خوشبو نگر کوغذی اور گندم کا گھونگٹ (قسط ۸) ۔۔۔۔۔۔۔۔ زاہد عظیم

0

ہم پاس سے گزرے تو سب خواتیں چوری نظروں سے ہمیں دیکھنے لگیں۔ جب ہم نے انہیں دیکھا تو سب کی سب گندم میں بیٹھ گئیں۔ یہ بڑا دلچسپ منظر تھا۔ ہم اپنی باتیں کرتے ہوئے چلتے تو وہ خواتین ہمیں دیکھتیں اور جب ہم انہیں دیکھتے تو وہ جھٹ سے گندم کے لہلہاتے کھیتوں میں بیٹھ جاتیں۔ ہم سے پردہ کرنے کے لیے انہیں گندم کا گھو نگٹ میسر تھا۔ اگر ہمارے ساتھ کچھ خواتین ہوتیں تو یقینا کوغذی کے طلسم کے سارے در ہم پر وا ہو تے۔ مجھے لگا ہم پرستان میں اتر آئے ہیں اور جنت بھی کچھ ایسی ہی ہوگی کیونکہ ہم جس راستے پر چل رہے تھے وہ کئی طرح کی خوشبوؤں میں رچا بساتھا ساری فضا خوشبو سے لبریز تھی۔ ہر درخت اور پودا بہار کے پھولوں سے لدا ہوا تھا۔ کئی رنگوں اور کئی اقسام کے پھول اپنی خوشبوؤں کے طشت سنبھالے، دو رویہ کھڑے ہمارا استقبال کر رہے تھے۔ آس پاس کے گھاس کے سارے میدانوں میں پھول خیمہ زن تھے اور جھاڑیاں بھی خوشبو کا وجود بنی کھڑی تھیں۔

کوہِ آدم پر خوشبو دار پودوں اور درختوں کے جھنڈ سیاحوں کو حیران کر دینے کے لیے کافی ہیں مگر کوغذی میں سیاح دیوانہ بھی ہو سکتا ہے۔ بھینی بھینی لگاتار آتی خوشبو ذہن کو ماؤف سا کر دیتی ہے۔ شاید ہمارا ذہن اتنی ڈھیر ساری خوشبوؤںمیں تمیز کرکر کے تھک جاتا ہے یا پھر ہما رادماغ اتنی خالص خوشبو کا عادی نہیں رہا، اس لیے خوشبو کی فراوانی سے سر میں ہلکا ہلکا درد ہونے لگا۔ اس پر طرہ یہ کہ تمام رستے میں چھوٹے چھوٹے ندی نالے اور آبشارتھے جن کے پانی کا ترنم ہمیںاپنے سُروں کے سحرکے حصار میں جکڑ کر ایک اور حسین جگہ لے گیا جہاں دریائے گولین سڑک کے نیچے سے گزر کر دریائے مستوج میں شامل ہو رہا تھا۔

چترال کی وادی میں یہ پہلا دریا نظر آیا جس کا پانی نیلا اور شفاف تھا۔ ہم دریائے گولین کے کنارے کنارے چلنے لگے۔ یہی راستہ گولین گاؤں تک جاتا تھا جس کے بارے میں ہمیںچترال میں ویگن سٹینڈ پر بتایا گیا تھا۔ یہ راستہ بھی ایک مشقّت تھا۔ لگا تار اوپر کی طرف اٹھتاہوا، ایک قدم کے بعد اگلا قدم پہلے سے زیادہ اونچائی پر پڑتا تھا اور جسم کو اونچائی کی طرف دھکیلناپڑتا تھا۔ اونچائی کی طرف سفر کرنا تو درکنار، سفر کی خواہش کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اونچائی کا سفرہر کسی کے بس کا کام نہیں۔ بہت ریاضت اور کمربستگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر مصیبت خندہ پیشانی سے جھیلنی پڑتی ہے اور ہر آزمائش پر شکر ادا کرنا فرض ہوتا ہے لیکن اونچائی پھر بھی دسترس سے باہر رہتی ہے۔ ہمت مرداں سے مدد خدا اترتی ہے اور ریاضت جار ی رکھنے سے ہی آخر کار پانی میں رستہ بنتا ہے اور منزل قدم چومتی ہے۔

کبھی تو اونچائی کے سفر کے لیے بندے چن لیے جا تے ہیں اور اس چناؤ کے باوجود ان پر اتنی آزمائشیں آتی ہیں کہ انہیں دعاؤں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور یہ دعائیں بعد میں نسلِ انسانی کے لیے امید کا آخری چراغ ثابت ہوتی ہیں اور منزل دھندلکوں سے باہر نکل آتی ہے۔ ہم بھی انچائی ہی کے سفر پر گامزن تھے۔ تھکے ہارے، خشک زبانوں اور بھاری قدموں سے چلتے ہوئے، اپنی ہمت کی پائی پائی خرچ کرتے ہوئے۔ ۔ ۔ منزل پر نظر اور مستقل مزاجی۔ ۔ ۔ بس یہ دو خزانے ایسے تھے جن سے ہم مالا مال تھے اور ہمارا سفر کٹ رہا تھا۔

نیلے جھاگ اڑاتے دریا ئے گولین کے کنارے دریا اور راستے کے علاوہ اگر کچھ تھا تو پہاڑ تھے۔ ۔ ۔ بھورے سخت جان چٹیل پہاڑ۔ ۔ ۔ جن کی چوٹی نظر نہ آتی تھی بس آسمان ہی نظر آتا تھا۔ یہ گھاٹی بہت گھاٹا پہنچانے والی تھی اور تنگ تھی۔ راستہ ڈر کے مارے پہاڑ سے چمٹ گیا تھا۔ لگتا تھا ڈرپوک بچے نے ماں کے کپڑے دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑ لیے ہیںتا کہ کہیں وہ دریا میںگر نہ جائے۔

یہ بے چھت کا ایک غار تھا جس میں ہم اتر چکے تھے۔ ۔ ۔ راستہ انجا نااور منزل نظروں سے اوجھل تھی۔ بس ایک لگن من میں سما گئی تھی اور یہی لگن منزلوں کو اپنی طرف کھینچ لیا کرتی ہے۔ راستے اپنی سختیاں سمیٹ کر چل دیتے ہیں۔ ۔ ۔ پھر قدم ہوتے ہیں اور کامرانیاں ہوتی ہیں۔ کہیں سے آواز آرہی تھی کہ قدم رکنے نہ پائیں۔ ۔ ۔ بس کچھ دور۔ ۔ ۔ کچھ ہی دور منزل تمہارے انتظار میں نظروں کی باہیں پھیلائے کھڑی ہے۔ ۔ ۔ اور ہم اسی لو میں چلتے رہے۔

ایک کے بعد ایک قدم۔ ۔ ۔ آہستہ سہی، لیکن بڑھتے ہوئے۔

’’او پورٹر پانی کی بوتل دو۔ ‘‘ اظہار نے واجد کو پکارا جو سب سے آگے سر جھکائے چلا جا رہا تھا۔

میں نے دیکھا تمام کیمروں، دوربینوں اورپانی کی بوتلوں کے ساتھ ساتھ جرسیاں اور فالتو کپڑے تک واجد نے اٹھا رکھے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اظہار نے بوب کٹ والی کے کیس میں ہونے والے فیصلے کی تعمیل میں پہلے تو اپنا سامان واجد کو اٹھوایا پھر باقی سب دوستوںسے سامان مانگ مانگ کر اس پر لاد دیا اور وہ بچارہ کچھ کہے بغیر سب کچھ اٹھا کر چپ چاپ چل رہا تھا۔

’’یہ کیا حماقت ہے، ساری دنیا کا سامان تم نے اٹھا رکھا ہے۔ ‘‘ میں نے واجد سے کہا۔ ’’واپس کرو یہ سب کچھ !‘‘ میں نے چیزیں سب میں بانٹ دیں۔ اظہار قہقہے لگارہا تھا۔

’’زاہد بھائی آپ نے خواہ مخواہ اسے ہلکا کر دیا۔ ۔ ۔ ذرا سا اور چلتا تو اس نے گر جا نا تھا۔ ۔ ۔ بڑا مزا آتا‘‘ اظہار بولے جا رہا تھا۔

’’شرم کرو یار۔ ۔ ۔ مذاق کو مذاق کی حد میں ہی رکھا کرو‘‘میں نے کہا۔

’’او نہیں زاہد بھائی۔ ۔ ۔ آپ نے دیکھا نہیں اس کی ٹانگیںکھلتی جا رہی تھیں۔ ۔ ۔ گھٹنے سکڑ گئے تھے۔ ۔ ۔ مجھے توواجد وہ ٹٹو لگ رہا تھا جس پر ضرورت سے زیادہ وزن ڈال دیا گیا ہو۔ کیا چال ہوتی ہے اس کی۔ ۔ ۔ بالکل وہی چال اس کی ہو گئی تھی‘‘ اظہار ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا۔

’’ تم میری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہو‘‘ واجد اظہار پر برس پڑا۔

’’لیکن بچُّو!تمہاری تصویر میں نے بنا لی تھی۔ ۔ ۔ ڈیویلپ کروا کر اس پر لکھوں گا۔ ۔ ۔ تھکا۔ ۔ ۔ ٹُٹّا۔ ۔ ۔ ٹٹّو‘‘

اظہار کے جملے پر سب کے قہقہے بلند ہوئے اور ہماری تھکاوٹ کہیں ہواؤں میں تحلیل ہو گئی۔

اب ہم نسبتاً کھلی وادی میں نکل آئے تھے۔ دریا ایک طرف ہٹ گیا تھا اور پہاڑوں کی دو دیواروں کے درمیان اب خاصا فاصلہ ہو گیا تھا۔ چھوٹے چھوٹے قطعات میں گندم اور جو کی فصل نظر آرہی تھی جبکہ پیلے رنگ کے پھولوں کی ٹولیاں جگہ جگہ اتری ہوئی تھیں لیکن ان پھولوں میں خوشبو نہ تھی۔

ہمیں چلتے ہوئے ڈیڑھ گھنٹہ ہو گیا تھا۔ راستے میں کوئی بھی مقامی شخص ملتا تو اظہار اس سے گولین کا فاصلہ پوچھتا،

’’یو میل‘‘ جواب ملتا۔

اور یہ یو میل گولین گاؤں تک جاری رہا۔ گولین کے مضافات میں زمین کے چھوٹے چھوٹے قطعات پر کاشتکار بیلوں کی مدد سے ہل چلا رہے تھے۔ وہی چترالی ٹوپیاں جن میں سے پھول جھانکتے تھے، ہر کسان کے سر پرنظر آتی تھی اور کھیتوں کے ساتھ ساتھ دور تک پیلے پھولوں کے پودوں نے جیسے دھرتی کے ہاتھوں پر مہندی لگا رکھی تھی۔

ہم نے جیسے ہی گولین میں قدم رکھا، وہاں کی مسحور کن فضا نے ہمیں اپنے سحر میں جکڑنا شروع کر دیا۔ تمام گاؤں میں پتھر کی دیواریں نظر آرہی تھیں اور ایک خاص چیز جو اس گاؤں میں ہمارے لیے دلچسپی کا باعث تھی وہ یہاں کی چھوٹی چھوٹی ندیاں تھیں جو ہر گھر میں پانی پہنچاتی تھیں۔ گولین کی بڑے بازار میں ایک خاموش ندی ہر گھر کے دروازے کے سامنے سے گزرتی تھی اور پودے اس ندی کے کنارے اپنی چھاؤں بچھائے، مسافروں کے لیے آسودگی کا سامان کیے ہوئے تھے۔

گولین میںقریبی چشموں کا پانی ہر گھر کی دہلیز تک ندیوںکی صورت لایا جاتا ہے اور ان ندیوں کی سال بھر کی روانی گولین کے مکینوں کی بہت سی ضروریات پوری کرتی ہے۔ استعمال شدہ پانی کی نالیاں الگ نظر آتی تھیں اوروہ ندیوں کے شفاف پانی سے دور دور ہی بہتی تھیں۔

گاؤں میں سکول کے بچوں نے ہمیں دیکھا تو ہمارے قافلے میں شریک ہو گئے۔ ان بچوں نے ملیشیا کی سیاہ وردیاں پہن رکھی تھیں اور چترال کے باقی بچوں کی طر ح ان کی مخصوص طرز کی ٹوپیوں پربھی سرخ ہلال سلے ہوئے تھے۔

بچوں کے سرخ دہکتے رخسار وں، سفید رنگ اور سنہرے بالوں نے انہیں کھلونے کا روپ دے رکھا تھا اور یہ کھلونے ہمارے ساتھ ساتھ بازارا ور کھیتوں میں خاموشی اور حیرت کی تصویر بنے گھوم رہے تھے۔

گولین میں بھی ہر گھر میں سے کئی کئی نظروں نے ہمارا تعاقب کیا مگر ہمارے دیکھنے پر دروازہ ایک دم بند ہو جاتا یا چہرے دیوار کے پیچھے ڈبکی لگا جاتے۔

یہ چہرے بھی کوغذی کے باسیوں کے چہروں جیسے شوخ، ہنس مکھ اور زندہ دل تھے۔ تیز رنگوںاور بڑے بڑے شوخ پھولوں والے لباس اور سستی دھات کے وزنی زیورات پہنے یہ خواتین کسی ناٹک کے کردار نظر آتی تھیں۔ ۔ ۔ ہنستے بولتے ماحول کے جیتے جاگتے کردار۔ مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ہمارے گروپ میں کچھ خواتین کا ہونا ضروری تھا تا کہ ان طلسم زدہ کرداروں کے مکالمے سنے جا سکتے۔ ۔ ۔ ایسے موسم میں چپ کیوں ہو۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ کردار کانوں میںرس نہیں گھولتے تھے۔ ۔ ۔ بس آنکھوں ہی سے بولتے تھے۔

گولین گاؤں اپنے دریاکی طرح نکھرا ہوا اور صاف شفاف تھا۔ گاؤں کی آخری حد تک جا کر ہم لوگ اس کی گلیوں اور بازاروںمیں گھومے پھرے۔ گولین کے مرد اپنے کاموں میں مصروف تھے اور ننھے بچے اپنے کھیلوں میں مگن۔ ایک بڑے پتھر کی اوٹ میں تین چار سال کی ایک بچی اپنی گڑیا کا گھر سجائے بیٹھی تھی جس میں اسکے ڈرائنگ روم اور باورچی خانے کا سامان نظر آرہا تھا۔ سار اسامان ٹین کے ڈبے کاٹ کر بنا یا گیا تھا۔ کرسیاں، میز، برتن، توا، پرات غرض کہ ہر چیز گھی کے خالی ڈبے کاٹ کر خود ہی بنائی گئی تھی۔ بچی اپنی گڑیا کو سجا سنوار رہی تھی۔ گڑیا بھی مقامی دستکاری کا ایک حسین شاہکار تھی اور اس گڑیا کے کپڑے بھی گولین کی جیتی جاگتی گڑیوں کی طرح شوخ تھے۔

گولین کی چھوٹی چھوٹی دکانوں سے ہم نے ٹافیاں اور بسکٹ جی بھر کر خریدے تاکہ ان لوگوں کی کچھ مدد ہو سکے اور پھر وہ چیزیں گولین کے بچوں میں تقسیم کر دیں۔ وہ بچے ہمیں انگریز سمجھ کر ہم سے ایک محفوظ فاصلے پرچلتے تھے اور ایک انجانا خوف ان کے چہروں پر عیاں تھا۔ وہ بچے اب ہمارے دوست بن گئے تھے اور اب ان کے چہروں پر ایک ناقابلِ بیان لجاجت اور جذبات کی سرخی دوڑ رہی تھی۔ انہوں نے ہمارے ساتھ تصاویر بنوائیں اور دلچسپ باتیں کیں۔

اتنی دور تنگ گھاٹیوں میں اتنا بڑا گا ؤں ہونا بذاتِ خود ایک حیرت کی بات تھی اور دوسری حیرت کی بات یہ تھی کہ تمام گاؤں اپنے معمولات میں یوں مگن تھا جیسے یہاں کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں اور یہ گاؤں بھی جیسے کسی بڑی شارع کے کنارے واقع ہو جہاں آمدورفت اور ر سل و رسائل کا کوئی مسئلہ نہیں۔ میں نے ایک دکاندار سے اس کے کاروبار کے حوالے سے بات کی تو مجھے معلوم ہوا کہ ان لوگوں نے اپنا رہن سہن اور طرزِ معاشرت ہی ایسی اختیار کر لی ہے کہ انہیں باہر کی دنیا کی ضرورت ہی کم پڑتی ہے۔ کچھ استاد، طلبا اور دکاندار ایسے تھے جو کوغذی اور چترال تک آتے جاتے تھے، باقی لوگوں کے لیے گولین ہی حرفِ آغاز ہے اور یہی حرفِ آخر۔ ایسی قناعت پسندی دیکھ کر دل خوش بھی ہوا اور پریشان بھی۔

پریشانی کی کئی وجوہات تھیں۔ نجانے کتنا ٹیلنٹ یہاں پڑے پڑے ضائع ہوتا رہے گااور قوم کے کسی کام نہ آسکے گا۔ نجانے کتنے لوگ معمولی بیماریوں کی وجہ سے لقمۂ اجل بن جاتے ہوں گے کہ وہ کسی ڈاکٹر تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ ایک جیسی فصلوں کی کاشت سے زمین کی زرخیزی ختم ہوتی جارہی تھی اور ان لوگوں کے پاس کھیتی باڑی کے جدید رجحانات پہنچ ہی نہیں پائیں گے تو اس گاؤں کا کیا بنے گا۔ ایسے ہی ہزاروں سوال میرے ذہن میں ابھر ے تو میں ایک گھنیری چھاؤں والے درخت کے سائے میں جا لیٹا۔ پاس ہی ندی بہ رہی تھی جس کا ترنّم مجھے لوریاں سنانے لگا۔ ذرا فاصلے پر ایک کسان اپنے بیل سے ہل چلا رہا تھا اور بیل کو ہانکنے کے لیے اس کی آواز فضا میں بلند ہو تی تو میں جیسے اپنے گاؤں کی زمینوں پر جا پہنچتا۔ معمولی یکسانیت بعض اوقات گولین کو چک نمبر ۴ ون۔ آر۔ اے۔ بنا دیتی ہے۔

معلوم نہیں میں کتنی دیر وہاں لیٹا رہا اور گولین کی دوری اور اس تک رسائی کے بارے میں غور کرتا رہا۔ یہاں تک سڑک آنی چاہیے تا کہ ان لوگوں کے مسائل حل ہوں۔ ۔ ۔ یہاں تک سڑک نہیں آنی چاہئے، یہ لوگ ڈسٹرب ہوجائیں گے۔ گولین گولین نہیں رہے گا کچھ اور بن جائے گا۔ ایک خطہ تو ایسا ہو جہاں فطرت کو اس کے اصل روپ میں دیکھا جاسکے۔ جہاں مادیت پرستی کا ابو الہول کبھی سایہ فگن نہ ہو سکے۔ لیکن گولین تک سڑک آنی چاہئے تاکہ ان سادہ لوح لوگوں تک سہولتیں پہنچ سکیں۔ بیماری میں ان کا علاج ہو سکے۔ گولین تک سڑک نہیں آنی چاہئے، سہولتوں کے ساتھ کئی خباثتیں بھی آئیں گی۔ پھر نئی نئی بیماریاں بھی اس سڑک پر سفر کر کے یہاں پہنچیں گی۔ یہاں صرف علم پہنچنا چاہیے اور اسے پہنچنے کے لیے سڑک درکار نہیںہوتی۔ چھوٹے موٹے راستوں اور پگڈنڈیوں پر بھی علم بڑی آسانی سے سفر کر لیتا ہے۔ علم گولین کو خود اس قابل کر لے گا کہ یہ لوگ اپنے برے بھلے کا فیصلہ خودکر سکیں۔

جب ہم گولین سے لوٹ رہے تھے تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ بہت سے بچّے بستے اٹھائے ملیشیے کی وردی اور سرخ ہلالی ٹوپی پہنے کوغذی کے سکول سے پڑھ کر گھرواپس لوٹ رہے تھے۔ گولین میں علم کی روشنی کو سڑک کی حاجت نہیں رہی تھی۔

واپسی خاصی جلدی مکمل ہو گئی کیونکہ سارے راستے میں اترائی تھی اور اس پر سب سے تیز اظہار چلتا تھا جو ننگے پاؤں اُڑا جا رہا تھا۔ اس کے نئے جاگرز اس کے لیے مصیبت بن گئے تھے۔ اور اس نے وہ مصیبت اتار کر ہاتھ میں پکڑ لی تھی۔ واجد نے یہ سامان اٹھانے سے انکار کر دیا تھا اور’’ تھکا ٹٹا ٹٹو‘‘ کہلوانا پسند کر لیا تھا۔

کوغذی پہنچے توہمیں لاہور کے کچھ نوجوان ملے جو اتنی تسلّی سے وہاںگھوم رہے تھے جیسے یہاں ان کا گھرہو۔ ۔ ۔ اور واقعی کوغذی میں انکا گھر تھا۔ یہ نوجوان نسپاک کے انجینئرز تھے اور مستوج تک سڑک بنانے کے پراجیکٹ پر کام کر رہے تھے۔ ان لوگوں کی پرتکلف چائے پی کر ہم لوگ کوغذی کی مہکی فضاؤں میں دوبارہ کھو گئے۔

بڑے چوراہے پر ہمیں پن چکیاں نظر آئیں تو ہم ادھر چل دیے۔ لکڑی کی ایک نالی کے ذریعے ندی کے پانی کو پن چکی کی عمارت کے نیچے تک لایا گیا تھا۔ جہاں مضبوط تختوں کی ایک ٹربائین تھی جس کو یہ پانی گھما رہا تھا۔ لکڑی کے پنکھے کے گھومنے سے لکڑی کی بنی ایک شافٹ گھومتی تھی جس کے سرے پر ایک پتھر تھا۔ اسی پتھر کے گھومنے سے گندم کے ساتھ گھن بھی پس رہا تھا۔ اس وقت جو دانے پس رہے تھے ان کاکچھ آٹا تھیلوں میںجاتا تھا اورباقی ادھر اُدھر بکھر رہا تھا۔ اسی بکھرتے اُڑتے آٹے نے چکی والے کو سانتا کلاز بنا رکھا تھا۔ ہم نے سانتا کلاز سے ڈھیر ساری باتیں کیں۔ وہ اپنے پیشے سے بہت مطمئن تھا۔ یہ اطمینان ہمیں کوغذی بھر میں نظر آرہا تھا۔ لگتا تھا ہر طرف چین کی بانسری بج رہی ہے اور ہوا کے دوش پرسوارسکون کے غول ہر سمت سے امڈے چلے آتے ہیں۔

چناروں کی گھنی چھاؤں میں لیٹے ہم ان جامنی پھولوں کو دیکھ رہے تھے جو خود رو جڑی بوٹیوں کی صورت ہر جگہ اگ آئے تھے اور ان کی بہتات سے زمین پر کاسنی بادل اتر آئے تھے۔ آئرس کے ان جامنی پھولوں نے اس جگہ کو جنت کا گوشہ بنا دیا تھا۔ سڑک کے ساتھ ہی ایک قبرستان تھا جس میں جامنی آئرس اس بات کے شاہد دکھائی دیے کہ اس شہرِخموشاں کے باسی بہشتِ صد رنگ کے مزے لوٹ رہے تھے۔

یہاں فاتحہ پڑھنے کے بعد ہم آہستہ آہستہ کوغذی کے بازار کی طرف چل دیے تا کہ کوئی جیپ وغیرہ حاصل کر سکیں کیونکہ آج شام تک ہمیں نہ صرف چترال پہنچنا تھا بلکہ اپنے ہوٹل سے سامان سمیٹ کر بمبوریت کا رخ کرنا تھا جس کے لیے میرے ساتھیوں کے دل دھڑکتے تھے تو ان کی آنکھیں ان دیکھی خوبصورتیوں کا سوچ کر چمک اٹھتی تھیں۔ آج شام ہم خوشبو نگر کوغذی سے رعنائی نگر کالاش جانے والے تھے۔ ۔ ۔ ایک جادو نگری سے دوسری جادو نگری کا سفر۔ ۔ ۔ بس کٹ جائے۔ ۔ ۔ ابھی، اسی وقت۔

اور جب ہم جیپ میں بیٹھ کر کوغذی سے بچھڑ رہے تھے تو اس دکھ کا مداوا ہمیں کالاش نظر آرہا تھا۔ اگر کالاش نہ ہوتا تو شاید کوغذی کو اللہ حافظ کہنا بہت مشکل ہو جاتا۔ اللہ حافظ کوغذی۔ ۔ ۔ ۔ ہم پھر آئیں گے۔ ۔ ۔ تیری دلکشی کا ترنم سننے۔ ۔ ۔ تیری رعنائی کارقص دیکھنے۔ ۔ ۔ تیری محبت کا لمس محسوس کرنے۔ ۔ ۔ الوداع۔ ۔ ۔ !!

پچھلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

اگلی قسط کے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: