بے چہرہ لوگ ——- محمد مدثر احمد

0

نوجوان افسر تھوڑے سے جذباتی ہوتے ہیں۔ ایسے ہی ایک افسر سے بات ہوئی۔ یہ صاحب سول سروس میں ابھی نئے ہیں۔ میری رائے میں قابل اور ایماندر ہیں۔ عام طو رپر اپنی زندگی اور نوکری سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ مختصر سا خاندان ہے۔ بہت خوشحال نہ سہی لیکن خاصی سہل اور با عزت زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ صاحب آج کی ملاقات میں بالکل مختلف نظر آئے۔ روایتی نظام سے نظریاتی اختلاف۔ اپنے ماحول اور مروجہ قدروں سے نالاں دکھائی دیئے۔ اُن کی گفتگو میں غصّہ بھی تھا اور ناراضگی بھی۔ شاید بے بسی اور نا امیدی بھی کہیں نہ کہیں موجود تھی۔

اس نوجوان افسر کو ملازمین کی بھرتی اور ترقی جیسے معملات میں با اثر اور تعلقات رکھنے والے لوگوں کی مداخلت پر اعتراض تھا۔ یہ اپنے افسران سے بھی نا خوش تھے جو اس معاملے میں کوئی خاص مزاحمت نہیں کر پا رہے تھے۔ بقول ان کے ان کی تمام تر کوشش یہ ہے کہ بھرتی کا عمل خاص طو رپر شفاف اور انصاف پر مبنی ہو۔ ایک Open Compitition کا ماحول ہو جس میں کسی کو نا جائز فائدہ نہ دیا جائے۔ محض قابلیت ہی انتخاب کا معیار ٹھہرے۔ لوگ محض اس وجہ سے اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوں کہ اہلِ اقتدار سے اُن کے راہ و رسم ہیں یا متعلقہ افسران کے قریبی عزیز و اقربا سے دور نزدیک کا واسطہ ہے۔

ایسے بچّے جن کو ماں باپ اپنا پیٹ کاٹ کر پڑھاتے ہیں۔ دن رات محنت سے تعلیمی مدارج طے کرتے ہیں۔ زندگی گھر اور درسگاہ تک محدود رہتی ہے اور سیاسی طور پر متحرک نہیں ہوتے۔ ایسے بچّوں کی عام طور پر دفتروں میں جان پہچان نہیں ہوتی۔ ان کے غریب محنت کش والدین طبعی طور پر خود دار ہوتے ہیں جو اپنی اولاد کے لیے ہر قربانی دے سکتے ہیں لیکن غیر کے در کی چوکھٹ پر جا کر سفارش کے لیے دستِ سوال دراز کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ایسے بچّوں کو مائیں محض دعائوں کے سہارے انٹرویو دینے کے لیے گھر سے رخصت کر دیتی ہیں۔ یہ بچّہ گھر سے امتحان کے مرکز کا سفر متوقّع سوال دہرانے، اللہ تعالیٰ سے وعدے کرنے، رشوت اور سفاش کے تاثر کو جھوٹ قرار دینے اور پاس ہونے کی صورت میں ماں کے لیے تحفہ کے انتخاب میں طے کرتا ہے۔

نوجوان افسر کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عدالت میں وہ ایسے ہزاروں یا لاکھوں بچّوں کا سامنا نہیں کر پائے گا جن کا کُل اثاثہ بار بار پڑھی گئی کتابیں، ماں کی دعائیں اور اللہ سے کئے گئے وعدے ہوں۔ اُس عدالت میں سر خرو ہونے کے لیے وہ آج نا پسندیدہ بننے کے لیے تیار ہے۔ اس کے خاندان اور دوست احباب اُس سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں کہ جن کے بچّوں کو بھرتی کروانے کے لیے وہ کوئی جھوٹا وعدہ بھی نہیں کرتا۔ یہ ہی حال دفتر کے ساتھیوں کا ہے کہ وہ اس بات کو بہت حد تک جائز سمجھتے ہیں کہ جس ادارے میں اُن کی کئی عشروں کی خدمات ہیں اس میں ان کے صاحبزادوں کو بھرتیوں میں ترجیحی حیثیت دی جائے۔

نوجوان افسر صاحب! راستہ تو آپ نے چُن لیا ہے مگر تنقید، مخالفت اور لا تعلقی وہ ابتدائی نتائج ہیں کہ جن کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اصول اور انصاف کے لیے لڑی جانے والی جنگ میں فرد کی حوصلہ افزائی کے امکان معدوم ہوتے ہیں۔ آپ بے چہرہ لوگوں کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں جو ہزاروںاور لاکھوں میں ہوں گے اور آپ کی سوچ اور قربانی کے ثمرات سے فیض یاب ہوں گے لیکن یہ کسی جامد صورت میں آپ کے سامنے آ کر آپ کا شکریہ ادا نہیں کر سکیں گے۔ لیکن ان بے چہرہ لوگوں کے لیے سوچ رکھنا، مخالفت مول لینا اور قربانی دینا بہادروں کا شیوا ہے۔ سوچ ایک نعمت ہے۔ نظریہ ایک نعمت ہے۔ اپنی سوچ اور نظریہ کے مطابق زندگی گذارنا ایک نعمت ہے۔ یہ نعمتیں خاص ہیں۔ عام نہیں۔ بے چہرہ لوگ بھی عام نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: