فلم سنسر بورڈ ——- محمد مدثر احمد

0

میں فلم سنسر بورڈ کے وائس چیئرمین کے طو رپر فرائض ادا کر چُکا ہوں۔ یہ ایک دلچسپ ذمّہ داری تھی۔ بہت کچھ سیکھنے کو مِلا۔ مُلکی اور غیر ملکی بشمول مقامی زبانوں والی فلموں کو سنسر کیا۔ فلم سنسر بورڈ کا دفتر اسلام آباد میں واقع ہے۔ ان دنوں یہ انفارمیشن منسٹری کے ماتحت کام کر رہا ہے۔ چیئرمین اور وائس چیئرمین کے علاوہ یہ سرکاری اور غیر سرکاری بورڈ کے ممبران پر مشتمل ایک قومی ادارہ ہے۔

مجھے پاکستانی فلموں کی کسی بات نے متاثر نہیں کیا۔ ہماری فلموں میں جو بنیادی نقائص پائے جاتے ہیں اُن میں سرمایہ کا فقدان، نیم خواندہ کم اہلیت رکھنے والے ہدایت کار اور اداکار کے ساتھ ساتھ جدید تکنیکی سہولتوں کی کمی بھی شامل ہے۔ اداکاری یا ہدایت کاری کی باقاعدہ تربیت گاہ نہیں ہے۔ ہمارے فلم ساز اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ تماشائیوں کی اکثریت ان پڑھ اور یہ طبقہ کوئی اعلیٰ ادبی، جمالیاتی یا شاعرانہ ذوق نہیں رکھتا ہے۔ رومانوی جذبات کی نوعیت سطحی طور پر نمائش پسند اور معیاری لطافت سے عاری ہے۔ تفریح کے ساتھ ادب، اخلاقیات یا مقصدیت غیر ضروری تصورات سمجھے جاتے ہیں۔ ہمارا تخلیق کار فلم کے سرمایہ کار کے زیرِ اثر نئے خیال، تجربات اور رجحانات سے غیر مشروط طو رپر دستبردار ہو چکا ہے۔

اس کے برعکس اگر ہم ہمسایہ ملک کی فلموں پر نظر ڈالیں تو سرمایہ کی فراوانی، جدید آلات کی مدد سے بہتر منظرکشی، مضامین میں تنوع اور تجربات کے علاوہ اس صنعت کے لوگوں کا اعلیٰ علمی اور ادبی معیار بھی نظر آتا ہے۔ خالص پیشہ وارانہ فلموں کے ساتھ Propoganda movies بھی بنائی جاتی ہیں۔ ان میں عام طور پر معیار میں سمجھوتہ دیکھنے کو ملتا ہے لیکن اس کی Commercial Value بہر طور برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان فلموں سے ہمارے مُلک کے بارے میں منفی تاثر اُبھارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب تو چین کو بھی ہدف بنایا جا رہا ہے۔ خاص فارمولہ فلموں یا کمرشل فلموں میں ہلک پُھلکے انداز میں چائنہ کی مصنوعات پر پھبتی کسی جاتی ہے۔

فلم سنسر بورڈ کے فرائض میں شامل ہے کہ ملکی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ دوست ممالک کے وقار اور مفاد کو بھی حساس معاملہ سمجھے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے میں مغربی فلم ساز کسی رعایت سے کام نہیں لیتے۔ ہمارے جوہری ہتھیاروں کی سیکورٹی پر بھی فکر مند نظر آتے ہیں۔ پاکستان کو Failed State,Banana State یا Rogue State کے طو رپر پیش کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ بعض شعبوں میں ملک میں ہوتی ترقی کو نمایاں طور پر پیش نہیں کیا جاتا۔ ہم جانتے ہیں کہ Perception یا تاثر حقیقت سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ کئی سال پہلے انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں بم دھماکوں میں جانی نقصان بھی ہوا۔ بالی ایک پرکشش سیاحتی مقام ہے جہاں دنیا بھر سے سیاح کھینچے چلے آتے ہیں لیکن ایک افسوس ناک واقعہ جس کا ذکر دنیا بھر میں ہوا ابھی تک لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہے۔ بالی کے ذکر کے ساتھ اس کے دلفریب ساحل کے ساتھ ساتھ بم دھماکوں کی باز گشت بھی سناتی دیتی ہے۔ تصور کریں کہ ایک واقعہ کس طرح لوگوں کے ذہنوں میں گھر کر جاتا ہے۔ اب ذرا پنے ملک کے بارے میں غیر ملکی میڈیا اور فلم سازوں کے ہاتھوں فروغ پانے والے تاثر اور اُس کے نقصانات کا اندازہ کیجئے۔ فلم سنسر بورڈ ایک اہم ادارہ ہے میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ قیادت اپنے فرض سے بخوبی آگاہ ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: