شعورِ ادب – مقامِ ادب (حصہ دوم): پاکستانیوں، مسلمانوں اور نسل ِ نو کا کردار

0

جسے انسانوں اور محترم ہستیوں کے احترام کی توفیق نہ ہوئی اسے ادب اور اردو ادب سے کم ہی نسبت ہے۔ اردو ادب نے اپنے الفاظ و تراکیب کے مستعملین اور تمام انسانوں کو احترام سکھانے کا ایسا بندوبست کیا کہ اریب قریب تمام شعراء نے نبئی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور انبیاء کی مدح سرائی کی۔ بہترین شعراء بہترین نعت گو بھی ہیں۔ پاکستان کو یہ اعزز حاصل ہے کہ مفکر پاکستان اور اردو و فارسی کے ممتاز شاعر علامہ اقبال باقاعدہ عاشقِ رسول شمار کئے جاتے ہیں۔ بہت سے شعراء کو یہ حسرت رہی ہوگی کہ عشقِ رسالت میں انہیں بھی علامہ اقبال جیسی عزت و توقیر حاصل ہو۔ دراصل مسلمانوں اور پاکستانیوں کیلئے عشقِ رسالت میں شہید ہونا “نشانِ حیدر” کا سا اعزاز ہے۔ عاشقِ رسول کہلانا عظیم ترین سماجی عہدہ ہے۔ ہم سے گناہگار تو اُمتی کہلائے جانے کو ترستے ہیں کہ آخرت میں یہی ذریعہ بخشش ہوگا۔ سماجی عہدے کی حقیقت سمجھنے کیلئے علمِ تہذیب، علمِ سماجیات (سوشیالوجی) کو سمجھنا ہوگا۔ سماجی معاہدے اور سماجی انتظام (سوشل آرڈر) کو ہی مکمل انتظام مانا جاتا ہے۔ اس کے ماتحت نظاموں میں تمام سیاسی، معاشی اور بقیہ انواع کے نظم شامل ہیں۔ سماجی انتظام سے مراد تمام سماجی انداز؛ ڈھانچے، ادارے، تعلقات، رواج، اقدار و اعمال، شامل ہیں جو ایک دوجے سے تعلقات رکھنے اور رویوںمیں برتنے، انہیں قائم رکھنے اور معاشرے میں نفاذ کیلئے استعمال ہوں۔ [i] جبکہ سماجی عہدے سے عزت و وقار اور لیاقت حاصل ہوتی ہے۔ اگر سماجی معاہدہ (سوشل کانٹرکیٹ) آئین کی بنیاد ہے[ii] ، تو سماجی عہدہ ریاستی عہدوں (صدر و وزیراعظم) کی بنیاد ہے۔ اگر کسی کو سماجی عہدہ حاصل نہیں تو اسے ریاستی عہدہ دینا فضول ہے۔ ایسے ہی مسلمانوں کیلئے عشقِ رسالت بنیاد ہے۔ ختم نبوت کو تسلیم کئے بغیر کوئی مسلمان ہی نہیں ہوسکتا۔ [iii] اگر یہ انتہائی اہم بنیاد ہے تو اس بنیاد کو قائم کرنے کیلئے جان و مال کی قربانی دینے والا سب سے اہم شہید ہے۔ اس لئے ختمِ نبوت کیلئے قربانی دینا عظیم ترین اعزاز ہے اور عاشقِ رسول کہلانا عظیم ترین سماجی عہدہ ہے جسکی ایک آئینی حیثیت بھی ہے۔ حفیظ جالندھری (1900 تا 1982) نے اپنے شعر میں ایسی حققیت سمو دی ہے جسے بعد ازاں آئینِ پاکستان کا حصہ بنایا گیا۔

محمد ﷺکی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے ۔ اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

آئینِ پاکستان کی بنیادیں فراہم کرنے والے اشعار کی تدوین ضروری ہے جسے ہنوزسرانجام پانا ہے۔ معاشرے کا اصل مقصود یہ ہے کہ نبئی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی قدر کی محبت کو ہردل میں موجزن کیا جائے۔ انکی تابعداری کی بنیاد پر ہی معاشروں کو استوار کیاجائے۔ یہی مقصودِ ازلی بھی ہے۔ ایسا اس بناء پر ہے کہ ماقبلِ اسلام، عرب و عجم کی تہاذیب جنگوں پر مبنی تھیں۔ بعد ازاں یہ تحریر و تقریر، تعلیم و تعلم، عقل و دانش اور دلائل کی دنیا میں تبدیل ہوگئیں۔ ایجادات کی دنیا تو چند صدیوں قبل کا سلسلہ ہے۔ ان ایجادات کی جانب بھی اسلامی تہذیب کی برتری قائم ہوجانے کے بعد ہی بڑھاجاسکا۔ ایسا اس بناء پر ہے کہ سائنس کو جس امن و آشتی اور عدل وقانون کے علاوہ عقلی سوچ اور حساب کیلئےسیدھے استدلال کی ضرورت تھی، وہ سب صرف اسلام ہی نے مکمل طور پر فراہم کئے۔ ذرا ان موجودہ تہذیبی طرم خانوں سے پوچھئیے جنہوں نے کشمیر، فلسطین، عراق و افغانستان اور لیبیا تک کو برباد کردیا، کہ کیا جنگ ہی واحد حل تھا۔ کیا انہوں نے کچھ دوسرا انداز اختیار کیا ہے۔ دراصل طرم خانوں کیلئے جنگ ہی واحد حل تھا اور ہے۔ تہذیبی جہد و کاوش صرف رواداروں اور باظرف لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔

اردو زبان و ادب میں والئی بطحانبئی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی مدحت میں کہے گئے کلام کی جانب نظر کیجئے تو معلوم ہوگا کہ کچھ شعراء کے کلام تو صرف اور صرف نبئی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی نعت گوئی پر ہی منحصر ہیں۔ کچھ کے کلام کا زیادہ تر حصہ اسی پر ہے۔ زیادہ تر شعراء نے اس بارے میں ایسااعلیٰ فنی کلام پیش کیا ہے کہ فن و ادب کے بہترین الفاظ کیساتھ ساتھ ندرتِ بیان کی حدوں کو چھو لیا ہے۔ شاید کچھ الفاظ تو ایجاد ہی نعت ِ رسول مقبول کی وجہ سے ہوئے۔ اردو کے ادباء کو سلام ہے۔ ادبی فن پاروں کا حس و بیان اس مدح سرائی میں سمٹ آتا ہے۔ اعلیٰ ترین تعلیمی قابلیت کے حامل افراد کی جانب سے ایسے علمی فن پاروں کے درست اور جامع جائزے کی ضرورت ہنوز باقی ہے۔ ایسے جائزے کہ جنہیں عالمی طور پر ادبی فن پاروں اور جائزوں کا نمونہ کہا جاسکے۔ یہ حسرت ہی ہے کہ کبھی نبئی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی قدر پر بھی کسی کو ادب کا عالمی انعام مل پائے کہ محسنِ انسانیت کا حق ادا ہوجائے۔ شاید دنیا کا امن و سکون انہی کے نام سے وابستہ تھا جسے سمجھنے میں مزید صدیاں نہ بیت جائیں۔

گو ہم بطور نسلِ انسانی ادب کے شعور سے عاری رہے اور رفتہ رفتہ مزید عاری ہوتے چلے گئے تھے اور جہاں انسانی حقوق، انسانوں کو بنیادی انسانی شرف سے مزین کرتے ہیں، وہیں اس اہم ترین اخلاقی قدر کا غلط استعمال بھی جاری تھا۔ انسانیت کے محسنین کو نئی نسل کے سامنے درست تناظر میں متعارف کروانے کی بجائے انکی دی ہوئی ہدایات و تجلیات سے دور کیا جاتا رہا۔ لیکن اس رَو کو بدلنا تھا۔ پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی نمائندگی کرتے ہوئے 1999 میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں مذاہب کی توہین کے خلاف قرارداد جمع کرائی۔ اس پر 1999 تا 2010 تقریبا 20 عالمی قراردادیں منظور کی گئیں لیکن امریکہ نے اس بنیاد پر اسکی مسلسل مخالفت کی کہ اس سے جدید انسانی حقوق کی روایت پر حرف آئیگا۔ آخرِ کار 12 اپریل 2011 کو اقوامِ متحدہ کے عام اجلاس (جنرل اسمبلی) میں نمبر 16/18 قرارداد منظور کی گئی۔ اس پر اختلافات کو استنبول کی کانفرنس میں طے کیا گیا جس میں اکمل الدین اوغلو اور ہیلری کلنٹن شامل تھے۔ بعد ازاں 19 دسمبر 2011 کو اقوامِ متحدہ کے عام اجلاس (جنرل اسمبلی) میں متفقہ قرارداد۔ یہ تمام عالمِ اسلام کی مشترکہ کاوشوں کا ثمر تھا۔ اس پر 25 ستمبر 2012 کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے جنرل اسمبلی سے اس بارے میں خطاب بھی کیا۔ لیکن عالمی ضمیر نے اسے عالمی قانون بنانے میں بہت دیر کرڈالی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا اس پر یہ کہنا ہےکہ “اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ اس وقت ضروری ہے جب یہ عدلِ اجتماعی اور اجتماعی مقاصد کیلئے ہو۔ لیکن جب کچھ لوگ اسے استعمال کرکے دوسروں کی اقدار و نظریات کی توہین کریں، تو آزادئ رائے کے اظہار کا تحفظ نہیں کیاجاسکتا”[iv]۔ 25 اکتوبر 2018 کو اس عالمی قانون پر عمل درآمد بھی ہوگیا جب یورپی عدالت برائے انسانی حقوق (ECHR) نے آسٹریا کی ایک خاتون کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے اسکے الفاظ کو پیغمبرِ اسلام پر بدزبانی کا حملہ قرار دیاکیونکہ اس سے تعصب ابھرے گا اور مذہبی امن پامال ہوگا[v]۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے انسانی حقوق کی روش ہی بدل گئی ہے۔ یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے کئی مقدمات میں توہینِ مذہب کی بنیاد پر سزائیں دی ہیں۔ یورپی یونین کی آدھی ریاستوں میں اسے قانونی طور پر جرم مانا جاتا ہے۔ اسی بناءپر ایسے اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے[vi]۔

لیکن مسلم ممالک میں سماجی و مذہبی روایات پر مبنی قوانین پر سرکاری ادارے عمل نہیں کرواسکتے۔ عمملی میدان میں راقم کا ذاتی تجربہ حیران کن ہے۔ یہاں قانونی ادارے روایت پر عمل اور قانون کے اطلاق میں پس و پیش کرتے رہتے ہیں۔ اس سے خطرہ یہ ہے کہ قانون ایک دن ختم ہوجائیگا کیونکہ جیسے ہی عمل ختم ہوتا ہے، تو قانون کے خاتمے کی راہ بھی ہموار ہوتی جاتی ہے۔

شیزان کے مقاطعے کیلئے راقم کو بارہا جدوجہد کرنا پڑی۔ بارہا اسلامی جامعہ میں ددکانداروں سے درخواست کی۔ انتظامیہ سے کہا۔ شیزان کے دفتر جا کر درخواست کی۔ لیکن انکا مؤقف یہ تھا کہ ہمارے صرف ڈائریکٹر قادیانی ہیں۔ کمپنی میں صرف پانچ قادیانی ملازمین ہیں۔ باقی تمام مسلمان ہیں۔ جامعہ میں ایک یہ کوشش بھی کی کہ صرف شریعت کے مطابق کاربار کرنے والی (شریعہ کمپلائینٹ) کمپنیوں کو جامعہ میں کام کی اجازت دیجائے۔ چونکہ اسلامک فائنانس کے آڈیٹر ہرسال ایک فہرست جاری کرتے ہیں جس میں چند اصولوں کی بنیاد پر کمپنیوں کے کاروبار کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے سرٹیفیکیٹ جاری کیا جاتا ہے، اس لئے ایسی کمپنیوں کوسٹاک ایکسچینج میں کام کی اجازت دیجاتی ہے۔ لیکن شیزان کے مالکان و منتظمین نے ہمیں اس میدان میں بھی ناکام کردیا۔ شیزان کمپنی نے اسلامک فائنانس کے آڈیٹرز سے سرٹیفیکیٹ لے رکھا ہے جس ہر سال سے تازہ کرواتے رہتے ہیں۔ یوں یہ طریقہ بھی ناکام ہوگیا۔ شریعہ کمپلائینٹ کمپنیوں میں شیزان کا نام شامل دیکھ کر راقم حیران و پریشان رہ گیا۔ کیسے قادیانیت کے سرخیل توہینِ رسالت کرتے ہیں۔ جسے وہ سرِ عام، اجتماعی اور عالمی طور پر جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود بظاہر اسلامک فائنانس کے تمام اصولوں کے مطابق عمل کرتے ہوئے خود کو شریعہ کمپلایئنٹ بھی کروالیتے ہیں۔ یہ فتنہ پروری کی حد ہے۔ ہم تمام تر کوششوں کے باوجود جامعہ میں شیزان پر پابندی لگوانے میں ناکام ہوکر رہ گئے۔ ایک اسلامی جامعہ میں آخری حربہ یہ ہے کہ قانون و انصاف کے مطابق نہیں بلکہ ہر فرد کو ہر گھڑی درخواست کریں اور اسے پینے سے روکیں۔

[i]۔ دیکھیئے تھامس ہابز، ایمائل درخائم، کارل مارکس، ٹالکوٹ پارسن و جرجن ہیبرماس۔ نظمِ سماج کو کارل مارکس معاش سے، درخائم اسے سماجی اقدار اور پارسن اسے سماجی اداروں سے وابستہ مانتا ہے۔ تھامس ہابز سماجی نظم کی وکالت کرتے ہوئے ذاتی انا کی مخالفت کرتا ہے۔ جان لاک، ڈیوڈ ہیوم اور روسو سماجی معاہدے کے بنیادی نظریہ دان ہیں۔

[ii] جان لاک، ڈیوڈ ہیوم اور روسو سماجی معاہدے کے نظریہ دان ہیں۔ اس نظریئے پر بحث کیلئے دیکھیئے۔

http://constitution.org/soclcont.htm , http://constitution.org/soclcont.htm۔

[iii] دیکھیئے آئینِ پاکستان۔ شق نمبر 3۔ پارلیمانِ پاکستان: مجریہ دوسری ترمیم۔ برائے شق 106 و 260۔ مؤرخہ 21 ستمبر 1974۔ http://www.na.gov.pk/uploads/documents/1491799433_754.pdf

[iv] Courtney Brooks . Calls For Blasphemy Ban Resurface At UN. Radio Free Europe. Radio Liberty. September 27, 2012

[v] Joe Setyon. European Court: Woman’s Criticism of Muhammad Doesn’t Count as Free Expression. Hit & Run Blog. Oct. 25, 2018 4:15 pm. https://reason.com/blog/2018/10/25/european-court-womans-defamation-muhamma

[vi] Alejandro Saiz Arnaiz. 2013. Religious practice and observance in the EU member states. Directorate general for internal policies policy department c: Citizens’ rights and constitutional affairs.

http://www.europarl.europa.eu/RegData/etudes/etudes/join/2013/474399/IPOL-LIBE_ET(2013)474399_EN.pdf

اس آرٹیکل کا پہلا حصہ اس لنک پر ملا حظہ کیجیے۔

(Visited 18 times, 19 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: