ایم کیو ایم کا ماضی حال اور مستقبل— عمار یاسر زیدی

1

ایم کیو ایم اورکراچی کی سیاست ایک ایسا موضوع ہے جس پر طویل گفتگو اور مباحثہ کیا جاسکتا ہے ،،،میڈیا کے لیے بھی یہ موضوع بہت چٹخارے دار ہوتا ہے ،،،،، وہاں لندن میں کچھ ہو جائے تو ٹی وی چینلز کی تو جیسے چاندی ہو جاتی ہے،،، کچھ بہت زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب یہی ٹی وی چینلز لندن سے ہونے والے خطابات سے تنگ تھے ،،، اور الطاف حسین کی کئی کئی گھنٹوں پر محیط تقریریں براہ راست دکھانے پر مجبور بھی ،،، وہ تو شکر ہوا کہ الطاف حسین صاحب نے خود ہی ایسی باتیں کر دیں کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر  پیمرا نے  ان کی تقریر براہ راست دکھانے پر پابندی لگا دی ،، اور ٹی وی چینلز نے سکھ کا سانس لیا ،،،

ایم کیو ایم جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ 1984میں معرض وجود میں آئی،،، یہ شاید پہلا موقع تھا کہ کسی طلبہ تنظیم نے سیاسی جماعت کا روپ دھارا تھا ،،، اور شاید یہی وجہ رہی کہ ایم کیو ایم کی سیاست پر طلبہ سیاست کی چھاپ آج بھی نظر آتی ہے،،،یہ  عظیم احمد طارق ، عمران فاروق  اور دیگر طالبعلم رہ نماؤں کی ایک کوشش تھی جسے بزرگ مہاجر شخصیات بھرپور حمایت حاصل تھی،،،،،، عظیم احمد طارق اس تنظیم کے چیئر مین اور ڈاکٹر عمران فاروق سیکریٹری جنرل ہو گئے،، ایم کیو ایم  کے قیام کے وقت الطاف حسین امریکا میں تھے،،، 1981میں جمعیت کے ساتھ ہونے والے تصادم کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں چھوڑیں اور پھر تلاش معاش کے لیے پہلے سعودی عرب اور پھر امریکا شفٹ ہو گئے تھے،،،
اس تنظیم ، سیاسی جماعت یا سیاسی تحریک کے قیام میں جس بات کو مدنظر رکھا گیا وہ تھا نظم و ضبط، کارکنوں کی ذہن سازی،اور اس کا تنظیمی ڈھانچہ،،، ،، یونٹ ،سیکٹر ، زون ، مرکز۔۔۔ چار درجوں پر مشمل تنظیمی نیٹ ورک،،،نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ایک کتابچہ “نظم و ضبط کے تقاضے”جس کا مطالعہ ہر کارکن پر لازم تھا اس کے علاوہ اردو لٹریچر سے متعلق مختلف کتابوں کا مطالعہ بھی لازمی تھا ،،،،اس تمام مشق کے بعد باقاعدہ امتحان منعقد کیا جاتا اور اچھے نمبرز لینے والے افرادکا نام ہی کونسلر ، میئر ، ایم این اے ، ایم پی اے، یونٹ اور سیکٹر انچارج کے لیے زیر غور آتا،،یعنی تنظیم میں ترقی پانے کے لیے یہ امتحان پاس کرنا ضروری قرار پایا،،، ذہن سازی کے لیے لیکچرز ،، تربیتی اور فکری نشستوں کا اہتمام کیا جاتا ،،، جس سے عمران فاروق ، عظیم احمد طارق اور الطاف حسین خطاب کرتے ،،،
ایک عام تاثر ہے کہ ایم کیو ایم جنر ل ضیا نے بنوائی ،،،،،، یہ تاثر logicکے اعتبار سے غلط ہے ،،، کیوں کہ جنرل ضیا کا واحد مسئلہ پیپلز پارٹی تھی ،،، جو کراچی میں کبھی مقبول نہیں رہی ،،،،، سندھ کے شہری علاقوں میں اُس زمانے میں دینی جماعتوں کا سکہ چلتا تھا،،، جو کہ جنرل ضیا کے مار شل لا کی حمایت کر رہی تھیں تو ایسے میں جنرل ضیا کیوں اپنے اتحادیوں کے لیے مشکلات کھڑی کرتے،،، میری دانست میں یم کیو ایم کے قیام کی تین بڑی وجوہات تھیں ،،،مہاجروں میں احساس محرومی ،،،1984میں طلبہ تنظیموںپر پابندی لگنا اور ،،، اسلامی جمعیت طلبا کی طرف سے کراچی کے تعلیمی اداروں میں اے پی ایم ایس او کی مزاحمت اور اپنی عددی  برتری اور مسلح طاقت کے بل پراے پی ایم ایس او کو جامعہ کراچی کے کیمپس سے باہر پھینکنا ،،،،  1985میں ایک ٹریفک حادثے میں  بشریٰ زیدی  نامی طالبہ کی موت نے شہر بھر میں آگ لگا دی،،پنجابی ، پختون اور مہاجر فساد شروع ہو گیا ، شہر بھر میں ایسی آگ لگی جو 32برس گزرنے کے باوجود ٹھنڈی نہیں پڑی ،،،
یہ وہ واقعہ تھا جہاں سے آغاز ہوا ایم کیو ایم کے عروج کا،،،
،،، 85کے آخر میں الطاف حسین  پاکستان واپس آگئے ،،، فن تقریر سے مالامال،،، الطاف حسین کی شمولیت نے تنظیم میں جان ڈال دی،، وہ قائد تحریک ہو گئے ،،،، ،کراچی کے نوجوان ایم کیو ایم میں شامل ہونے لگے ،،انہیں جئے مہاجر  کے نعرے میںکشش محسوس ہونے لگی ،،اور انہوں نے الطاف حسین کو اپنا نجات دہندہ سمجھ لیا ،،،،،87 کے بلدیاتی  اور 88کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم نے عرصے سے کراچی کے سیاسی افق سے مذہبی جماعتوں کا صفایا کر دیا ،1988کے انتخابات کے بعد جشن فتح منایا گیا تو ایسا لگا جیسے پو را شہر ایم کیو ایم ہے ،،،، ، اب کراچی میں ایم کیو ایم کا راج تھا ،،، یعنی ،،،، الطاف حسین کا راج تھا،،، 88سے 99تک ،، ایم کیو ایم مختلف حکومتوں میں بھی شامل رہی اور اس کے خلاف 3آپریشنز بھی ہوئے جن میں ایک فوجی آپریشن تھا،،،،
 ،،، ، جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ کارکنان کی باقاعدہ تربیت کی گئی ،،،انہیں بتایا گیا کہ تحریک کی کامیابی کے لیے کیا قربانی دینی پڑتی ہے ،،،قیادت کے ساتھ وفاداری اور اس پر اندھا اعتماد کرنا ہی کامیابی کی ضمانت قرار دیا گیا ،،،،اسی شہر میں ایسے نو جوان بھی تھے  جو اپنے ماں باپ کے انتہائی نا فرمان تھے مگر الطاف حسین کے ایک اشارے پر جھاڑو لے کر شہر کی گلیاں محلے صاف کرنے نکل پڑے ،،بیروزگار نو جوانوںنے  الطاف حسین کے کہنے پر سبزی کے ٹھیلے لگا لیے ،،، پھر 1991آگیا ،،، ایم کیو ایم میں پہلی بغاوت ہوئی ،،، واقفان حال آگا ہ ہیں کہ اگر عظیم احمد طارق بروقت مداخلت نہ کرتے تو اس روز الطاف حسین کی رہائشگا ہ میں ہونے والا جھگڑا خونی تصادم میں بدل جاتا،،، ،آفاق احمد ، عامر خان ، بدر اقبال اور منصور چا چا کو غدار قرار دے کر تنظیم سے نکال دیا گیا  اور اس گروپ کو اینٹی گروپ کا نام دیا گیا،،، شہر بھر میں قائد کا غدار موت کا حقدار کے بینرز لگ گئے،،،، یہ وہ دور تھا کہ جب وزیر اعلیٰ سندھ جام صادق علی نے شہر ایم کیو ایم کے حوالے کر رکھا تھا ،، ،،،، شہر میں ایم کیو ایم کی متوازی حکومت قائم ہو گئی ،،، چھوٹے موٹے جرائم سے لے کر قتل جیسے معاملات تھانوں کے بجائے یونٹ آفسز میں حل ہونے لگے ،،، کسی ایس ایچ او کو یونٹ انچارج کی اجازت کے بغیر ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت نہیں تھی ،،،، حتیٰ کہ میجر کلیم کے واقعے کی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے بھی آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کو مداخلت کرنا پڑی،،،،،اس وقت  ڈی آئی جی کراچی آفتاب نبی تھے جو کے ایم کیو ایم کے ایم این اے اسلام نبی کے سگے بھائی تھے،،،، اخبارات یر غمال تھے ،،، جو ایم کیو ایم کی پالیسی پر عمل نہ کرتا وہ اخبار چھپتا تو تھا ،، مگر پریس سے باہر نہ نکل پاتا تھا،،،
 پھر 92میں فوجی آپریشن ہو گیا،، ایم کیو ایم کا مخالف دھڑا منظر عام پر آگیا ، الطاف حسین لندن چلے گئے اور دیگر رہ نما زیر زمین ،،، ایم کیو ایم حقیقی نے وہی طرز عمل اپنا لیا جو اس سے پہلے ایم کیو ایم کا تھا،،، مخالفین چھپتے پھرتے تھے،،، عظیم طارق منظر عام پر آئے ،، الطاف حسین سے اختلاف کا اظہار کیا ،،، الطاف حسین نے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا ،،، ،اور تمام اختیارات عظیم احمد طارق کے سپرد کر دیے ،،،یہ کنارہ کشی چند ہفتے ہی قائم رہی ،، اور الطاف حسین نے ایک بار پھر لندن سے بیانات جاری کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ، ،عظیم احمد طارق کو نہ تو پارٹی سے نکالا گیا نہ ہی انہیں غداری کا سرٹیفیکیٹ ملا،،،عظیم طارق کی سربراہی میں ایم کیو ایم کے ایک اور دھڑے کی خبریں آنے لگیں،،،،،مگر پھر ایک رات عظیم احمد طارق اپنے گھر میں ہی قتل کر دیے گئے ،،،  اس قتل کے بعد الطاف حسین ایم کیو ایم کے بلا شرکت غیرے مالک ہو گئے ،،،
 93میںایم کیو ایم قومی اسمبلی کے انتخابات کے بائیکاٹ کی وجہ سے مرکز کی سیاست سے باہر ہوئی،، صوبائی سطح پر حصہ لیا مگر صوبے میں پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کر لی ، اب ایم کیو ایم وفاقی یا صوبائی حکومت کی ضرورت نہیں تھی،،، پیپلز پارٹی کی حکومت نے بے رحم آپریشن کیا ،،،، آپریشن میں ایم کیو ایم کے کئی کارکنان مارے گئے ،،اور یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اس آپریشن نے ایم کیو ایم کے تنظیمی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ،،،97کے انتخابات میں ایم کیو ایم نے زیادہ تر بزرگ افراد کو ٹکٹ دیے،، کامیابی تو ملی مگرووٹوں کا تناسب گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں کم تھا ،،، ایم کیو ایم ایک بار پھر حکومت میں تھی،اور صوبائی حکومت میں ایک بار پھر ایم کیو ایم سینئر پارٹنر کے طور پر موجود تھی ،،،اسی دور میں حکیم سعید کا قتل ہو ا جس میں ملوث ہونے کاالزام الزام ایم کیو ایم پر ملک کے وزیر اعظم نے لگایا ،، صوبائی حکومت ختم ہو گئی کیوں کہ ایم کیو ایم نے حمایت واپس لے لی،،، صوبے میں گورنر راج لگ گیا ،،،ایک اور آپریشن کا آغاز ہو گیا ،،،پھر ملک میں فوجی حکومت آگئی ،،، پرویز مشرف نے ایم کیو ایم کو اتحادی بنا لیا ،، اور پھر ایک طویل عرصہ ایم کیو ایم حکومت کا حصہ رہی مہاجر قومی مومنٹ  اب متحدہ بن چکی تھی ،،، مہاجر نعرہ نہ صرف ترک کر دیا گیا بلکہ یہ نعرہ لگانے پر ہی پابندی لگا دی گئی ،،نئے سندھی ،، پرانے سندھی ،،، یا سندھی بولنے والے سندھی اور اردو بولنے والے سندھی کی اصطلاحیں متعارف کروائی گئیں،،، مہاجر قومی موومنٹ کے قیام کے وقت جو مطالبات کیے گئے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہ ہوا 2002سے 2013تک ایم کیو ایم اقتدار میں رہی،، ،،، مصطفی کمال نے ناظم بن کر شہر میں ترقیاتی کام کروائے،،،، ایم کیو ایم کا امیج ملک بھر میں بدلنے لگا،،اور ایم کیوایم کی تعریف ہونے لگی ،،، مگر پھر 12مئی ہو گیا اور یہاں سے ایم کیو ایم کا واپسی یا زوال کا آغاز ہوا ،،،شہر میں اب پرنٹ کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا بھی ایم کیو ایم کی مرضی کے مطابق چلتا تھا،،، جو ٹی وی چینل پالیسی کے مطابق کام نہ کرتا کیبل آپریٹر وہ چینل بند کر دیتا ،،،مگر 12مئی کے واقعات پوری دنیا میں براہ راست دیکھے گئے ،،، جس نے مصطفی کمال کے بنائے ہوئے مثبت امیج کو تار تار کر دیا ،،،2008 کے انتخابات میں ایم کیو ایم کو قومی اسمبلی کی 25نشستیں ملیں،،،اور آصف زرداری اور فاروق ستار ٹوپی بدل بھائی بن گئے ،،، ایم کیو ایم حکومت کا حصہ بن گئی ،،،
 ذوالفقار مرزا نے ایک پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم اور الطاف حسین پر سنگین الزامات لگائے ،،، اور ساتھ ہی الطاف حسین کی گرتی ہوئی صحت کا بھی ذکر کر دیا،،، شہر بھر میں افواہیں گرم ہوئیں کہ الطاف حسین قریب المرگ ہیں ۔۔۔جس کے بعد الطاف حسین کو بیس سال میں پہلی بار ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر کے یہ بتانا پڑا کہ وہ صحت مند ہیں ،،،، سیاسی مقاصد کے لیے مہاجر نعرہ ایک بار پھر زندہ ہو گیا ،،،ایم کیو ایم ایک ہی لمحے میں 25سال پیچھے چلی گئی ،،اس پورے عرصے میں حکومت میں آنا جانا ،، الطاف حسین کا قیادت سے آئے روز دست بردار ہونا ،معمول بن گیا،،، اس کے نتیجے میں عوامی سطح پر ایم کیو ایم کو کافی سبکی ہوئی ،،، عوام الناس نے اس انداز کو پسند نہ کیا ،، ویسے بھی عوام شہر کے حالات کے سبب پریشان تھے ،،،2013کے انتخابات میں تحریک انصاف کو کراچی سے بڑی تعداد میں ووٹ ملنا ، اچھنبے کی بات تھی،، خود تحریک انصاف کو بھی اس پذیرائی کا اندازہ نہ تھا،،اس شفٹ کی وجہ ایم کیو ایم کا عوام سے کٹ جانا تھا ،،، ایم این ایز اور ایم پی ایز ہوں یا یونٹ اور سیکٹر انچارجز،،،طویل عرصہ حکومت میں گزارنے کی وجہ سے انداز و اطوارتبدیل ہو گئے ،،، مفادات نظر آنے لگے ،، پیسے کی چمک نے سب کو نئے راستے پر لگا دیا ،، ،
ایم کیو ایم کی انتخابی کامیابیوں میں عوامی حمایت کے علاوہ اسکے ا انتہائی مضبوط اور منظم نیٹ ورک کا بھی بڑا کردار ہے،،، نہ صرف انتخابات بلکہ 30برسوں سے اس شہر میں اگر ایم کیو ایم کے نام کا ڈنکا بجتا رہا تو اس کی وجہ یہی پُر اسرار ، مضبوط اور ،منظم نیٹ ورک ہے ،،، اب صورت حال یہ ہے کہ موجودہ آپریشن کے نتیجے میں تنظیمی نیٹ ورک بڑی حد تک تباہ ہو چکا ہے،، مگر مکمل طور پر نہیں ،،،
ایک بات بہت اہم ہے کہ 88سے2013تک ایم کیو ایم کم از کم 3بار صوبائی حکومت میں سینئر پارٹنر کے طور پر شامل رہی ،،، یعنی پی پی مخالف صوبائی حکومت ،،،، جو ایم کیو ایم کی اکثریت کی بنیاد پر قائم کی گئی ،،،، ایم کیو ایم نے مہاجر وزیر اعلیٰ کا نعرہ سیاسی مقاصد کے لیے تو لگایا مگر جب بھی موقع ملا اس سے کہیں کم پر راضی ہو گئے ،،،دوسری طرف ملک میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم کے بارے میں بھی  اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے رویے بھی بدلتے رہے ،،، میرا یہ یقین ہے کہ اگر 88اور 90کے انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے مداخلت نہ کرتی تو ایم کیو ایم یا الطاف حسین کبھی بادشاہ گر کی پوزیشن میں نہ آتے ،،، اور ایم کیو ایم اتنی طاقت ور نہ ہوتی ،،،،

اب سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کا مستقبل کیا ہو گا ؟؟
ایم کیو ایم اس وقت عملی طور پر 4گروپوں میں منقسم ہے
الطاف حسین کی ایم کیو ایم لندن
فاروق ستار کی ایم کیو ایم پاکستان
آفاق احمد کی ایم کیو ایم حقیقی
اور مصطفی کمال کی پی ایس پی

اگر موجودہ صورت حال برقرار رہتی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کا رویہ الطاف حسین کے حوالے سے تبدیل نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں الطاف حسین کے لیے مستقبل میں کچھ نہیں ہے ،، اگر الطاف حسین پاکستان واپس آجائیں تو عوامی سطح پر صورت حال ان کے حق میں تبدیل ہونے کے روشن امکانات ہیں ،،، مگر مستقبل قریب یا بعید میں ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ،،، دوسرا معاملہ ان کی صحت کا ہے ،،اس پر میں کہوں گا کہ زندگی اور موت تو خدا کے ہاتھ میں ہے ،، اس سے زیادہ کمنٹ اس پر مناسب بھی نہیں ،،،، لندن کی ایم کیو ایم میں موجود لوگ بشمول الطاف حسین دہری شہریت رکھتے ہیں ،،،،، اور اس بات کا احساس یہاں کراچی کے شہریوں کو ہے ،،،، 92میں جب آپریشن ہوا  اور قیادت زیر زمین چلی گئی ، توالطاف حسین نے پاکستان میں ساری ذمہ داریاں بزرگ افراد کے حوالے کر دی تھیں،،،، سینیٹر اشتیاق اظہر ، اجمل دہلوی، شیخ لیاقت حسین کا نام کون بھول سکتا ہے ،،، مگر اب ایسی کوئی شخصیت ایم کیو ایم لندن کے پاس نہیں ،،،جن لوگوں کو پاکستان میں رابطہ کمیٹی بنایا گیا ان کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں رہا ،،،،
فاروق ستار کی ایم کیو ایم  کی طاقت کا صحیح اندازہ اس وقت ہی لگایا جا سکے گا کہ جب موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کر لیں گی،،، جس میں ابھی قریب ایک سال سے زاید کا عرصہ ہے ،،، اس دوران اگر عامر خان کی مدد سے فاروق ستار تنظیمی طور پر خود کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یقینا وہ کامیاب ہو سکتے ہیں ،،اور عوام کی نظر میں سب سے بہتر آپشن وہی ہو سکتے ہیں  ،،،
آفاق احمد کا اختلاف  یا ان کے اپنے الفاظ میں دشمنی ، الطاف حسین سے ہے ،،، اگر آفاق احمد ، فاروق ستار کے ساتھ مل کر کوئی اتحاد کر لیتے ہیں یادونوں جماعتیں ضم  ہو جاتی ہیں ،، ایسی صورت میں یہ ایم کیو ایم مضبوط اور بہتر پوزیشن میں ہو گی،،،آفاق احمد تن تنہا اپنی حیثیت منوانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں ،،، کارکنان کی یا پھر عوامی سطح  پر آفا ق احمد کی ایم کیو ایم میں شمولیت کو پسند کیا جائے گا ،،، مگر سولو فلائٹ کی صورت میں آفاق احمد کے ہاتھ نہ پہلے کچھ آیا نہ اب کچھ آئے گا ،،،
مصطفی کمال کی جماعت کو اب تک عوامی سطح پر وہ پذیرائی نہیں مل سکی، جس کی ان کو توقع تھی یا جس کی ان سے امید تھی،،،کیوں کہ وہ ابھی تک اپنی تنظیم کے اغراض و مقاصد عوام تک صحیح طرح نہیں پہنچا پائے ،،،، انہوں نے پہلی پریس کانفرنس کی الطاف حسین پر سنگین الزامات لگائے ،،، انہیں اب اس سے آگے بڑھنا ہو گا ،،، عوام کو کوئی پروگرام دینا ہوگا ،،،، ورنہ اگر آنے والے وقت میں پی ایس پی میں مزید اہم اور knownچہرے شامل  نہ ہوئے تو اس جماعت کا مستقبل کچھ اتنا روشن نظر نہیں آتا ،،،
ایم کیو ایم ختم نہیں ہوگی اور کسی نہ کسی شکل میں رہے گی،،، مگر یہ بات طے ہے کہ ایم کیو ایم اب ماضی جیسی طاقت دوبارہ حاصل نہیں کر سکے گی ،،، پاکستان میں موجود تینوں دھڑوں میں اگر اتحاد ہو گیا تو کسی بہتری کی امید ہے ،یا پھر تین میں سے دو بھی متحد ہو گئے تو بہتر نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں،
 مگر اب آنے والے انتخابات میں نہ وہ ووٹ بینک ہو گا ،،، نہ ہی ویسی عوامی حمایت ملے گی ،،،  اگر پاکستان میں موجود تینوں دھڑوں نے آپس میں مل کر صورت حال کا کوئی حل نکالنے کی کوشش نہ کی تو انتخاب کے دن عوام گھروں میں بیٹھنے کو ترجیح دیں گے،،،  جو ایک طرح سے الطاف حسین کی کامیابی سمجھی جائے گی ،،،

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. نوید احمد on

    بہت خوب اور کافی ڈیٹیلڈ تجزیہ ہے ۔ اس میں گورنر سندھ کا بھی ذکر بھی کیا جا سکتا تھا ۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: