صنم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جویریہ سعید

0

انسان اپنی شخصیت کا تاج محل بہت محنت سے تیار کرتا ہے… اپنی پسند کے پتھر ڈھونڈ کر لاتا ہے اور اپنی پسند کے کونوں میں نصب کرتا ہے..خوبیوں کو نمایاں کرتا ہے اور خامیوں کو چھپاتا ہے.. اپنا یہ محل اسے بہت محبوب ہوتا ہے..اس کے بارے میں اسے صرف ستائشی جذبات کی چاہ ہوتی ہے…. اسی طرح جیسے کسی تقریب میں سجی سجائی ہر لڑکی خود کو اپسرا خیال کرتی ہے. اپنی خامیوں کو آرائشی طریقوں سے کچھ اس طور چھپاتی ہے کہ پھر وہ خود بھی بھول جاتی ہے کہ اس میں کوئی کمی تھی. واہ واہ کے علاوہ اور کس کی چیز کی خواہش ہوتی ہے جس کے سبب وہ بے خودی میں اس طرح اٹھلاتی پھرتی ہے کہ اسے پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب اس کے لمبے لبادے میں الجھ کر کانچ کا وہ نازک گلدان زمین پر گر کر چکنا چور ہو گیا.
عموما اس یقین میں دراڑیں کوئی اور ڈالتا ہے. کوئی انگلی اٹھا کر کسی عیب کی طرف اشارہ کرنے والا.. مگر اس عمارت کی تعمیر میں  بزعم خود صحیح ہونے اور خود پسندی کا جو مسالا استعمال ہوتا ہے وہ اس نشاندہی کی روشنی میں خود احتسابی کی مزاحمت کرتا ہے. انسان عموما ایسی کوششوں پر برافروختہ ہو جاتا ہے. اعتراف کے بجاے اصرار کرتا ہے.

اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان "تو” کے آئینے میں” من ” کو دیکھتا ہے .ایسے میں اسے اپنی خامی ازخود نظر آتی ہے. بہت چپکے سے دکھائی دینے والی اپنی ہی اس بدصورتی کا احساس زیادہ اثر انگیز ہوتا ہے اور اصلاح پر آمادہ کرنے میں اس کا کردار زیادہ ہوتا ہے.

واقعہ یہ ہے کہ وہ ایک معمول کا کیس تھا. تشخیصی لحاظ سے کوئی پیچیدگی نہیں تھی.جنوں کا پہلا حملہ تھا اور مرض کی علامتیں اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود تھیں. مزاج میں جارحیت، حد سے بڑھی ہوئی خود پسندی، مسلسل بے خوابی اور بے خودی کی حدوں کو پہنچتے تلاطم خیز جذبات . اسپتال کے عملے کے لئے فکر مندی کی بات یہ تھی کہ وہ نو عمر تھی اور کسی کے قابو میں نہیں آرہی تھی. اسے مختلف مسکن  ادویات دی گئیں تھیں، مگر وقتاً فوقتاً وہ آپے سے باہر ہو جاتی اور اپنے کپڑے پھاڑدینے کی کوشش کرتی. لا محالہ اسے اس کے بستر تک محدود کرنا پڑا تھا. فکر مندی کی وجہ صرف مریضہ نہیں تھی بلکہ اس کے متعلقین بھی تھے. سرکاری اسپتال میں مریضوں کو علیحدہ کمروں کی عیاشی نصیب نہیں ہوتی.محض زنانہ اور مردانہ وارڈ الگ ہوتے ہیں اور وارڈ کیا ہوتا ہے؟ ایک بڑے کمرے کو سارے ہی مریض مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں. اخفا ، تخلیہ اور اپنے مسئلہ تک محدود رہنا خواب و خیال ہوا کرتا ہے. جس طرح ریل کے سفر میں کچھ دیر بعد سب ہی ایک عجیب مانوس سے رشتے میں بندھ جاتے ہیں، یہی حال سرکاری اسپتال کے وارد میں موجود مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کا ہوتا ہے.

ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں اور خصوصا نرسوں کو اس مریضہ کے متعلقین سے شکایات تھیں. اس کیفیت میں مبتلا ایک نو عمر لڑکی کو جس توجہ اور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے متعلقین اس درجہ حساسیت کا مظاہرہ نہیں کر رہے تھے. وقتاً فوقتاً شکایات کرتے، کبھی اس کے پاس موجود نہیں ہوتے. اس کی بہن جو عمر میں اس سے بڑی تھی. مردانہ وارڈ کے رہائشیوں سے گفتگو کرتی پائی جاتی اور کبھی ان کے حوالے سے شکایات اور شکوک و شبہات کا اظہار کیا کرتی . والد صاحب شاذ ہی نظر آتے.

اور پھر ان ساری شکایات کے پس منظر کے ساتھ میں نے اس کی ماں کو دیکھا. وہ درمیانی عمر کی ایک بے حد فربہ عورت تھی. بے ہنگم سا حلیہ. پرانا شکن الّود لباس ،عملے سے گفتگو کے دوران بہت اضطراب اور بے قراری کا مظاہرہ کرتی. مریضہ کی کیفیت سے زیادہ اپنی پریشانی کا تذکرہ کرتی. طبیب ہونے کے ناطےمیری ہمدردیاں مریضہ کے ساتھ تھیں. اس کی کیفیت کے حوالے سے سمجھاتے اور ہدایات دیتے جب اس کی ماں پھٹی ہوئی آنکھوں کے ساتھ بے تحاشہ بولنے کے سبب اپنی بیٹھی ہوئی آواز میں ہڑبڑا کر کہتی، "نہیں ! میں اس کا خیال نہیں رکھ سکتی، یہ مجھے مار دے گی، یہ مجھ پر حملہ کر دے گی. بس اس کا کچھ کریں، میں نہیں خیال رکھ سکتی ". تو اپنی تمام تربیت اور بزعم خود عالم فاضل ہونے کے باوجود اس عورت کی طرف سے طبیعت مکدر ہونے لگتی. جب ڈاکٹروں کو محسوس ہوتا کہ شاید علامات کی شدت میں کچھ کمی ہے لہٰذا اس کی بندشوں کو کھول دینا چاہیے تو یہ اس کی ماں ہی تھی جو اصرار کر کے اسے پھر مقید کروا دیتی.

اس روز ہوا یہ تھا کہ راؤنڈ کے دوران اس کی بندشوں کو کھول کر صرف ادویات کے ذریعے کنٹرول کرنے کا فیصلہ ہوا، اور پھر دو پہر کے کھانے کے فورا بعد ہی اس کی ماں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا. حسب معمول اس کی آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں اور وہ اپنی بیٹھی ہوئی آواز میں تیز تیز بول رہی تھی.

"یہ دیکھو، یہ مجھے مار دے گی.. اس نے مجھ پر حملہ کر دیا ہے. اس نے مجھے کس بری طرح نوچا کھسوٹا ہے. اففف ! میرے سینے میں کس بری طرح درد ہو رہا ہو رہا ہے. اس کو باندھ دو، بس اس کو باندھ دو. "!

مریضہ کو پھر دھیرے دھیرے ٹھنڈا کیا گیا، وہ بے خودی میں ہنس رہی تھی. اسے گفتگو سے بہلایا گیا. ادویات گئیں. مگر ماں کے بے حد اصرارپر اور نہ باندھنے کی صورت میں بھاگ جانے کی دھمکی پر مریضہ کو دوبارہ باندھ دیا گیا. اس کی ماں کی پھر بھی تسلی نہیں ہوئی. وہ اس کے قریب جانے کو تیار نہیں تھی.اس کا اصرار تھا کہ اس کی اپنی حالت بہت خراب ہو گئی ہے. بلڈ پریشر چیک کیا گیا جو کہ واقعی بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا. ضروری ادویات دی گئیں. سینے کے زخم کے لئے شعبہ جراحی میں بھیجا گیا. تفصیلی طبی معائنہ کے لئے پہلی فرصت میں میڈیسن کی او پی ڈی جانے کی ہدایت دی بلکہ پرچہ بھی بنا کر دیا گیا. اور پھر دیر تک بیٹھ کر سمجھایا گیاکہ سینے کے اس معمولی زخم سے کوئی مر نہیں جاتا. مریضہ کی حالت کے بارے میں بتایا اور اس کی بہتری کے حوالے سے امید دلائی گئی.

اور پھر سہ پہر کی سرکتی تھکی ہاری الودا ع کہتی دھوپ کی اوٹ میں جب اسے بینچ پر غافل سوتے پایا تو دل عجیب سی کیفیات سے بھر گیا. وہ لکڑی کی بنچ پر عجیب بےہنگم انداز میں پڑی تھی. کپڑوں کا ہوش نہیں تھا اور دوپٹہ زمین پر ڈھلکا ہوا تھا. تپائی پر کیلے کے چھلکوں، جوس کے خالی ڈبوں اور بہت سی الم غلم چیزوں کا ڈھیر تھا. اس کے برابر میں اس کی بیٹی بندشوں کے ساتھ بستر پر چت لیٹی، چھت کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی. ہنس رہی تھی. اشارے کر رہی تھی اور وہ بے ہوش سوئی ہوئی تھی!

یہی وہ لمحہ تھا جب اونچی مسند پر جمے ، ہاتھوں سے تراشیدہ صنم نے کچھ ناگواری سے جھک کر نیچے لکڑی کی بنچ پر پڑے حقیر مٹی کے پتلے کو دیکھا اور اپنی چمکتی پیتل کی نوک والی آنبوسی چھڑی سے الٹا پلٹا کر اس کا جائزہ لیا. یہ کس قسم کی لاپروا ماں ہے. نوجوان بچیوں کی ماؤں کو تو سنا ہے کہ چار دیواری میں سکون کی نیند نصیب نہیں ہوتی اور یہ یہاں اس چوراہے میں غافل پڑی سو رہی ہے. اس کی نو عمر بیٹی کے بدن پر کس مشکل سے لباس کو باندھا گیا ہے کہ کہیں وہ اس سے چھٹکارا ہی نہ پا لے، اور یہ سوئی ہوئی ہے! اس کی دوسری نو جوان بیٹی کے بارے میں لوگ باتیں کر رہے ہیں اور اسے پروا ہی نہیں؟ اس کا دھیمے لہجے میں بولنے والا شوہر عملے کی ہدایات سن کر خاموشی سے سر ہلاتا ہے، اور دھیرے سے کہتا ہے کہ مجھے اندازہ ہے. بس اس وقت گھر کا ماحول بہت عجیب سا ہو گیا ہے، میں بہت جگہوں پر بٹ گیا ہوں… آئندہ خیال رکھوں گا. تو کس مشکل سے زبان پر ان الفاظ کو آنے سے روکتے ہیں کہ آپ اپنی اہلیہ کو کہیں نا کہ وہ آپکی مدد کریں..اور دل اس شخص کے لئے کتنی ہمدردی محسوس کرتا ہے… اور یہ عورت اس طرح اپنی بیٹی کو بندھوا کر مطمئن سو رہی ہے!!

پیشہ ورانہ مہارت سے ترشے صنم نے بڑی نفاست سے کچھ دیر اپنی چھڑی کی نوک چبھو کر پتلے کو جانچا، الٹا پلٹا. اور پھر افسوس کا اظہار کر کے واپس اپنی اونچی مسند پر براجمان ہو گیا.

دو روز بعد کا ذکر ہے، بہت سی تعلیمی اور پیشہ وارانہ مصروفیات سے فارغ ہو کر جب وارڈ کا چکر لگایا تو دیوار سے لگے اس بستر پر کسی دوسری مریضہ کو دیکھ کر آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں.

"وہ کہاں گئی؟ ابھی اس کی حالت کہاں سنبھلی تھی کہ وہ اسے لے گئے؟ اسے ڈسچارج کیسے کر دیا؟”
اور پھر تجربہ کار ہیڈ نرس نے ازراہ افسوس ہونٹ لٹکا کرجو کچھ کہا اس کے نتیجے میں وہ پتھر کا بت اپنی مسند سے پھسلا اور دھڑام سے زمین پر گر کر چکنا چور ہو گیا.
"تو” کے آئینے میں "من” کا چہرہ ایسا بدصورت تھا کہ پوری ذات لرز کر رہ گئی اور پھر اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ کسی کو جاننے کے لئے انگلی سے چھو کر بھی دیکھنا پڑے تو بے حد ڈر لگتا ہے کہ کہیں اس لمس سے وہ پھر سے ٹوٹ کر بکھر نہ جاۓ!
نرس نے کیا کہا تھا؟ اس نے کہا تھا کہ وہ مریضہ کو گھر لے گئے کیونکہ اس کی ماں مر گئی.
ہاں وہ اچانک ہی مر گئی . اس کا بلڈ پریشر حد سے زیادہ بڑھ گیا اور وہ مر گئی.
پھر اس نے کاونٹر پر سے ایک کاغذ اٹھا کر دکھایا، "یہ دیکھیے ، اس کی چھاتی کی رپورٹ بھی آج ہی آئی ہے. اسے چھاتی کا کینسر تھا. ”
میں نے دور تک بکھرے اپنی شخصیت کے ملبے کو دیکھا. وہ کچرے کا کیسا بدبو دار ڈھیر تھا جو وہاں پھیلا ہوا تھا.

وہ بے حد فربہ، ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتی، پھٹی آنکھوں اور بیٹھی آواز والی بے ہنگم اور لاپروا سی عورت اپنے درد کی کتھا کہے بغیر اتنے فضول طریقے سے مر گئی تھی.

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: