شعورِ ادب – مقامِ ادب: ابتدائیہ – حصہ اول —- راؤ جاوید اقبال

0
  • 2
    Shares

انسانوں میں ادب و احترام کا شعور روزِ اول سے ہے۔ لیکن عربوں نے شعروشاعری اور تحریری کمال (لٹریچر ) کو ہی “الادب العربی” کا نام دے دیا۔ نام کیا دیا کہ کمال کردیا۔ اردو کو بھی بطور زبان مبارکباد دینی چاہیئے کہ لٹریچر کا نام ادب مان لیا۔ شعور بھی شعر سے مشتق ہے اور یہ عربی کا لفظ ہے۔ واردات قلبی کا نام شعور ہے۔ عربی لفظ” ادب” بابِ افعال اور تفعیل سے ہے جس کے معنی “علم سکھانے” اور بابِ استفعال وتفعل سے “علم سیکھنے “کے ہیں۔ بطور فعل بہت سے اور مختلف معانی ہیں جیسے “تَأدَّبَ باَدَبِهِ” کسی کا طریقہ اختیار کرنا۔ اسکے علاوہ جانورکو سدھانا، اثر انداز بنانا، چہل پہل پیدا کرنا، اخلاقی تربیت کرنا، مہذب بنانا اور فہمائش کرنا بھی ہیں۔ دعوت کا کھانا تیار کرنے، کھانے پر مدعو کرنے کیلئے بھی یہی لفظ کہا جاتا ہے۔

ادب تہذیب کی بنیادوں میں سے ایک ہے۔ لیکن ہر زبان و تہذیب میں ایسانہیں۔ جہاں عربی لفظ ادب کالغوی معنی ہی احترام و تہذیب ہے[i]۔ وہاں انگریزی میں استعمال ہونے والے لفظ “لٹریچر” کالغوی معنی “کتاب پڑھنا” تھا[ii]۔ جسکی موجودہ تعریف “جمالیاتی حسن رکھنے والے تحریر و شعر” ہیں۔ یہ تہذیبی فرق ہے جسکی بناء پر ایک تہذیب اسے احترام قرار دیتی ہے اور دوسری فقط مطالعہ۔ اسلام نے عربی ادب کو اس کے حقیقی مقام تک پہنچایا اور بامقصد و مثبت ادب کی ترویج کیلئے زبان و بیان کی قوتیں استعمال کرنے پر زور دیا۔ چند پابندیوں کے ساتھ ادب اپنے جمالیاتی پہلؤوں اور کشش کیساتھ یونہی مسلم معاشرے میں جاری رہا بلکہ اسکی حیثیت کہیں زیادہ بڑھ گئی۔ ہمارے جدید نقاد، جیسے پروفیسر نثار فاروقی یہ مانتے ہیں کہ ادب “افکار کے اظہار کا دل نشیں اور منفرد پیرایہ “ہے۔ اسے اردو میں اسلوب اور انگریزی میں اسٹائل کہتے ہیں۔ اسے کچھ طبقات افکار سے زیادہ پائیدار اور لازوال مانتے ہیں اگرچہ یہ مکمل حقیقت نہیں ہے۔ [iii]

ملکِ خداداد اردو نہیں بلکہ انگریزی روایت کے ماتحت رہاہے جس میں ادب و احترام کی گنجائش کم اور سماجی و مذہبی تنقید کی زیادہ ہے۔ دنیا اس تنقید کی روایت سے بھرپور کئی ادوار گزار چکی ہے۔ 1212 عیسوی کے میگنا کارٹا سے تاحال، بظاہر آزادیوں اور انسانی حقوق کی بنیاد پہ قائم کردہ یہ سماجی و مذہبی تنقیدی روایت، قریب آٹھ سوسال پر محیط ہے۔ اسے مزید بڑھانا ناممکن ہؤا جاتا ہے۔ کیونکہ اس سے تمام معاملات ہی لپٹ جائیں گے۔ اس تہذیب نے جہاں جاکر ماتھا ٹکا لیا ہے، وہ انتہائی نازک مقام ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ میں آزادیوں اور ادب سے ماوراء سماجی و مذہبی تنقیدی پیرائے کا ذکر ہے۔ تنقید سے مراد سابقہ روایات و اقدار اور سماجی اداروں پرتنقیدو تبصرہ ہے۔ پاک و ہند میں انگریز نے ادب و احترام کی روایت کو 1857ء کے بعد ہی سرکاری طور پر خیرآباد کہلوا دیا تھا جسے مسلم معاشرے نے انگریزی اسکول و جامعات قائم کرکے قریبا قبول بھی کرلیا۔ لیکن اسے باقاعدہ رواج نہیں بخشا۔ جبکہ عرب معاشرے میں، خصوصا سعودی عرب میں، سوسال بعد تک، 1940ء کی دہائی میں بھی چند ہی بنیادی دینی مدارس تھے اس لئے تنقیدی روایت کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ [iv] مصری معاشرے نے معدودے چند محققین کی تحاریر سے تنقید کو سمجھا لیکن یہ بنیادی نوعیت کی تنقید تھی۔ پاکستان اور ترکی میں تنقید کو جڑ پکڑنے کا بھرپور موقع ملا لیکن یہاں یہ سیاست کی نذر ہوگئی۔ سیکولر عناصر میں سے ترقی پسند سماج پر تنقید میں بڑے دھانسو تھے لیکن وہ سیاست بازی میں آئے تو سب کچھ بھول گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ترقی پسندوں کے قائد ہونے کے باوصف، 1973 کے آئین میں اسلامی دفعات جمع کیں تو مذہبی روایت کو سانس لینے کا موقع ملا۔ جب ناموسِ رسالت کے حق میں 1974 کا قانون منظور کیا اور اردو کو مقتدر زبان بنانے کا وعدہ کیا تو یقینا ایک حقیقت تسلیم کرکےبڑا موڑ مڑا۔ لیکن یہ موڑ ادھ پچدے آئینی ڈھانچے پر مبنی تھا جبکہ ضیاء الحق مرحوم نے مذہبی روایت کو قانونی شکل میں ڈھالنے پر کام کیا اور اسے مُستحکم کرنے کی کوشش کی۔ تو یوں پاک و ہند میں ہماری ملتِ اسلام نے 1857 تا 1974 تک (ایک صدی سے کچھ زائد) کا عرصہ سماجی و مذہبی تنقیدی کی روایت کی پہ گزارا۔ تنقید سے حقیقت یا مذہبی ادب و احترام کی جانب کا سفر اپنی بنیادوں پر درست طور پر قائم نہیں ہوپایا۔ بھرپور آغاز سے روایت کی تکمیل نہیں ہوجاتی۔ موجودہ دور، تنقیدی روایت کی حکمرانی کا آخری دور ہے۔ یہ انگریزی روایت کی رخصتی کے دن ہیں۔ ایسے میں اردو اپنی روایات کو بڑھا بھی نہیں پارہی جبکہ انگریزی مکمل طور پر جان بھی نہیں چھوڑ رہی۔ یوں جبر و تنقید کا خاتمہ بھی نہیں ہؤا لیکن یہ اپنی مکمل روایت کیساتھ موجود بھی نہیں۔ گویا عوام الناس کسی ایک کو اپنا کر کوئی نظریہ یا عقلی تناظر قائم کرکے زندگی کو ترتیب نہیں دے سکتے۔ یہ تذبذب ہر چہار جانب ہے۔ اس سے معاشرتی بُنت کے دھاگے الجھ گئے ہیں کُجا یہ کہ معاشرے کو ترقی کی جانب بڑھایا جائے۔ ایک جانب صورت یہ ہے کہ اردو کو مکمل طور پر اپنانا مشکل ہے کیونکہ ایسا ہو ہی نہیں پایا۔ بڑے بڑے اردو دان حضرات کی نوکریاں انگریزی نظام سے وابستہ ہیں۔ سو انہوں نے قوم کی بیخ نکالنے کیلئے چند مخلص افراد کو بھی اردو پر کام سے باز رکھا ہے۔ ایسے میں اردو اور ادب کیسے فروغ پائیں گے۔ اردو روایت جب بھی آئی، وہ اپنی مکمل جھلک کیساتھ ہی آپائیگی۔ دوسری جانب عربی دان و حکمران اور اسلامیانِ پاکستان اس تمام کیفیت کو بڑے غور سے دیکھ رہے ہیں۔ انگریزی کیساتھ مخاصمت کی بناء پر وہ انگریزی زبان و نظام کی مزاحمت میں پیش پیش ہیں اور متبادل نظام کا ذوق بھی پالنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر کوئی نوآموز ذمہ داری اٹھانے کو تیار بھی ہو تو اسکی کامیابی مشکل تر ہے۔ عوام اور ملکی ادارے اس تمام کشمکش میں کھیت ہی رہیں گے۔ ویسے بھی اللہ کا نام ہی باقی رہیگا۔ میری ذاتی رائے کے مطابق مقتدر طبقہ اردو دان حضرات پر مشتمل نہ بھی ہو تو بڑی حد تک اردو دانی کے صاحبِ فہم افراد کے قریب ہے۔ یہی طبقہ اردو اور ادب دونوں روایات کو ملک میں لاگو بھی کرنا چاہتا ہے لیکن اسے کام کرنے میں کچھ نامعلوم مسائل درپیش ہیں۔ یہ طبقہ خود سے آگے بڑھکر مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں لیتا یا انکا انداز کارگر نہیں۔

لیکن پاکستانیوں نے بحیثیت مجموعی جس طرح سے اندرون و بیرون ِ ملک ادب و احترام کےپیرائے کی جدوجہد کی، اس نے تمام دنیا کےآٹھ سو سالہ تہذیبی چکر کو نیا رُخ دیا ہے۔ دنیا تنقید سے ادب یا کم ازکم احتیاط کی جانب آگئی ہے۔ یہ ایک تہذیبی تبدیلی ہے۔ اس کے بعد سےدنیا میں شعر و ادب کی دنیا میں سماجی روایات و مذہبی اقدار کے احترام و ادب کا راج نہ بھی ہو تو اندھی تنقید کا مکمل غلبہ نہیں ہوگا۔ ۔ اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ سماجی و مذہبی تنقید ختم ہوجائیگی لیکن تنقید اپنے غیرضروری مقام اور غیرضروری اثر و رسوخ سے بچ پائیگی اور اسے اپنا جائز و درست مقام مل سکے گا۔ اگرچہ تنقید اور اظہارِ رائے کی اپنی ایک حیثیت ہے مگر ادب ہی تہذیب ہے۔ انسانوں کا ادب و احترام، برگزیدہ انسانوں اور انکی تہذیبی کاوشوں کا احترام، محنتی، لائق و قابل لوگوں کا احترام، بزرگوں، والدین و اساتذہ کے ساتھ ساتھ مقدس مقامات کا ادب بھی احترام میں شمار ہے۔ بے ادبی بنیادی طور پر جہالت سے پیدا ہوتی ہے اور جہالت مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ اس لئے انسانیت کو جہالت اور بے ادبی سے بچانا ضروری ہے۔ ادب ویسے بھی تہذیب کی بنیادوں میں سے ایک ہے[v]۔ کسی بھی تہذیب کی ادبی تحاریر یہ سکھاتی ہیں کہ انسان ہونے سے کیا مراد ہے۔ عربی زبان کے شعراء ہوں یا مغربی تہذیب کے اُدباء، تہذیبی ورثے میں اہم ہیں۔ اُدباء انسانی ذہن پر مستقل اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ نظریات تک رسائی میں مدد دیتے ہیں۔ یہ انسانوں کی ذہن سازی کرتے ہیں۔ ہومر، سوفوکلیز، دانتے، شیکسپیئر اور گوئٹے نے مغربی انسان کی ذہن سازی اور کردار سازی میں کردار ادا کیا ہے۔ یورپی و امریکی تہاذیب میں سے عیسائیت کا حوالہ خارج بھی کردیا جائے (حالانکہ یہ ناممکن ہے) تو کم از کم قانونی اور ادبی روایات میں بہت کچھ مشترک ہے[vi]۔ عیسائیت کا حوالہ آج بھی یورپ سے خارج نہیں کیا جاسکا۔ اسکا ایک مظہر تو جرمن چانسلر (جو کہ وہاں کی صدر مقام ہیں) کا ایک بیان ہے جس میں انہوں کہا کہ “مشکل ترین وقت پر بھی ہماری سیاسی جماعت (عیسائی جمہوری جماعت) نے عیسائیت اور جمہوریت کے اصولوں سے انحراف نہیں کیا۔ دوسری جانب ادبی حوالے اس قدر اہم ہیں کہ یہ مختلف حکومتوں، سیاسی تحریکوں حتیٰ کہ فلسفیانہ نظریات تک کے ادوار سے گزر جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں جہاں پیٹ پالنے کو ہی مقصدِ اولیں قرار دینے والے فلسسفی وجود میں آگئے ہیں، اور خالصتا معاشی جدوجہد کو ہی انسانیت کا مقصد قرار دے رہے ہیں، وہاں سابقہ ادوار اور تاریخ میں مختلف النوع مضامین ملتے ہیں۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام نے قدیم عربی ادب کا انکار نہیں کیابلکہ اسکے بہترین پہلؤوں سے فائدہ اٹھایا اور انسانی معاشرے کو ایک منظم معاشرے میں ڈھال دیا۔ یقینا یہ ادب کیلئے بھی اہم موڑ تھا کہ صرف جمالیاتی حُسن کے اُسلوبِ بیان سے مکمل انسانی تادیب و تہذیب اور تنظیم و تکمیل کی جانب رُخ پھیر دیا۔ یوں ادب کی لفظی روایت کو حقیقی معنی و مفہوم حاصل ہوا۔ ہم جس معاشرے کا ذکر کررہے ہیں، وہ خاصا ابتدائی معاشرہ ہے اور اسکا انسانی تہذیب میں اہم اور جائز مقام ہے۔ ایک تو عربی معاشرہ اپنے جدِامجد حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام سے شروع ہوتا ہے، اور اسے سائنسی تحقیقات کی رو سے کم از کم چار ہزار برس ہو چکے ہیں۔ کویت کے علاقے الصبیہ اور اومان کے علاقے راس الجنز کے ٹیسٹ سے ثابت ہؤا کہ یہاں 7300 سال قبل (5300 قبل مسیح) میں بھی آبادی تھی۔ جبکہ لادینیت کی بنیادی کتھا “گِل گامیش” کی کہانی فقط چارہزار برس قبل کی ہے۔ [vii] اس لحاظ سے عربی تہذیب خاصی سے زیادہ قدیم ہے۔ یوں اسکی روایات بھی خاصی مستحکم ہونی چاہیئں اور اس روایت کو کسی دوسری روایت کے ماتحت نہیں ہونا چاہیئے بلکہ آزادانہ انداز میں نظر آنا چاہیئے۔ اور قرار واقعی ایسا ہی ہے۔ آپ خود اندازہ لگایئے کہ عربی کی روایت ہی ادب ہے۔ عربی شعراء کا اپنا ایک انداز تھا۔ اسی انداز کو اسلام نے درست پیرائے میں جاری رکھا۔ یہی اندازاپنے اسالیب سمیت اردو میں بھی منتقل ہؤا۔


[i] المعانی کے مطابق عربی زبان میں ادب کے معانی بطور فعل “دعوت کا کھانا تیار کرنا، کسی کام کی دعوت دینا، جمع کرنا یا جانورکو سدھانا” ہیں۔ جبکہ بطور اسم یہ عربی میں “سلیقہ، تہذیب، شائسگی، اچھا طریقہ، کسی علم و فن یا صنعت و حرف کے آداب، قواعد و ضوابط، جیسے ادب القاضی، ادب الکاتب کے علاوہ ادبی کلام، عمدہ نظم یا نثربھی ہیں۔

[ii] عظیم ادب فقط بامعنی زبان ہے۔ “Great literature is simply language charged with meaning to the utmost possible degree.)Ezra Pound, “ABC of Reading”(. https://www.etymonline.com/word/literature

[iii] افکار اہم ہوتے ہیں اوربعض اس قدر اہم کہ لازوال ہوجاتے ہیں۔ ادبی چاشنی اپنی جگہ لیکن افکار کی اہمیت سے انکار ناممکن ہے۔

[iv] ثروت صولت۔ ملتِ اسلامیہ کی مختصر تاریخ۔ حصہ چہارم۔ اسلامک پبلیکیشنز۔ 1968

[v] اس کیلئے دیکھیئے البرٹ جیرارڈ کا مضمون جس میں وہ تہذیب اور ادب کا باہمی تعلق واضح کرتا ہے۔

https://www.jstor.org/stable/pdf/40073632.pdf?refreqid=excelsior%3A3ceffd5a83058797ac964add459ba2d1

اورٹیگا گیسیٹ اس پر اپنی کتاب Revolt of Masses (1932) میں تحریر کرتا ہے کہ امریکی تہذیب کی بنیادیں عیسائیت، رومی تہذیب اور مغربی ادب پر استوار ہیں۔

[vi] برطانیہ اور امریکہ کا کامن لاء ایسی ہی تاریخی روایات کا حامل ہے۔ سول اور کامن لاء دونوں رومن لاء پر مبنی ہیں اگرچہ روایات میں کچھ فرق بھی ہے۔ یورپی یونین کا نیا قانون بہت سی نئی روایات کا حامل بھی مانا جاتا ہے۔

[vii] گل گامیش کی کہانی کا سحر اب ٹوٹ رہا ہے اور اس اسے وابستہ الحادی نظریات کا طومار ٹھنڈا پڑ رہا ہے۔ اب شاید الحادی مفکرین کوئی نیا راگ الاپیں گے۔ دراصل جدید ترین سائنسی ایجادات نے پرانے سائنسی طرزِ امتحان کی بناء پر گِل گامیش جیسی کہانیوں کی حقیقی عمر میں خاصی تبدیلی ثابت کردی ہے، جس سے انکی قرار واقعی اہمیت کم ہوکر رہ گئی ہے۔

اس آرٹیکل کا دوسرا حصہ اس لنک پر ملا حظہ کیجیے۔

(Visited 16 times, 37 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: