سدا بہار سردار : نصیر ترین —- تحریر: سلمان رشید/ مترجم: عتیق بزدار

0

شہر پشین، کوئٹہ کے شمال میں واقع ہے۔ یہاں آباد پشتونوں کے ترین قبیلے کے آخری سردار کا بیٹا ہونے کے ناتے نصیر ترین کو حسبِ قاعدہ سرداری کے منصب پر براجمان ہونا چاہئیے۔ تاہم وہ ایک روایتی قبائلی سردار سے ہٹ کر کئی اور حیثیتوں کے مالک ہیں۔ وہ ایک نرم خو، شائستہ، تعلیم یافتہ، بے باک اور منکسر المزاج آدمی ہیں۔ اس پر مستزاد، وہ ایک ایسے قبائلی سردار ہیں جنہیں شکار کا شوق نہیں۔ اور انہیں ایک ایسے معاشرے میں سبزی خوری مرغوب ہے جہاں گوشت خوری کو مردانگی کی علامت جانا جاتا ہے۔ وہ ٹھیٹھ پشتون لہجے میں بے عیب اردو بولتے ہیں۔ اور ان کے انگریزی لب ولہجے سے ان کی امریکہ میں بیتی دو دہائیاں جھلکتی ہیں جو انہوں نے حصولِ تعلیم اور روزگار میں صرف کیں۔

1958, میں جب وہ پہلی بار کونیکٹیکٹ یونیورسٹی گئے تو ان کا ارادہ یہاں سے بین الاقوامی تعلقاتِ عامہ میں ڈگری حاصل کرنے کا تھا تاکہ وطن واپس جا کر سول سروس میں شمولیت حاصل کر سکیں۔ تاہم ان کے اساتذہ نے جلد ہی بھانپ لیا کہ ان کا اصلی میدان تھیٹر آرٹ اور کمیونیکشنز تھا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے بتایا، “یہاں ایک پشتون سردار کے بیٹے کو ایک ایسے فن کی ترغیب دی جا رہی تھی جو ان کے علاقے میں مراثیوں کا کام سمجھا جاتا تھا”۔ شاید ایک بیوروکریٹ بننا ان کی اولین ترجیح کبھی بھی نہ تھا۔ وہ اس دوڑ سے باہر رہنا چاہتے تھے اور آخرکار انہوں نے مزید تعلیم کے لیے “فلم میکنگ” کا انتخاب کر لیا۔

اُن دنوں امریکہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء کو فقط مضامین یا یونیورسٹی کی تبدیلی کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو پیشگی اطلاع دینا پڑتی تھی۔ بصورت دیگر عزیز و اقارب کے لیے اُن کو پیسہ بھجوانا محال ہو جاتا تھا۔ اس ضابطے سے لاعلمی نے ترین کا دیوالا نکال دیا۔ اپنی پڑھائی کا خرچہ اٹھانے کے لیے انہوں نے مختصر مدت تک جنوبی ایشیا سے متعلق ایک غیر سرکاری ریڈیو سٹیشن میں خدمات سرانجام دیں۔ جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ یہاں سے وصول ہونے والے قلیل معاوضے سے وہ اس قدر پس انداز نہیں کر سکتے کہ کولمبیا یونیورسٹی کے اخراجات پورے کر سکیں۔ سو 1960 میں انہوں نے واشنگٹن میں سفارت خانے میں بطور اسٹنٹ ملازمت اختیار کر لی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اب چونکہ دامن پر “مراثیت” کا داغ تو پہلے ہی سجا لیا تھا سو میں نے مکمل بغاوت کا فیصلہ کر لیا۔ کولمبیا کا ارادہ ترک کیا اور امریکہ کے سب سے مؤقر آرٹ سکول، کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس میں داخلے کے لیے درخواست دے دی۔

اگلے چار برس انہوں نے فلم میکنگ کی تعلیم میں صرف کیے۔ اور ان کے بقول یہ ان کی زندگی کا سب سے زرخیز دور تھا۔ گریجویشن کی تکمیل کے بعد، انہوں نے مختصر مدت کے لیے “ڈزنی فلمز” میں شمولیت اختیار کی۔ مگر ان کا طبعی میلان “دستاویزی فلمز” کی طرف تھا۔ انہوں نے کئی ادارے بدلے تا آنکہ 1971 میں پاکستان لوٹ آئے۔ تاہم وطن واپسی پر انہیں یہاں کے ماحول سے سمجھوتہ کرنے میں کافی دقت پیش آئی۔ اور اگلے نو سال پاکستان اور امریکہ کے درمیان آتے جاتے رہے۔

1981 میں وطن واپس آئے تو بلوچستان کی تاریخ و ثقافت پر دستاویزی فلمیں بنانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ان کے ارادے کو پذیرائی تو ملی مگر مالی امداد سے پہلے صوبائی حکومت نے شرط رکھی کہ وہ ذرا شتابی سے صوبے میں بھری پڑی جنگلی حیات پر دستاویزی فلم تو بنا کر دکھائیں۔ جنگلی حیات کی کھوج میں نکلے تو انہیں اندازہ ہوا کہ یہاں کی جنگلی حیات فقط محکمہ جنگلی حیات کی فائلوں میں پھل پھول رہی ہے۔ اس مہم جوئی میں ایک اچھا اتفاق یہ ہوا کہ تورغر کا غیر معروف پہاڑی علاقہ ان کی توجہ کا محور بنا۔

ٹوبہ کاکڑ کا عظیم سلسلہ ہائے کوہ ان پہاڑیوں پر محیط ہے جن کی تراش خراش کہستانی ہواؤں کے تھپیڑوں کی رہینِ منت ہے۔ تورغر، اسی کہستانی سلسلے کا ایک ذیلی سلسلہ ہے جو قلعہ سیف اللّٰہ شہر کے شمال میں، قریب سو کلومیٹر شرقاً غرباً پھیلا ہوا ہے۔ یہاں کی گرمیاں معتدل اور سردیاں شدید برفانی ہیں۔ ایک وقت تھا کہ تورغر چیتے، بھیڑیے اور لگڑبگڑ جیسے گوشت خور جانوروں کا مسکن تھا۔ اور کُھروں والے جانوروں میں سے سلیمان مارخور (capra falconeri jerdoni) اور اڑیال (ovis vignei cycloceros) یہاں کثرت سے پائے جاتے تھے۔ حیرت انگیز طور ہر، سلیمان مارخور فقط یہاں اور چند متصل پہاڑی سلسلوں کے علاوہ دنیا میں کہیں بھی نہیں پایا جاتا۔ تاہم، افغانستان پر روسی یلغار اور اس کے باعث آنے والے جدید خودکار اسلحے کی وجہ سے یہاں کی جنگلی حیات کو خاصا نقصان پہنچا.

1983 میں کچھ مناظر فلماتے ہوئے انہیں چند سلیمان مارخور اور اڑیال دکھائی دئیے۔ ان میں زیادہ تر مادائیں تھیں کیوں کہ نر اپنے خوبصورت سینگوں کے باعث اکثر ٹرافی ہنٹنگ کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ مایوس ہو کر، ترین صاحب امریکہ واپس لوٹے اور امریکی محکمہ برائے ماہی و جنگلی حیات کے ماہرین سے اس صورتحال پر مشورہ کیا۔ بعد ازاں، صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے انہوں نے تین ماہرین کو بلوچستان آنے کی دعوت دی۔ اس دورے اور چند اور میٹنگز کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک غیر سرکاری تحفظاتی مہم ہی تورغر کی جنگلی حیات کو معدوم ہونے سے بچا سکتی ہے.

امریکی ماہرین نے تجویز دی کہ اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ٹرافی ہنٹنگ (Trophy Hunting) کا طریقہ کار وضع کرنا ہو گا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ فی الوقت ( جنگلی حیات کی معدومی کے باعث) کوئی “ٹرافی” ہی میسر نہ تھی۔ سو اگلا سال فقط چندہ اکٹھے کرتے گزرا۔ 1985 میں پہلی قابلِ ذکر مدد آ پہنچی۔ امریکہ سے پزا ہٹ کے مالک نے دس ہزار ڈالر کا عطیہ بھیجا۔ اور سات گیم واچرز کی تعیناتی کے ساتھ تورغر کی جنگلی حیات کے بچاؤ کے منصوبے ( Torghar Conservation Project) کا آغاز کر دیا گیا۔ علاقے میں شکار پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ اس پابندی کا کامیاب اطلاق علاقے میں آباد جوگیزئی قبیلے کے سردار کا رہینِ منت تھا جنہوں نے ترین کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔

1987 میں پہلی بار محنت کا ثمر پانچ عمر رسیدہ اڑیالوں اور دو سال بعد ایک مارخور کی صورت ملا۔ منضبط شکار (Controlled Hunting) کے باعث علاقے کی جنگلی حیات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا۔ 1987 سے 1993 کے مابین ایک مارخور کی ٹرافی ہنٹنگ پر 10,000 یو ایس ڈالر اور اڑیال پر اس کانصف ملتا رہا۔ یوں تورغر تحفظ جنگلی حیات پراجیکٹ مالی طور پر مستحکم ہو چلا۔ مالی خوشحالی آئی تو اہلِ علاقہ کو نوکریاں بھی ملیں اور پراجیکٹ کے زیر اثر علاقے میں توسیع بھی ممکن ہوئی۔ یہ اقدام اہلِ علاقہ میں پارک کے بارے احساس ملکیت و وفاداری اجاگر کرنے میں بھی خاصا مددگار ثابت ہوا۔ ایک بار ایک صاحب نوکریوں کے کوٹہ سے ایسے ناخوش ہوئے کہ سرکشی پہ اتر آئے اور مارے طیش کے ایک مارخور مار ڈالا۔ اس کے بعد وہ ناہنجار مفرور ہوا تو اہل علاقہ نے اس کی گرفتاری کا بیڑہ اٹھا لیا۔ تھک ہار کے اس آدمی نے پیغام بھجوایا کہ اسے معاف کر دیا جائے تو وہ مقررہ کوٹہ تسلیم کرنے پہ تیار ہے۔

آج کل تورغر اڑیالوں اور مارخوروں سے بھرا پڑا ہے۔ اور ترین صاحب اب یہاں گوشت خور جانوروں کو دوبارہ آباد کرنے پر بھی سوچ رہے ہیں۔ ایک پہاڑی سلسلہ جو ایک وقت میں جارج شالر (George Schaller) کے لفظوں میں “جبلِ پُر سکوت” (Stones of Silence” بننے والا تھا ، آج ایک بار پھر زندگی سے بھرپور ہے۔ چاہے کسی بھی معیار پہ پرکھا جائے، تورغر اس ملک میں بحالئ جنگلی حیات کا ایسا منصوبہ ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اور یقینناً یہ اس ضمن میں سب سے بہترین نجی کاوش ہے۔

انکسار اور بے نفسی کا یہ عالم تھا کہ اس راہ میں انہیں جتنی کامیابیاں ملتیں ان کا سہرا بھی بڑی کشادہ دلی کے ساتھ اپنی ٹیم کے سر باندھ دیتے تھے۔ تاہم تورغر پراجیکٹ کے روح رواں ہونے کے ناتے اُن کی کاوشوں کو خوب سراہا گیا۔ جولائی 1996 کے اختتام پر انہیں نیدرلینڈ کے سفارت خانے کے سفارت خانے سے ایک خط موصول ہوا۔ جس میں ان کے لیے نیدرلینڈ کے پرنس برنارڈ کی طرف سے Night of the order of Golden Ark” کے اعزاز کی اطلاع دی گئی۔ اسی سلسلے میں سالِ رواں کی تیس نومبر کو نیدرلینڈ کے شہر بارن “Barn” کے سویستک محل “Soestdijk Palace” میں منعقدہ تقریب میں سردار نصیر ترین کو اس آرڈر کے نشانِ امتیاز سے نوازا جائے گا۔

سردار صاحب جیسا بے مثال شخص میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ میں کوئٹہ پہنچا تو بنا کسی اطلاع کے اپنا بوریا بستر اٹھا کر ان کے گھر جا دھمکا۔ دوپہر کے کھانے کا وقت تھا اور سردار صاحب اپنے آفتابی کمرے (sun room) میں تشریف فرما تھے۔ دستر خوان پر سبزیاں ترکاریاں چنی جا چکیں تھیں۔ سلام و آداب کے بعد سردار صاحب نے میری اہلیہ کی خیریت دریافت کی اور پھر ہم دستر خوان پہ جا براجے۔ سردار صاحب نے اپنی زندگی تحفظِ جنگلی حیات کے لیے وقف کر رکھی ہے تو یہی تحفظ ان کا مرغوب موضوع بھی ہے۔ سو انہوں نے جنگلی حیات کے تحفظ پر یوں بولنا شروع کیا۔ جیسے میں ابھی بیت الخلاء کے لیے اٹھ کر گیا تھا اور واپس آیا ہوں تو کسی تمہید کی چنداں ضرورت نہیں۔

ان کی باتوں میں ایسا وفورِ شوق جھلکتا ہے کہ سامع مسحور جاتا ہے۔ اب ستر کے پیٹھے میں ہیں مگر مسلسل کام کی لگن اور لمبے سفر جھیلنے کی ہمت جواں ہے۔ میری اُن سے پہلی ملاقات شاید مارچ یا اپریل 1993 میں ہوئی۔ ان کی گفتگو سن کر لگا وہ شاید “آدم از عالمے دیگر” ہیں۔

مترجم

وطنِ عزیز میں سردار صاحب جیسے لوگوں کا دم غنیمت ہے جو اپنے طرزِ زیست میں بھی انہی معیارات و نظریات پہ کاربند نظر آتے ہیں جن کا وہ عوام میں پرچار کرتے ہیں۔ ورنہ تو آج کل کھوکھلی جذباتیت کا چلن ہے۔ اور ہماری قوم، فریبیوں اور دغا بازوں کا ایک مکروہ ٹولہ بن چکی ہے۔ دکھاوے اور نمائشی رسم و رواج سے کام لینا ہمارا وتیرہ بن چکا ہے۔ لیکن نفسا نفسی کے اس دور میں سردار صاحب کل بھی خلوص نیت اور دانش و بینش کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ اور آج، بیس سال بعد بھی اس شعلہ ء مستعجل کی تابانی قابلِ رشک ہے۔

ہم دسترِ خوان پہ محوِ طعام تھے اور اُدھر میرا سامان اُسی کمرے میں رکھ دیا گیا تھا جو ہمیشہ سے میرے قیام کے لیے مخصوص تھا۔ کبھی کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ میں کتنے دن قیام کا ارادہ رکھتا ہوں۔ میرے قیام و طعام کا بخوبی بندوبست کیا جاتا ہے۔ میں نے کہیں آنا جانا ہو مجھے سردار صاحب کی ذاتی گاڑی فراہم کی جاتی ہے۔ سردار صاحب کی موٹر کار عموماً زیادہ فینسی نہیں ہوتی۔ میں بلا روک ٹوک اپنا کام کرتا ہوں اور جب کبھی ہم مل بیٹھتے ہیں تو بات چیت ایسے شروع ہوتی ہے جیسے سلسلہء کلام چند ثانیے قبل ہی ٹوٹا تھا۔

سردار صاحب سے میری راہ و رسم شناسائی برسوں پر محیط ہے۔ اور ہمیشہ سے یہ ایک بنا کہے طے شدہ معاملہ ہے کہ میں جب بھی کوئٹہ جاؤں گا انہی کے ہاں قیام کروں گا۔ چند سال قبل ایک این جی او کے لیے کام کرتے ہوئے کوئٹہ گیا تو ہوٹل میں رُکا۔ اور سخت مصروفیات کے سبب سردار صاحب کو بتا نہ سکا۔ اُسی کام کے دوران ایک دن کسی دفتر گیا۔ واپسی پر باہر نکلتے ہوئے سردار صاحب اور ایک بہت پیارے دوست داؤد بڑیچ سے سامنا ہو گیا۔ مجھے دیکھتے ہی سردار صاحب سیخ پا ہو گئے۔ پانچوں انگلیاں کھول کر ہاتھ کے اشارے سے مجھے لعنت ملامت کے “کَھلے” سے نوازا۔ اب یہ تو ایک ناقابلِ معافی جرم تھا کہ میں کوئٹہ میں ہوں اور ان کی طرف قیام نہ کروں۔ خیر میری معافی فوراً ہی کھلے دل کے ساتھ قبول کر لی گئی۔

ایسے تمام راہروانِ شوق کے لیے ، جنہوں نے بلوچستان کے دور دراز علاقے دیکھنے کی تمنا کی ، سردار صاحب ہمیشہ مائل بہ کرم رہے۔ سردار صاحب کا گھر ہو یا دفتر ایسے بادیہ نورد اُن کے گرد ہمہ وقت جمع رہتے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ انہوں نے میرا کسی اجنبی سے تعارف کرایا جو کسی نئی منزل کے لیے روانہ ہونے کو تھا کہ سردار صاحب بول اٹھے “میاں! ان صاحب کو بھی پوچھ لیجیے، شاید یہ بھی آپ کے رفیقِ سفر بننا چاہیں”۔ یوں میں نے بِلاقیمت بلوچستان کے کئی دل فریب مقامات کی سیر دیکھی۔

میری اس باکمال شخص سے آخری ملاقات 8 ستمبر 2012 کو ہوئی۔ وہ موتیے کے آپریشن کے بعد گھر لوٹے تھے کہ میں اور میرا دوست “مُولا” کا منیر موسیانی اُن کے گھر جا پہنچے۔ بلوچستان میں شاید ہی کوئی شخص ہو جو سردار صاحب کو نہ جانتا ہو۔ منیر نے انہیں “مُولا” میں پائی جانے والی “چتکبری چھپکلی” (Gecko) کے بارے بتایا جسے آج کل لوگ بڑی تعداد میں پکڑ کر بطور پالتو جانور امریکہ برآمد کر رہے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس رینگنے والے جانور (Reptile) کی معدومیت کا خطرہ ہے۔

پہلی بار میں نے سردار صاحب کے چہرے پر مایوسی کی جھلک دیکھی۔ انہوں نے بتایا کہ امنِ عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال اب اُنہیں اُس آزادی کے ساتھ گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں دیتی جو ماضی میں آسانی سے میسر تھی۔ تاہم ان کا شوقِ سفر ابھی بھی ماند نہیں پڑا۔ ایک ایسا شخص جو زندگی زندہ دلی سے جینے کا قائل تھا۔ جس کی گفتگو کا قرینہ دلنواز تھا، اور جس کے بے ساختہ قہقہے جانِ محفل ہوا کرتے تھے۔ اب کی بار اپنے صوبے میں بڑھتی ہوئی بد امنی کے سبب کچھ بجھا بجھا سا نظر آیا۔ پہلی بار میں نے اُن کے لہجے میں تلخی محسوس ہوئی۔

ایک بار وہ دوریجی (ضلع لسبیلہ) میں ایک پراجیکٹ کی نگرانی کر رہے تھے۔ میں نے اُن سے وہاں جانے کی اجازت طلب کی۔ مگر انہوں نے کہا کہ جب تک وہاں میری حفاظت کا خاطر خواہ بندوبست نہیں ہوتا وہ مجھے وہاں جانے کی اجازت ہرگز نہ دیں گے۔ حالانکہ عام حالات میں وہ ایسے موقعوں پر زوردار قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ چند لوگ تب ہی سُکھ کا سانس لیں گے جب میں اس دنیا سے کوُچ کروں گا۔ مگر اب کی بار اُن کے لب و لہجے میں بے کلی واضح تھی۔

اپنے مرشد و مربی کو نامساعد سیاسی صورتحال پر رنجیدہ دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پشتون قوم پرستی سے واپسی —- نجیب آغا
(Visited 440 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: