قومی زبان: چند نکات —— محمد اسلام نشتر

1

قومی زبان کسی بھی زندہ قوم کی رگوں میں دوڑنے والا خون ہوتا ہے۔ اس حوالے سے تین نکات پر بات کرنا چاہوں گا۔

1 ۔ چومُکھی
آج ارض وطن پاکستان کے خلاف ہمارا دشمن ففتھ جنریشن وار نامی چومکھی جنگ لڑ رہا ہے، اس میں ہماری قومی زبان اس کا پہلا ہدف ہے۔ ایسا ابھی ابھی نہیں ہوا بلکہ قیام پاکستان پر ناکام ہونے کے باوجود دشمن نے اپنا کام جاری رکھا۔ اس نے 1948ء میں ہی ہمارے اندر اردو اور بنگالی کا جھگڑا شروع کرا دیا۔ آپ کو یاد ہو گا دور اندیش بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح اپنی 24 مارچ1948 کی اپنی تاریخی تقریر میں دشمنوں کے لیے ففتھ کالمسٹ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ آج وہی ففتھ جنریشن وار کی صورت میں ہم پر مسلط ہے۔ ہم اس وقت دشمن کی چالوں کو سمجھ نہ سکے اور 1971 کا سانحہ ہمیں دیکھنا پڑا۔

سانحہ مشرقی پاکستان کے فوری بعد جولائی 1972ء میں انہی قوتوں نے اردو اور سندھی کا منا قشہ شروع کرا دیا۔ 1973ء کے آئین میں اس مسلے کو خوش اسلوبی سے طے کر دیا گیا مگر دشمن آج تک ہمیں پاکستانی کے بجائے سندھی، بلوچی، پٹھان اور پنجابی میں تقسیم کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ حالانکہ قومی زبان میرا اور آپ کا آئینی حق ہے جو ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ البتہ بعض سادہ لو لوگ ان مکڑوں کے جال میں پھنس کر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ میری گزارش ہے کہ ان حالات سے ہمیں نہایت دانشمندی سے نکلنا ہے اور دشمن کے ہاتھوں میں نہیں کھیلنا ہے۔

ہماری قومی زبان کے حوالے سے یہ چو مکھی ہمارے زارئع ابلاغ کے علاوہ آج کل کے سماجی ابلاغ کے ذرائع پہ بھی پوری شدومد کے ساتھ لڑی جا رہی ہے۔ ہمیں غلط باتوں کا جواب دینا ہے اور حقائق لوگوں کے سامنے لانے ہیں۔

آج کل ہمارے ٹی وی چینل ، ریڈیو چینل بلخصوص ہماری زبان کو انگریزی بنانے کی بھرپور کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ چینل اپنی زبان بلکہ زبانوں کے اچھے بھلے اور معیاری الفاظ تک کو چھوڑ کر انگریزی الفاظ کی جگالی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس طرح ہماری زبان کو ختم کرنے کی خفیہ کوشش کی جا رہی ہے۔ دشمن اس کے لیے بےتحاشہ رقوم خرچ کر رہا ہے۔ ہم دنیا کی اتنی بڑی زبان کے مالک ہوتے ہوئے اپنے فرض سے غافل بلکہ دشمنوں آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ انہی ملکوں کی تجارتی کمپنیاں اپنا مال ہمیں بھیجتی ہیں لیکن ان سے متعلق معلومات اور تعرف اپنی زبان میں پیش کرتی ہیں۔ دوسری طرف دوسری قوموں کے ساتھ ان کا رویہ مختلف ہے۔ آخر کیوں؟

2 ۔ ترکی زبان اور اردو کے رسم الخط کی سازش
ہماری قومی زبان کے حوالے سے ہمارے ساتھ72 سال سے وہی سلوک کیا جارہا ہے جو ترکوں کے ساتھ گزشتہ صدی کی دوسری دہائی میں کمال پاشا اتا ترک کے ذریعے کرایا گیا یعنی ترکی رسم الخط کی جگہ رومن رسم الخط رائج کر کے پورے ترکی کی راتوں رات ان پڑھ کر دیا گیا تھا۔ انگریز جب برصغیر میں آیا تو ہندستان میں مسلمانوں کی حکومت میں شرح خواندگی اسی نوے فیصد تھی مگر انگریزی زبان نافذ کر کے سب کو ان پڑھ قرار دے دیا گیا۔ گزشتہ 72 سال سے بھی دن رات انگریزی میڈئیم کو رواج دے دے کر اردو رسم الخط کو ہم سے دور کر دیا گیا۔

اس کا نتیجہ ہے کہ آج ہم درست اردو تو درکنار خالص اردو کا ایک جملہ بھی لکھنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ یہ خلیج دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ نہ ہماری زبان رہی اور اب رسم الخط پر ہاتھ صاف کیا جا رہا ہے۔ ہمارے املاء میں یکسانیت باقی نہیں رہنے دی گئی۔ ہر فرد اپنی اردو املاء کا خود موجد اور خود مالک ہے۔ اس میں ہمارے بعض چینل خاصے سرگرم ہیں۔

ترکی کے ساتھ 1923ء میں ہونے والا معاہدہ 2023ء میں ختم ہونے کو ہے۔ ایک صدی میں ترکوں کو تو اپنے نقصانات کا احساس ہو چکا ہے اور وہ اپنے ذی وقار صدر طیب اُردوان کی سربراہی میں اپنا بھلا بُرا سوچ لیں گے مگر ہمارا کیا بنے گا؟

ہمارے ہاں تو حکومت شاید نفاذ اردو کی ذمہ داری سے ہی ہاتھ کھینچے جا رہی ہے۔

3 ۔ نفاذ اردو سے سرکاری سبکدوشی
میری بات کو آپ جہالت یا کم از کم غلط فہمی قرار دے سکتی ہیں مگر اس کا کیا کیا جائے کہ حکومت اپنی بچت سکیم کے تحت نفاذ اردو کے مرکزی ذمہ داری ادارہ فروغ قومی زبان کے ساتھ اردو سائنس بورڈ اور اردو لغت بورڈ کو ضم کرنے کی ایک تجویز پر ڈاکٹر عشرت حسین کمیشن کے ذریعے تیزی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ اگرچہ ان تینوں اداروں کی ذمہ داریاں اور قانونی حیثیت بالکل الگ الگ ہے اور اس کام میں مالیاتی کے ساتھ علمی فائدہ بھی کوئی نہیں ہو گا۔ البتہ اس عمل کے دوران عدالت عظمیٰ پاکستان نے فیصلے میں نفاذ اردو کی جو ذمہ داری براہ راست ادارہ فروغ قومی زبان پر ڈال رکھی ہے۔ ان اداروں کے انضمام سے وہ ذمہ داری بلکہ قدغن خفیہ طریقے سے محو ہو کر رہ جائے گی۔ یوں حکومت توہین عدالت سے چپکے سے جان چھڑا لے گی۔ اگرچہ وزیر اعظم پاکستان قومی زبان کا بے حد احساس رکھتے ہیں مگر عملاً ابھی تک کچھ نہیں ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیےـ  اردو نصاب اور جدید تقاضے —— نجیبہ عارف
(Visited 37 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: