لمحہ حیرت: پاکستان کے موجودہ حالات کا تاریخی تجزیہ (۳) —– محمد خان قلندر

0

اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ ملاحظہ کریں

پاکستان کی تاریخ میں جنرل ضیاالحق کا دور سب سے حیرت انگیز اور عبرت ناک ہے۔
پہلے تیس سال میں مارشل لا اور سویلین مکس نے سیاسی کیپیٹل کا صفایا کر دیا تھا۔ ضیا کے مارشل لا کا نفاذ لگتا تھا کہ انتہائ مجبوری میں کیا گیا۔ بھٹو اور اپوزیشن نے مذاکرات کو اتنا طول دیا۔ ساتھ چند شہروں میں فوج طلب کی گئی۔ لیکن بھٹو کی ایف ایس ایف کے ہوتے فوج امن کی ذمہ داری لینے سے درست طور گریزاں تھی۔ چند سینئر آرمی آفیسر نے استعفی دیئے کچھ معزول بھی ہوئے۔ بھٹو غیر ملکی دورے پر بھی گئے تھے۔ جب یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ پولیٹیکل کلاس حالات ٹھیک کرنے سے عاری ہے۔ ان میں سیاسی بلوغت اور قومی مفاد عنقا ہے تو ملک میں آئین معطل کر کے حکومت کا بوریا بسترا لپیٹ کے مارشل لا لگا دیا گیا۔ نوے دن میں الیکشن نہ ممکن تھے نہ ہونے تھے یہ بس ایک گولی دی گئی۔

جنرل ضیا کا کیرئر عام فوجی جیسا تھا۔ دھیمے مزاج میں دکھائ دیتے۔ اردن میں تعیناتی کے دوران فلسطینی شورش کو وہاں سے ختم کرنے پے دنیا کی نظر میں آئے، ان کا آرمی چیف بننا غیر متوقع اور حیرت ناک امر تھا۔
پاکستان عالمی طاقتوں کے اس خطے میں مفادات کا اہم ترین مہرہ ہے، روس نے افغانستان پر راتوں رات چڑھائ نہی کی تھی۔ یہ کھچڑی تو کابل میں حکومتوں کے ادل بدل سے پک رہی تھی، روس مخالف طاقتیں اس صورت حال سے واقف تھیں اور سد باب کی تیاری کر رہی تھیں ایسے میں پاکستان میں بھٹو کی حکومت شائد انکو موافق نہیں لگتی تھی۔ زبان زدہ عام مثل بھی تھی کہ پاکستان میں حکومت اللہ۔ آرمی اور امریکہ کی مدد سے ہی بنتی اور چلتی ہے۔۔۔

افغانستان میں جب روسی مداخلت کے خلاف جہاد شروع ہوا تو یہاں جنرل ضیا مضبوط ترین ڈکٹیٹر حکمران بن چکے تھے اور اقتدار پر گرفت بہت مضبوط تھی۔ اگلے پانچ چھ سال جہادی جمع ہوتے رہے ڈالر برستے رہے اور جنرل صاحب اسلامی ممالک اور مغربی طاقتوں کی، ، ڈارلنگ، ، بنے رہے۔ جنگ کی آگ دھیمی پڑھنے لگی۔ ریفرینڈم والی مدت بھی ختم ہونے پے آئ۔ عوام بھی اکتانے لگے تو حکومت پر جمہوری پینٹ چڑھانے کی ضرورت پڑی، تو 1985 میں الیکشن کا ڈول ڈالا گیا۔ لیکن نیا تجربہ غیر جماعتی الیکشن کا ہوا۔ اسمبلی میں تھوڑے پرانے اور زیادہ نئے مالدار لوگ آئے کہ سیاسی جماعت کے جھنڈے بغیر الیکشن ذاتی وسائل اور اثر و رسوخ کے بغیر سرکاری مدد سے بھی نہی جیتا جاتا۔

اسمبلی میں محمدخان جونیجو کو وزیراعظم بنا کے حکومتی پارٹی کی شکل دی گئی اور حزب مخالف کا ڈھانچہ بھی کھڑا کیا گیا۔ اوجھڑی کیمپ کا حادثہ ہوا۔ روسی فوج کے انخلا کا معائدہ ہوا۔ بینظیر واپس آئ۔ جونیجو معطل ہوئے۔ نواز شریف اور شہباز شریف ابھرے۔ نُون لیگ بنی۔ اور جنرل ضیاالحق رضائے الہی سے طیارے کے حادثے میں داعئ اجل ہو گئے، اسحاق خان صدر بنے جنرل میرزا اسلم بیگ چیف تھے۔ مارشل لا نہ لگا۔ انہیں تمغہ جمہوریت ملا کہ الیکشن ہوئے، مرکز میں بے نظیر وزیراعظم بن گئیں نواز تخت لاہور پے قابض تھے،
یوں نوے دن میں الیکشن کرانے کا وعدہ دس سال بعد پارٹی بیسڈ الیکشن سے پورا ہو گیا۔

پولیٹکل پارٹیاں تو بحال ہو گئیں۔ لیکن ارکان اسمبلی کا جو خام مال جمع ہوا وہ سنگل آئیٹم۔ دولت سے مزید دولت کا منشور رکھتا تھا۔ پھر چھانگا مانگا ہوا۔ سوات ہوا۔ مری میں پناہ لے دی گئی، ہارس ٹریڈنگ کے میچ ہونے لگے۔
پارلیمانی سیاست کی روح سیاسی جماعت کا ڈسپلن ہے۔ لیڈر سے زیادہ پارٹی کی بنیاد۔ منشور سے وفاداری ہے۔ جب عوام کی نمائندگی کرنے والے سیاسی عناصر کمزور ہوتے ہیں، ان کا سارا زور پچھلے الیکشن کا خرچہ وصولنے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو سرکاری عہدے دلانے اور ترقیاتی فنڈز بٹورنے، اگلے الیکشن کے لئے مال جمع کرنے پر ہوتا ہے تو ریاست کی انتظامیہ بھی کمزور ہو جاتی ہے۔

ہماری تاریخ میں تو عدلیہ بھی اس رنگ میں رنگی جاتی رہی۔ جسٹس منیر سے جسٹس ملک قیوم تک۔ جسٹس رفیق تارڑ کے صدر بننے اور قرب الموت جسٹس سعید الزماں صدیقی کی گورنر کے عہدے پر وفات جیسی مثالیں موجود ہیں۔ دنیا کی عدلیہ کی تاریخ کا انوکھا واقعہ کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی قیادت میں ججوں کی بحالی کے لئے عوامی تحریک چلائ گئی، جس میں کتنے لوگ کراچی اور اسلام آباد میں مارے گئے۔ ہمارے ہی ملک میں ہوا۔

ججز کی ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت کے لئے الیکشن کمشن جیسے ادارے اور ایبٹ آباد و سانحہ مشرقی پاکستان کی انکوائری جیسے متعدد کمشن بھی بنتے ہیں۔
جنرل ضیا کے دور میں کتنی لسانی اور مزہبی تنظیمیں وجود میں آئیں کراچی میں مہاجر قومی موومنٹ متحدہ کے نام سے سیاست میں وارد ہوئ۔ دہشت گردی کو باقاعدہ وسیلہ روزگار بننے کا موقع ملا۔ رہی سہی کثر جنرل مشرف کے مارشل لا نے نکال دی۔

نواز شریف نے جنرل جہانگیر کرامت سے آرمی چیف کی پوسٹ سے استعفی لیا۔ اس سے پہلے بھی انکی کسی آرمی چیف سے ہم آہنگی نہیں تھی۔ وہ بطور وزیراعظم سخت احساس کمتری کا شکار رہتے کہ انکا رعب دبدبہ سپہ سالار اعظم جیسا کیوں نہیں ہے ! وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ فوج کا اثاثہ ڈسپلن ہے جبکہ ان کی سیاسی بساط کے مہرے راتوں رات پارٹی بدلنے کے عادی ہیں۔

مشرف کے دور میں جب عدلیہ کی عطا کردہ مطلق العنان اقتدار کی مدت جس میں وہ آئین میں ترمیم کے حامل تھے ختم ہوئ، ریفرنڈم ڈرامہ بھی مشکوک ٹھہرا۔ امریکہ کی افغانستان پر چڑھائ کی غیر مشروط معاونت کے باوجود دنیا میں پذیرائ کے لئے جمہوری لبادہ ضروری ہو گیا۔ ساتھ دہشت گردی کی سخت لہر کا مقابلہ کرنے کے لئے عوامی حمایت لازم ہوئ تو پہلے انہوں نے بلدیاتی نظام بدل ڈالا۔ ناظمین کا انتظامی کیڈر متعارف کرایا، ڈپٹی کمشنر کے آفس کو کمزور کر کے پوسٹ آفس بنا دیا۔ اس تبدیلی کے فوائد تو تھے لیکن صوبائ حکومت سے مالیاتی وسائل اور اختیارات کی منتقلی نہ ہونے سے ادھورے رہے۔ جنرل الیکشن سے بچے کھچے تجربہ کار سیاسی عناصر کو باہر رکھنے کے لئے گریجویشن کی شرط متعارف کرا دی۔

اس مسلسل سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا قدرتی نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کی سیاست مادر پدر آزاد ہو گئی۔ سیاست اور سرمایہ کاری یکجا ہو گئیں۔ سوسائیٹی کا باہمی عمرانی تعلق ختم ہو گیا۔ اس وجہ سے۔
جنرل مشرف کی اقتدار پر گرفت کمزور ہو گئی۔ این آر او بظاہر بے نظیر اور جنرل مشرف میں ہوا لیکن واپس آنے کی اجازت کے علاوہ پیپلز پارٹی سے زیادہ فائدہ کراچی کی لسانی تنظیم کے قید اور سزا یافتہ عناصر کو ملا۔

بے نظیر کی واپسی سے نواز شریف فیملی کے واپس آنے کی راہ ہموار ہوئ، دونوں واپس آئے۔ بے نظیر کی پنڈی جلسے سے واپس ہوتے دہشت گردی میں شہادت ہو گئی۔
اور پاکستان کی سیاست یتیم ہو گئی۔
سیاسی عناصر نے اپنے اختیارات۔ پارلیمان میں ہر مسئلے کو بحث تمحیث سے حل کرنے کے، کچھ فوج کو۔ عدلیہ اور انتظامیہ کو سرینڈر کر دیئے۔ اداروں کی فرائض متعین ہیں۔ حدود و قیود ہیں، ہر مسئلہ ہر ادارہ حل نہی کر سکتا اسی لئے جمہوریت میں سیاست دانوں کا رول ہے،

Politicians are not bound by the boundaries, they are the pulse of society
They are in the people, work with people, for the people,
Generals have guns, judges have pens and administrators have rules but the politicians have the wisdom of folks , they can strive to solve all and any problem according to the need and wishes of public , none else can do it.

ہم نے بتدریج سیاست کو امانت سے خیانت میں بدل ڈالا ہے۔ آج کیا ہمارے سیاسی لیڈر اپنے ذاتی مفاد کے لئے دست و گریباں نہیں ہے ؟ اس ماحول میں عوام کا کیا کوئ بھی پرسان حال ہے ؟

نہیں ناں۔ تو اب عوام کو خود ان پارٹیوں اور انکے ذمہ دار نمائندوں کا محاسبہ کرنا ہو گا۔۔ کیسے ؟
جاری۔۔۔۔۔

(Visited 78 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: