گرم چشمہ، افغانی پلاؤ اور حیرانیاں (قسط ۵) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زاہد عظیم

0

’’ہاں جی ! اب بتاؤ کون ہے یہ بوب والی۔ ۔ ۔ اور یہ مسئلہ کیسے بنی؟‘‘ میں نے اپنے کمرے میں کچہری لگائی۔ شعیب اور زبیر جیوری کے ممبران بنے اور دونوں پارٹیاں یعنی واجد اور اظہار اپنی اپنی چارپائیوں کے کٹہروں میں موجود تھیں۔

’’مسئلہ یوں ہے زاہد بھائی۔ ۔ ۔ ‘‘ واجد نے اظہار کی بات کاٹی اور بولا،

’’مسئلہ وسئلہ کوئی نہیں، شغل میلے کی بات تھی، اب جانے دیں۔ ‘‘

’’ اب کیوں جانے دیں میری بے عزتی ہوئی ہے، لہٰذا فیصلہ ضروری ہے‘‘۔

اظہار ڈٹا رہا۔

’’ تمہاری کیا بے عزتی ہوئی ہے؟ــ‘‘ میں نے استفسار کیا۔

’’زاہد بھائی دیکھیں۔ ۔ ۔ ‘‘ بات کاٹ کر واجد پھر بولا،

’’یہ توہینِ عدالت ہے می لارڈ۔ عدالت کو بھائی کہہ کر پکارا جا رہا ہے۔ ‘‘

’’ مسٹر اظہار ! عدالت کے وقار کا خیال رکھیں اور بیان بھی جاری رکھیں۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’ تھینک یو می لارڈ!‘‘ اظہار کورنش بجا لایا اور پھر بولا،

’’می لارڈ! جب آپ فوکر میں اپنی تنگ سیٹوں کے معاملے میں پریشان تھے۔ ۔ ۔ ‘‘

’’توہینِ عدالت می لارڈ!۔ ۔ ۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت طیارے میں پریشان تھی۔ ‘‘ واجد نے ٹوکا۔

’’ مسٹر اظہار بیان جاری رکھیں لیکن محتاط طریقے سے۔ ‘‘ میں نے کہا اور اظہار نے بیان جاری رکھا۔

’’۔ ۔ ۔ اُس وقت می لارڈ ! ایک اچھی پڑھی لکھی خاتون میری ساتھ والی سیٹ پر آ بیٹھی۔ مشرقی روایات کے پیشِ نظر میں ذرا سمٹ کر اپنی نشست پر بیٹھا رہا، جبکہ مذکورہ خاتون ایک کتاب کھول کر پڑھنے لگی۔ یہ منظر مسٹرواجد کو ایک آنکھ نہ بھایا بلکہ دو آنکھ نہ بھایا اور انہوں نے اس خاتون سے کہاکہ وہ کسی دوسری سیٹ پر بیٹھ جائیں۔ خاتون نے کہا بھی کہ وہ ٹھیک بیٹھی ہے مگر واجد نے اس خاتون کو یہ کہہ کر وہاں سے اٹھا دیا کہ میرے ساتھ وہ خود بیٹھنا چاہتا ہے۔ جب وہ خاتون پچھلی سیٹ پر چلی گئی تو واجد میرے پاس نہ آنا تھا نہ آیا، بلکہ عدالت کے ساتھ ہی بیٹھا مجھے دیکھتا اور ہنستا رہا۔ ‘‘

’’کیا یہی خاتون بوب والی تھی؟‘‘ زبیر نے پوچھا۔

’’یس می لارڈ ! اس خاتون کا ہئر اسٹائل بوٹ کٹ تھا۔ جب بھی ہم دونوں کوئی بات کرتے یا کرنے لگتے تو واجد مجھے بلا کر متوجہ کرتا، دخل درمعقولات کرتا اور ادھر اُدھر کی ہانک کر وقت ضائع کرتا رہاجبکہ عدالت باہر کا نظارہ کرنے میں مشغول تھی۔ ‘‘

’’اپنا بیان مکمل کریں تاکہ دوسری پارٹی کا مؤقف بھی سنا جا سکے ‘‘ شعیب نے کہا۔

’’ اس طرح کے معاملات کے بعد سیدو شریف میں جہاز لینڈ کر گیا اور وہاں سے ایک جمِ غفیر جہاز میں سوار ہوا تو میرا رابطہ بوب والی سے منقطع ہو گیا۔ آخری کوشش تب ہوئی جب جہاز میں چائے پیش کی جا رہی تھی۔ میں نے چینی کا زائد پیکٹ محترمہ سے مانگا۔ جب وہ پیکٹ اس نے آگے بڑھایا تو واجد نے اُچک لیا۔ پھرائر پورٹ پہنچ کر واجد نے مجھے سامان اکٹھا کرنے پر لگا دیا اور خود اس محترمہ کا پیچھا کرکے پارکنگ تک گیا اور اسکی گاڑی کا نمبر تک حاصل کر لیا۔ اس سارے عمل میں مجھے انسانی ہمدردی کے نام پر نقصان پہنچایا جاتا رہا، لہٰذا میرے اس نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ ‘‘

’’ جی مسٹر واجد! آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہیں گے۔ ‘‘میں نے واجد کا بیان سننے کے لیے رخ اس کی جانب موڑا۔

’’ می لارڈ ! یہ شخص بنیادی طور پر بدھو ہے۔ اسے ان کاموں میں پڑنا ہی نہیں چاہیے۔ پڑے گا تو اسے لِتّر پڑیں گے۔ ‘‘ واجد نے بیان شروع کیا۔

’’دیکھیں می لارڈ ! یہ میری سادگی کو بدھو پن سے تعبیر کر رہا ہے۔ میں ہتکِ عزت کا دعویٰ بھی دائر کروں گا۔ ‘‘اظہار نے واجد کے بیان پر اعتراض کیا۔

’’مسٹر واجد آپ اپنے الفاظ واپس لیں اور اپنا بیان مکمل کریں۔ ‘‘ میں نے تنبیہ کی۔ واجد نے بیان جاری رکھا،

’’می لارڈ میں اپنا بیان ان الفاظ پر ختم کرتا ہوں کہ یہ سب ایک شغل میلا تھا، اگر اس سے مسٹر اظہار کی ’دل اظہاری ‘ یعنی دل آزاری ہوئی ہے تو میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ ‘‘

واجد کے بیان کے بعد جیوری کے ارکان عدالت کی چارپائی پر آگئے اور گفت و شنید شروع کی تاکہ فیصلہ صادر کیا جائے۔

پھر عدالت یعنی میں نے ’’آہم ‘‘ کر کے گلا صاف کیا اور فیصلہ سنایا ـ،

’’اس پورے ٹور میں مدعی یعنی اظہار اپنی فالتو اشیا ٹریکنگ کے دوران مدعا علیہ یعنی واجد سے اٹھوائے گا تاکہ اس کے دکھی دل کو سکون مل سکے اور یہ معاملہ اس ٹور میں اب کبھی زیرِ بحث نہیں لایا جائے گا۔ جرمانے کے طور پر واجد سب کے لیے گرم گرم چائے منگوائے گا اور آئندہ محتاط رہے گاکہ کسی کے ذاتی یا اجتماعی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ ‘‘

اس فیصلے کے فوراً بعد واجد نے اظہار کی کمر پر ایک مکہ رسید کیااور چائے کا آرڈر دینے چلا گیا۔

جب تک چائے آئی ہم اپنی تمام کتابیں اور نقشے بستر پر پھیلائے ’’گرم چشمہ‘‘ کے موسم اور علاقے کے ساتھ ساتھ فاصلے اور وقت کا حساب لگانے لگے۔

’’ میرے خیال میں تو ہمیں کافرستان ہی چلے جانا چاہیے‘‘ شعیب بولا۔

’’یار جو پروگرام گھر سے بنا کر چلے تھے اسی پر عمل ہو گا۔ لوگوں کی باتیں سُن سُن کر پروگرام تبدیل کرتے جانا کوئی عقلمندی نہیں‘‘میں نے اپنے گروپ لیڈر ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکم جاری کردیا اور سب نے بلا چون و چراں بات مان لی۔

جب چائے آئی تو تھکاوٹ اور نیند سے برا حال ہو رہا تھا مگر جیسے ہی ایک گھونٹ حلق سے نیچے اترا، اس نے ہماری آنکھیں کھول دیں۔ محاورے والی نہیں، سچ مچ والی۔ چائے مزیدار تھی اور شعیب نے ایک نرالی ترکیب نکالی۔ جیسے ہی اس کے کپ میں چائے کم ہوتی وہ چائے دانی سے مزید چائے یہ کہہ کر اپنے کپ میں انڈیل لیتا کہ یار میری چائے ٹھنڈی ہو گئی تھی، اسے گرم کرنے کے لیے اور چائے ملائی ہے۔ جب تیسری بار اس نے یہی کام کیا تو زبیر نے شور مچا دیا،

’’ او بھائی تو کس کام لگا ہوا ہے‘‘

’’ اپنی چائے گرم کر رہا تھا‘‘شعیب بولا۔

’’گرم کر رہا تھا یا زیادہ کر رہا تھا !۔ خبر دار جو تم نے اب چینک کو ہاتھ لگایا‘‘ زبیر نے اسکا ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہااور چائے دانی اپنے قبضے میں کرلی۔ شعیب کی کھسیانی ہنسی اظہار کے قہقہوں میں دب گئی۔

’’ جیوری چکر دیتی ہے۔ ‘‘اظہار ہنستا ہوا بولا۔

میں نے اسے منع کیا کہ وہ اب جیوری، عدالت یا پچھلے فیصلے کی باتیں نہ کرے، اور حکم جاری کیاکہ چائے پی کر سب لوگ سو جائیں تاکہ اگلے دن جلدی اٹھا جا سکے۔

واقعی اگلی صبح سب لوگ بہت جلدی بیدار ہو گئے۔ اور ساڑھے سات بجے تک تیار ہو کر بازار میں آگئے تاکہ گرم چشمہ جانے والی کسی سواری کا بندوبست کیا جا سکے۔

کچھ زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کرنی پڑی۔ ایک دو مقامی باشندوں سے پوچھا تو جیپ سٹینڈ تک جا پہنچے۔ وہاں سے گرم چشمہ جانے کے لیے لوگ پبلک جیپ میں سوار ہو رہے تھے۔ معلومات حاصل کی گئیں تو کرایہ مناسب پایا۔ فیصلہ ہوا کی ہم بھی اسی جیپ کے سوار بنیں گے لیکن میرے باقی ساتھی سالم جیپ کے چکر میں تھے۔ میں نے مشورہ دیا کہ بچت ہو تو اچھا ہے۔ واپسی پر شام ہو جائے گی اور اس طرف سے چترال کی جانب شاید ہی کوئی سواری آئے اس لیے وہاں سے آتے ہوئے سالم جیپ کی ضرورت پڑے گی، فی الحال یہ پبلک ٹرانسپورٹ ہی وارا کھائے گی۔ دلیل مان لی گئی اور دوست احباب نے ناشتے کے لیے بھاگ دوڑ شروع کر دی۔

جیپ کی سواریاں پوری ہو چکی تھیں لہٰذا فوری طور پر صرف دودھ کے پیکٹ اور کیک خریدے گئے اور چلتی جیپ میں بھاگ کر سوار ہوا گیا، کیونکہ چترال کی جیپ اور وقت کسی کا انتظار نہیں کرتے۔

جیپ کے اندر بیٹھ کر ناشتا شروع ہوا۔ چند لمحوں بعد جب میری نظر پڑی تو زبیر کو شدید مشکل میں پایا۔ اسکا چہرہ سرخ تھا اور آنکھیں باہر ابلنے کو تھیں۔

’’ کیا ہوا ہے ‘‘ میں نے پریشان ہو کر پوچھا۔

زبیر کے منہ سے آواز نہ نکلی لیکن اسے کھانسی کا شدید دورہ پڑا اور اسکے گلے میں پھنسا کیک اُڑکر باہر آ گیا۔ شعیب نے دودھ کا پیکٹ جلدی سے کھولا اور اسکے منہ سے لگا دیا۔ چند گھونٹ پی کر زبیر کی جان میں جان آئی۔

’’ بہت خشک کیک تھا یار۔ ۔ ۔ گلے میںپھول گیا۔ ۔ ۔ میری تو سانس ہی رک گئی تھی۔ ‘‘ زبیر ہوش میں آ کر بولا۔

’’دفع کرو جی اس’ گل گھوٹو ‘ کیک کو‘‘ اظہار نے ہاتھ میں پکڑے آدھ کھائے کیک کو جیپ سے باہر پھینکتے ہوئے کہا۔

جیپ کی سواریاں اس صورت ِحال کو دیکھ کر آپس میں باتیں کر نے لگیں۔ اور ہم کیک کا ملک شیک پیتے رہے۔ ۔ ۔ مِلک ہمارے ہاتھ میں تھا اور شیک ہمیں جیپ کر رہی تھی۔

’’ یہ تو ہم ائر پورٹ کی طرف ہی جا رہے ہیں۔ ‘‘زبیر نے راستہ پہچانتے ہوئے کہا۔

’’یہ سڑک ہی گرم چشمہ جاتی ہے۔ تم بے پکر رہو۔ ‘‘ ایک مقا می سوار زبیر کو حوصلہ دیتے ہوئے بولا۔

کچھ دیر میں ہم ائر پورٹ کو پیچھے چھوڑکر دریا کے دائیں کنارے پر سفر کرتے ہوئے گرم چشمہ کی طرف رواں دواں تھے۔

یہ دریا اپنے کالے پانی کی وجہ سے حسین نظر نہیں آتا لیکن جس مقام سے ہم گزر رہے تھے وہ خاصا حسین تھا۔ یہ دو دریاؤں، دریائے مستوج اور دریائے لٹکوہ کا سنگم تھا۔ ہم دریائے لٹکوہ کے کنارے سفر کر رہے تھے۔ دائیں طرف سے بہت زیادہ پانی لے کر آنے والا دریا، مستوج تھا۔ دریائے لٹکوہ، چترال کی تحصیل لٹکوہ میں سے ندی نالوں کا پانی اکٹھا کرکے چترال کے مضافا ت میں پہنچتا ہے تو دریائے مستوج اپنا پانی اس کے حوالے کر تا ہے۔ چترال میں سے گزرتے ہوئے اسے دریائے چترال کا پانی بھی ملتا ہے۔ لیکن اس کی شناخت اس کی دھرتی کے حوالے سے ہے۔ کیونکہ مقامی لوگ اسے’’ دریائے کنڑ ‘‘کے نام سے پہچانتے ہیں۔

کچھ دیر کے سفر کے بعد ہم لٹکوہ کی تحصیل میں داخل ہو گئے۔ اس سے پہلے ہمارا سفر چترال کی تحصیل میں ہی جاری تھا۔ راستہ کبھی دریا کے ساتھ ساتھ چلتا، کبھی اس کے پہلو سے لپٹ جاتا اور کبھی ناراض ہو کر ایک دم دور ہٹ جاتا۔

سڑک نام کی کسی چیز کا کوئی وجود ہی نہ تھا، بس ایک گزر گاہ سی تھی۔ ۔ ۔ سرکش پانیوں اور سرکش مشینوں یعنی جیپوں کی۔ لگتا تھا پہاڑ اپنی مستقل مزاجی کی وجہ سے اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔ پانی اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آئے گا۔ ۔ ۔ انھی پتھروں سے سر پٹختا، چلتا رہے گا، اور جیپ کا پہیہ، حالات سے سمجھوتا کیے بغیر، نت نئے راستے بدلتا یونہی گھومتا رہے گا۔

پہیہ یوں بھی گھومنے کے لیے ہی بنا ہے۔ ہمیشہ سے گھومتا رہا ہے۔ تب سے، جب معمارِقوم جناح نے اپنے بوڑھے ہاتھوں کی جوانی سے ان ریاستوں کے والیوں کوالحاق کے خطوط لکھے۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب انگریز نے اپنی اس سلطنت کو جہاں سورج کبھی نہیں ڈوبتا تھا، گرم پانیوں تک رسائی کی خواہاں سرخ فوج سے بچانے کے لیے اپنے کارندوں کو ان وادیوں میں درّوں کی نشاندہی کے لیے بھیجا۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب بہادر ٹیپو نے گیدڑ کی سو سالہ زندگی پر اپنی شیر جیسی ایک دن کی زندگی کو ترجیح دی۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب ایک جستجو بھری روح کے مالک بابر نے اپنے باپ کی زمین کو آخری بار حسرت سے دیکھ کر برِ صغیر کا رخ کیا۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب ابھرتے سورج کی سر زمین دیکھنے کے آرزو مند مارکوپولو نے اپنے بیمار قافلے سے الگ ہو کر کشمیر دیکھنے کی ٹھانی۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب ایبک نے مسلم سلطنت کی بنیاد رکھی۔ ۔ ۔ وہی بنیاد جس کا دکھ اس علاقے کے برہمن اب تک نہیں بھلا پائے کہ سکوتِ ڈھاکا پر اندرا کے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے ’’آج ہم نے اپنی ہزار سالہ شکست کا بدلہ لے لیا ہے۔ ‘‘۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب پرتھوی راج کی طاقت کا غرور اس کے سو بیٹوں سمیت غوری کے ہاتھوں مٹی میں مل گیا۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب غزنوی نے بت فروش کے بجائے بت شکن کہلانا پسند کیا۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب نو عمر عرب سپہ سالار محمد بن قاسم کے بڑھتے ہوئے قدم اس کے اپنوں نے روکے۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب سفید ہنوں نے گندھارا تہذیب کے آخری چراغ بجھا دیے۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب وسط ایشیا ئی کشانوں نے شاہراہ ِریشم کی کمائی سے اپنی سلطنت کو وسعت دی۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب پارتھین اور ایرانی قبائلی ساکاؤں کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی کہ وہ ان علاقوں میں طویل قیام کر سکیں۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب اشوکِ اعظم نے روا داری کے درس چٹانوں پر کندہ کروائے۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب سکندر ایک عظیم فاتح بن کر آیا لیکن ایک عظیم حاکم نہ بن سکا۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب دارا کے تاج کی کرنیں اس علاقے پر چمکیں۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب آریاؤں کے آخری گروہ ان علاقوں میں اترے۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب دریائے سندھ کے کاروباری روابط دجلہ و فرات کے دوآبے کے باسیوں سے استوار ہوئے۔ ۔ ۔ اس سے پہلے جب دراوڑوں نے دریائے سندھ کے کنارے ایسی تہذیب پروان چڑھائی جسے ترقی یافتہ ادوار نے دیکھا تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ دراوڑوں نے جو گھر بنائے اور جو شہر بسائے انہیں دیکھ کر شہریت اور شہری منصوبہ بندی کے ماہرین انگشتِ بدنداں ہیں۔ ان لوگوں نے جو برتن گھروں میں استعمال کیے وہ بھی عجوبۂ روزگار ہیں۔ ا ن برتنوں کو بنانے کے لیے بھی چاک اور پہیے کا تصّور ابھرتا ہے اور پہیہ ہو تو وہ گھومتا ہے۔ پہیے نے صدیوں کا سفر کیا ہے اوراب صدیاں اسی پہیے پر سفر کرکے ہم تک پہنچ رہی ہیں۔ اب ہر مشین میں یہ پہیہ کسی نہ کسی طور پر ضرور موجود ہے اور نت نئے کام کر رہا ہے، مگر گھوم کر۔ پہیہ گھومتا رہنا چاہیے، جہاں ہے اور جو کام کر رہا ہے وہ ہوتے رہنے میں ہی ترقی اور بقا ہے۔

لیکن ادھر ایک پہیہ گھومتے گھومتے رک گیا تھا۔ کسی سرکش اور منہ زور پتھر نے ہماری جیپ کے ایک پہیے کے کلیجے پر ہاتھ ڈال دیا تھا، ٹائر سینے پر ہاتھ رکھے ایک دم بیٹھ گیا تھا۔

 

پہلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

دوسری قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

تیسری قسط کے لیے اس لنک پہ کلک کریں۔

چھٹی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: