اور ہمیں کیا تھوڑے غم تھے، تیرا عشق مزید ہوا —— غزالہ خالد

0

لینڈ لائن ٹیلی فون قصۂ پارینہ ہوئے۔ موبائل کی آمد ہوئی تو بڑی خوشی ہوئی کہ اب تار کی پابندی سے آزادی ملی ورنہ جب بچے چھوٹے تھے اور کسی کا فون اجاتا تو اکیلے گھر میں ایک مشکل ہو جاتی بچے بھی سمجھدار تھے انہیں پتہ ہوتا کہ اب اماں جلدی ریسیور چھوڑ یں گی نہیں اس لئے ایسی ایسی شرارتیں کرتے کہ فون پر بات کرنا دشوار ہو جاتا۔

موبائل کی آمد پر سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہی ہوئی کہ اب چلتے پھرتے مزے سے خوب دیر تک بات کیا کریں گے، نہ ہنڈیا جلنے کی فکر اور نہ بچوں کے پیچھے پیچھے پھرنے کا مسٔلہ مزے ہی مزے ہونگے ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ جادو کی پڑیا آیندہ کیا گل کھلا نے والی ہے، سیانے بالکل صحیح کہتے ہیں کہ زندگی میں آنے والی ایک آسایش اپنے ساتھ دس پریشانیاں بھی لاتی ہے شروع شروع کے دنوں میں اینڈروئیڈ موبائل عام نہیں تھا اس لیے بس چارجنگ کی فکر اور وقت پر بیلنس لوڈ کرانے کا مسٔلہ ہی ہوتا تھا اور موبائل زیادہ تر دوسروں کے کبھی کبھار آنے والے فون سننے یا گھر سے باہر دوسروں سے رابطہ رکھنے کے کام ہی آتا پھر موبائل کمپنیوں نے “اور سناؤ” ” پوری رات بات کرتے جاؤ ” قسم کےطرح طرح کے پیکجز متعارف کرادے جس میں نہایت کم پیسوں میں ایک گھنٹہ بات کر سکتے تھے حضرات نے تو اس کا فایدہ صرف گرل فرینڈز سے بات کرنے کی صورت میں اٹھایا لیکن خواتین کے مزے ہو گئے گپیں، غیبت، چغلی، ادھر کی ادھر کرنے کے لیے گھنٹہ پیکج بھی کم پڑتے اور اس وقت ایک گھنٹے بعد لائن خود بخود بھی نہیں کٹتی تھی اس لیے ایک آدھ گھنٹے بعد بیلنس کم ہونا شروع ہو جاتا آور نتیجہ زیرو بیلنس کی شکل میں نکلتا، پھر ایس ایم ایس شروع ہوئے۔

زندگی یوں ہی مسکراتی رہے
ایس ایم ایس کے بہانے ہماری یاد آتی رہے

قسم کے شعر اور لطائف ایک دوسرے کو بیس روپئے میں سو ایس ایم ایس کے پیکجز لیکر بھیجے جانے لگے اور ہر طرف بیپ بیپ کی صدائیں گونجنے لگیں۔

اور پھر اینڈرائڈ موبائل عام ہوا اور بس اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی فیس بک استعمال کرنے کے لئے کمپیوٹر کی ضرورت نہ رہی، گانے سننے اور فلمیں دیکھنے کے لئے ٹیپ ریکارڈر اور وی سی آر کی ضرورت نہ رہی آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں کباڑ میں بکنے لگیں، کیلکولیٹر کا زمانہ پرانا ہوا اور سب سے زیادہ کیمرے بے وقعت ہوئے اچھے سے اچھے کیمرے گھر میں پڑے رہ گئے اور موبائل کے کیمروں نے دھوم مچادی، سیلفی کانیا لفظ زبان زدوعام ہوا اوراس کے ساتھ ہی سیلفی کا بخار بھی پھیلا، گھر سے نکل کر دیکھیں تو شادی بیاہ ہو یا عقیقہ، پکنک پوائنٹ ہو یا بازار، پیدائش ہو یا موت ہر طرف تصویریں کھینچی جارہی ہیں، جسے دیکھو منہ کی چونچ نکالے سیلفی لینے میں مصروف ہے سیلفی جو اپنی ہی لی جاتی ہے خود ہی دیکھی جاتی ہے خود ہی اس پر نثار ہوا جاتا ہے اور پھر فیسبک اور واٹس اپ پر لگا کر زبردستی تعریفیں سمیٹی جاتی ہیں جو دیکھنے والوں کو کرنی ہی پڑتی ہیں کیونکہ”اس ہاتھ دے اور اس ہاتھ لے” والا معاملہ چل رہا ہوتا ہے خیر تو مزید آگےبڑھتے ہیں کہ واٹس ایپ بھی متعارف ہوگیا اور ہم زیادہ مصروف ہوگئے کیونکہ واٹس ایپ پر ڈھیروں گروپ بن گئے سسرالی گروپ الگ تو میکہ کا گروپ الگ، محلے کی دوستوں کا الگ تو کالج کی پرانی دوستوں کا الگ، ننھیالی کزنز کا الگ تو دودھیا لی کزنز کا الگ، ایک دور کے رشتے داروں کا تو ایک قریب کے رشتے داروں کا غرض فرصت ملنا مشکل ہو گئی، انسٹا گرام کا پتہ چلا تو لگے ہاتھوں اس پر بھی نمودار ہوگئے کہ چلو موبائل میں ایک اور سہولت ہے تو اس کا بھی فائدہ اٹھالیں اور کچھ نہیں تو دوسروں کے بچوں پر ہی نظر رکھ سکیں گے بڑوں کاکام ہی بچوں پر نظر رکھنا ہوتا ہے، سیاست سے لگاؤ کی وجہ سے ٹویٹر پر بھی چھلانگ لگا دی اور بڑے بڑے سیاسی لیڈران کو فالو کرنا شروع کر دیا اب حالت یہ ہے کہ کچھ دن پہلے تک جو خواتین اپنے بچوں سے نالاں تھیں کہ ٹائم نہیں دیتے اب خود موبائل ہاتھ سے رکھنے کو تیار نہیں ہوتیں گھر کی محفلیں جو روز رات کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرنے کی ہوتیں وہ ختم ہوگئیں اگر گھر کے سب لوگ ایک ساتھ بیٹھ بھی جائیں تو اپنے اپنے موبائل میں گم ہوتے ہیں گھر میں کس کی طبیعت خراب ہے یہ معلوم ہو نہ ہو امریکہ میں رہنے والے رشتے دار کو صبح سے چھینکیں آرہی ہیں یہ پتہ ہوتا ہے قریب رہنے والے دور اور دور رہنے والے قریب ہو گئے۔

زندگی جہد مسلسل ہے جس میں دس جھمیلے پہلے ہی تھے مزید مشکل ہوگئی ہم اگر صرف اپنے یعنی خواتین کے حوالے سے ہی بات کریں تو اب تو یہ حال ہے کہ صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے موبائل دیکھا جاتا ہے کہ واٹس ایپ تو چیک کرلیں کہیں کوئی ضروری میسج نہ آیا ہوا ہو عموماً کوئی ضروری میسج نہیں ہوتا موبائل واپس رکھتے وقت پھر خیال آتا ہے کہ ذرا اک نظر فیس بک ہر بھی ڈال لیں وہ دیکھتے ہی دو سیکنڈ انسٹا کو دیکھتے چلنے کو دل مچل جاتا ہے اس سے فارغ ہوں تو سوچتے ہیں کہ ذرا ٹویٹر کو بھی دیکھ لیا جائے شاید آج کسی لیڈر نے کوئی عقل کی بات کردی ہو اس کے بعد بھی بادل ناخواستہ موبائل ہاتھ سے رکھا جاتا ہے۔ یقین کریں خود کھانا کھائیں یا نہ کھائیں اس کو چارجنگ پر لگانا نہیں بھولتے، والی فایٔ کی ڈیوائس کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھتے ہیں کہ کہیں ہل نہ جائے کسی کے پہنچ کر سب سے پہلے اس کی خیریت پوچھیں نہ پوچھیں پاس ورڈ ضرور پوچھتے ہیں۔

ہم خواتین کے لیۓروزانہ کے گھریلو جھمیلے مثلآ آج کیا پکے گا سے لیکر بچوں کی فیسیں، تعلیم، رشتے ناطے، میکے و سسرال کی زمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اس موبائل کی زمہ داری ایسی بڑھ گئی ہے کہ اس کو چھوڑنا بھی ناممکن ہے کیونکہ” چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی” اب تو تمام عمر اس کا ساتھ نبھانا ہی ہوگا بس اس سے یہی کہہ سکتے ہیں کہ
“”اور ہمیں کیا تھوڑے غم تھے تیرا عشق مزید ہوا “

(Visited 332 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: