کالاش: افغانستان آزادم ۔ کھانا فری یم (قسط ۳) —- زاہد عظیم

0

چترال کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی اظہار نے ایک نعرہ ٔ مستانا بلند کیا، گویا اسے چترال کی منہ دکھائی ہی بھا گئی تھی۔ سطح سمندر سے تقریباََ پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع اس شہر کے موسم اور نظارے نے دل موہ لیا تھا۔

ـ’’ ایسی وادی کے لیے ایسا ہی سفر ہونا چاہئے تھا‘‘۔ اظہار سامان کندھے پر لادے لاؤنج سے باہر آتے ہوئے بولا۔

’’ گرسنا ہے بنکاک کی بات ہی کچھ اور ہے!‘‘ شعیب اسے تنگ کر رہا تھا۔

’’ او گولی مارو یار غیر کی جگہ کو۔ ۔ ۔ یہ تو اپنا دیس ہے نا۔ ۔ ۔ معلوم ہی نہ تھا، اس میں ایسے ایسے خوبصورت خطے چھپے ہوئے ہیں۔ ۔ ۔ اور وہ بھی برفوں کے پیچھے۔‘‘ اظہار کی توقعات کے بر عکس، یہ وادی زیادہ ہی خوبصورت نظر آ رہی تھی۔

یہ توقعات بھی انسان کو کہیں کا نہیں رہنے دیتیں۔ دوسروں سے توقعات وابستہ کر کے ہم دراصل باہمی تعلقات کو ختم کرنے کی ابتدا کر دیتے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان تب ہوتا ہے جب ہم اپنے آپ سے زیادہ توقع کر تے ہیں اور ناکامی کی صورت میں قدرت کو ذمہ دار ٹھہرانے لگتے ہیں۔ گویا پیاس بجھانے کے لیے پانی پینے کے بجائے گھٹنے پر مرہم ملنے لگتے ہیں۔ کھسیانی بلی کھمباہی نوچا کرتی ہے۔ بعض اوقات ہم کھسیانی بلی سے بھی نچلے درجے تک چلے جاتے ہیں، کیونکہ ہم کھسیانے ہونا پسندنہیں کرتے اور حقیقت سے آنکھیں چراتے ہیں۔ اپنی توقع کو موردِالزام نہیں ٹھہراتے کہ یوں الزام اپنے ہی سر آتا ہے۔

ائر پورٹ سے نکل کر ہم نے اپنا سامان ایک جیپ میں رکھا اور خود شکاریوں کی طرح جیپ میں کھڑے ہو گئے۔ جیپ کے جھٹکوں کے ساتھ ہمارا بھی ’’جھٹکا ‘‘ ہو رہاتھا۔ چترال شہر، ائرپورٹ سے ذرا دوری پر واقع ہے اس لیے ہم مضافاتی علاقے کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ہمارے ساتھ ساتھ دریائے چترال کا پانی بھی اٹھلاتا،گاتا اور گنگناتا چترال شہر کی طرف رواںدواں تھا اس کے ساتھ ہم بھی اٹھلا اور گا رہے تھے۔

باغوں اور بہاروں میں اٹھلاتا گاتا آیا کوئی

دائیں بائیں اونچے اونچے چٹیل پہاڑ وں کی دیواریں تھیں جن پر چھت کے طور پر آسمان رکھ دیا گیا تھا۔ اسی آسمانی کمرے میں دریا بھی بہ رہا تھا اور ہماری جیپ بھی مٹی اڑاتی جاتی تھی

چترال کی وادی تقریباََسوا تین سو کلو میٹر طویل ہے۔ چترال شہرسے ۸۸کلو میٹرپر ایک طرف درہ لواری ہے جو دس ہزارتین سو فٹ بلند ہے اوردوسری طرف درہ شندور ۱۵۰کلومیٹر کی دوری پر ہے جو بارہ ہزار تین سو فٹ کی بلندی پر ہے۔ دونوں درے ہی اس وادی کے داخلی دروازے ہیں۔ سردیوں کی برفباری کی وجہ سے یہ راستے بند ہو جاتے ہیں، اس طرح یہ وادی باقی ملک سے چھے ماہ تک کٹی رہتی ہے۔

’’ کس ہوٹل میں ٹھہرے گا صاب۔ ‘‘ جیپ کے ڈرائیور نے پوچھا۔

’’ کسی بھی مناسب سے ہوٹل میں لے چلو۔ ‘‘میں نے جواب دیا۔

میرے جواب کے بعد جیپ کے ڈرائیور نے ایک درد ناک انداز میں چترال میں پینے کے لیے صاف پانی نہ ہونے، اورجو پانی میسّر ہے اسکے کالے سیاہ ہونے کا ایسا نقشہ کھینچا کہ لگا چترال میں ہر نل سے تارکول ہی بہتی ہے۔

’’لگتا ہے ہم کالے پانیوں کی سزا کاٹنے لائے گئے ہیں۔ ‘‘ زبیر متفکّر تھا۔

ہمارے چہروں پر خوف دیکھ کر ڈرائیور نے ایک بے نیازانہ سی مسکراہٹ ہماری طرف اچھالی۔

’’گھبرائیں نہ صاب !۔ ایک ہوٹل ہے اچھا۔ ۔ ۔ مکھن ہے اسکا پانی۔ ۔ ۔ بالکل صاف۔ ۔ ۔ دودھ کے جیسا۔ ‘‘وہ کہنے لگا۔

’’یار تم زیا دہ ڈرائو نہ۔ بس لے چلو جہاں لے جانا ہے۔ ‘‘ شعیب نے نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کہا۔

جب ہماری جیپ’ چترال ٹورسٹ کاٹج‘ کے صحن میں رکی تو اس بات کی خوشی ہوئی کہ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے یہ ہوٹل ہی ہمارے لیے مناسب تھا۔ اس کے ایک طرف چترال کا قلعہ اور شاہی مسجد تھی اور دوسری طرف بازار تھا۔ سب سے اچھی بات یہ تھی کہ کوہ ہندو کش کی سب سے بلند چوٹی’ ترچ میر‘ پس منظر میں نظر آتی تھی۔

ترچ میر۔ ۔ ۔ پچیس ہزار فٹ سے بھی بلندایک برفانی اہرام۔ ۔ ۔ ایک سفید سوچ کی زندہ حقیقت کا نام۔ ترچ میر۔ ۔ ۔ جہاں کوہ قاف کی نازک اندام پریاں،سیر کرنے آتی ہیں تو کئی بے چین ظالم دیو، ان خوبصورت الہڑ جوانیوں کو قید کر لینے کے لیے، اس چوٹی پر منتظر بیٹھے رہتے ہیں۔

جتنے دن ہم اس ہوٹل میں رہے، ترچ میر ہمارے پڑوس میں رہی۔

کمروں میں سامان رکھ کر اور منہ ہاتھ دھو کر ہم سب لوگ شاہی مسجد دیکھنے چل دیے جو چند قدم کے فاصلے پر تھی۔ مسجدمیں سنگِ مرمر اور سنگِ سرخ کے ساتھ سفید پتھر اور چونے کا استعمال کیا گیا تھا۔ طرزِ تعمیر مغلیہ نظر آئی اور گنبدوں کی خوبصورتی دیکھ کر حیرت ہوئی کہ بڑی بڑی تعمیراتی گیلریوں سے اتنی دوریہ خوبصورت شاہکار کیسے معرضِ وجود میں آ گیا۔

صحن کے ایک طرف بر آمدوں کی لمبی قطار تھی جس میں شاہی خاندان اور ماضی کی چند اہم شخصیات کے مزار تھے جبکہ صحن کے ایک کونے میں مہتر شجاع الملک کا خوبصورت منقّش مزار، آنے والوں کو فاتحہ پڑھنے پر مجبور کرتا تھا۔ انہوں نے یہ مسجد ۱۹۲۴ میں بنوائی تھی۔

مسجد کے ساتھ ہی چترال کا قلعہ،تناور چناروں کی گھنی چھاؤں میں اونگھ رہا تھا۔ یہ قلعہ اب بھی مہترِ چترال اور ان کے خاندان کے زیرِ استعمال تھا۔

قلعے کی دیوار کے ساتھ ساتھ ایک سڑک چند موڑ مڑ کر ’ پامیر اِن‘ تک جاتی تھی۔ تین چار سو میٹر لمبی یہ سڑک،چناروں کی چھاؤں میں یوں سستا رہی تھی جیسے برسوں کی مشقّت کے بعد ابھی دو گھڑی کو لیٹی ہو۔ سڑک کے ایک پہلو میںتاریخ، قلعے کے روپ میں کھڑی ہمیں مطالعے کی دعوت دیتی تھی تو دوسرے پہلو میںپھولوں سے لدا باغ،خوشبو میں لپٹا ہمیں ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھتا تھا۔

کتنی صدیوں نے یہ منظر دیکھے ہوں گے۔ تبتی لشکر نے جب چترال پر آٹھویں صدی عیسوی میں حملہ کیا تو اس نے بھی اس وادی کے سحر کو محسوس کیا ہو گا۔ پھر چینی فوج اور بدھ مت کے ماننے والوں نے اس وادی کو اپنی پناہ گاہ سمجھتے ہوئے نویں اور دسویں صدی کے اتصال پر یہاں کچھ دیر حکمرانی کی۔

شاہ ناصر رئیس چودھویں صدی میں چترال کو ایک آزاد اور مضبوط ریاست بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور رئیس خاندان ایک صدی تک یہاں کے حاکم رہتے ہیں۔

۱۵۷۰ میں کٹور خاندان کی حکمرانی کا آغار ہوتا ہے اور وہ ایک مضبوط حکمران خاندان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ چترال کے مشہور حکمران امان الملک ۱۸۵۷ میں اس خطے کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں تو اس کی حدود پنیال، اشکومن، دیر اوراسمار تک بڑھ جاتی ہیں۔ اس دور میں کسی راجے مہاراجے کو چترال پر حملہ کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ ان کی وفات ۱۸۹۲ میں ہوئی جس کے بعد خاندان میں تخت کے حصول کے لیے سازشوں اور جنگوں کا دور شروع ہوا۔

اسی دور میں انگریز، افغانستان سے جنگ کے بعد چترال میں ایک پر امن مضبوط ریاست کا خواہاں تھا تاکہ روس اس رستے سے حملہ آوار نہ ہو سکے۔ اس وقت ڈیورنڈ لائین کا منصوبہ بھی شروع ہو چکا تھا۔ انگریز نے امان الملک کے چھوٹے بیٹے شجاع الملک کو سپورٹ کرنا شروع کیا تو مخالف دھڑوں نے ۱۸۹۵میں چترال قلعے کا محاصرہ کر لیا جسے انگریزوں نے ختم کرایااور شجاع الملک کو مہتر بنایا۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ۱۸۹۲ سے ۱۸۹۵ کا یہ دور سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اورحقیقی شطرنج کے ایک دلچسپ کھیل کی مانند ہے۔ اس دور کی تاریخ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

مہترشجاع الملک نے ۱۸۹۵ سے ۱۹۳۶ تک حکومت کی۔ اس دوران میں انگریز کا عمل دخل اس علاقے میں نظر آتا ہے لیکن ۱۹۴۷ میں جب انگریز بر صغیر سے رخصت ہوا تو چترال کی وادی ایک بارپھر آزاد ریاست کے طور پر نظر آتی ہے۔ ۱۹۶۹ میں اس ریاست نے پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا۔

’’ وہ سامنے پولو گراؤنڈ آگیا ہے۔ ‘‘ واجد نے اعلان کیا۔

ہوٹل کے مالک نے ہمیں چلتے و قت بتایا تھا کہ پولو گراؤنڈ میں چترال کی بہترین ٹیموں کے درمیان میچ اسی شام کو ہونا تھا اور یہ کیسے ممکن تھا کہ ہم وہ میچ نہ دیکھتے۔

بازار میں سے پوچھتے پچھاتے، جب ہم پولو گراؤنڈ پہنچے تو دیکھا کہ صحت مند اور توانا چنار پہلے ہی سے گراؤنڈ میں پہنچ چکے تھے اور سارے گراؤنڈ کے گرد اونچی جگہوں پر قطار بنائے کھیل شروع ہونے کے منتظر تھے۔ ہم بھی بادشاہوں کے اس کھیل کو دیکھنے کے لیے مؤدب کھڑے ہو گئے کیونکہ بیٹھنے کی تمام جگہوں پر چترال بھر کے لوگ بہت پہلے آباد ہو چکے تھے۔

اس کھیل میں سوار اور گھوڑے کی ذہنی مطابقت اور ہم آہنگی دیکھنے کے لائق ہوتی ہے اور ہم نے جی بھر کر دیکھی۔ اس کھیل کی ایک اور خاص بات وہ مقامی ساز تھے جنکی آواز گھوڑے، کھلاڑی اور تماشائیوں کے خون کو گرماتی تھی۔ جیسے جیسے کھیل میں تیزی آتی تھی،ویسے ویسے سازوں کی آواز بھی بلند ہوتی جاتی تھی۔ ڈھول، نوبت اور سرنائی کی آواز یں ہمیں اپنے ماحول سمیت صدیوں پیچھے لے گئیں۔

میں نے محسوس کیا کہ میں بادشاہوں کے اس کھیل کو رعایا کے ایک فرد کی حیثیت سے دیکھ رہا ہوں۔ گھوڑے کے سُم زمین سے ٹکراتے تو دھمک اپنے دل پر محسوس ہوتی۔ ۔ ۔ تب احساس ہوا کہ گھوڑوں کے سُموں کی قسم کیوں کھائی گئی ہے۔

’’ زاہد بھائی چی جی کھانی ہے۔ ‘‘ اظہار میری توجہ ایک ایسے بابے کی طرف مبذول کرانے لگا جو ایک بڑے سے دیگچے میںکچھ ڈھانپ کر بیٹھا تھااور لوگ اس سے وہ چیزلے کر کھا رہے تھے۔

’’ اگر چی جی ہے تو کھانے میں کیا حرج ہے۔ ‘‘ میں نے کہا اور سب کی ڈھیر ساری سوالیہ نگاہیں ساتھ لے کر اس بابے کے پاس پہنچ گیا۔

جب ڈھکن اٹھا تو بھاپ میں چھپے ہوئے کچّے سے سموسے نظر آئے جو شاید میدے سے ہی بنے تھے اور ان میں کوئی سبزی وغیرہ بھری ہوئی تھی۔ برتن میں سے کچّی پکّی سی مہک آرہی تھی۔ علاقے کی سوغات سمجھ کر اسے کھانا چاہا اور صرف چکھنے پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ یہ کسی چائنیز ڈش کی کوئی بہت ابتدائی سی شکل تھی، جسے مقامی لوگ رغبت سے کھا رہے تھے۔ اس خوراک کے معاملے میںفی الحال ہمارا ٹیسٹ ڈیویلپ نہیں ہوا تھا۔

اس تجربے سے فیض یاب ہو کر جب ہم واپس کھیل کی طرف لوٹے تو اظہار کو غائب پایا۔
’’اظہار کہاں دفع ہو گیا ہے۔ ‘‘ واجد متلاشی نظروں سے ادھر اُدھر دیکھ کر بولا۔

’’ میں اُدھر گھوڑوں کی طرف دفع ہو گیا تھا۔ ــ‘‘ اظہار پاس آتے ہوئے بولا۔ تو واجد کچھ کھسیانا سا ہو گیا اور اس پہلے پتھر کے بعد ان دونوں میں کچھ ٹھن سی گئی اور وہ ایک دوسرے کی’’خاطر تواضع‘‘ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔ اس سلسلے کی سب سے خوبصورت قسط سکردو میں چلی۔ اُس باب میں آپ اس خصوصی تحریر سے یقینا لطف اندوز ہوں گے۔

’’یار تم بتا کر تو جایا کرو۔ ‘‘ زبیر بولا۔
’’اگر کہیں گواچ شواچ گئے تو ہم ٹوٹل کہاں سے پورا کریں گے؟!‘‘واجد نے بات بڑھائی۔
’’ تم چپ کرو اوئے !۔ ۔ ٹوٹل۔ ۔ !،تمہارے پلّے ہے کیا جو تم ٹوٹل پورا کرو گے؟‘‘ اظہار واجد پر برس رہا تھا۔
’’ تمہیں ہو کیا گیا ہے، جو ایک دوسرے کے سر ہو گئے ہو؟!‘‘ میں نے مداخلت کی۔
’’ آپ بیچ میں نہ آئیں زاہد بھائی۔ ‘‘ اظہار شائستگی سے بولا۔
’’ بیچ میں کیوں نہ آئیں !، سب کو بتاؤکہ تمہیں تکلیف اس بوب کٹ والی کی ہے۔ ‘‘ واجد اب خالص محلے دارانہ طریقے سے راز افشا کر رہا تھا۔
’’ تمہیں ویسے ہی لچ تلنے کی عادت ہے۔ ‘‘اظہار شرمندگی چھپاتے ہوئے بولا۔
اس معرفت کی لڑائی میں ہم سب ہونقوں کی طرح ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے۔ شعیب اس بھِیڑ میں ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ وہ شاید اس بوب کٹ والی کو ڈھونڈ رہا تھا جس کے نام پر یہ لڑائی لڑی جا رہی تھی۔
’’وہ تمہارے چٹّے جھاٹے کو دیکھ کر تم سے کنی کترا رہی تھی۔ ‘‘ اظہار واجدکے سفید بالوں کو چھیڑ کر بولا۔
’’ اور اپنی ٹنڈ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے !۔ ۔ ۔ اس سے تو اس کے دل میں محبت جاگی ہو گی !۔ ۔ ۔ ہے نا!‘‘ واجد اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لا کر میدان میں اتر آیا تھا۔ اظہار بھی کم نہیں تھا۔ کہنے لگا،
’’ اوئے بال جھڑ جانا تو ذہین ہونے کی نشانی ہے۔ ۔ ۔ چاہے ایک ہی بال سر پر ہو۔ ۔ ۔ مگر کالا ہو۔ تمہاری طرح دھوپ میں سر رکھ کر سفید کرنا صرف وہی لوگ افورڈ کرتے ہیں جنہیں سر کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اس میں ہوتا جو کچھ نہیں!‘‘۔
’’بوب والی ہے کہاں؟۔ یہاں تو نظر نہیں آرہی۔ ‘‘شعیب نے پوچھا۔
’’وہ تو ائر پورٹ پر رہ گئی۔ ‘‘ واجد بولا۔
’’ زاہد بھائی ! وہ میرے ساتھ والی سیٹ پر تھی نا۔ ۔ ۔ آپ نے دیکھی ہو گی۔ ‘‘اظہار سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھنے لگا۔
’’اچھا! تو اس محترمہ کی وجہ سے یہ لڑائی چھڑی ہے۔ ‘‘ میں نے کہا۔
’’بالکل وہی اس فساد کی جڑ ہے۔ میں نے اس کی گاڑی کا نمبر بھی نوٹ کر لیا ہے۔ ‘‘ واجد نے رنگ کے پتّے پھینکنے شروع کر دیے تھے۔ اظہار کا چہرہ یکدم بجھ گیا۔ وہ صلح پرآمادہ نظر آرہا تھا۔
’’ کیا نمبر تھا اس کی گاڑی کا؟‘‘وہ واجد سے درخواست کر رہا تھا۔

’’بھئیہ قصہ کسی رات کو کمرے میں زیرِبحث لائیں گے، ابھی صرف پولو اور چترال کی شام کی بات ہو گی۔ ‘‘ میں نے فیصلہ سنا دیا۔ دونوں فوجیں پسپا ہو گئیں اور ہم سب کھیل کے آخری لمحات میں تھکے ہوئے گھوڑوں اورسواروں کی جادوگری میں کھو گئے۔

’’آپ پنجاب سے آئے ہیں؟‘‘ ایک غیر مانوس سی آواز مجھ سے مخاطب ہوئی۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک صاحب نظروںمیں دوستی کی آمادگی لیے اتنے قریب کھڑے تھے کہ ناآشنا بھی’’ آشنا ‘‘ قرار پا جائے۔ اور یہ آشنائی طوالت کھینچ ہی گئی،کیونکہ موصوف ایک یونیورسٹی کے پروفیسر تھے اور ہماری طرح سیاحت کے شوق میں اپنے ڈیپارٹمنٹ کے طلبا کو کالاش کا میلہ دکھانے لائے تھے۔

’’ میں ہر سال آتا ہوں۔ اور سیدھا بمبوریت چلا جاتا ہوں۔ ‘‘ پروفیسر صاحب بولے۔

’’آپ کب جائیں گے؟‘‘ انہوں نے ہم سے پوچھا۔

’’ابھی کچھ دن ہم چترال کے آس پاس کی سیاحت کریں گے‘‘ میں نے جواب دیا۔

’’ یہاں رہ کر وقت ضائع نہ کریں۔ کالاش چلیں وہاں کا موسم اور ماحول بہت سے وقت کا تقاضا کرتا ہے۔ ‘‘ وہ بولے۔

’’ لیکن ابھی تو میلا شروع ہونے میں تین دن باقی ہیں۔ ‘‘ میں نے انہیں مطلع کرنا چاہا۔

دوسری قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: