعبیر ملنے والی تھی۔

کالاش کافرستان کے حوالے سے کئی نظریات کتابوں میں ملتے ہیں۔ کچھ تاریخ دان کہتے ہیں کہ کالاشی لوگ سکندر یونانی کی فوج کے ان سپاہیوں کی نسل سے ہیں جو ان وادیوں میں آکر واپس نہ جا سکے اور یہیں آبادہو گئے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ سے یہیں آبادتھے اور یہ نورستان کے باشندے تھے جو اب افغانستان کا حصہ ہے۔ دوسری صدی قبل مسیح میں کالاش لوگوں نے موجودہ وادیوں کی طرف ہجرت کی۔ ایک اور خیال یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ سیام سے آئے ہیں کیونکہ ان کے گیتوں اورداستانوں میں اس بات کا تذکرہ ملتا ہے۔

کوغذی سے واپس اپنے ہوٹل پہنچ کر ہم نے جلدی جلدی پیکنگ کی اور جیپ ڈھونڈنے باہر نکلے تو ایک سوزوکی پک اپ والا نظر آیا جس نے اپنی سجی سجائی سوزوکی کی اتنی تعریف کی کہ ہم نے جیپ پر پسلیاں تڑوانے کے بجائے سوزوکی میں چوڑے ہو کر بیٹھنے کو ترجیح دی۔ آپس کی بات ہے کہ یہ ترجیح ویسے بھی خاصی سستی تھی کیونکہ وہ سوزوکی والا ویسے بھی کالاش کے سب سے بڑے گاؤں بمبوریت ہی جا رہا تھا جہاں اگلے دن چلم جوشت کا تہوار شروع ہونا تھا۔

پورے چترال شہر میں یہ خبر ایک مصروفیت بن گئی تھی اور بازار میں لوگوں کے گروہ اگلے دن کی تیاریوں میں مصروف نظر آتے تھے۔

ہماری سوزوکی، اگلی سیٹ پر اظہار اور زبیر کو بٹھائے ہمیں پھر اسی پل پر لے آئی جہاں سے کچھ دیر قبل ہم کوغذی کی طرف سے آئے تھے۔ ہماری گاڑی نے بہتے پانی کے سا تھ ساتھ سفر شروع کیا۔ یہ سڑک جو ہمارے عقب میں شندور اورمستوج سے آتی تھی، کوغذی میں سے ہوتی ہوئی چترال پہنچتی تھی اور پھر ہمارے سامنے کی طرف واقع ایون کو چھو کر دروش میں سے ہوتی ہوئی لواری ٹاپ جاتی تھی جس سے آگے پشاور اور اسلام آباد کے راستے تھے۔ فی الحال ہم ایون سے بمبو ریت کی طرف جانے والے تھے اور چترال کے پہاڑوں پر شام اتر چکی تھی۔

ہمارے آس پاس اور سڑک پر درخت اتنی وافر مقدار میں تھے کہ دور تک دیکھنا ممکن نہیں تھا۔ راستے کے پودے نظروں کے سامنے شاخوں کے ہاتھ کر دیتے اور نظارے کہیں پیچھے چھپ جاتیـــــــــ۔ میں ان نظاروں کو اپنی آنکھوں میں قید کرنا چاہتا تھامگر مجھے کامیابی نہ ہوئی البتہ چھوٹی چھوٹی جھلکیاں ذہن پر رقم ہوتی چلی گئیں۔

’’ـیہ سوزوکی کیوں رک گئی ہے؟‘‘ واجد نے جھک کراس شیشے میں سے جھانکتے ہوئے کہا جس میں اگلے حصے میں بیٹھے ہوئے احباب نظر آرہے تھے۔

’’اوئے ہوئے ہوئے باہر تو لٹ مچی ہوئی ہے!‘‘ شعیب جو سوزوکی کے کندیکٹر کی طرح پائیدان پر لٹکا ہوا تھا باہر دیکھ کر بول اٹھا۔

میں بھی باہر نکلا تو جو چیز سب سے پہلے نظر آئی وہ مختلف رنگوں کی فصلوں کے قطعات تھے۔ مختلف رنگوں سے میری مراد ہے سبز رنگ ہی کے بہت سے شیڈز۔ یعنی صرف سبز رنگ میں ہی اتنی ورائٹی تھی کہ قدرت کے تنوع پر رشک آنے لگا۔

جہاں ہماری گاڑی کھڑی تھی وہاں سامنے ایک موڑ تھا اور ہمارے دائیں ہاتھ پر دریائے چترا ل کا چوڑا پاٹ ایک تصوراتی وادی کی صورت نظر آرہا تھا۔ دریا سے پرے سبز رنگ کے بہت سے شیڈز کے ٹکڑے زمین پرایک ہی رنگ کی رلی بچھائے آنے والوں کو دعوتِ نظارہ دے رہے تھے۔ بائیں طرف سڑک کے ساتھ ہی ایک چشمہ گنگناتا ہوا دو ر کے کھیتوں تک اپنا گیت لے جا رہا تھا۔ چشمے کے ساتھ ہی ایک پہاڑی پر کہیں ایک گاؤں چھپا ہوا تھا جہاں سے ہماری گاڑی کا ڈرائیور اپنے لیے گرم کپڑے لینے گیا تھا اور اب اسکے چھوٹے بھائی بہن اسکے ساتھ ہنستے کھیلتے چلے آرہے تھے۔ یہ بچے بھی سرخ گالوں اوربھورے بالوں والے تھے جنکی آنکھوں میں اجنبی لوگوں کا سامنا ہو جانے کا خوف ایک جھجک بن کر چھُپ گیا تھا۔

میں اگلے موڑ تک ٹہلتا ہوا گیا تو دریا کے پار سرمئی پہاڑوں کی ڈھلوان پر کئی اور سبز ٹکڑے یوں دکھائی دیے جیسے کسی آرٹسٹ نے اپنے گرے کینوس پر ابھی ابھی سبز رنگ لگایا ہو، باقی پینٹنگ بعد میں پوری ہو گی۔ میں نے ڈرائیور سے اس جگہ کے بارے میں پوچھا تو اس نے اس جگہ کا نام چمرکن بتایا۔ ہماری گاڑی کے روانہ ہونے کے بعد بھی یہ ادھوری پینٹنگ بہت دیر تک نظر آتی رہی۔

کچھ دیر اسی سڑک پر چلتے رہنے کے بعد ہماری گاڑی دائیں طرف کو مڑگئی اور دریا ئے چترال پر موجود پل کو عبورکر کے ایک بڑے گاؤں میں داخل ہو گئی۔ یہ ایون تھا اور اس سے پرے کالاش کا دروازہ تھا۔ یہاں سے ایک پیدل راستہ بریرکو جاتاہے جو کہ کالاش کا پہلا گاؤں ہے۔ بریر کا جیپ کا راستہ دروش سے جاتا ہے۔ ایون سے آگے یہ راستہ دو شاخہ ہو کر ریمبور اور بمبوریت کی طرف جاتا ہے۔ ہم اسی راستے پر جا رہے تھے کیونکہ ہمارا ارادہ بمبوریت جانے کا تھا جہاں آنے والا دن بہت سے ارمان دامن میں سمیٹے ہمارا منتظر تھا۔

کافرستان میں ویسے تو بہت سے تہوار منائے جاتے ہیں لیکن چار بہت مشہور ہیں۔

جوشی یا چلم جوشت وسط مئی میں منایا جاتا ہے اور اس میں آنے والے دنوں میں فصلوں کی بہتر پیداوار اور مال مویشیوں کی افزائش کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں۔

اوچال اگست کے وسط میں منایا جانے والاتہوار ہے جس میں دودھ اور فصلوں کی کثرت کے لیے عبادات کی جاتی ہیں۔

اکتوبر کے وسط میں منایا جانے والا تہوار پھو کہلاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب چراگاہوں میں گئے لوگ اور مویشی گاؤں میں واپس آتے ہیں تب پھل پک کر تیار ہو رہے ہوتے ہیں۔

چاؤ ماس یا چٹرماس دسمبر کے دوسرے اور تیسرے ہفتے میں منایا جاتا ہے۔ اس میں سب لوگ نئے لباس بناتے ہیںاور دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے قربانیاں دیتے ہیں۔ کالاش عقیدے کے مطابق ۲۱ دسمبر کو نیا سورج پیدا ہوتا ہے جو آنے والے سال کی فصلوں، پھلوںاور مال مویشیوں پر اثرانداز ہوتا ہے لہٰذا نیا سال شروع ہونے سے پہلے گاؤں کو پاک کیا جاتا ہے اور مہادیو کو قربانیاں پیش کی جاتی ہیں۔

ایون کے لوگ ایک بڑے بازار میں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ یہ گاؤںبھی چترال کے مخصوص ماحول کا امین تھا۔ ہر شخص کے سر پر چترالی پٹی کی ٹوپی تھی جس میں سے پھول جھانکتے تھے اوربارہ بور کی بندوقیں کندھوں کے عقب سے جھانکتی تھیں۔ چھوٹے بچے گلے میں غلیلیں لٹکائے گھوم رہے تھے۔ خواتین ہمیں نظر نہیں آئیں، شاید دن ڈھلنے کی وجہ سے وہ گھر گرہستی میں مشغول تھیں۔

ہماری گاڑی کچھ دیر ایون کے بازاروں میں گھوم کر ایک ایسے راستے پر آگئی جو ایک متواتر چڑھائی کے بعد بے چھت کی ایک سرنگ میں جاتا تھا۔ یہ سرنگ خاصی کھلی ا ور راستہ کشادہ تھا۔ یہاں بھی ہمارے دائیں ہاتھ پر گہرائی میںکہیں ایک دریا بہتاتھا۔ دریا کے دونوں طرف فصلیں لہلہا رہی تھیں۔ یہ کچا راستہ جس پر اب ہمیں بمبوریت تک جانا تھا کم دشوار گزارتھا اور پہاڑوں کی دیوار کے ساتھ ساتھ مسافروں کو تسلّی دیتا ہوا جاتا تھا۔ اسی اثنا میں بارش شروع ہو گئی اور کچے راستے نے پھسلن والا خطرناک دلدلی روپ دھار لیا۔ اب ہماری سوزوکی کبھی ایک طرف پھسلتی تو کبھی دوسری طرف۔ ہمارے وہ ساتھی جو اگلی نشستوں پر بیٹھے تھے گاڑی رکوا کر ہما رے ساتھ آ بیٹھے، کیونکہ آگے بیٹھنے سے ڈر محسوس ہوتا تھا اور پیچھے ہماری گپ شپ میں تو ہر طرف سکون اور امن تھا۔

کچھ دیر بعد ہماری گاڑی ایک پل پر جا رکی۔ وہاں ایک چیک پوسٹ تھی اور سامنے ایک بورڈ پر تیر کے دو نشان بنے ہوئے تھے۔ ایک پر رمبور اور دوسرے پر بمبوریت لکھا ہوا تھا۔ اس بورڈ پر کچھ ہدایات بھی درج تھیں۔ چیک پوسٹ پر ہمارے ڈرائیور نے ہمارا اور اپنے کاغذات کا اندراج کروایا او ربمبوریت میں داخلے کا اجازت نامہ لیا۔ اس پل کے پاس ہی دو دریا مل رہے تھے جن میں سے دائیں طرف والا دریا ئے رمبور تھا اور بائیںطرف والا دریائے بمبوریت۔ ہم نے اسی دریا کے بائیں کنارے پر بہاؤ کی مخالف سمت میںسفرشروع کیا۔ اندھیرے اور بارش کی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا اس لیے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ اگر کچھ نظر آرہا تھا تو وہ گاڑی کی روشنی میں دھندلا اور خوابناک سا ایک منظر تھا۔ ۔ ۔ کچا رستہ، برستی بوندوں کی ترچھی لکیریں، بارش کے پانی کی ننھی منی جھیلیں جن کی سطح پر جب بارش کے موٹے قطرے گرتے تو دائرے سے بنتے جن میں سے چھوٹی چھوٹی انگلیاں سی نکلتیں اور غائب ہو جاتیں۔ شاید ہم ایک گھنٹے تک اسی پر اسرار ماحول میں چلتے رہے۔ کالاش ہمارے آس پاس ہی کہیں تھا۔ ۔ ۔ لیکن کہاں؟۔ ۔ ۔ شاید ہم کالاش پہنچ چکے تھے لیکن کیسے؟۔ ۔ ۔ کالاش کیسا ہے؟۔ ۔ ۔ ہمیں کسی سوال کا جواب نہ ملا۔ تشنگی برقرار رہی۔ کچھ دیر اسی گومگوں کی کیفیت میں رہنے کے بعد ہماری گاڑی کی روشنی کسی کشادہ سے رستے پر پڑی جس کے ساتھ ہمیں اخروٹ کے تناور درخت اور ان میں چھپے کچھ مکان نظر آئے۔ پھر کھیت اور پن چکیاں نظر آئیں۔ مجھے ایک انجانا سا احساس ہونے لگا کہ ہم کالاش پہنچ چکے ہیں۔ ہم سب شیشے پر جھکے ونڈ سکرین سے آگے کا منظر دیکھنے کو بیتاب تھے۔ پھر جب اسی رستے پر واقع ایک سکول پر بمبوریت لکھا دیکھا تو مجھے جھرجھری سی آئی۔ ہم اپنے خواب نگر میں داخل ہو چکے تھے مگر ابھی تک ایک خواب میں ہی تھے۔

خواب میں اگر کچھ دیکھنا چاہیں تو نظر نہیں آتا، حققیت نہیں کھلتی، راز راز ہی رہتا ہے۔ ۔ ۔ کالاش بھی ایک خواب تھا۔ ۔ ۔ ایک راز تھا۔

کچھ دیر اس راز پر بارش کا پردہ پڑا رہا لیکن جلد ہی ہمیں ایک بڑا سا بورڈ نظر آیا جس پر ’بے نظیر ہوٹل بمبوریت ‘ لکھا ہوا تھا۔ ہمارے ڈرائیور نے اس ہوٹل کی طرف گاڑی موڑ دی۔ وہ سب کچھ اپنی مرضی سے کر رہا تھا کیونکہ ہمارے ساتھ اسکا کوئی رابطہ ہی نہ تھا، ہم تو بس کالاش کا راز فاش ہونے کے منتظر تھے۔

اس ہوٹل کی پارکنگ میں اور بھی بہت سی گاڑیاں کھڑی تھیںاور نظر آرہا تھا کہ ہمیں یہاں رات گزارنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ میں گاڑی سے اتر کر حالات کا جائزہ لینے لگا۔

’’ہاں جی ! پہنچ گئے ہو جناب، ہم آپ کابڑا انتظار کر رہے تھے‘‘۔ مانوس سی آواز پر میں نے مڑ کر دیکھا، پروفیسر صاحب بارش میں بھیگتے ہوئے ہماری طرف آرہے تھے۔ اظہار نے آگے بڑھ کر موصوف کو گلے لگایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کر کر لمبے ہاتھ!۔

میں دیکھ رہا تھا پہلے اظہار نے سرگوشی میں کچھ پوچھا، جواب میں ایک لمبی سی سرگوشی وارد ہوئی اور پھر وہ دونوں اپنی اپنی سرگوشیاں لیے ایک برآمدے میں جا کھڑے ہوئے۔

’’ایک جیسی دلچسپیاں اکٹھی ہو گئی ہیں، خدا خیر کرے!‘‘۔ زبیر ناگواری سے بولا۔

’’لیڈر ذرا معاملات کو سنبھالو! کیا یونہی کھڑے تماشا دیکھتے رہو گے؟‘‘۔ واجد واقعی فکر مند تھا۔

میں سیدھا اظہار کے پاس گیا۔ مجھے آتا دیکھ کر پروفیسر صاحب نے اپنی گفتگو کا موضوع بدل دیا۔

’’میں اظہار صاحب کو بتا رہا تھا کہ میں نے آپ لوگوں کی لیے ایک ہوٹل بک کرا دیا ہے‘‘ وہ مجھے بتانے لگے۔

’’سستا بھی ہے‘‘ ا ظہار نے پروفیسرصاحب کی بات کو آگے بڑھایا۔

’’اور بالکل اس راستے پر ہے جس پر سے کالاش خواتین کل گاتی ہوئی جائیں گی‘‘۔ پروفیسر صاحب کی آنکھوں میں موسیقی اتر آئی تھی۔ اظہار کی آنکھوں میں بھی ُسر کی شمعیں جھلملانے لگیں اور اسکی ایک اور سرگوشی پروفیسرصاحب کے کان کے پاس ہوا میں تحلیل ہو گئی۔

وہ دونوں میری موجودگی سے جیسے بے خبر سے ہو گئے اور ایک طرف کو چل دیے۔ میں سمجھ گیا کہ پروفیسرصاحب پہلے بھی اظہار کو ورغلانے میں کامیاب ہو گئے تھے اور اس نے گروپ میں نئے نئے پروگرام زیرِ بحث لانے شروع کر دیے تھے اب پھروہی معاملہ ہونے کو تھا۔

’’ اظہار صاحب پہلے کھانا کھا لو، علم میں اضافہ بعد میں کرتے رہنا‘‘۔ اظہار میرا لہجہ بھانپ کر واپس آگیااور واجد اسے ساتھ لے کر اسی ہوٹل میں کھانے کا آرڈر دینے چل دیا۔

ہوٹل والے نے بتایا کہ ہر چیز آرڈر پر تیار ہوتی ہے لہٰذا کچھ دیر لگے گی۔ میں اس ہوٹل کا جائزہ لینے لگا اور پروفیسر صاحب اظہار سے بات کرنے کے لیے مناسب موقعے اور وقت کا انتظار کرنے لگے۔

ہوٹل کا ماحول بڑا آسیب زدہ سا تھا۔ بارش کی وجہ سے باہر کا ماحول بھی اس کی دہشت میں اضافے کا باعث بن رہا تھا۔ ہر طرف گھپ اندھیرا تھا۔ ہوٹل کے برآمدے میں ایک لالٹین جل رہی تھی جس کی روشنی میں ایک پر اسرار وحشت تھی۔ دوسری لالٹین کھانے کے کمرے میں جل رہی تھی۔ اس مدھم روشنی میں چولہے میں جلنے والی لکڑیوں کی روشنی سے گاہے بگاہے اضافہ ہو جاتا۔ لالٹین زمین سے کوئی دو فٹ اونچی ایک تپائی پر رکھی گئی تھی جس کی وجہ سے ہمارے چہروںپر ہماری ہی ٹھوڑی اور رخسار کی ہڈیوں کے سائے پڑتے تھے اور ہر چہرہ شیطانی نظر آتا تھا۔ فلموںاور ڈراموں میں ایسی لائیٹنگ اس وقت کی جاتی ہے جب چہروں کی منافقت اور شیطانیت دکھانی مقصود ہو۔ میں نے اس لالٹین کو چھت کے درمیانی شہتیر سے لٹکا دیا مگر چند منٹوں میں ہی اتنے سر اس لالٹین سے ٹکرائے کہ مجھے اسے واپس تپائی پر ہی رکھنا پڑا اور شیطانیت ختم کرنے کی میری کوشش رائیگاں گئی۔

وہ کمرا دھویں اور روشنی کے کم زیادہ ہونے کی وجہ سے ایک طلسم کدہ لگتا تھا اور اس طلسم کدے میں ہم لوگ رات دس بجے تک کھانا تیار ہونے کا انتظار کرتے رہے۔

ہم لوگ کالاش میں ہو کر بھی کالاش سے دور تھے اور ہمارے سوالوں کے جواب ابھی تک ادھورے تھے۔ ۔ ۔ یہ جگہ کیسی ہے؟۔ ۔ ۔ یہاں کے لوگ کیسے ہیں؟۔ ۔ ۔ رسم و رواج کیسے ہیں؟۔ ۔ ۔ سارا دن یہ لوگ کیا کرتے ہیں؟۔ ۔ ۔ کیا کھاتے ہیں؟۔ ۔ ۔ اوربہت کچھ۔ ۔ ۔

ہوٹل والے نے بتایا کہ کافر لوگ اوپر پہاڑوں میں رہتے ہیں جبکہ نیچے بازار میں تمام ہوٹل اور دکانیں چترال اور ایون کے لوگوں کی ہیں جو اب بمبوریت ہی میں بستے ہیں۔ اور یہ سوال اس لیے اٹھا کہ زبیر کا خیال تھا کہ جو شخص روٹی پکا رہا تھا اگر وہ کا فر ہوا تو اس کے ہا تھ کی پکی روٹی نہیں کھانی چاہیے۔

’’آپ کھانا شانا کھائو، میں نے آپکے ڈرائیور کو آپکے ہوٹل کا پتا سمجھا دیا ہے۔ اب کل ملاقات ہو گی‘‘ پروفیسر صاحب نے اظہار پر پہرا لگا دیکھا تو ہمیں الوداع کہہ کراپنے کمرے کی طرف چلے گئے اور ہم کھانے پر ٹوٹ پڑے۔

کچی پکی سی روٹیاں، سخت دال اور کئی لٹر پانی میں نہائی ہوئی مرغی تناول فرما کر ہم سب لوگ ہوٹل سے باہر آئے اور اپنی سوزوکی میں آ بیٹھے۔ ڈرائیور نے پروفیسر صاحب کی ہدایت کے مطابق کچھ دیر گاؤں کی تاریک گلیوں میں سفر کے بعد ہمیں گھروندا نما ایک عمارت کے سامنے اتارا اور ہم سے کرایہ لے کر چلا گیا۔

اس عمارت پر ہوٹل والے نے اپنے ہاتھ سے ’ تاج محل ہوٹل ‘ لکھ رکھا تھا۔ ایک لڑکا وہاں کھڑا ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ ہم تین فٹ بائی تین فٹ کے پھا ٹک سے ایک ایسے با غیچے میں داخل ہوئے جو مشکل سے تین فٹ چوڑا اور چھے فٹ لمبا تھا۔ اس کے ساتھ اسی پیمائش کا ایک برآمدہ تھاجس پرپھوس کی چھت تھی اور اسے سہارا دینے کے لیے کئی ٹیڑھی میڑھی شہتیریاں عموداً کھڑی کی گئی تھیںاس کے باوجود وہ اُس مٹی کے وزن سے بیٹھ رہی تھی جسے پھوس کے اوپر لیپ کیا گیا تھا۔ برآمدے میں دو چھوٹے چھوٹے دروازے کھلتے تھے جو یقینا ہمارے رہائشی کمروںکے تھے۔ اور ہمارے لیے یہــــ’’سالم ہوٹل‘‘ بُک تھا۔


دو چھوٹے چھوٹے کمرے جن کو کچی مٹی سے لیپ کر کے اور سات فٹ کی بلندی پر شہتیر کی چھت ڈال کر اس کے مالک’’شاہجہاں‘‘نے ہم ایسے لوگوں کی محبت دفن کرنے کے لیے یہ ’’تاج محل ‘‘ تعمیر کیا تھا۔ جب میں کمرے میں پہنچا تو دیکھا کہ دیوار میں بنے ایک طاق میں لالٹین روشن تھی اور دو’ کانی ‘ چار پائیاں ایک ایک پایا زمین سے اٹھائے یوں کھڑی تھیں جیسے کتا رفع حاجت کی لیے دیوار کے ساتھ مصروف ِ عمل۔

یہ تھے تاج محل کے کمرے اور اس کا کُل فرنیچر۔ ان کمروں کے دو پٹ کے دروازوں سے لٹکتی زنجیربھی گویا جہانگیر کی زنجیر عدل تھی اور اس زنجیر سے صرف دروازہ بند کرنے کا ہی کام لیا جا سکتا تھا۔ اور بس۔

ان کمروں کے درشن سے مجھے اپنے بچپن کے وہ کمرے یاد آگئے جو ہم گاؤں میں دیکھا کرتے تھے اور جن میں سردیوں میں مویشی باندھے جاتے تھے۔ اب تو وہاں بھی پکے مکان بنے مدت ہو گئی۔ شکریہ تاج محل، تمہاری بدولت ہم اپنے بچپن سے آملے۔

واجد میرا رومیٹ بنا۔ دوسرے کمرے میں تین چارپائیاں تھیں اس لیے باقی دوستوں کے سینگ اس میں سمائے۔

جب میں چارپائی پر لیٹا تو وہ مجھے کوئی دو فٹ چھوٹی تھی۔ یہی حال واجد کا تھا۔ واجد نے اپنی چارپائی پائنتی کی طرف سے اس کھڑکی کے ساتھ لگا لی جو برآمدے میں کھلتی تھی۔ اس طرح واجد کواپنی ٹانگیں سیدھی کرنے کے لیے اضافی جگہ میسر آ گئی۔ ایک اور کھڑکی ہوتی تو یقینا میں بھی اسی طرح ناجائز تجاوزات کا مرتکب ہوتا۔

یہ رات بھی ایک ناقابل فراموش رات تھی۔ میں سمٹ کر اس چارپائی پر انگریزی حرف ’زیڈ‘ بنا پڑا تھا۔ جب ٹانگیں سیدھی کر نے کی کوشش کرتا تو گھٹنوں تک چارپائی سے باہر ہو جاتا۔ ۔ ۔ اس رات میں اپنے آپ کو یونانی دیومالائی ہیرو تھیس یس، ، محسوس کر رہا تھا جو اپنے بادشاہ باپ کی سلطنت پرکنٹرول حاصل کرنے کے لیے بھر پور تیاری کرتا ہے اور پھر ایک وزنی پتھر ہٹا کر اپنے باپ کی نشانی رومال، ڈھال اور تلوار حاصل کرتا ہے اور اپنی ملکہ ماں سے اجازت لے کر دور پردیس سدھارتاہے۔ راستے میں اس پر بہت سی آزمائشیں آتی ہیں اور وہ کسی نہ کسی طرح ان سے بچ نکلتا ہے۔ ایک آزمائش یہ بھی تھی کہ اسے بتایا جاتا ہے کہ اسے اس شام ایک ایسے علاقے میں شب بسر کرنا ہو گی جو ایک آدم خو ر دیو سے متعلق تھا۔ اس دیو نے ایک باغ تیار کرا رکھا تھا اور وہ ہر مسافر کی بہت آئو بھگت کرتا تھا، اسے اچھے اچھے کھانے کھلاتا تھااور پھر آرام کرنے کو ایک چارپائی دیتا تھا۔ اگر مسافر چارپائی سے چھوٹا ہوتا تو وہ اسے کھینچ کر چارپائی کے برابر کر دیتا اور اگر مسافر چارپائی سے لمبا ہوتا تو اسکا سر اور ٹانگیں کاٹ کرچارپائی کے برابر کر دیتا۔ ۔ ۔ ۔ اور اس رات میں تھیس یس تھا جو چارپائی سے لمبا تھا۔ ۔ ۔ اجنبی علاقہ تھا، مگر یہ سکون تھا کہ یہ اپنا دیس اور اپنے لوگ ہیں لہٰذا چارپائی سے لٹکتی ٹانگوں کے باوجود اطمینان سے سو گیا۔

کسی گیت کی آواز پر میری آنکھ کھلی۔ یہ گیت غیر مانوس سا تھا اور کورس کی صورت گایا جا رہا تھا۔ ذرا سنبھلا تو محسوس ہوا کہ یہ گیت میرے قریب ہی کہیں گایا جا رہا ہے۔ ادھر اُدھر دیکھا تو واجد کا بستر خالی پایا، اور کھلی کھڑکی میں سے نکھرا نکھرا دن مجھے ہوش میں لانے کے لیے کافی تھا۔ میں جلدی سے اٹھ کر ہوٹل سے باہر آیا تو جو منظر دیکھا وہ ہوش ربا تھا۔ ۔ ۔ ۔

پچھلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

اگلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: