ازدواجی محبت کا اظہار یا جھوٹی نمائش —– عافیہ فیصل

0

کبھی پیار کا اظہار یا محبت بھرے جملے یا منانا روٹھنا اپنانا جیسے خوبصورت لمحے آپ کے اپنے ہوتے تھے جن تک صرف آپ کی یا صرف اس شخص کی ہی رسائی ممکن تھی جو آپ کے دل کا ساتھی ہو۔ قیمتی لمحات صرف اس لئے کسی سے شئیر نہیں کیے جاتے تھے کہ ان پر صرف ہمارا ہی حق ہے کوئی اور کیوں جئیے ان لمحات کو جو صرف ہماری میراث ہیں۔ زیادہ سے زیادہ کسی بہت ہی قریبی دوست کو اپنے دل کی بات بتا کر یا ان لمحات کو شئیر کر لیا جاتا کہ وہ دوست آپ کے ہر خوبصورت لمحے کا تھوڑا بہت گواہ بھی ہوتا۔

Image result for pakistani couples selfie illustration

میں اکثر سوچتی ہوں کہ جن خوبصورت لمحات کو ہم جیتے ہیں انہیں جب تک ہم خود تک محدود رکھتے ہیں تب تک وہ اپنے اپنے سے لگتے ہیں ہمیشہ نئے اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید یادیں بھی جڑ جاتی ہیں یوں وہ لمحات دن بدن خزانے میں اضافے جیسے ہوجاتے ہیں۔ پھر بھی اگر شئیر کرنے کا ہی شوق چڑھ رہا ہے تو اپنے اسی ساتھی سے شئیر کیا جائے جس کے ساتھ وہ لمحے بتائے گئے ہیں کیونکہ ان پر صرف آپ دونوں کا ہی حق ہے۔ مگر جب میں سوشل میڈیا پر کپلز کی تصاویر کے ساتھ دس صفحات کا کیپشن پڑھتی ہوں تو حیرت کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں گوکہ اکیسویں صدی ہے لیکن مطلب اتنا لمبا کیپشن لکھا پڑھو اور رومانٹک قصوں کو انورٹڈ کوماز میں دیکھو تو فیک فیک سا لگتا ہے۔

مجھے کسی سے بے حد محبت ہے تو یہ میرا پرسنل معاملہ ہے اس کے ساتھ بیتے خوبصورت لمحے میری زاتی میراث ہیں انہیں کیوں میں پبلک کروں یا کیوں لوگوں کو بتاؤں کہ میں بہت چاہی جارہی ہوں یا مجھے بہت اہمیت یا چاہت کی زندگی میسر ہے؟

کیا یہ کسی غیر موجود محبت کی پردہ داری تو نہیں، کسی نفسیاتی تسکین کے لئے کیا گیا غیر حقیقی عمل تو نہیں؟

چلیں مزہب یا معاشرت کی بات سائیڈ پر رکھتے ہیں کہ ہم بہت conservative لگیں گے۔ ایک لمحہ کو سوچیں اپنے شوہر کے ساتھ یا اپنی بیوی کے ساتھ بیتے خوبصورت لمحات کو سوشل میڈیا پر شئیر کرنے (کیونکہ آپ اپنی خوشی سب کے ساتھ بانٹنا چاہتے ہیں) کی آڑ میں بے ہودگی جنم نہیں لے رہی؟

آپ اپنے شوہر سے بے پناہ محبت کرتی ہیں اس کا اظہار سوشل میڈیا کا محتاج کیوں؟
گھر میں ساتھ بیٹھے اظہار کیجئے کھل کے کیجئے، سوشل میڈیا پر بے دھڑک اور کھل کر اظہار کرکے آخر کتنے نفلوں کا ثواب ملتا ہے؟
جی بلکل آپ ہمیں اپنا، دوست مانتے ہیں تو مطلب حدود و قیود کا پاس بھی ختم؟

عمر سے بڑے لوگ لسٹ میں ایڈ ہیں ہم عمر لیکن جن سے کبھی ملاقات بھی نہیں ہوئی وہ بھی لسٹ میں موجود ہیں کیا صرف ان کی لکھی تحاریر یا کہیں کئے گئے کمنٹ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کے ساتھ ہم اپنی پرسنل لائف شئیر کریں؟

کیا بڑوں کا ادب یا کیا مخالف جنس کا لحاظ اس ایک جملے کے بعد اہمیت کھو دیتا ہے کہ تنگ زہنیت نہیں ہونی چاہیے کسی کو جینے دو جیسے وہ جینا چاہتا ہے یا اس کی مرضی وہ اس طرح خوش ہے تو آپ کو کیا مسئلہ وغیرہ وغیرہ ”
تو یعنی وہ جو دائرے مذہب یا معاشرہ طے کرتا ہے انہیں ہم اپنی اپنی مرضی سے پھیلا اور سکیڑ سکتے ہیں؟

تو کیا “اپنی خوشی شئیر کرنا چاہیے” کی آڑ میں لفظی و تصویری بے حیائی جائز ہوجاتی ہے یا جسے ہم بے حیائی جیسی چیز گردان رہے وہ صرف ہماری سوچ کا محدود ہونا ہی ہے یا معاشرہ ابھی بھی لحاظ و مروت کو سنہری اقدار کی طرح مانتا ہے؟

(Visited 568 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: