کالاش: چترال کی فلائیٹ اور سیدو شریف کے دودھی (قسط ۲) ۔۔۔۔۔۔ زاہد عظیم

0

پرواز کی روانگی کے کچھ دیر بعدایک بڑی سی جھیل نظر آنے لگی۔ یہ تربیلا ڈیم کی جھیل تھی۔ ایک بہت بڑے نیلے فرش پر دھوپ اور چھاؤں بے خودی میں کھیل رہی تھیں۔جھیل کا ایک سرا کشادہ اور دوسرا تنگ تھا۔اس تنگ حصے سے دائیں طرف دریائے سندھ کا مٹیالا پانی دکھائی دیتا تھا۔دریائے سندھ کی لمبی ٹہنی کے سرے پر کھلا ہوا ڈیم کی جھیل کا نیلا پھول شاید قدرت نے انسانی محنت کے صلے میں عطا کیا تھا۔

دریائے سندھ تنگ گھاٹیوں میں کندھے کے رخ چلتا، کروٹ لے کے رینگتا، جیسے ہی کشادہ وادی میںپہنچا تو پاؤں پسارے لیٹ گیا۔ اس کے بعد اسے پہلوانوں کی طرح چوڑا ہو کر چلنے سے کوئی نہیں روکے گا۔

دریاؤں کا فلسفہ بھی نرالا ہے۔ سمندر کے بخارات ہوا کی باتوں میں آ کرجب پہاڑوں کی طرف سفر شروع کرتے ہیں تو ابھی ان میں مشاہدے کا فقدان ہوتا ہے۔ جب قطرے کی عمر کو پہنچتے ہیں تو ہوا کی انگلی چھوڑ کر یہ بخارات کسی پہاڑی سلسلے پر جا اترتے ہیں۔ سردی کی سرد مہری انہیں برفوں میں بدلتی ہے،لیکن خوابوں کو ہمیشہ صبح کی کرنیں جھنجوڑ دیتی ہیں اور تعبیر کا دروازہ عمل کی تحویل میں چلا جاتا ہے۔گرمیاں ان برفوں کے خوابیدہ جذبوں کو جگاتی ہیں۔ نئی دنیائیں دریافت کرنے کے لیے جب ڈھلوانوں پر سفر شروع ہوتا ہے تو کھو جانے کے خوف سے قدم چھوٹے اور آہستہ اٹھتے ہیں۔جب معلوم ہوا کہ کئی اطراف سے ایسے ہی ہمجولی چلے آرہے ہیں تو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے، ندی نالے کا روپ دھارے، تیزی سے آگے بڑھے۔ اس طرح کے بھی کئی گروہ راستے میں ملتے چلے گئے توحوصلہ اور بڑھا۔ قافلہ بھی بڑا ہو گیا، شوروغوغا ہوا،شرارتیں سوجھیں، پاس کھڑے درختوں اور پودوں پر چھینٹے اڑائے، موڑ پر کسی چٹان کو کہنی مار کر دوسری طرف مڑ گئے،کسی کی نہ سنی، اتنا شور مچایا کہ وادیاںرات بھر سو نہ سکیں۔دریا کہلائے اور راستے میں آنے والے پتھروں اور چٹانوں سے راستے چھینتے ہوئے میدانوں پر چڑھ دوڑے۔ میدانوں میں پہنچے تو حیران ہوئے۔ زمین کے دامن میں اتنی وسعت اور اپنائیت دیکھی تو شرمسار ہوئے۔ زبان بند کرلی، سر جھکائے چلتے گئے مگر یہی سوچ ستاتی رہی کہ میدانی زمین کا ظرف انہیں کیوں میسر نہ ہوا۔زمین، اپنے وجود میں سب کو حصہ دار بنا لیتی ہے۔ یہ سوچ کر اپنی ذات کی بھی نفی کی۔ اپنے وجود میں دوسروں کو حصہ دار بنایا اورندیوں کی بانہیں پیار سے پھیلا دیں۔ انگلیاں کھالوں کی صورت کھیتوں کے دروازوں تک ہریالی لے گئے،باقی زندگی میں یہی افسوس رہا کہ نو عمری میں کئی دل دُکھائے ہیںان کا ازالہ کیسے ہوگا؟ ہو گا بھی یا نہیں؟۔ آخر کار سمندر میں مل کر ابدی زندگی کا راز پا لیا۔لیکن ہوا کی باتوں میں پھر آجانا بخارات کی مجبوری ہے کہ بوڑھ کی جگہ بوڑھ ہی اُگتا ہے

’’ خواتین و حضرات ہم کچھ دیر میں سیدو شریف ائر پورٹ پر اترنے والے ہیں، جہاں کا درجہ حرارت اکیس ڈگری سینٹی گریڈہیـ‘‘۔ گل کی آواز تقریباً دس ہزار فٹ کی بلندی پر جلترنگ بجا رہی تھی اور اسے ہم دل کے کانوں سے سن رہے تھے۔ اس بلندی پر ہمارے دل کے تار بجے بار بار۔

جہاز آہستہ آہستہ اپنے پہیے کھول رہا تھا جیسے ڈر رہا ہو کہ وادی کو پتا نہ چلے کہ میں یہاں اس ُپر سکون ماحول میں مخل ہونے والا ہوں۔

نیچے وادیِ سوا ت کی زرخیز مٹی، پودوں اور درختوں کو سبز کپڑے پہنائے اس انتظار میں تھی کہ کب دھوپ اسے سونا دے اور وہ اس سے گہنے بنا کر پودوں کو پہنائے۔ مئی کا مہینہ چل رہا تھا۔ پیڑوں کے کانوں میں پھلوں کی آویزے لٹکنے میں ابھی ڈیڑھ مہینہ باقی تھا۔

دریائے سوات کے پہلو سے لگا سیدو شریف کا ہوائی اڈا گلاب کے پھولوں سے بھرا ہوا تھا اوروہاں ہر رنگ کی کثرت تھی۔رن وے ہاتھوں میں پھول لیے ہماری راہ تک رہی تھی۔ ائرپورٹ کی عمارت کو پھولوں نے یوں گھیررکھا تھا جیسے عید پر کسی بڑے کو بچوں نے عیدی لینے کے لیے گھیرے میں لیا ہو۔

جہاز آہستہ آہستہ زمین کے قریب ہونے لگا۔ہریالی اب درختوں اور پودوں کی شکل میں واضح ہو رہی تھی۔جہاز نے رن وے کو چھوا تو اظہار کی ’’شکلـ‘ـ‘ ایک مسکراتے چہرے میں بدل گئی۔

جہاز رک گیا تو گل کی آواز پھر سنائی دی،

’’ خواتین و حضرات، چترال کا موسم خراب ہو رہا ہے لہٰذا جہاز چند لمحوں میں ٹیک آف کر جائے گا۔اپنی سیٹ بیلٹ مت کھولیں۔ صرف سیدو شریف کے مسافر اپنی نشستوں سے اٹھیں۔ باقی مسافر اپنی نشستوں پر ہی تشریف رکھیں۔شکریہ‘‘۔

’’اب نظر بھی آ جاؤ ورڈز ورتھ کی دا ککو ‘‘۔ ’ورڈزورتھ‘ اور’ دا ککو‘ پر زور دیتے ہوئے اظہار اس سپیکر سے مخاطب تھا، جہاں سے اناؤنسمنٹ کی آواز آ ئی تھی۔

سیدو کی سواریاں اتریں، کچھ لوگ سوار ہوئے، لیکن یہ ’’کچھ ‘‘ بھی بہت کچھ تھے۔ اپنا سامان، گٹھڑیاں، برتن اور دیگچے سیٹوںکے درمیان راہ داری میں پھینکتے، ٹھوکریں کھاتے وہ لوگ یوں سوار ہو رہے تھے جیسے مرید کے سے لاہور جانے والی بس پر لوگ سوار ہوتے ہیں۔

زبیر پریشانی کے عالم میں یہ افراتفری دیکھ رہا تھا۔آخر اس سے رہا نہ گیا۔ کہنے لگا، ’’کمال ہے یار ! مجھے معلوم نہیں تھا کہ سیدو سے جہاز میں دودھی چڑھ آئیں گے۔‘‘
اظہار ایک نئے سوارہونے والے سے کہہ رہا تھا،
’’ ایک آدھ بکری بھی لاد لینی تھی۔‘‘
سوار نے سنی ان سنی کی اور اپنی سیٹ پر چلا گیا۔

تھوڑی دیر کی افرا تفری کے بعد جہاز پھر رن وے پر دوڑ رہا تھا۔ کھڑکی سے ائر پورٹ کی عمارت اور گلاب کے تختے نظر آرہے تھے۔ بچوں کو ابھی تک عیدی نہیں ملی تھی۔

فوکر فضا میں بلند ہوا تو کوہ ہندو کش کے برف پوش پہاڑ قریب آنے لگے۔ لواری ٹاپ پہنچنے سے قبل ہی ہر طرف ایک سی بلندی کی چوٹیاں برف کی سفید چادر اوڑھے، ٹانگیں اکٹھی کیے لیٹی نظر آئیں۔ ٹاپ پر پہنچے تو ایک جیسی کوہان نما بہت سی چوٹیوں کو اپنے قدموں کے نیچے دیکھ کر لگا کہ جہاز کے نیچے ہر طرف سفید بلبلے تیر رہے ہیں۔ مجھے بیکریوں میں پڑی انڈوں کی ٹرے یاد آنے لگی۔

جہاز کے اندر بھی ہر سوار کے سامنے ناشتے سے سجی ایک ایک ٹرے رکھی جا رہی تھی۔
واجد نے ائر ہوسٹس کا ’’تنقیدی جائزہ ‘‘ لیتے ہوئے آہستہ سے کہا،
’’ شکر ہے یہ خاتون دھپ دھپ مارکا نہیں۔‘‘
اور وہ خاتون جو دھپ دھپ مارکا نہیں تھی وہ یقیناً گل تھی اور وہ چائے بناتی اور سب کے کپڑوں پر گراتی، ہم مسافروں کی ’’ خاطر ‘‘ کر رہی تھی۔
ــ’’ چائے دانی کو کپ سے لگا کر چائے ڈالیں، پھر نہ تو چائے ٹھنڈی ہو گی اور نہ ہی گرے گی۔‘‘ میں نے اپنا کپ آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
محترمہ نے اپنا رخ دوسری نشست کی جانب موڑا اور’’ اپنے طریقے‘‘ سے مسافروں کی’’ تواضع‘‘ جاری رکھی۔

میں اپنا سا کپ لے کر رہ گیا، منہ کی خبر آس پاس والوں کو ہوئی ہو گی۔اس پر طرہ یہ کہ خشک کیک اور سینڈوچ کا ناشتہ حلق میں حلقہ بناکر میری جان ہلکان کرنے لگا۔ مجھے پینے کو کچھ چاہئیے تھا، حالانکہ ـ’مجھے پینے کا شوق نہیں‘۔مجھے اپنے حلق میں اٹکے نوالے کو تر کرنا تھا۔ لیکن حکومتوں کے علاوہ پی آئی اے کسی کے لیے ’’ترنوالہ‘‘ نہیں۔

’’ لیجیے گرم گرم چائے پیجیے ‘‘ گل نے مسکراتے ہو ئے کہا۔
’’ اب تو غصہ پی رہا ہوں،اور کچھ تھا جو نہیں پینے کو۔‘‘ میں نے جواب دیا اور کھانسنے لگا۔ گل نے میرے ہاتھ میں پکڑا خشک سا سینڈوچ دیکھا تو معاملہ سمجھ گئی۔
’’سوری ! میں تو آپ کی بات سن کر آپ کے لیے گرم چائے لینے چلی گئی تھی۔مجھے افسوس ہے۔‘‘ وہ شرمندہ ہو رہی تھی۔


’’ افسوس تو ہوتا اگر آپ کچھ دیر اور نہ آتیں۔ اس پرواز میں ہی روح پرواز کر جاتی۔‘‘میں نے کہا۔
’’آپ باتیں بڑی اچھی کرتے ہیں۔‘‘گل نے متاثر ہوتے ہوئے کہا۔
اظہار کے ہاتھ میں میری شاعری کی کتاب ـ’دھوپ دریچہ‘ تھی اس نے کتاب گل کی طرف کتاب بڑھاتے ہوئے کہا،
’’موصوف شاعرہیں نا اسی لیے لفاظی کر رہے ہیں۔‘‘
کتاب دیکھ کر وہ بہت مرعوب ہوئی اور اسے ہاتھ میں لیے پچھلی نشستوں کی طرف چلی گئی۔ واجد نے اسکے ہاتھ سے چائے دانی پکڑنے کا شرف پہلے ہی حاصل کر لیا تھا، اس لیے ہم چائے کے معاملے میں خود کفیل ہو چکے تھے۔
گل ایک دبلی پتلی اور گوری چٹی دراز قد لڑکی تھی جس کے چلنے کا انداز بہت شاہانہ تھا۔ اسکی چال دیکھ کر اقبال بانو کی گائی ہوئی غزل کانوں میں گونجی،
تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے
اور وہ گوری تھم تھم کے چلتی ہوئی پھر آ وارد ہوئی۔
’’آپ تو ٹھیک ٹھاک نظر آتے ہیں، شاعر تو پاگل سے ہوتے ہیں‘‘
اس کے چہرے پر معصومیت میں بھیگی حیرت کا پر تو تھا۔
’’ابھی کوئی ایساملا نہیں جو پاگل کر دے‘‘میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
گل کے چہرے پر شفق پھوٹی۔یوں لگا جیسے دوسروں پر چائے گرانے والے ہاتھوں نے خود پر گُلال گرا لیا ہو۔
’’یہ کتاب مجھے مل سکتی ہے؟ ‘‘گل نے درخواست کی۔
اس کی آنکھوں میں خواہشوں کے دیپ جل رہے تھے جن کی تاب میں بیتابی جھلکتی تھی۔
’’آپ نے مانگی بھی تو صرف کتاب!۔۔۔‘‘ میں نے کہا۔
اس کی آنکھوں کے دیپ جیسے ہوا کی زد میں آگئے۔ لویں تھر تھرانے لگیں۔
اسے اپنے جذبات چھپانے کا ہنر نہیں آتا تھا۔

’’میں اس پر کچھ لکھ کر آپ کی نذر کرتا ہوں۔‘‘
میں نے قلم سنبھالا اور فی البدیہہ ایک نظم لکھی اور اسے کتاب کے شروع کے خالی ورق پر لکھ کر گل کو پیش کر دی۔

دل اب سہما سا رہتا ہے
سوچ میں زہریں گھُل جائیں گی
تجھ کو بھی معلوم نہیں تھا
مجھ کو بھی معلوم نہیں ہے
راہیں کیسے مل پائیں گی
میری راہیں دھرتی پر ہیں
تیری راہیں نیل گگن میں دور جہاں بادل ہو تے ہیں
پیار افق سے اُڑتے اُڑتے میرے دل میں آن بسی ہو
اتنا کہہ کر چل نہ دینا شاعر تو پاگل ہو تے ہیں

گل میرے سامنے کھڑی یہ نظم پڑھ رہی تھی اور اس کے دل کی اضطرابی کیفیت اس کے چہرے سے عیاں تھی۔نظم پڑھ کر اس نے کتاب بند کی، چند ثانیے سر جھکائے کھڑی رہی پھر میری آنکھوں میں یوں دیکھنے لگی جیسے ایک جواب ِ نظم اپنی نظروں سے میرے دل کے ورق پر تحریر کررہی ہو۔

’’اناؤنسمنٹ کر دیں مس گل۔‘‘ اسٹیوارڈ کی آواز آئی
’’ مس فٹ گائے۔۔۔‘‘ اظہار نے نا پسندیدگی سے کہا۔
گل جلدی سے فوکر کے عقبی حصے کی طرف چل دی، جہاں مائیک لگا ہوا تھا۔

بعد میں اسی پرواز کے پس منظر میں میں نے ٹی۔وی۔کے لیے ایک لانگ پلے ــ’’کھیل نہیں ہے‘‘ لکھا تھا اور گل ہی سے کہا تھا کہ وہ اس میں ائر ہوسٹس کا کردار ادا کرے، لیکن اسے اپنی مصروفیات سے وقت نہ مل سکا اور ہمیں ڈرامہ آن ائر بھیجنا تھا۔وقت آڑے آ گیا۔ وقت جب بھی آڑے آتا ہے، کوئی حقیقی ڈرامہ وجود میں آجاتا ہے۔حیرتیں منہ کھولے اپنے سوالوں کا جواب تلاش کرتی رہ جاتی ہیں، مگر ہر چہرہ سپاٹ ہوتا ہے، ہر زبان گنگ اور ہر ورق سادہ۔ موسٰی کو تو خضر سے جواب مل گئے تھے مگر بہت سوں کو صرف ’’جواب‘‘ ہی ملتا ہے۔

چترال ائر پورٹ پر ہمارے فوکر کے اترنے کا اعلان ہو رہا تھا۔گل کی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوتی تھی۔ آواز کا جادوجو سر چڑھ کر بول رہا تھا اپنے فرائض کے آگے سر جھکائے کھڑا تھا۔احساسات کی منہ زور گھٹا برس کر طوفان برپا کرنے کو تھی کہ حکم کی تیز ہوا نے اسے محض دودِچراغِ محفل بننے پر مجبور کر دیا۔ دل کی دھڑکنیں قید میں ہوں تو جذبات کو بھی بیڑیاں پہننی پڑتی ہیں۔ احکامات اور فرائض فاتح ٹھہرے،جذبات اور احساسات ہار گئے۔ بعد کے واقعات کسی داستان سے کم نہیں۔ شاید یہ داستان ’گل‘ کی زبانی آپ تک پہنچے یا ’بلبل ‘ کی۔

فوکر کے پہیے رن وے کو چھو نے کے لیے بے چین تھے۔ہم چترال پہنچ چکے تھے اورجہاز کے بالکل سامنے سفید برفانی دیوار کے پیچھے سے کوہ ہندو کش کی سب سے بلند چوٹی ’’ترچ میر‘‘ ایڑیاں اٹھائے اپنے مہمانوں کی راہ تک رہی تھی۔

چن ماہیا تیری راہ پئی تکنی آں

پہلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

تیسری قسط کے لیے اس لنک پہ کلک کریں

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: