گرم چشمہ، افغانی پلاؤ اور حیرانیاں (قسط ۶) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زاہد عظیم

0

’’استاد جی کوئی سٹپنی بھی ہے یا پیدل ای ہو۔ ‘‘ واجد ڈرائیور سے پوچھ رہا تھا۔

’’بے پکر رہو سب ہے۔ ‘‘ڈرائیور نے جواب دیا اور سب سواریاں پہیہ بدلنے کے عمل میں شریک ہو گئیں۔

جس جگہ ہم کھڑے تھے وہاں بھورے رنگ کے فلک بوس پہاڑ تھے اور اوپر آسمان کی ایک باریک سی پٹی نظر آتی تھی۔ باقی کا سارا آسمان ہمارے دائیں بائیں کے پہاڑوں کی اوٹ میں تھا۔

ان پہاڑوں کی بناوٹ بھی خاصی حیران کن سی تھی۔ بائیں طرف کے پہاڑوں کی قطاردیو ہیکل سِلوں کا مجموعہ تھی۔ ایک سِل کے ساتھ دوسری سِل ٹیک لگائے کھڑی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی بہت بڑی چھُری سے پہاڑوں کے ایک جیسے سلائس کچھ دیر پہلے کاٹے گئے ہوں۔ دوسری طرف کے پہاڑ گہرے بھورے رنگ کے تھے جن میں جگہ جگہ سے سیاہ تارکول سی بہ رہی تھی۔

’’ لگتا ہے سلاجیت ہے!‘‘ اظہار کالے سیال کی طرف اشارہ کر کے بولا۔

’’ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی پا جی! اور ہرکالی چیز سلا جیت نہیں ہوتی۔ ‘‘ زبیر نے اظہار کی کمر سہلاتے ہوئے کہا۔ مگر اظہار کی تسلی نہ ہوئی اور وہ ایک مقامی آدمی کی طرف چلا گیا جو ٹائر بدلنے کے آخری مراحل میں ڈرائیور کی مدد کر رہا تھا۔ میں ان دونوں کو باتیں کرتے دیکھ رہا تھا۔ اظہار کے اشارے اور مقامی شخص کی وضاحتیں سمجھ میں آرہی تھیں۔ پھر اظہار ٹہلتا ہوا زبیر کے پاس گیا اور اسکی کمر سہلاتے ہوئے بولا،

’’ہرچمکتی چیز سونا نہیں ہوتی پاجی!، اور نہ ہر کالی چیز سلاجیت ہوتی ہے، مگریہ سیال سلاجیت ہی ہے۔ ‘‘

’’مگر اتنی ساری سلاجیت کہاں سے آگئی؟‘‘

’’یہ یہیں پہاڑوں سے آگئی، اور کہاں سے آگئی۔ ‘‘ اظہار زبیر کی حیرانیاں دور کرتے ہوئے بولا۔

’’یار !یہاں تو منوں کے حساب سے سلاجیت نکل نکل کر ضائع ہو رہی ہے۔ اسے اکٹھا کرنے کا کوئی انتظام ہونا چاہیے‘‘اب زبیر کا رنگ بھی پھیکا پڑ رہا تھا۔

جیپ کے ہارن سے ہم ادھر متوجہ ہوئے۔ صرف ہم ہی کھڑے گپیں ہانک رہے تھے باقی لوگ جیپ میں سوار ہو چکے تھے۔ جب جیپ چلی تو زبیر اور اظہار کی متفکر نظریں دیر تک ان سیاہ دھبوں پر ٹکی رہیں جہاں ایک قیمتی دوا ضائع ہو رہی تھی اور اسے بچانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا۔

شوغور میں ہریالی نظر آئی تو راستے کی سنگلاخی ذرا دیر کو بھول گئی۔ یہ ایک بڑا گاؤں تھا، جہاں والئی ریاست کا بھائی تخت نشین رہا۔ انکا آبائی قلعہ نیلے رنگوں میں ماضی کی کرختگی سمیٹے بے یارو مدد گار کھڑا تھا۔ یہاں دریائے لٹکوہ بڑے سکون سے بہ رہا تھا اور ماحول بھی کچھ دوستانہ سا تھا، اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ واپسی پر یہاں رکا جائے گاکیونکہ دوسری سواریوں کی وجہ سے ابھی ایسا کرنا ممکن نہ تھا۔

کچھ دیر بعد ہی تنگ گھاٹیوں کا سفر پھر شروع ہو گیا۔ پہاڑ اپنی ہیئت بدلنے لگے۔ وہ نئی نئی شکلوں میں ڈھلتے نظر آتے تھے۔ ہم چلتے چلتے جب سڑک کے ہمراہ دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچے تو بہت سی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموںکے بورڈ نظر آنے لگے۔ ان بورڈز پر رورل سپورٹ پروگراموں کے تحت آبپاشی کی سکیموں اور پھلدار باغات لگانے کے منصوبوں کی تفصیلات درج تھیں۔

درشپ ایک اور بڑا گاؤں تھا جس میں خود رو گھاس اور پھول بہار کی آمد کی اطلاع دینے ہم سے پہلے پہنچے ہوئے تھے۔ تمام فضا میں ایک سوندھی سوندھی خوشبو رچی بسی تھی، اور کچے سبز رنگ کے پاپولر وں کے شرارتی ’’ٹین ایجرز ‘‘ درختوںکو چھو کر ہوا بھی شرماتی لجاتی سی گزرتی تھی۔ انھی درختوںکی اوٹ میں، سبزے کے ایک بڑے میدان کے آخری سرے پر پھولوں میںگھرا د رشپ کا قلعہ ا یک جادوئی نظارہ پیش کر رہا تھا۔

’’یہاں فوٹو گرافی ہونی چاہیے۔ ‘‘ شعیب آس پاس دیکھتے ہوئے بولا۔

’’واپسی پر ٹھہریں گے ابھی تو دوسرے لوگ ساتھ ہیںاور ہم اچھی طرح لطف اندوز نہیں ہو پائیں گے۔ ‘‘میں نے جواب دیا۔

’’کیوں بھئاظہا ر! اس سلاجیت کا کیا کرنا ہے جو پہاڑوں میں بہ بہ کر ضائع ہو رہی ہے۔ ‘‘ اظہار کو خاموش پا کر میں نے اس سے پوچھا۔ وہ پھڑک کر سیدھا ہوا اور افسوس کرتے ہوئے بولا،

’’ معلوم نہیں حکومت کیوں توجہ نہیں دیتی۔ بازاروں میں نقلی سلاجیت بک رہی ہے، اور ادھر اصلی والی ضائع ہو رہی ہے۔ ‘‘

’’تمہیں کیسے معلوم کہ بازاروں میں نقلی سلاجیت بک رہی ہے؟‘‘ واجد نے سوال کیا۔

’’نہ تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘اظہار غصے سے بولا اور اس طرح ان دونوں میں ایک اور سرد جنگ کا آغاز ہو گیااور بیان بازی جاری رہی۔ تب تک ہم گرم چشمہ کے مضافات میں پہنچ چکے تھے۔

پھلدار درختوں کے ساتھ پاپولر کے نئے اور نو عمر درختوں کی ایک بڑی تعداد ہمارا استقبال کر رہی تھی۔ کھیتوں سے مویشیوں کو دور رکھنے کے لیے پتھروں کی دفاعی دیواریں دور دور تک نظر آتی تھیں۔ دریا کے دوسرے کنارے پر درختوں کی اوٹ میں سے ایک جھرنا بلندی سے گرتا ہوا نظر آتا تھا اور اس کے پانی کی پھوار ہوا میں قوسِ قزح کے سات رنگ بکھیر رہی تھی۔

جیسے ہی ہماری جیپ بازار میں داخل ہوئی، گرم چشمے کے خواب کو ایک دھچکا سا لگا کیونکہ بازار بہت ہی مختصر تھا اور دکانوں پر بکنے والی اشیا وہاں کی آبادی کی قوت خرید کی غماز تھیں۔ بہت سستے سے سامان کی چند دکانیںاپنے مفلس گاہکوں کی آمد کی منتظر تھیں۔

چترال شہر سے ۴۵ کلو میٹر دور چھے ہزار فٹ کی بلندی پر واقع گرم چشمہ کے لوگ بہت سادے اور غریب نظر آتے تھے۔ شکل و صورت سے وہ افغانی باشندے ہی لگتے تھے اور ان کے لباس بھی افغانی طرز کے تھے۔ کھلی شلوار قمیض، جیکٹ یا واسکٹ، پگڑی اور پاؤں میں پشاوری چپل یا پلاسٹک کے بوٹ ہی عام طور پر نظر آئے۔ اس علاقے کی غربت اور اتنی عاجزی ہم نے تو سوچی بھی نہیں تھی۔ یہ دوسری حیرانی تھی جو ہمیں سفر میں لاحق ہوئی۔

جیپ سے اتر کراور اپنا سامان سمیٹ کر ہم لوگ بازار میں نکل آئے اور چھوٹی چھوٹی تاریک دکانوں میں فروخت ہونے والی اشیا کا جائزہ لینے لگے۔ یہ جگہ ماضی میں بھی ایسی بنیادی ضرورتوں سے آراستہ رہی ہو گی، کیونکہ یہ راستہ چترال کو افغانستان سے ملانے والا مشہور تجارتی راستہ تھا جو آج بھی ان روابط کو برقرار رکھے ہوئے تھا۔

جب ہم بازار میں سے گزر رہے تھے تو ایک قافلہ افغانستان جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ افغان خانہ جنگی کے پیشِ نظر جب پشاور سے کابل کا رستہ بند ہوا تو چترال سے کابل کا راستہ بہت زیادہ استعمال میں آنے لگا۔ اب جب بھی لواری ٹاپ کا راستہ بندہوتا ہے، چترال سے افغانستان کی تجارت اس راستے سے ہوتی ہے۔ ایک اورراستہ دریائے کنڑ کے ساتھ ساتھ جلا ل آباد تک جاتا ہے اور وہاں سے کابل اور پشاور کے راستے نکلتے ہیں جو سارا سال کھلے رہتے ہیں۔

’’کیا خوشبو ہے پلاؤ کی ‘‘ شعیب ہوا کے رخ پر بھورے بھالو کی طرح ناک ٹکائے لمبے لمبے سانس لے رہا تھا۔

’’تم بھوک کے معاملے میں کچھ زیادہ ہی حساس ہو‘‘ میں نے شعیب سے کہا۔

’’ندیدہ ہے یہ۔ ۔ ۔ کھانے کی کوئی چیز سامنے آجائے تو بس۔ ۔ ۔ لینڈ ہی کر جاتا ہے۔ ‘‘ اظہارشعیب پر برس رہا تھا۔

’’اسے رات کی چائے دُکھ رہی ہے اور کوئی بات نہیں۔ ‘‘ شعیب نے جواب دیا اور اس ہوٹل میں داخل ہو گیا جہاں سے وہ خوشبو آرہی تھی۔

ہوٹل کیا تھا ایک بڑا سا نیم تاریک کمرہ تھا، جس پر لکڑی اور پھوس کی سیاہ چھت پڑی ہوئی تھی۔ کمرے کے درمیان میں ایک بڑا سا چبوترا تھا، جس پر ایک پرانا سا افغانی قالین بچھا ہوا تھا۔ دروازے کے ساتھ ہی لکڑی کے ایک تخت پر چند برتن پڑے تھے۔ ساتھ ہی ہوٹل والا بیٹھا تھا جس کے پاس ہی ایک انگیٹھی پربڑاسا دیگچا پڑا تھا۔ بھوک چمک چکی تھی لہٰذا وہیں چبوترے پر بچھے قالین پر آلتی پالتی مارے ہم شعیب کا انتظار کرنے لگے جو ہوٹل والے سے گفت و شنید کر رہا تھا۔ ہوٹل والا اپنے سینے پر ہاتھ رکھے انکساری کا پُتلا بنا کھڑا تھااور شعیب کے آرڈر کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد شعیب ہاتھ دھو کر ہمارے پاس آبیٹھا۔

’’کیا آرڈر دیا ہے ؟‘‘ میں نے معلوم کیا۔

’’افغانی پلاؤ ہی ہے۔ ۔ ۔ پندرہ روپے کی پلیٹ دے رہا ہے۔ ‘‘وہ بولا۔

’’ٹھیک ہے کچھ نہ کچھ تو کھانا ہی ہے۔ ‘‘واجد اپنی بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر بولا تھا۔

ہوٹل کا مالک اپنے کارندوں کو لمبا چوڑا لیکچر دے رہا تھااور ہم اس تذبذب میں تھے کہ کہیں یہ پلاؤ ویسے ذائقے والا نہ ہو جیسا ذائقہ پولو گراؤنڈ والے کھانے کا تھا۔ کچھ دیر کے بعد ایک لڑکا گرم پانی کے گلاس میں ڈوبے ہوئے چمچ ہمارے پاس رکھ کر چلا گیا۔ یہاں سے ایک اور حیرانی شروع ہو گئی۔

اتنے صاف ستھرے طریقے سے چمچ آئے کہ طبیعت خوش ہو گئی۔ اس کے بعد کوفتوں کی کٹوریاں ہمارے سامنے سجائی گئیں۔ پھر بڑی بڑی افغانی روٹیاں لائی گئیں۔ ہم نے اتنا نفیس کھانا دیکھا تو یہ سوچے بغیر کہ ہمارا آرڈر کیا تھا، کھانے پر پل پڑے۔ کچھ دیر کے بعد یخنی کے پیالے لائے گئے اور ساتھ ہی افغانی پلاؤ کی ایک ایک بڑی پلیٹ جس میں چاولوں پر سجی کوئی آدھا آدھا کلو کی ایک ایک بوٹی ہماری حیرانیوں میں اضافہ کر رہی تھی۔ مخصوص خوشبو کے سیلا چاولوں میں کشمش اور گاجروں کی ہلکی سی مٹھاس سے مزا دوبالا ہوگیا تھا۔

ابھی ہم کھانا کھا کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ گرم پانی سے لبریز کٹوریاں آگئیں۔ ان کے ساتھ قہوے کی بڑی سی کیتلی تھی اور رکابیوں میں بادام کی ایسی گریاں تھیں جن پر سفید شکر چڑھی ہوئی تھی۔ اس کھانے کی ہم نے صرف آنکھوں آنکھوں میں ہی تعریف کی۔ ۔ ۔ منہ سے الفاظ نہ نکل سکے۔ بظاہر غریب نظر آنے والے لوگ دل کے کتنے کھلے اور امیر تھے۔ ہماری نظریں شرم سے جھک گئی تھیں۔ کیونکہ اس علاقے کا جو تاثرہمارے دل میں قائم ہوا تھا، وہ ان کے حسنِ اخلاق اور مہمان نوازی سے نہ صرف چند لمحوں میں زائل ہو گیا بلکہ ایک نئے جذبے نے اس کی جگہ لے لی۔ اور یہ سب اس لیے تھا کہ کھانا کھلا کر ہوٹل کا مالک ہمیں دورتک رخصت کرنے آیا۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ اس نے صرف پلاؤ ہی کے پیسے لیے تھے۔ ۔ ۔ پندرہ روپے فی پلیٹ۔ ۔ ۔

بازار سے پوچھتے پچھاتے ہم لوگ وہ گرم چشمہ دیکھنے چل دیے جو اس علاقے کی شہرت اور نام کا باعث ہے۔ بازار کے آخر میں دائیں طرف پہاڑ پر کچھ غسل کھانے بنے ہوئے تھے اور ان میں پائپوں سے پانی پہنچایا جا رہا تھا۔ یہ پانی پہاڑی پر موجود ایک چشمے سے آتا ہے جس کا پانی گرم ہے اور اس میں گندھک کے علاوہ چند دوسری معدنیات کی آمیزش ہے۔ اس پانی سے نہانے سے نہ صرف یہ کہ جوڑوںکے درد میں آرام آجاتا ہے بلکہ جلدکی بیماریاں بھی ٹھیک ہو جاتی ہیں۔

غسل خانے کچھ زیادہ صاف نہ رہے تھے۔ وہاں ایک مقامی شخص کی زبانی معلوم ہوا کہ ایک غیر ملکی خاتون کی جلد کی کوئی بیماری یہاں نہانے سے ٹھیک ہوئی تھی اس لیے اس نے لوگوں کی بھلائی کے لیے یہ غسل خانے تعمیر کروائے تھے۔

تصویر کا دوسرا رخ ایک اور کہانی سے سامنے آیا کہ اس چشمے پر غیر ملکی خواتین و حضرات سرِ عام نہاتے تھے اور مختلف’’ حالتوں‘‘ میں نہاتے تھے تو اردگرد کے شریف اور سادہ ماحول پر ’’مضر اثرات ‘‘ مرتب ہوتے تھے اس لیے مقامی حکام نے پردے کا خاص انتظام کر دیا تھاگویا اب یہ غسل خانے حمام بادگرد بن گئے ہیں اور ان میںبننے والی بہت سی داستانیں انجانی زبانوں اور انجانی کتابوں میں لکھی جائیں گی۔ کچھ لکھی جا چکی ہوں گی لیکن کہاں ؟۔ ۔ حمام باد گرد کی خبر لانا یا اس داستان کی خبر لانا ایک مشکل مہم ہے۔

جس جگہ ہم پہاڑی کی ڈھلوان پر کھڑے تھے وہاں سے گرم چشمے کا بازار سکول اور لوگ دور نیچے نظر آرہے تھے۔ اسی پہاڑی پر گندھک کی تاثیر والا چشمہ تھا۔ بازار سے پرے دریائے لٹکوہ ایک نالے کی صورت’’ اپنی دھن میں بہتا ہوں ‘‘ گاتاجا رہا تھا۔ ذرا آگے جا کر اس میںوہ آبشار جا ملتا تھا جو سڑک سے آتے ہوئے ہم نے دیکھا تھا۔ پودوں اور درختوں میں سے گرتا مچلتا اس کا بہت سا پا نی دریا میں شامل ہو رہا تھااور بہت سا پانی اپنی بوندیں اچھال کر ہوا کے آنچل پر ست رنگے موتی ٹانک رہا تھا۔ دوسری طرف پہاڑوں کے عقب میں برف سے ڈھکے پہاڑی سلسلے سے اُدھر افغانستان تھا جس کے لیے کچھ دیر پہلے ایک قافلہ روانہ ہوا تھا۔

ہم نے گرم چشمہ گاؤں کا ایک چکر لگایا اور اسکے کھیتوں کی ہریالی کو لمبے سانس لے کر پھیپھڑوں میں بھراتو طبیعت کو بہت سی طراوت ملی۔

’’ایسی تیسی بنکاک کی۔ ۔ ۔ اب تو وہ خطہ ہی مصنوعی اور بناوٹی لگتاہے۔ ‘‘ اظہار نے سبز گھاس پر لیٹتے ہوئے کہا۔

’’چلو شکرہے بھولا ہوا شام کو گھر لوٹ آیا ہے‘‘زبیر بھی ایک پتھر پہ بیٹھتے ہوئے بولا۔

ہم شاید دیر تک گھاس پر دراز رہتے مگر بارش شروع ہو گئی۔ مطلع صاف ہونے تک دن ڈھلنے لگا تھا۔ ہمارا پروگرام راستے میں رکنے کا بھی تھا اس لیے واپسی کی تیاری شروع ہو گئی۔

ہم جب بازار سے گزر رہے تھے تو ہر دکاندار نے ہمیں آگے بڑھ کر بڑی محبت سے رخصت کیا اور ہمیں مزید حیرانیاں دیں۔ تمام لوگ بظاہر اپنے کام میں مشغول نظر آتے تھے لیکن جونہی ہم جانے کے لیے جیپ میں سوار ہوئے تو سارا بازار امڈ آیا۔ جب تک ہماری جیپ ان کی نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی، وہ کھڑے رہے۔ مجھے ان کی محبت بھری نظریں بہت دور تک محسوس ہوتی رہیں۔

گرم چشمے کا حسن ہما ری جیپ کے دھوئیں اور گرد میں روپوش ہو گیا تو ہم پہاڑوں کی عجیب وغریب بنا وٹ سے لطف اندوز ہونے لگے۔ دلچسپ باتیں اورایک دوسرے کو مذاق کرتے ہم شوغور پہنچے تو سیدھے مہتر کے قلعے پر جا رکے۔ دو منزلہ قلعہ نیلے رنگ و روغن میں اپنے خوبصورت ماضی کا بد نما حال سے موازنہ کر رہا تھا۔ قلعے کی چوبی چوکھٹیں اور کھڑکیاں دروازے بہت محنت سے نقش و نگار کر کے سجائے گئے تھے۔ تمام لکڑی پر خوبصورت پھول کندہ تھے۔ ایک دروازہ کھول کر ہم اندر گئے تو وہاں ایک باغ کی اجڑی یاد گاراور کچھ مویشی بندھے نظر آئے۔ دیر ہوئی مہتر یہ قلعہ چھوڑ گئے اور ان کے ملازمین نے اپنے معیارِ زندگی کے مطابق اسے تبدیل کر دیا۔ یہ تبدیلی آنکھوں میں کھٹکتی تھی۔

ہم قلعے سے آگے بڑھے اور دریا پر معلق چوبی پل عبور کر کے شوغور گاؤں میں آ گئے۔ یہ ایک سادہ اور کھلاکھلا سا گاؤں تھا، جس کی سڑکوں پر بھی پھول لہرا رہے تھے۔ دریا کے پانی اور گاؤں کے درمیان پھل دار پودے لگائے گئے تھے جبکہ پانی سے لبریزندیوں اوردریا کے کناروںپر بید کے پودے ہوا میں جھوم رہے تھے۔

گاؤں میں کچھ گھر خاصے جدید نقشے پر تعمیر کیے گئے تھے، جس سے اس علاقے میں تعلیم اور نئی روشنی جھلکتی تھی۔ ساری سہ پہر ہم نے شوغور میں گھومتے اور مقامی لوگوں سے ملتے گزاری۔ یہاں کے لوگ بھی چترال شہر کے لوگوں کی طرح سیدھے، سادے اور ملنسار تھے اور ہر طرح کی مدد کے لیے تیار تھے۔ چھوٹے بچے جو ملیشیا کی سیاہ وردی میں ملبوس نظر آتے، چترال کی پہچان ہیں۔ سرخ گالوں اور سنہری بالوں والے یہ بچے ذہین نظر آتے تھے مگر شرارتی نہ تھے۔

ہر بچے کے سر پرعام طور پر کپڑے کی سلی ہوئی سیاہ رنگ کی سادی سی ٹوپی نظر آتی ہے جس پر سامنے کی طرف سرخ رنگ کے کپڑے کا چھوٹا سا چاندسلا ہوتاہے۔ ہم یقیناشوغور سے جلدی نہ نکلتے، لیکن ہم پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ شام چترال کے قلعے کے ساتھ والے باغ میں گزاریں گے لہٰذا ہم نے واپسی کی راہ لی۔

چترال پہنچتے ہی ہم اس باغ میں چلے گئے۔ چترال قلعے کی بیرونی دیوار کے ساتھ گھنے عمر رسیدہ چناروں کی ٹھنڈی چھاؤں اور پاس بہتے دریا کی نم ناک ہواؤں سے اس باغ کو طراوت مل رہی تھی۔ قدرت نے دور تک بچھے گھاس کی دبیز چادر پر سفید پھول کاڑھ دیے تھے۔ پھولوں اور گھاس کی بھینی بھینی خوشبو فردوسِ بریں کی مہک اور نظارہ لیے چترال میں ہماری منتظر تھی۔ ہم ان پھولوں میں گھرے ان کی خوشبو بنے بیٹھے تھے۔

اس باغ میں سیب کے درختوں کی بہتات تھی اور وہیں لمبی دموں والے پرندوں کی خاموش پروازیں اس باغِ ارم کو بہت حسین بنا رہی تھیں۔

اس شام ہم نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہ کی، بس یہ احساس ہوتا رہا کہ ہم اس ماحول میںتحلیل ہو رہے ہیں یا یہ ماحول ہم میں جذب ہو رہا ہے۔

جب رات گہری ہونے لگی تو ہم لوگ وہاں سے اٹھے، اور کھانا کھا کر واپس ہوٹل میں آگئے۔ ہوٹل میں یہ مسئلہ پھر اٹھ کھڑا ہوا کہ کالاش جایا جائے یا اپنے پہلے پروگرام کے مطابق کوغذی جایا جائے۔ صرف زبیر میرے ساتھ تھا کہ کوغذی ہی جایا جائے جبکہ باقی سب لوگ بمبوریت جانے کے لیے زور دے رہے تھے۔ اپنے ساتھیوں کو دلائل سے قائل کیا گیااور کوغذی کا پروگرام فائنل کیا گیا۔ پروگرام پکا ہوا تو گزشتہ رات کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے چائے کا آرڈر دے دیا گیا۔ روایت کے مطابق چائے مزیدار تھی اور شعیب کے کپ کے ساتھ وہی مسئلہ تھا، دو تین گھونٹ کے بعد اس کی چائے پھر ٹھنڈی ہو جاتی تھی، جسے گرم کرنے کے لیے مزید چائے اسے اپنے کپ میں انڈیلنی پڑتی تھی۔

اظہار اس بے ایمانی پر صدائے احتجاج بلند کرتا تھااور ہمارے قہقہے ٹھنڈی چائے کو گرم کرنے کے عمل کو روکنے میں رکاوٹ بن رہے تھے۔

میں صرف شام کے بارے میں سوچ رہا تھا، جب پھولوں میں گھرا ہوا میرا وجود خود بہار بن گیا تھا۔ میرے اطراف خوشبوئیں طواف کر رہی تھیںاور میں دل ہی دل میں شرمندہ ہو رہا تھاکہ میں اس قابل کہاں تھا کہ اس پاکیزہ ماحول میں اپنی سانسیں شامل کروں۔ ۔ ۔ شاید ایسے مواقع اللہ تعالی اپنی مخلوق کو اس لیے عطا کرتے ہیں کہ اٹی لتھڑی مخلوق اپنی تطہیر کر سکے۔ پاکیزگی کی ایک جھلک دیکھ لینے والا غلاظت کا لفظ پڑھ کر ہی بیمار ہو جاتا ہے۔ قدرت نے تضادات اسی لیے اس دنیا میں پھیلا دیے ہیں کہ اچھائی کا انتخاب آسان ہو جائے۔ میرے لیے آئندہ کا لائحہ عمل میری روح نے تیار کیا تھا۔ وہ شام جس کا سرمئی اندھیرا چناروں کی رعنائیوں اور جوانیوں نے ہزاروں پھولوں کی خوشبو میں گوندھا تھااب میرے وجود کا حصہ بن گیا تھا۔ میری روح کی گہرائیاں اس سرمئی اندھیرے نے روشن کر دی تھیں۔ میں ایک عجیب روحانی تجربے سے گزرا تھا اور اسی کے اثر میں تھا کہ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔

پہلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

دوسری قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

تیسری قسط کے لیے اس لنک پہ کلک کریں۔

ساتویں قسط کے لیے اس لنک پہ کلک کریں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: