آٹھ ہزار کی مجبوری —— محمد مدثر احمد

0

I do not care کہ کوئی کیا کر رہا ہے۔ کون کرپٹ ہے۔ کس نے قرضے معاف کروائے ہیں۔ Commission اور KICK BACKS میں کس کو کیا ملا اور کون محروم رہا۔ اقتدار کس کی جاگیر ہے اور رہے گا۔ وسائل پر کس کی اجارہ داری ہے۔ مجھے اس بات سے بھی دلچسپی نہیں کہ کون مسلسل کتنی دفعہ کامیاب ہوا۔ خاندانی منصوبہ بندی اور خاندانی سیاست کیا ہے۔ معیشت کا پہیّہ، Stock Exchange کا اُتار چڑھائو وغیرہ میرے کبھی بھی موضوعات نہیں رہے۔

پھر بھی کبھی کوئی چھوٹا سا ایسا مشاہدہ سامنے آتا ہے کہ جس سے میں اپنی ذات کے خول اور عمومی مزاج سے ہٹ کر اپنے ماحول اور معاشرے پر سوچنے لگتا ہوں۔ پچھلے دنوں میں نے ایک چھوٹے بچّے کو کمر پر بوجھ اٹھائے گلی میں سے گذرتے دیکھا۔ گلی میں کھیلنے والے دوسرے بچّے اس کی نقل اتار رہے تھے۔ اس بچّے کے چہرے پر کوئی تاثرات نہ تھے۔ شریر بچوں کی حرکتوں پر کوئی ردِّ عمل نہ تھا۔ اس بچّے کی عمر میرے بڑے بچّے جتنی تھی جو گاڑی میں میرے ساتھ بیٹھا برگر کھا رہا تھا۔

میرا بڑا بیٹا ایک نجی سکول میں پڑھتا ہے۔ چند ماہ پیشتر میں اس کے سکول میں کچھ واجبات ادا کرنے کی غرض سے اکاونٹ سیکشن میں موجود تھا۔ اس دوران ایک خاتون ٹیچر آفس میں آئیں۔ میں نے نوٹ کیا کہ وہ کچھ ہچکچا رہی تھیں پھر انہوں نے تھوڑی جرأت کر کے اکاونٹنٹ سے کچھ بات کی۔ مجھے لگا شاید وہ اپنی تنخواہ مانگ رہی تھیں۔ یہ مہینے کی آخری تاریخ تھی اور وہ شاید کسی مجبوری کی بنا پر ایک دن پہلے تنخواہ لینے کی کوشش میں تھیں۔ تھوڑی دیر بعد کمال مہربانی سے ان کو ایک دن پہلے تنخواہ کی ادائیگی کر دی گئی۔ کمرے سے نکلتے وقت اب ان کی مٹھی میں آٹھ ہزار روپے تھے۔

میں ایک بے حس اور خود غرض شخص ہوتے ہوئے بھی اُس لمحہ موجود ہیں یہ سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ ایک دن پہلے تنخواہ پانے کی خوشی میں کس قدر اُداسی چُھپی ہوئی تھی۔ بے حس اور خود غرض ہونے کے ساتھ ساتھ میں مضبوط بھی ہوں۔ بہت جذباتی نہیں ہوں۔ لیکن اس لمحے ظُلم اور استحصال کے ہاتھوں نظامِ تعلیم اور معلّم کے ساتھ روا سلوک دیکھ کر میری آنکھیں نم تھیں۔ ایسے لوگوں کے لیے نفرت کا جذبہ تھا جو اس معلّمہ کے حال سے بے گانہ تھے۔ اور آٹھ ہزار کو کافی سمجھتے تھے۔ ایک دن پہلے تنخواہ کی ادائیگی کو کمال مہربانی گردانتے تھے۔

(Visited 69 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: