ڈاکٹر منظور احمد کی کتاب “اسلام: چند فکری مسائل” —– راجہ قاسم محمود

0

تبصرہ نگار

ڈاکٹر منظور احمد جدید مسلم مفکر ہیں ان کی کتاب “اسلام: چند فکری مسائل” ان کے مختلف افکار پر مشتمل ہے جس کو ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب ڈاکٹر صاحب کے مختلف مضامین کو یکجا کرکے شائع کی گئی ہے۔

کتاب کے پیش لفظ میں ہی ڈاکٹر صاحب نے وہ بنیادی بات کردی ہے جس سے ان کے رجحان کا اندازہ لگایا جا سکتا۔ وہ اسلام کی تفہیم نو کی بات کرتے ہیں ان کے نزدیک باقی مذاہب نے تو نئی تفہیم کا کام کافی حد تک کر لیا مگر ہم اپنی تاریخ اور تصوراتی نظام کا تنقیدی جائزہ نہیں لے پائے۔

اس تفہیم نو کا مقصد بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ مذاہب کبھی اپنی اصل حالت میں برقرار نہیں رہتے، فہم اور آراء کے اختلاف کے سبب ہر زمانے میں مذاہب مختلف شکلیں اختیار کرتے رہتے ہیں اور جس کو زیادہ پیروکار مل جاتے ہیں وہ ایک فرقہ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔

اپنے پیش لفظ میں ہی ڈاکٹر صاحب نے مسلم تاریخ پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ ہم اس کو اس طرح سے نہیں لکھ سکے جیسی کہ لکھی جانی چاہیے اور پھر اس میں خلافت اور ملوکیت کے بارے میں جو نظریات بیان کیے گئے ہیں وہ مختلف مسلمان حکمرانوں کو جواز محیا کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔

اپنے پیش لفظ کے آخر میں ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ ان کا یہ دعویٰ ہرگز نہیں کہ حق و صواب کا راستہ یہی مضامین ہیں یہ ان کا نقطہء نظر جس کا مقصد سوچ کی راہیں کھولنا ہے جو کہ صدیوں سے بند ہیں۔
کتاب میں کل نو مضامین شامل ہیں اور کئی جگہ جملوں کا کافی تقرار پایا ہے۔

پہلے مضمون میں ڈاکٹر صاحب مذہب، فلسفہ اور سائنس کے باہمی تعلق کے حوالے سے بات ہیں اور کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر مذہب اور سائنس کے دائرہ کار ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ خدا، آخرت، نبوت کے بارے میں سائنس اپنی شہادت سے کوئی حکم نہیں لگا سکتی جبکہ سائنس کا دائرہ کار حسی تجزیے اور مشاہدے تک محدود ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ اسلام کو سائنس کے مقابلے میں وہ مسائل پیش نہیں آئے جو دوسرے مذاھب کو پیش آئے اس میں جہاں مسئلہ آیا وہ مسلمانوں کا پانچویں اور چھٹی صدی میں یونانی تصورات کو قبول کرنا تھا جن کو سائنس نے قبول کرنے سے انکار کیا۔ اس پر ڈاکٹر صاحب نے کوئی مثال نہیں دی مگر آگے چل کر (کسی اور مضمون میں) استخراجی منطق کے بارے میں ڈاکٹر صاحب نے ایسی گفتگو کی ہے کہ یہ یونانی علوم کے مسلمانوں پر اثرات کا نتیجہ ہے۔

دوسرے مضمون میں اپنی اسلام کی تفہیم نو والی بات کو زیادہ کھل کر بیان کیا ہے اور تقلید کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس تقلیدی سوچ کو چھوڑے بغیر یہ کام نہیں سر انجام دیا جا سکتا۔ اس مضمون میں انھوں نے اعتزال، اشاعرہ اور صوفیاء پیراڈایم کا ذکر کیا ہے جو کہ بالعموم مسلم علمی تاریخ کے پیرا ڈائم کہا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ بیسویں صدی میں اشعریت کی ایک شکل تو روایتی لوگوں کی ہے مولانا اشرف علی تھانوی اور قاری طیب قاسمی جیسے لوگ اس کے ترجمان ہے ان کا تشکیل جدید کا نظریہ یہ ہے کہ مسائل تو قدیم ہوں اور دلائل جدید جس کے ذریعے ہم خلافت الٰہی کا حق ادا کرسکیں۔

ایک دوسرا گروہ جو ظاہری طور پر روایتی فکر سے مختلف ہیں مگر اصل کے اعتبار سے یہ روایت پسند ہی ہیں یہ کہتے ہیں کہ اسلام فقط مذہب نہیں بلکہ مکمل نظام حیات ہے مگر یہ متقدمین کی فکر سے انحراف نہیں کرتے یہ بھی نئی تفہیم کے قائل نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اس فکر کا ترجمان مولانا مودودی اور مفتی عبدہ کو کہا ہے۔

عقلیت پسندی جس کا بیڑہ پہلے معتزلہ نے اٹھایا ہوا تھا ہندوستان میں جدید عقلیت پسندی سرسید احمد خان سے شروع ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ سرسید نے اسلامی فکر کو یونانی فلسفے کے چنگل سے آزاد کرانے کی کوشش کی اور علامہ اقبال کے لیے راہ ہموار کرنے والے سرسید ہیں۔ علامہ اقبال یونانی فلسفے اور جدید مغربی فلسفے پر سرسید سے زیادہ اچھی طرح باخبر تھے انھوں نے یونانی منطق سے اسلامی فکر کو آزادی دلا کر اسلام کی تفہیم نو کی بات کی۔ اور انھوں نے اسلام کی تفہیم کے لیے تاریخی تفہیم کا راستہ اختیار کیا۔ اقبال کا خیال یہ تھا کہ ہر نسل اپنے سے پیشتر نسل کے کاموں سے روشنی تو ضرور حاصل کرے مگر اپنے مسائل خود حل کرے یہی وہ مرکزی خیال تھا جسے ڈاکٹر فضل الرحمان نے اسلامی تفہیم میں استعمال کیا۔ ڈاکٹر فضل الرحمان بقول ڈاکٹر منظور احمد کے نہ تو اقبال کے متبع ہیں نہ سرسید کے مگر ان پر ان کی عقلیت پسندی کا اثر واضح تھا۔ اس عقلیت پسندی کے رجحان کو ڈاکٹر صاحب بھی پسند کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہی وہ گروہ ہے جس سے اسلام کی تفہیم نو صیح معنوں میں ہو سکتی ہے۔

اپنے ایک اور مضمون (اسلام، قانون اور اخلاقیات)میں ڈاکٹر صاحب نے دستور میں شامل حاکمیت الٰہی کے تصور پر بھی تنقید کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی، پھر یہ بات بھی تشریح طلب رہ جاتی ہے کہ اس حاکمیت میں سے جو اللہ تعالی کے لیے خاص ہے وہ کس طرح اس کا ایک حصہ کسی انسان کو تفویض کرتا ہے پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ایک مسلمہ امر ہے جس کو سیاسی فلسفہ بنانے کی قطعاً ضرورت نہیں تھی اس کا نقصان یہ ہوا اسلام کی روحانی جہت کو نظر انداز کرتے ہوئے سارا زور قانون سازی پر لگا دیا گیا پھر آگے چل کر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نظریہ کہ اسلامی قانون کا اصل منبع ارادہ الٰہی ہے یہ تصور کتابی مذاہب میں یہودیت سے ملتا ہے کیونکہ یہود بھی قانون کو غیر مبدل سمجھتے تھے کیونکہ وہ خدا کی طرف سے نازل ہوا۔

اس ہی مضمون میں ڈاکٹر صاحب نے مقاصد شریعت کے تصور پر بھی بات کی ہے اور کہا کے معاشرے کی اخلاقی اور اقداری تفہیم کے ساتھ مقاصد شریعت کو مدنظر رکھ کر قانون سازی کی جائے۔

اپنے مضمون (اسلام اور پاکستان) میں ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ قائد اعظم اور قدامت پسند علماء کے درمیان اس چیز کا اختلاف تھا کہ پاکستان کو کیسی ریاست ہونا چاہیے قائد ایک جدید ریاست کے خواہاں تھے۔

اس مضمون میں انھوں نے یہ بھی لکھا کہ مولانا مودودی نے 1950 میں ایک کتاب “مسئلہ ملکیت زمین” لکھی جس کا مقصد مشرقی پاکستان میں سوشلزم کی سوچ کو بڑھنے سے روکنا تھا۔

ایک اور مضمون (چند توجہ طلب مسائل) میں انھوں نے اجتہاد کی بات کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رح نے سنت کو حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اجتہاد کی حیثیت سے سمجھنے کی بات کی ہے اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب فرمایا تھا کہ ہمارے لیے کتاب اللہ کافی ہے تو اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے فیصلوں کو مجتہدانہ سمجھتے تھے۔ یہ ڈاکٹر صاحب کا وہ نظریہ ہے جو کہ ان کی تجدد پسند سوچ کا حامل بناتا ہے کیونکہ حدیث اور سنت کو اگر ہم آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کا فقط اجتہاد قرار دیں تو ان کی حیثیت کبھی بھی اس اہمیت کی حامل نہیں رہتی جو ہماری تہذیب و روایت کا حصہ رہی ہے۔ رہی بات حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فرمان کی تو وہ اگر سیاق وسباق میں دیکھا جائے تو ڈاکٹر منظور کا مقدمہ مشکل سے ثابت ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بالعموم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلوں کی تعریف کی ہے اور ان کے اجتہاد کو اپنی تفہیم نو کی ایک دلیل بنایا ہے۔

اس مضمون میں ڈاکٹر صاحب نے ناسخ و منسوخ، مقاصد شریعہ، ربا، ختم نبوت، رد تشکیل اور تشکیل نو (deconstruction& reconstruction) کی بات کی ہے۔

اپنے مضمون (تعلیمی مسائل) میں انھوں نے علوم کو اسلامیانے (Islamization of knowledge) پر بھی تنقید کی ہے۔

اپنے آخری مضمون میں تصور خدا پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عہد نامہ عتیق میں ہم کو خدا کے تصور کا ارتقاء ملتا ہے وہ کہتے ہیں کہ عہد نامہ عتیق کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے خدا اور یسعیاہ نبی کے تصور خدا میں فرق ہے گوکہ واحدنیت مشترکہ صفت ہے لیکن جس طرح ایک قبائلی سردار سے ایک ہزار سال بعد ایک تہذیب یافتہ معاشرے میں رہنے والا ایک عالمی مفکر مختلف ہوتا ہے خدا کا تصور ایک مشترکہ مرکز کے باوجود معاشرے کے ساتھ ترقی کرتا رہا۔ اگر ہم ارتقاء کا انکار کریں تو لازم آتا ہے کہ حضرت سیدنا ابراہیم اور حضرت یسعیاہ علیہم السلام کا الگ الگ خداؤں کی بات کر رہے ہیں۔

اسی مضمون میں پھر شرک اور صنم پرستی پر بھی بات کی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ فقط بت پوجنا بت پرستی نہیں بلکہ کسی کو بھی وہ اللہ تعالیٰ کا حق دینا بت پرستی ہے چاہیے ہم خدا کا حق ایک ادارے کو دیں، ایک فرد کو، ریاست کو یا کسی اور طاقت کو سب صنم پرستی کی مختلف شکلیں ہیں۔

اس مضمون میں دوسرے کتابی مذاہب بالخصوص یہودیت کے تصور خدا پر کافی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے مگر ڈاکٹر صاحب کی فکر میں اصل اختلافی بات اس تصور میں ارتقاء کو ماننا ہے۔ اس کی تفصیلات میں تو کچھ ممکن ہے مگر بنیادی تصور توحید سب انبیاء علیہم السلام کا مشترکہ ہے۔

متنوع موضوعات پر جدیدیت پسند نقطہء نظر سمجھنے کے لیے اہم کتاب کہی جا سکتی ہے لیکن اگر آپ کا علم میری طرح سطحی ہے تو کسی کی راہنمائی ضرور حاصل کریں۔ مجھے خصوصی طور پر اس بارے میں برادر فیصل ریاض شاہد صاحب کی مدد حاصل رہی اب بھی کئی باتیں مزید سمجھنے کی ضرورت ہے اور ایسے کئی عنوانات کو میں یہاں لکھ نہیں سکتا جو اس کتاب کا حصہ ہیں جب اس قابل ہوا تو پھر کسی تحریر میں لکھ لوں گا۔

(Visited 72 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: