ٹَک پِل ———علی عمر عمیر

0

پنجابی میں بنٹے اور کنچے، سرائیکی میں گولیاں اور ماٹے۔۔ ادھر سرائیکی میں جسے “پِل” کہا جاتا ہے پنجابی میں کیا خبر اسے کیا کہتے ہیں لیکن محلے میں جتنے پشتو بچے ہوتے تھے، وہ پِل ہی کہا کرتے تھے۔ میدانی علاقہ تھا، اس لیے زمین سیدھی ہوتی تھی۔ بے ہنگم تعمیرات کا کوئی چکر نہیں تھا۔ بڑے بڑے صحن، اتنے بڑے کہ ان میں “گیند بلا” کھیلا جا سکتا تھا۔ گیند بلے کے باقاعدہ اصول طے تھے۔ بال اڑتی ہوئی دیوار کو جا لگی تو چھکا، رِڑھتی ہوئی دیوار کو لگی تو چوکا، بائیں طرف والی دیوار سے پار گئی تو دُکّی، پیچھے والی رُوڑھی میں چلی گئی تو کچھ نہیں ہو گا۔

اتنے بڑے گھر، اتنے بڑے صحن اور گھر سے باہر نکلو تو سامنے ایک بہت بڑا “میدان” ہوتا تھا۔ تب لفظ “پلاٹ” کا تصور نہیں ہوتا تھا۔ میدان میں باندر کِلّا اور قیدی قیدی کھیلا جاتا تھا۔ گھروں میں “گِیٹی ڈنڈا'(گُلی ڈنڈا) کھیلنے کی اجازت نہیں تھی۔ گیٹیاں گھروں میں سِیپ سیتی بیبیوں کو جا لگتی تھیں اور وہ اپنے پاس رکھ لیتی تِھیں، پھر کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ ان سے جا کر گِیٹی لے سکے۔ اس لیے بالکے، بالڑے گیٹی ڈنڈا بھی میدان ہی میں کھیلا کرتے۔

گھروں میں پِل بنانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ مائیں، چاچیاں، دادیاں پِل بنانے پر خوب خبر لیا کرتِیں۔ “نامراد سورا! ویڑھے دا ہنڑ پولا ڈِتے” (نامراد، خنزیر! صحن کی ابھی لپائی کی ہے)۔ کبھی کبھی ڈوہی (ڈوئی) سے دو چار ضربیں بھی لگا دیتی تِھیں۔ یوں ہم اس نسل میں سے ہیں جنہوں نے طنزاً نہیں حقیقتاً ڈوئیوں کا مزہ چکھا ہے۔

جب ویڑھے میں پِل بنانے پر اچھی خاصی درگت بن جاتی تو ہم منہ سُجائے سامنے والے میدان میں چلے جاتے۔ میدان میں جاتے ہی پھولے ہوئے بوتھے، کِھل کِھل سیدھے ہو جاتے۔ ساری مار کٹائی بھول بھول جاتی اور ہم ایک لکڑی کی نوک سے میدان کے سینے پر دو اڑھائی انچ کا چھوٹا سا گڑھا کھود دیتے تھے۔ یہی ہماری پِل ہوتی تھی۔

ایک روپے کی آٹھ گولیاں ملتی تِھیں، اور دو روپے کے چار ماٹے ملتے تھے۔ پھر جوا لگا کرتا تھا۔ جسے گولیاں لگانا کہا جاتا تھا۔ اٹّھ(8) گولیاں، ڈاہ(10) گولیاں، ویہہ(20) گولیاں۔۔ یعنی ایک ہی گیم میں روپے ڈیڑھ روپے کا نقصان یا نفع حاصل ہوتا تھا۔ ہم تب ایک ایک گولی لگایا کرتے تھے، اس سے زیادہ نہ ہم نقصان کے متحمل تھے، نہ نفع کے۔

دو تین طرح کی گیمیں ہوتی تھیں۔ ایک میں کھڑے ہو کر چھے آٹھ گولیاں پِل کی طرف پھینکی جاتِیں۔ جتنی گولیاں پِل میں چلی گئیں وہ پھینکنے والے کی۔ باقی گولیوں پر ٹَک کا حساب ہوتا تھا۔ ایک معینہ فاصلے سے گولیوں کا نشانہ باندھا جاتا اور ماٹا مارا جاتا۔ اگر ماٹا کسی گولی کو لگ جاتا تو یہ ٹَک ہوتا تھا۔ ہر ٹَک پہ ٹک والی گولی مارنے والے کو مل جاتی اور اس طرح یہ گیم چلا کرتی تھی۔

دوسرا طریقہ بیٹھ کر دائیں ہاتھ کی درمیان والی انگلی کی پور پر ماٹا رکھ کر بائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی اور انگوٹھے سے ماٹے کو قابو کیا جاتا اور انگلی کو کھینچ کر چھوڑا جاتا تو ماٹا بڑی رفتار سے دور پڑی گولی کو جا لگتا۔ یہی ٹَک پِل تھی۔۔

ہم نے کئی گولیوں کو ماٹے کی چوٹ سے ٹوٹتا دیکھا تھا۔ ہر گولی کے ساتھ ایک دل ٹوٹتا تھا، اور چار پانچ دل خوش ہوتے تھے۔ پھر وہ گولی تو نہیں جڑتی تھی، مگر وہ ایک دل جُڑ جایا کرتا تھا۔ اب بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ کتنی ہی چوٹیں ایک دل توڑ جاتی ہیں اور کتنے ہی دل خوش ہو جاتے ہیں۔ پھر بچپن کی نسبت دیر سے ہی سہی، لیکن دل رفتہ رفتہ جُڑ جاتا اور اگلی چوٹ کے لیے تیاری شروع کر دیتا ہے۔ سانسیں چلتی رہتی ہیں، عمر گزرتی رہتی ہے، حیاتی نبڑتی رہتی ہے اور آخر ہم بچپن، نواجوانی، جوانی اور بڑھاپے کی سرحدیں عبور کر جاتے ہیں۔۔۔

(Visited 44 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: