عبدالرشید کی یاد میں —— محمد حمید شاہد

0

عبدالرشید کے چل بسنے کی خبر فون پر کشور ناہید نے دی تھی تو مجھے اپنا کئی سال پہلے کا لکھا ہوا اپنا وہ مضمون یاد آیا تھا جو میں نے ’’لذیذ لمحے اور عبدالرشید ‘‘ کا عنوان جما کر لکھا تھا۔ طالب علمی کے زمانے کا لکھا ہوا مضمون۔ اور کل رات جب ہم شکیل جاذب، حارث خلیق، فرخ یار اور کشور ناہید سے ان کی شاعری سن رہے تھے، تو اس دورانیے میں ساقی فاروقی کے ’’ہدایت نامہ شاعر ‘‘ سے ناصر عباس نیر کی کتاب ’’نظم کیسے پڑھیں؟ ‘‘ تک کئی کتابوں کا ذِکرآیا اورکشورناہید نے بتایا تھا کہ انہوں نے ناصر کی کتاب اور’’گوگل‘‘ دونوں چھان مارے، ان میں عبدالرشید نہیں ملا تھا اور یہ کہ گوگل پر اس مہم میں جو نکلا وہ عبدالرشید غازی تھا۔ یہ لطیف جملے اپنی جگہ، مگر واقعہ یہ ہے کہ عبد الرشید اُن تخلیق کاروں میں تھے جو ساری عمر چپکے چپکے اپنا کام کرنے میں گزار دیتے ہیں۔

رات تک میرا ارادہ تھا کہ عبدالرشید کی خدمات کے اعتراف اور یاد میں ’شہر نظم‘ کی تقریب میں اپنا لگ بھگ سینتیس برس پرانا مضمون پڑھ دوں گا جو میری ایک کتاب کا حصہ بھی ہے۔صبح اُٹھا، وہ تحریر میں نے ڈھونڈ کر نکالی اور پڑھ لی تو ارادہ بدل گیا۔ وقت کے ساتھ ہم خود بھی کتنا بدل جاتے ہیں، جو چیزیں عمر کے ایک حصے میں اُلجھاتی تھیں، بعد میں پانی ہو جاتی ہیں تو ہم اپنے آپ پر ہنستے ہیں اور وہ جو سادہ اور عام سی ہوتی تھیں اُن میں سو طرح کے پیچ نکل آتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اچھا اِسے اِس رُخ سے بھی دیکھا جاسکتا تھا۔

مجھے اعتراف کرنا چاہیے کہ جن کتابوں نے نوجوانی کے زمانے ہی میں میرا شاعری کا تصور بدل ڈالا تھا، ان میں عبدالرشید کی کتابیں بھی شامل رہیں ہیں۔ بہ طور خاص ان کی تب تک میسر ہونے والے مجموعے ’’اِنی کُنتُ من الظالمین‘‘، ’’’پھٹا ہوا بادبان‘‘ اور’’اپنے لیے اور دوستوں کے لیے نظمیں‘‘۔ تب تک میں اُن کے نام سے انیس ناگی مرتبہ ایک اہم کتاب ’’نئے شعری اُفق‘‘ سے آگاہ ہو چکا تھا۔ نہ صرف ان کے نام سے ایک زمانے میں شاعری کے روایتی تصور میں رخنے ڈالے والے ایک پورے گروہ سے، جس میں خودانیس ناگی تھے، محمد صفدر، عباس اطہر، افتخار جالب، زاہد ڈار، جیلانی کامران اور تبسم کاشمیری کے ساتھ عبدالرشید بھی شامل تھے۔اور ان میں کشور ناہید، سعادت سعید، اقبال فہیم جوزی اورکئی مزید نام میں نے خود شامل کر لیے تھے۔

عبد الرشید کی نظموں کی پہلی کتاب’’اِنی کنت من ا لظالمین‘‘ ۱۹۷۳ء میں چھپی تھی، میں چوہتر میں میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی فیصل آباد گیا تو دوستوں نے گھیر گھار کر سیاست کی طرف دھکیل دِیا اور جب بہت سے ہنگامے برپا کرنے، یونیورسٹی سے نکالے جانے، مقدمہ بازی کرکے واپس آنے، بار بارہنگاموں اور دنگوں کے بیچ کود پڑنے، اسٹوڈنٹس یونین کا الیکشن لڑنے، جیل کی ہوا کھانے اور اپنا بہت سا نقصان کرنے کے بعد توبہ تائب ہو کر ادب کی طرف آیا تو یونیورسٹی سے گھنٹہ گھر چوک تک پیدل چل کر محفل ہوٹل میں ادیبوں کی ٹولی میں بیٹھنے میں لطف لینے لگا تھا۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو اس زمانے میں ڈاکٹر ریاض مجید سے جو کتابیں لیں اُن میں، عبد الرشید کی’’ انی کنت من الظالمین‘‘، ’’ اپنے لیے اور دوستوں کے لیے نظمیں‘‘ اور’’ پھٹا ہوا بادبان‘‘ بھی تھیں۔ قدرے بڑی تختی پر اُردو ٹائپ میں چھپی ہوئی ’’انی کنت من الظالمین‘‘، جسے یقینا میری طرح، ہر کسی نے پہلے کوئی مذہبی کتاب سمجھا ہوگا، پڑھ کرلطف، لذت اور اذیت کے اس تجربے کو بھی محسوس کیا ہوگا جو عبدالرشید کے ہاں اس کتاب میں نظم ہو رہا تھا۔ بعد میں، میں عبدالرشید کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھنے لگا ’’صبح کا پہلا کبوتر‘‘، نیند موت اور بارش کے لیے نظمیں، انور ادیب کے لیے نظمیں، بنکاک میں اجنبی، افتخار جالب کے لیے نوحہ، پیرس میں سال کا آخری دن، سمیع آہوجہ کے لیے نظمیں، چار پرندے، کیسے بیتے یہ دن رات۔

عبدالرشید کی شاعری کی کتابیں مجھے اس لیے بھی عجیب اور مختلف لگی تھیں کہ وہ کہیں بھی غزل کی راسخ روایت سے کچھ نہیں لے رہے تھے۔ ایک اور طرح کا طرز ِاحساس تھا جس کے میں مقابل ہو رہا تھا اور ایک اور طرح کا اسلوب تھا جس کا میں ورق ورق پر مشاہدہ کر رہا تھا۔ جی، عجیب نظمیں تھیں جو کہیں تو پیراگراف میں لکھ لی گئی تھیں اور کہیں دوکالموں میں، کہیں چھوٹی بڑی سطروں میں آزاد نظم کی صورت میں نظر آتی تھیں اور کہیں یہ سارے قرینے ایک ہی نظم میں برت لیے گئے تھے۔ مثلاً دیکھئے اُن کی۱۹۷۷ء میں چھپنے والی ایک کتاب ہے ’’پھٹا ہوا بادبان‘‘۔ اس میں ایک سے زاید طویل نظمیں ہیں۔ جس طویل نظم کا میں یہاں بہ طور خاص ذِکر کرنا چاہتا ہوں، وہ ہے’’علامہ اقبال کے لیے ایک نظم‘‘۔ جس صفحے سے یہ شروع ہوتی ہے، اس پر دو طویل پیرا گراف ہیں اور نظم کی پہلی لائن یوں ہے جیسے کوئی واقعہ آغاز پاتا ہے۔ دوسری لائن سے یہی واقعہ کہانی کے اسلوب میں ڈھل جاتا ہے:

’’۱۱ نومبر کو جمعۃ الوداع تھا۔ موسم بدل رہا ہے۔صبح صبح باغ میں گھاس کی لاتعداد ننھی ننھی پتیاںرات کی شبنم سے بھیگی ہوئی ہیں۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

دوسرا پیرا گر اف بھی موسم بدلنے کی اطلاع سے شروع ہوتا ہے مگر جب موسم اور منظر بہم ہو کر کہانی بنانے لگتے ہیں تو سطریں نثر میں شاعری کا جادو بھی جگانے لگتی ہیں:

’’رات کی جاگی ہوئی آنکھیں سوجنے لگی ہیں۔ بوڑھے یہودی پیغمبروں کی طرح، جلال کی ہلکی سُرخی ڈورے بن رہی ہے۔‘‘

اور۔۔۔۔۔۔

’’رات اپنی تاریکی کی مجلد کتاب کی آخری سطریں پڑھ رہی ہے۔‘‘

اگلے چودہ صفحات پر نوحصوں میں لکھی گئی اس نظم کے باقی حصے ہیں، جن پر مواد چھوٹی بڑی سطروں میں یوں منقسم کر لیا گیا ہے کہ آپ شاعرکی منشا کے مطابق، ہر لائن پڑھنے کے بعد اتنا رُکتے ہیں کہ پڑھا ہوا خیال تصویرکا ایک ٹکڑا بن جائے۔نظم آگے چلتی ہے، یوں کہ اگلے خیال کی تصویر کاٹکڑا پہلے ٹکرے سے کچھ آڑا ترچھا جڑ کر یا کچھ رخنے چھوڑ کرتصویر مکمل کرتا ہے ایک ایسے پزل کی طرح جس میں کچھ بھید جان بوجھ کر رکھ لیے گئے ہوں۔ اسی نظم سے مقتبس کرتا ہوں:

’’عبث ہم نے اپنی محبت کی دوری میں
اس کے رواں زمزموں کی قبائیں نہ کھولیں
اور صحرا کی گرمی کی مشکوں میں
چشموں کی مشکیں بنائیں
یہ صدیوں سے تھوکا ہوا وعظ
جو نرخروں سے لپٹتا چلا آرہا ہے
تیری میراث ہے
میری میراث ہے۔‘‘
(علامہ اقبال کے لیے ایک نظم)

بتا چکا ہوں کہ جس زمانے میں، میں عبدالرشید کی شاعری کی طرف متوجہ ہوا تھاوہ میری نوجوانی کا زمانہ تھا تب ایسے الفاظ، کہ جن پر جنس کی نمائندگی کا ذرا سا بھی شائبہ گزرتا تھا، پڑھتے ہوئے ایک خاص نوع کی لذت کا احساس ہوتا تھا۔ شاید یہی سبب ہے کہ تب میں نے ان کی نظموں پر مضمون لکھتے ہوئے، اسے’’ لذیذ لمحوں کی شاعری‘‘ کہہ دیا تھا مگر واقعہ یہ ہے کہ یہاں زبان محض خارجی سطح پر ہی نہیں بدل رہی تھی، اس کے باطن میں معنیاتی تشکیل کے لیے بھی اکھاڑ پچھاڑ ہو رہی تھی۔ نئی زبان کی تشکیل میں جنسی استعارے کس طرح کام کرنے لگے تھے، مختلف نظموں سے مقتبس کرتا ہوں :

’’کتابوں سے بغل گیر ہو کر
لڑکیوں کی سی لذت نہیں مل سکتی
مباشرت کے لیے
اصل انسانی اعضا کا ہونا
بہت ضروری ہے‘‘
(اصغر ندیم سید کے لیے ایک نظم)

’’ایک نعرے کی وارفتگی
تم میں جنم لے رہی ہے
اسے تناسل سمجھ کر مت دبائو‘‘
(فیاض تحسین کے لیے ایک نظم)

’’تجھے تیری بیوی خود سے بدفعلی نہیں کرنے دے گی
کیوں کہ تو اس کے ساتھ چمٹا ہوا
ایک شرابی ہوگا
جو اپنے ذ ہن میں گم
لذت کے منظر بنا رہا ہوگا‘‘
(عابد عمیق کے لیے ایک نظم)

’’میں فرعون کا ایک بت بنانا چاہتا ہوں
جس کی ریت
انسانی ہڈیوں کے برادے سے بنائی گئی ہو
جس کا پانی
حبشیوں کے آب تناسل جیسا گاڑھا ہو۔‘‘
(میں فرعون کا بُت بنانا چاہتا ہوں)

’’میں صدیوں کے لایعنی اندام کے بھیگے بوسے میں تر ہوں‘‘
(میں صدیوں کے لایعنی اندام میں ہوں)

مانتا ہوں کہ مختلف نظموں کی ایسی لائنیں پڑھ کر میرے بدن میں لذت اترنے لگتی تھی، مگر ازاں بعد یوں ہوا تھا کہ تصویروں کے یہ ٹکرے نظم کے اندر اپنے اپنے مقام پر اپنے اپنے سیاق میں ایک بے باک لسانی پیٹرن سے جڑ گئے جو ایک دھند بناتے ہوئے مختلف معنیاتی تناظر قائم کرتا تھا اور اس میں سے نہ صرف ساری لسلسی لذت منہا ہوکر چیخ بن جاتی اور ایک فکری دھارا شاعر کے اپنے تراشے ہوئے جمالیاتی آہنگ میں رواں ہوجاتا تھا۔ یہاں میں اپنی بات ذرا ڈھنگ سے آپ تک پہنچانے کے لیے ایک مثال دینا چاہوں گا۔ ابھی ابھی میں نے جس آخری نظم کی پہلی لائن کو مقتبس کیا ہے، اس کے ساتھ فوراً بعد کی لائنیں ملا کر پڑھ لیجئے۔ یکلخت نئی جمالیاتی اور معنیاتی تشکیل خود بخود آپ تک منتقل ہو جائے گی:

’’میں صدیوں کے لایعنی اندام کے بھیگے بوسے میں تر ہوں‘‘
مرے ہونٹ نابود قبروں کی مِٹی سے سیلن زدہ ہیں
روایت کے کمروں کے دروازے باہر سے بند ہیں
صدا ٹوٹ کر کالی چمگادڑوں کی طرح چھت سے لٹکی ہے
۔۔۔۔۔جب کہ اس نظم کی آخری لائنیں ہیں:۔
’’نیند پاگل منادی کی صورت
یہاں شہر و کوچہ کی اینٹوں پر چسپاں ہے۔‘‘
(میں صدیوں کے لایعنی اندام میں ہوں)

کہنا یہ ہے کہ عبدالرشید کی نظمیں جس شعری جمالیات کو متشکل کرتی ہیں، اس میں محض جنسی استعارے نہیں ہیں، تاریخ، تہذیب اور رواں سیاسی سماجی منظر نامے سے بھی بہت کچھ اخذ ہو رہا ہوتا ہے۔کچھ اقتباسات اس باب کے:

’’ اوقات کے اغلاط نامے میںاس نے اپنا پہلا قدم اس ڈیوڑھی
کی سر بسر تاریکی میں پرندے بھر روشنی کی صورت میں رکھا۔‘‘

(مجید امجد کے لیے۔۔۔!)

’’ کیا میری رفتار مرے اختتام کی گنتی کے آخری سرے تک پہنچ گئی ہے
اور میں مڑ کر اپنی مفتوحہ آبادیوں، گھروں کی ڈھیتی دیواروں،
کنویں کی منڈیر پر پانی کے بوجھل جسم کے بہائو کو بھر کر دیکھ سکتا ہوں۔
(کیا میں تھک چکا ہوں)

آٹھ حصوں پر مشتمل ایک اور طویل نظم سے بھی ایک چھوٹا سا اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

’’گلے کا مفلر جو پشت کا پوسٹر بنا ہے
برہنہ بازو بدن کے پرچم میں ڈوب کر اب تڑپتی آنتوں کے پمفلٹ پر
جوانی، بچپن، جلوس، ہڑتال، بھوک، تعلیم،
گائوں، قصبے، کچہری، زندان لکھ رہے ہیں ‘‘
(مرے شہر کی نیند میں)

آخر میں عبد الرشید کے مجموعے ’’پھٹا ہوا بادبان‘‘ کی ایک نظم کا ٹکرا آپ کی نذر کرکے اجازت چاہوں گا:

’’میں اپنے بچپن کی گلیوں میں
ایک اساطیری لڑکا ہوں
جس کے ریشوں میں
دنیا کے سارے دریا بہہ رہے ہیں
جس کے سر میں
کتابوں کے پلندے لگے ہیں
جو تنہائی کی شاخوں سے لگ کر
محبت کی خوہش میں رونا چاہتا ہے۔‘‘
(پیش لفظ)

اس نظم کا عنوان ’’پیش لفظ‘‘ ہے اوریہی عبد الرشید کی شاعری کا حرف آغاز ہے اور حرفِ آخر بھی۔ ایک اساطیری لڑکا جو ایک طرف اگرتہذیبی، تاریخی اور سماجی سیاسی گلیوں میں کھیل رہا ہے تو عین اسی وقت انسانی حسیات کی گلیوں کے باریک ریشوں کے اندر سے چھچھلتا پھسلتا اپنی ہی دھن میں آگے بڑھتا، زندگی کو سہتا برتتا بڑا ہوتا گیا ہے۔ جی وہی جس کے سر میں کتابوں کے پلندے تھے مگر جو محبت کی خواہش میں رونا چاہتا تھا۔ اسی خواہش نے عبد الرشید سے شاعری کی نئی اساطیر مرتب کروا لی اور یہ ہماری شعری لسانی تاریخ کا ایسا واقعہ نہیں ہے جسے نظر انداز کرکے نئی نظم کی تفہیم کے قرینوں کو درست درست نہیں آنکا جا سکتا۔

(Visited 55 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: