ڈاکٹر ملک راج آنند: اقبال کا ایک ترقی پسند عاشق —- اعجازالحق اعجاز

0

برصغیر کے ترقی پسندوں کے امام ملک راج آنند نے جھک کرشاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے پائوں چھوتے ہوئے کہا:

’’میں آپ کے نقش ِ قدم پر چلنا چاہتا ہوں‘‘

اقبال نے ملک راج آنند کو سیدھا کھڑا کیا اور اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے اور ازراہ تفنن مسکراتے ہوئے جواب دیا:

’’ میرے نقش قدم پہ چلے تو تم سیدھا میونخ پہنچ جائو گے لیکن تم تو جرمن زبان نہیں جانتے پھر شاید تمھارے پاس اتنی رقم بھی نہ ہو کہ وہاں جا سکو۔ بہرحال تم لندن چلے جائو میں اس سلسلے میں کچھ کرتا ہوں۔ ‘‘

چناں چہ علامہ اقبال کی کوششوں سے ملک راج آنند کا داخلہ یونیورسٹی کالج لندن میں ہوگیا اور علامہ نے اسے پانچ سو روپے زاد راہ کے طور پر دیے۔ رخصت ہوتے ہوئے اس نے فرط عقیدت سے ایک بار پھر علامہ صاحب کے پائوں چھوئے اور ان سے ڈھیروں دعائیں وصول کیں۔

ترقی پسندوں کے اس امام نے ۱نیس سو چھتیس عیسوی میں لندن کے نانکنگ ریستوران میں اپنے ساتھیوں سجاد ظہیر، محمد دین تاثیر اور جیوتی گھوش کے ساتھ مل کر ’’انجمن ترقی پسند مصنفین‘‘ کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں ترقی پسند تحریک کہلائی۔ وہ انجمن کے پہلے صدر بھی تھے۔

ڈاکٹر ملک راج آنندنے کیمرج سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ برصغیر کے اولین مقامی انگریزی فکشن رائٹرز میں سے تھا۔ اس نے اور احمد علی نے برصغیر میں انگریزی میں ناول لکھنے کی طرح ڈالی۔ ای ایم فوسٹر اور جارج آرویل اس کے دوستوں میں سے تھے۔ اس کے ناول اچھوت (Untouchable) نے بے پناہ شہرت حاصل کی۔ اس کے دیگر ناولوں میں قلی (Coolie)،  Across the Black Waters ، The Sword and the Sickle ، The Big HeartاورThe Village شامل ہیں۔

ملک راج آنند اقبال سے بہت متاثر تھا اور اس نے ان کی شاعری اور فکر کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ اقبال کی بہت سی نظمیں اسے زبانی یاد تھیں۔ وہ جب بھی اقبال کا ذکر کرتا نہایت ادب اور عقیدت سے کرتا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اگر ہندوستان نے ترقی کرنی ہے تو اسے اقبال کی فکر کو اپنانا ہوگا۔ اس نے ہمیشہ اقبال کو ایک وسیع النظر، کشادہ دل، انسان دوست اور جدت پسند شاعر اور مفکر کے روپ میں دیکھا۔ اس کے نزدیک اقبال کا پیغام کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ اس نے اپنی کتاب The Golden Breath: Studies in Five Poets of the New India جو 1933 میں لندن سے شائع ہوئی علامہ اقبال کا ذکر ہندوستان کے ایک جدید شاعر کے طور پہ کیا ہے اور ان کی شاعری کے انقلابی پہلووں پہ روشنی ڈالی ہے۔

اسی طرح اقبال صد سال سمپوزیم کے موقع پر ملک راج آنند نے اپنا ایک معرکہ آرا مقالہ The Humanism of Muhammad Iqbal: Multidisciplinary Approach پیش کیا۔ اس میں اس نے علامہ کو شاعر انسانیت قرار دیتے ہوئے انھیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک راج آنند کا ایک مقالہ Iqbal a Universal Poet کے عنوان سے ہے جو Iqbal Commemorative Volume میں شامل ہے اور جسے علی سردار جعفری اور کے ایس دگل نے مرتب کیا تھا۔ اس میں بھی اس نے اقبال کی شاعری کے آفاقی پہلووں کی نشان دہی کرتے ہوئے انھیں ایک جدت پسند شاعر اور مفکر قرار دیا ہے۔

ان کے علاوہ  The Poetry of Sir Muhammmad Iqbalاور  A Universal Poet: Existentialism to Humanismمیں بھی ملک راج آنند نے علامہ اقبال کی شاعری کے انسانیت دوست اور جدت پسندانہ خیالات کو موضوع بنایا ہے۔ اپنے مضمون ’’اقبال کی شاعری ‘‘ میں وہ لکھتا ہے:

’’ مشرق میں ایک معاشرتی، سیاسی اور ذہنی نشاۃ ثانیہ کی صبح طلوع ہو چکی ہے اور اس اقبال اس نشاۃ ثانیہ کے سب سے بڑے علم برداروں میں سے ہیں۔ انھوں نے ایک جلیل القدر شاعر اور بالغ نظر فلسفی کی حیثیت سے ہندوستان کی وطنی اور ادبی تحریکوں کے احیا میں ہی حصہ نہیں لیا، بلکہ ترکی، ایران، مصر، افغانستان، عرب غرض تمام دنیائے اسلام کو، جو حیات نو حاصل کرنے کی سعی میں مصروف ہے، شاعرانہ اور فلسفیانہ بلند نگاہی اور شعور و احساس کی دولت سے مالا مال کر دیا ہے۔ ــ‘‘

اقبال کے شاعرانہ حسن پہ اظہار خیال کرتے ہو ئے لکھتا ہے:

’’ اقبال کو فطرت نے تغزل کی دولت عطا کرنے میں بہت فیاضی سے کام لیا ہے۔ چناں چہ ’’ہمالہ‘‘ کو محض متغزلانہ اندازِ بیاں کی وجہ سے یہ قبول عام حاصل ہوا، اور ان کی بعض دوسری نظموں خصوصاً ’’ہندوستان ہمارا‘‘ کی طرح (جسے ہندوستان کے قومی گیت کی حیثیت حاصل ہے) یہ نظم ہندوستان کے طول و عرض میں بگولے کی تیزی اور تندی سے پھیل گئی۔ ہر شہر، ہر قصبے اور گائوں کے گلی کوچوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کی زبان سے یہی نغمہ سنائی دینے لگا اور سارے ملک نے اقبال کو قومی بیداری کا پیمبر تسلیم کر لیا۔ ‘‘

اسی ترانے کے بارے میں وہ آگے چل کرکہتا ہے:

’’ نسلی اور جماعتی منافرت دور کرنے کے لیے وہ ’نیا شوالہ‘ کا گیت گاتے ہیں، جو ساری کائنات کا معبد ہوگا۔‘‘ ملک راج آنند نے

اس مضمون میں جو 1932 میں شائع ہوا ’اسرار ِ خودی‘ کے محاسن کو بہت سراہا ہے۔ وہ لکھتا ہے:

’’اسرار کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ شاعر آزاد روح اور وسیع نظر رکھنے والے انسانوں کا سچا عاشق ہے۔ ‘‘

بالغ نظر اور کشادہ ظرف ترقی پسند چاہے وہ ملک راج آنند ہوں یا فیض احمد فیض، محمد دین تاثیر ہوں یا علی سردار جعفری یا سید احتشام حسین یا دیگر ہمیشہ اقبال کو ایک بلند قامت اور عظیم شاعر اور فلسفی کے روپ میں دیکھا ہے اور ان کے شاعرانہ محاسن کے علاوہ ان کی انسان دوستی اور جدت پسندی کو سراہا ہے۔

(Visited 71 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: