پاکستان میں کھیلوں کی تباہی —– قانون فہم

0

بلاشبہ پاکستان وسائل کے اعتبار سے اپنے قیام کے وقت سے ہی مسائل کا شکار رہا ہے۔ اور پاکستان میں کھیلوں کی تنظیموں کی سرپرستی اس لیول پر کبھی بھی دستیاب نہیں رہی ہے جس لیول پر دیگر ممالک میں کھیلوں کے لیے وسائل اور سرپرستی مہیا ہوتی ہے۔ مگر پاکستانی قوم کا کھیلوں کے میدان میں ایک خاص وقت میں ایک بہت بڑا نام تھا۔ خصوصی طور پر سال 1979 سے لے کر سال 1992 کے دوران پاکستان میں مختلف کھیلوں میں گراں قدر کامیابیاں حاصل کیں۔ پاکستان کی ہاکی اور سکواش کو کم از کم تین عشروں تک ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا۔

کرکٹ۔ سنوکر۔ باکسنگ اور دیگر کئی کھیلوں میں پاکستان کے کھلاڑیوں نے غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے بین الاقوامی سرکٹ میں اپنا نام اور پاکستانی پرچم بلند رکھا۔

اس تمام صورتحال کے پیچھے جہاں مختلف افراد کی انفرادی کاوشیں بہت زیادہ نمایاں تھی وہاں ایک حکومتی پالیسی نے بھی پاکستان کی سپورٹس کو روشن بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ 1974 میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایک قانون بنایا۔ جس کے تحت ہے پاکستان کے تمام مالیاتی ادارے اور قومی ادارے مختلف کھیلوں کی اپنی ٹیمیں بنانے پر پابند بنائے گئے۔ اور کھلاڑیوں کو ایک مخصوص تعداد میں اعلی ترین ملازمت مہیا کرنے کی پابند کر دی گئیں۔

اس قانون کے بعد اس زمانہ میں نیشنل سرکٹ میں کھیلنے والے کسی بھی کھیل کے کھلاڑی کو باآسانی گریڈ 22 کی تنخواہ کے برابر کی نوکری سفر خرچ اور بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے لیے سرپرستی بلاطلب دستیاب تھی۔

اس قانون کے تحت درجنوں مالیاتی ادارے اور قومی کمپنیوں مثلا قومی ملکیت میں لے گئے تمام بینکوں۔ پی آئی اے۔ پی ایس او ریلوے اور دیگر کئی اداروں نے مختلف کھیلوں کی سرپرستی کے لئے بڑی مقدار میں بجٹ مختص کیا اور کھلاڑیوں کو اچھا روزگار دیا۔
اس صورتحال میں معاملات کچھ یوں ہوئے کہ قومی سطح پر پہنچنے والے نوعمر کھلاڑیوں کو جن کی تعداد ہر کھیل میں سینکڑوں تک تھی نمایاں نظر آتے ہی اس وقت کے گریڈ22 کے برابر کی نوکری مل جاتی۔

مثال کے طور پر اگر قومی سطح پر کرکٹ کی بارہ بڑی ٹیمیں بنائی گئیں تو کم ازکم اڑھائی سو کرکٹ کھیلنے والوں کو اپنے کیریئر کے انتہائی آغاز میں ایک اعلیٰ ترین سٹیٹس۔ روزگار اور کیریئر دستیاب ہوتا۔

اس طرح سکول کی سطح پر نوجوانوں کے لیے کھیل کو بطور کیریئر۔ پیشہ اپنانے کا ایک کھلا راستہ دستیاب ہوتا تھا۔
پاکستان کی قومی بدقسمتی کی انتہا اس وقت ہوئی جب ایک معجزاتی، حادثاتی طور پر پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم نے 1992 میں کرکٹ ورلڈ کپ جیت لیا۔

اس وقت پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف تھے اور کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان تھے۔ دونوں افراد ذاتی شہرت کی خواہش میں جھلستی ہوئی شخصیات تھیں۔ دونوں ذاتی طور پر اپنی شہرت کے اس قدر بھوکے تھے کہ اپنی خود نمائی کے لیے اوچھی سے اوچھی اور گھٹیا سے گھٹیا حرکت کرنے کے عادی تھے۔

کرکٹ جو ایک ٹیم ورک کے ذریعے کھیل اور جیتا جانے والا کھیل ہے اسے انفرادی کامیابی کی طرح پیش کیا گیا۔ ایک سازش کے ذریعے یہ ثابت کیا گیا کہ کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے کے لیے باکسنگ کے کھیل کی طرح ایک باکسر عمران خان اور ایک کوچ میاں محمد نوازشریف دونوں نے انتہائی ذاتی اور شخصی کاوش کرکے ورلڈ کپ جیتا ہے۔

قومی ٹیم جب کرکٹ ورلڈ کپ لے کر پاکستان پہنچی تو وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اس کی اعزاز میں ایک استقبالیہ وزیراعظم ہاؤس میں منعقد کیا۔

یہ استقبالیہ پاکستان میں کھیل کی تاریخ کا ایک بھیانک اور تاریک ترین واقعہ بن کر رہ گیا ہے۔ کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان جو زخمی ہونے کی وجہ سے کرکٹ ورلڈکپ میں کوئی خاص حصہ نہ لے سکے تھے مگر بطور کپتان لابنگ اور سیاست کی وجہ سے ٹیم سے چمٹے رہے تھے۔ انہیں سیاسی وجوہ کی بنیاد پر ایک مفکر اور دانشور کے طور پر پیش کیا گیا۔ عمران خان نے اپنے معرکہ الآرا خطاب میں قرار دیا کہ پاکستان نے ورلڈ کپ اس لئے جیتا ہے کہ یہاں کوئی نظام وجود ہی نہیں رکھتا اور پاکستان کا کرکٹ کا نظام دنیا کا پست ترین۔ گھٹیا ترین اور ناکام ترین نظام ہے۔ دانشور عمران خان نے یہ بھی بتایا کیا کہ ادارہ جات کی طرف سے کھلاڑیوں کو نوکریاں دینا۔ ان کے روزگار کا بندوبست کرنا اور کھیلوں کی سرپرستی کرنا دنیا کا بدترین غلیظ نظام ہے۔ عمران خان نے اس نظام کی فوری طور پر خاتمہ کا مطالبہ کیا اور وزیراعظم سے کہا کہ اس گندے نظام کو بلا توقف اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔

بدقسمتی سے وزیراعظم سیاست میں نو وارد تھا اور سرمایہ دار طبقہ نمائندہ تھا۔ سرمایہ دار تو ہمیشہ سے بھٹو کی سازشی پالیسیوں کی وجہ سے تنگ تھے اور وہ کھیلوں پر ضائع شدہ رقم کو لایعنی۔ فضول اور بے کار سمجھتے ہوئے قانون کی وجہ سے مجبور تھے۔

وزیراعظم نے بلا سوچے سمجھے عظیم دانشور۔ سکالر۔ فطین کپتان کا یہ مطالبہ منظور کر لیا۔

اس قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی مختلف اداروں نے اپنی کھیلوں کی سرپرستی کے لئے دستیاب فنڈز میں کمی لانا شروع کردی اور ہوتے ہوتے نہ صرف کھلاڑیوں کی نوکریاں بلکہ ٹیمیں تک ختم کردیں۔

1992 تک کی سرمایہ کاری کی وجہ سے اچھے کھلاڑی 2003 / 2004 تک دستیاب رہے.
اسی طرح 1992 میں صرف لاہور شہر میں 300 کرکٹ کلب رجسٹرڈ تھے۔ رجسٹرڈ طریقہ کلب کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کرکٹ ٹیم کو روزانہ نیٹ پریکٹس کرنے کے لئے ایک گراؤنڈ دستیاب تھی۔ میاں محمد نواز شریف کی سرپرستی کی وجہ سے لاہور پلازوں اور سڑکوں کا شہر بنتا چلا گیا۔ آج لاہور جیسے ڈیڑھ کروڑ آبادی کے شہر میں زیادہ سے زیادہ دس کرکٹ ٹیموں کو پریکٹس کے لئے گراؤنڈ دستیاب ہیں۔ بقیہ تمام گراؤنڈز یا تو مافیا کے قبضے میں چلے گئے اور وہاں کئی منزلہ عمارات تعمیر ہوگئیں بصورت دیگر میٹرو اور اورنج لائن کے اسٹیشنز ان پر بن گئے یا ان پر تعمیراتی ملبہ پڑا ہوا ہے۔

آج کے وزیراعظم عمران خان کا تصور یہ ہے کہ کھیلوں کی سرپرستی مقامی حکومتی اداروں کو کرنا چاہیے۔ برطانیہ آسٹریلیا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے مقامی حکومتوں کا بجٹ ہماری پاکستان کی وفاقی حکومت کے بجٹ سے زیادہ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پختونخوا میں ساتواں سال انکی حکومت کا چل رہا ہے۔ مگر وہ ایک بھی بلدیاتی ادارہ کو خوشحال بنانے میں آج تک ناکام رہے ہیں۔ اسی طرح کرکٹ یا کسی بھی دوسرے کھیل کی سرپرستی کے لیے وزیر اعظم کے تصورات محض ہوا میں گھوڑے دوڑانے کے ہیں۔ کرکٹ تو پھر بھی کسی نہ کسی میڈیا یا کارپوریٹ سیکٹر کی سرپرستی کی وجہ سے چل رہی ہے۔ دیگر تمام کھیل وزیراعظم عمران خان کی اس پالیسی کے نتیجے میں مکمل طور پر تباہ اور برباد ہو چکے ہیں۔

ان حالات میں جو بھی لوگ پاکستان میں کھیلوں کی واپسی چاہتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 1974 کی پالیسی کی واپسی کی کوشش کریں بصورت دیگر مقامی حکومتوں کا نظام آئندہ پچاس سال میں پاکستان کو کھلاڑی پیدا کرکے دینے کی اہلیت حاصل نہیں کرسکے گا۔

(Visited 79 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: