کالاش: چترال کی فلائیٹ اور سیدو شریف کے دودھی (قسط ۱) —- زاہد عظیم

0

اسلام آباد ائر پورٹ کے لاؤنج میں اس دن پانچ جوڑے جاگرز، پانچ جینز، پانچ ٹی شرٹس اور رے بین کی پانچ عینکیں ایک قطار میں ٹہل رہی تھیں۔ آگے ایک سفید، اجلا اور اکڑا ہوا کاٹن کا سوٹ امامت کر رہا تھا۔ سب عینکوں کا رخ لاؤنج کی دیوار کے اس حصے پر تھا جہاں پروازوں کے آنے اور جانے کی اطلاع ایک بڑے خود کار بورڈ پر لمحہ بلمحہ تبدیل ہو رہی تھی۔ ابھی ابھی چترال کی پرواز نمبر ۶۴۰ تیسری قطار سے دوسری میں اچھلی تھی۔ سب نے خوشی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ صرف عینکیں چار ہوئیں، آنکھیں چار نہ ہوئیں وہ تاریک شیشوں کے پیچھے چھپی تھیں لہٰذا تاریکی سے دو چار ہوئیں۔ ـ

ــ’’یار بنکاک ائیر پورٹ کی اپنی ہی بات ہے۔ ہر طرف۔ ۔ ۔ ‘‘

’’جوُت پھیرو اسے ! اگر یہ اب بنکاک یا سنگا پور کا نام لے۔ ‘‘ شعیب غصے میں بولا تو اظہار بیچارا بنکاک کی تعریف کرنے کایہ چوتھا موقع بھی ضائع کر گیا تھا۔

اظہار متلاشی روح کا حامل ایک بے قرار شخص ہے۔ میرے چھوٹے بھائی واجد عظیم مرحوم کا کلاس فیلو تھا۔ دنیا دیکھنے کے شوق میں مجھ سے دوستی ہوئی۔ اسکے بھائی امریکا میں اپنا کاروبار کرتے ہیں لیکن یہ اپنے والدین کی دیکھ بھال کے لیے پاکستان میں رہتا ہے۔ اسکا اپنے بھائیوں سے معاہدہ تھا کہ وہ سال میں ایک دو بار اسے دنیا کی سیاحت پر ضروربھیجا کریں گے۔

پہلی بار تھائی لینڈ، سنگاپور اور ہانگ کانگ گیا اور آج تک بار بار وہیں جا رہا تھا۔ وہاں کون سی ایسی چیز تھی جو اسے باقی دنیا گھومنے سے روکتی تھی، اس کا جواب آپکو بعد کے صفحات میں مل جائے گا

اس بار ہمارا چترال کا پروگرام بنا تو شعیب نے اظہار کو بھی ساتھ چلنے پر آمادہ کر لیا، حالانکہ وہ پھر بنکاک کا ٹکٹ کٹائے بیٹھا تھا اور اب چترال روانگی سے قبل بنکاک کو یاد کرتا تھا اور ٹھنڈی آہیں بھرتا تھا۔

شعیب میرا محلے دار، لنگوٹیا اور ٹاٹ فیلو ہے۔ کچی پکی جماعت سے ایف ایس ای تک ہم اکٹھے پڑھے ہیں۔ بی ایس سی میں، میں لاہور چلا آیا تو میری ملاقات واجد یٰسین سے ہوئی۔ وہ مجھ سے ایک سال سینئر تھا لیکن اس نے ہوسٹل اور کالج میں میرا بہت ساتھ دیا اور یوں ہماری دوستی مضبوط ہوتی چلی گئی۔ سونے پر سہاگا یہ کہ ہم ایک ہی شہر اور ایک ہی محکمے میں اپنے پراجیکٹس کر رہے تھے۔

چترال ٹیم میں ہمارا پانچواں ساتھی شعیب کا بڑا بھائی زبیر تھا۔ پی ایس او میں نوکری کرنے اور سیر سپاٹے کے سوا زبیر نے تیسرے کسی کام میں آج تک دلچسپی نہیں لی کیونکہ سیاحت کا شوق امر بیل کی طرح باقی دلچسپیوں کو ختم کر دیتا ہے۔ جس تن لاگے سو تن جانے۔

کاٹن کے سفید سوٹ میں ملبوس ذوالفقار صاحب ہیں، جنہیں ہم زلفی بھائی کہتے ہیں۔ وہ شعیب اور زبیر کے بہنوئی ہیں لیکن دوستی اس رشتے پر غالب ہے۔ اُن دنوں زلفی بھائی کی جہلم میں پوسٹنگ تھی اور وہ ہم دوستوں کو الوداع کہنے اسلام آباد ائر پورٹ تک آئے تھے۔

زلفی بھائی کے جہلم میں ہونے کا ہم سیاحوں نے خوب بلکہ بے تحاشا فائدہ اٹھایا اور انکے گھر کو ’ ٹرانزٹ کیمپ‘ کے طور پر جی بھر کے استعمال کیا۔ اس بار شعیب، زبیر اور اظہار ایک دن پہلے ہی رینالا خورد سے انکے ہاں پہنچ گئے تھے اور اس صبح انہیں ائرپورٹ پہنچانے کا فریضہ زلفی بھائی ہی سر انجام دے رہے تھے۔ میں اور واجد اپنی نوکر یوں کے ہاتھوں پہلے ہی سے اسلام آباد میں موجود تھے لہٰذا ہم’’ گھر سے گھرتک‘‘ ہی محدود رہے۔

شعیب کے مشورے کے مطابق سب کو جینز اور ٹی شرٹس پہننا تھیں کیونکہ ۹۲ ؁ کی مئی کا دوسرا ہفتہ تھا جس میں ہم نے گرمیوں کو خوش آمدید کہنا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اس لباس میں تکلف بر طرف ہوتا ہے اور ہم سر بازار ناچنے جارہے تھے۔ جینز میں چونکہ سونے، جاگنے، گھومنے، پھرنے اور تیار ہونے میں وقت ضائع نہیں ہوتا اس لیے ہم سب لوگ وقت ضائع کیے بغیر ائر پورٹ پہنچ گئے تھے اور چترال کی فلائیٹ کی اطلاع کی د وسری قطار سے پہلی میں چھلانگ کے منتظر تھے۔

’’تم نے تو اظہار کی بکری بٹھا دی ہے۔ کچھ بولتا ہی نہیں۔ ‘‘ زبیر شرارت سے بولا۔
’’اگر چترال خوبصورت نہ نکلا تو پھر دیکھنا!۔ ۔ ۔ اپنے خرچے کی پائی پائی وصول کروں گا اور پھر تمہارے سر چڑھ کر بنکاک جاؤں گا۔ ‘‘
’’سر چڑھ کر نہیں جہاز پر چڑھ کر چلے جانا۔ ‘‘ اظہار کے جواب میں زبیر نے جملہ کسا۔ اظہار نے سنی ان سنی کی اور پاس سے گزرتی ہوئی ائیر ہوسٹسز کو دیکھتا رہا۔
’’میں اپنے چترال جانے کے فیصلے سے خوش نہیں۔ ‘‘ وہ دھپ دھپ کرتی فضائی میزبانوں کوگھورتے ہوئے بولا۔
ــ’’انہیں تو ریٹائر کر دینا چاہیے۔ ‘‘ شعیب بولا۔
’’ان کااس سے بہتر استعمال ہے میری نظر میں۔ ‘‘ اظہار کی آنکھوں میں شرارت تھی۔
’’کیا؟‘‘ واجد بولا۔
’’انہیں لاہور سٹیشن کے باہر ریڑھی پر یخنی بیچنے والوں کو دے دینا چاہیے۔ دس دن پتیلے پر الٹی لٹکی رہیں گی تو مجھے سکون ملے گاــ۔ ‘‘ اظہار بولا۔
’’ویسے گوشت گلانے کو ڈھیر سارا پپیتا مل جائے تو چپل کباب بھی ٹھیک ہی رہیں گے۔ ‘‘ زبیر بھی دور جاتی ائر ہوسٹسوں کو کڑاہی میں تل رہا تھا۔
’’ائوے اتنا ماٹھا ٹیسٹ سمجھا ہے ہمارا۔ ‘‘ واجد بولا۔

’’چلو بھئ تمہاری فلائیٹ تیار ہے۔ ‘‘ زلفی بھائی نے اطلاع دی تو ہم سب انہیں اللہ حافظ کہہ کر اس طرح لاؤنج میں دوڑے تھے جس طرح الفلاح سینما لاہور میں ـ’سپائی ہو لوڈ می‘ کی ٹکٹیں لے کردوڑے تھے۔ وہ واقعہ پھر کبھی سناؤں گا۔ فی الحال یہ بتا دوں کہ ہم کالاش کافرستان میں بہار کا تہوار ’چلم جوشت‘ دیکھنے جا رہے تھے۔ ’’کافرستان ‘‘کبھی ہمارے لیے ایک خواب تھا، آج اس خواب کو تعبیر مل رہی تھی اور ہم چترال جانے کے لیے تیار بیٹھے تھے، جہاں سے کافرستان یعنی ’’ کالاش ‘‘ دو چار ہاتھ دور تھا۔

اپنے بورڈنگ کارڈز لیے ہم ویٹنگ روم میں جس جگہ بیٹھے تھے وہاں سے رن وے پر کھڑے جہاز نظر آ رہے تھے۔ سب سے پرے ایک جمبو ۷۴۷، اس کے ساتھ بوئنگ ۷۳۷اور اس کے قریب ہی ایک فوکر فرینڈشپ طیارہ ماں باپ کے ساتھ اکلوتے بچے کی طرح کھڑا تھا اور یہی بچہ ہم بڑوں کو اپنی آغوش میں لیے اڑان بھرنے والا تھا۔

ویٹنگ روم سے کوچ میں بیٹھ کر بلکہ کھڑے ہو کر جب ہم فوکر کے پاس اترے تو اظہار طیارے کی طرف جانے کے بجائے لاؤنج کی طرف چل دیا۔

’’ اوئے تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘ شعیب نے پوچھا۔ اظہار نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا’’ یہ چھوٹی سی نا چیز مشین ہمیں لے کر کیا خاک اڑے گی!؟‘‘
’’خاک ہی اڑے گی۔ جب جہاز اڑتا ہے تو خاک ہی اڑتی ہے‘‘ واجد اسے چھیڑتے ہوئے بولا۔

فوکر کو دیکھ کر دل تو میرا بھی دہل گیا تھا لیکن میں ذرا بہادر بن کر خاموشی سے حالات کے دھارے میں بہ رہا تھا لیکن قوم بیدار ہو چکی تھی۔ مجھے لگا اظہار کہہ تو ٹھیک ہی رہا تھا کیونکہ پاس کھڑے جمبو کے سامنے فوکر واقعی ایک بے حقیقت سی مشین تھی۔

واجد اور زبیر نے کھینچ تان کر اظہار کو طیارے میں دھکیلا۔ جب میں سوار ہوا تو دیکھا واجد ایک سیٹ میں بہت مشکل سے بیٹھا ہواتھا۔ میں اس کے پاس گیا تو وہ بولا،
ـ’’ ہتھ ہو گیا جے اپنے نال۔ ‘‘
’’ہوا کیا ہے ؟‘‘ میں نے پوچھا۔

ـ’’اس جہازکی سیٹیں تو لاہور سرگودھا چلنے والی بیڈفورڈ سے بھی تنگ ہیں‘‘ وہ سیٹوں میں پھنسا بیٹھا تھا۔

میرے پاس سے ایک اسٹوورڈ گزرا تو میں نے اسے کہا کہ وہ ہمیں ’ایف‘ قطار میں بٹھا دے کیونکہ ایمرجنسی گیٹ کی وجہ سے وہاں سیٹوں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہوتاہے۔ وہ بچاراہمارے قد کاٹھ دیکھ کر مسئلہ سمجھ گیااور ہمیں ہماری مرضی کی سیٹیں مل گئیں۔ مگر ایک نقصان ہواکہ اس کھڑکی سے باہر دیکھنے پر جہاز کا پر اور انجن نظر آرہا تھا جو کہ باہر کے مناظر کو خوباں کے پاسبان کی طرح اندر آنے سے روکتا تھا۔ بقول غالبؔ

گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئے
اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے

جیسے ہی جہاز کی سیڑھی الگ ہوئی، فوکر کی شان میں گستاخی والے تمام نازیبا کلمات یاد آنے لگے۔ لہٰذا فورا ً فوکر سے معذرت کی گئی اور اسے داد دی گئی کہ وہ چھوٹا ہونے کے باوجود اتنا خطرناک سفر ہر روز بار بار کرتا ہے۔ پھر فوکر کو تھپکی دی گئی کہ اس کا حوصلہ بلند ہو اور وہ خود بھی ہوا میں بلند ہو۔

جہاز کے کیپٹن نے سلام دعا کے بعد اپنا تعارف کرایا اور کچھ ہدایات دیں پھر ائرہوسٹس کی نازک سی آواز گونجی،

’’اسلام علیکم خواتین و حضرات! آپکی میزبان’ گل‘ آپکو فلائیٹ۶۴۰ کے عملے کی طرف سے خوش آمدید کہتی ہے۔ ہم تین ہزار پانچ سو میٹر کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے انشا اللہ تیس منٹ میں سیدو شریف پہنچیں گے۔ اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے اور سگریٹ بجھا دیجیے۔ شکریہ۔ ‘‘اسکے بعد گل نے سفر کی دعا پڑھی۔ وہ دعا اتنی خوبصورتی سے پڑھی گئی کہ لگا ہم واقعی ہر حادثے سے محفوظ ہو گئے ہیں۔

اس کے بعد فوکر آہستہ آہستہ چلا اور جمبو کے منہ کے نیچے سے رن وے کے طرف مڑا تو لگا کوئی شرارتی بچہ ماں سے نظر بچا کر دبے پاؤں باہر کھیلنے جا رہا ہے۔ رن وے کے شروع میں جا کر جہاز رکااور کھڑے کھڑے اپنے انجنوں کو پورے زور سے چلایا۔ سارا جہاز کانپنے لگا۔

’’ یہ تو اپنے انجن شنجن یہیں گرا بیٹھے گا ‘‘ زبیر بولا۔ ’’کپٹن خواہ مخواہ بچارے کی چانگریں نکال رہا ہے۔ ‘‘ اظہار نے میری طرف دیکھا اسکی آنکھوں میں خوف اور پچھتاوا تھا۔

’’ پتہ نہیں گل کہاں چلی گئی ہے۔ حوصلہ ہی دے دیتی‘‘ واجد بولا۔

’’ حوصلہ نہیں گالیاں دے گی تیری کوہجی شکل دیکھ کر‘‘ اظہار نے جواب دیا اور پھر گل کے انداز میں بولنے لگا،

’’ خواتین و حضرات آپ بڑے باندر کے بچے ہیں جو میرا نام اپنی زبان پر لا رہے ہیں۔ ایسا کرنے والے کو حوالہ پولیس کیا جائے گا۔ شکریہ۔ ‘‘

جب جہاز رن وے پر دوڑا تو ہمیں بچپن میں اپنا دوڑنا یاد آ گیا، جب چھپ کر، باغ میں سے مالٹے توڑنے جاتے، اور مالی کے آنے پر دوڑتے تھے، ادھر اُدھردیکھے بغیر، اپنی استطاعت سے بڑھ کر۔

فضا نے دیکھا ایک چھوٹا سا بچہ اپنے بازو پھیلائے اسکی طرف دوڑتا چلا آتا ہے تو اسنے پیار سے اس کے بازؤں کے نیچے ہوا کے دو ہاتھ دے دیے اور اسے اپنی گود میں اٹھا لیا۔ فوکر ہوا میں بلند ہو چکا تھا۔

مارگلہ کی پہاڑ یوں سے پرے خانپور ڈیم کے نیلے کینوس پر ہوا کا برش لہریں پینٹ کر رہا تھا۔ جب فوکر مزید بلند ہوا تو دائیں جانب گلیات کے جنگلات کی کالی چھائوں نظر آنے لگی۔ ذرا دوری پر کاغان کی وادی، ماتھے پر ہاتھ کا چھجا بنائے آسمان میں ہمارا فوکر دیکھتی تھی۔ تیز دھوپ میں اسکی آنکھیں نیم وا تھیں۔ یہ وہی وادی تھی جہاں ایک شام، جھیل دودی پت سر کی ہزاروں مچھلیوں نے ہمیں اپنا رقص دکھایا تھا۔ اس وادی کے بارے میں آپ دوسری تحریر میں پڑھیں گے، فی الحال ہمارا فوکر چترال کی طرف محو ِ پرواز تھا۔

دوسری قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: