نرتکی ——– شاہین کاظمی کا افسانہ

0

مدھو نے گہری سانس لے کر بدن ڈھیلا چھوڑ دیا۔ اس کے چہرے پر تھکن تھی۔ پیشانی پر آئے پسینے کے قطرے پونچھتے ہوئے وہ گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئی۔

”کیا ہوا آج اتنی جلدی تھک گئیں؟“
سنگ تراش کا دھیان ٹوٹا تو وہ اپنی ناگواری نہ چھپا سکا۔
”جلدی؟“
”بدھو مہاراج! دن کا تیسرا پہر ڈھلنے کو ہے اور آپ کو اب بھی جلدی لگتی ہے۔ “
اس کے بدن میں بلا کی اینٹھن تھی۔ صبح سے ایک ہی زاویے پر کھڑے انگ انگ میں تھکن اُتر آئی تھی۔
”تم جانتی ہو نا یہ مورتی میرے لیے کتنی ضروری ہے۔ میں اسے وقت پر ختم کرنا چاہتا ہوں اور تم ہو کہ۔ ۔ ۔ “
سنگ تراش کے لہجے میں ترشی تھی۔
”دیکھو راجہ مدھو کو کسی کا حکم ماننا پسند نہیں ہے۔ تمہیں اپنی مورتی سے پیار ہے، مجھے اپنے آپ سے۔ “

اس نے پاس پڑی چادر اٹھا کر لپیٹ لی۔ اس کے گال دہک رہے تھے اور بدن میں ہلکی کپکپاہٹ تھی۔ پچھلے کئی دنوں سے اس کی طبیعت بوجھل تھی۔ سورج ڈھلتےہی بدن پھنکنے لگتا۔ ریشہ ریشہ الگ ہوتا ہوا محسوس ہوتا۔ ۔ ۔ لیکن پیٹ کی آگ بدن کی آگ سے کہیں زیادہ تیز ہوتی ہے۔ سو وہ بھی سب بھلاکر گھنٹوں رقص کا ایک ہی زاویہ بنائے ساکت کھڑی رہتی۔ پاؤں شل ہوجاتے، آنکھوں کے آگے ناچتے سیاہ دائرے پھیل کر سارے رنگ نگل لیتے۔ اسے لگتا جیسے وہ کسی جا دوئی اثر میں ہو۔ سنگ تراش کا تیشہ پتھر پر نہیں، اسے اپنے آپ پر چلتا ہوا محسوس ہوتا۔

لیکن بھوک ناگ کو کون قابو کرسکا ہے۔ وہ پھنکارتا ہے تو بڑے بڑے ڈھ جاتے ہیں، وہ تو پھر ایک کمزور عورت تھی۔ اس پر بوڑھے باپ اور بہن کا بوجھ اس کے پاؤں کو متحرک رکھنے کو کافی تھا۔

اس چھوٹے سے گاؤں میں مدھو کا خاندان پشتوں سے آباد تھا۔ سبھی چھوٹے موٹے کام کرکے جیون کی گاڑی کو دھکا لگائے ہوئے تھے۔ مدھواس خاندان میں کیا آئی، خاندان کے نصیب کی ٹمٹماتی لَو بھی بھڑک کر بجھ گئی۔ ماں اس کی پیدائش پر چل بسی، لیکن جاتے جاتے عمر بھر کی نحوست مدھو کے حصے میں لکھ گئی۔

بابا کچھ دنوں تک تو سوگ میں رہا۔ پھرا یک دن غائب ہوگیا۔ واپسی پر سرخ جوڑے میں لپٹی شاماں اس کے ساتھ تھی۔ وہ تن من دونوں سے کالی تھی۔ ذرا ذرا سی غلطی پر وہ چار چوٹ کی مار دیتی کہ مدھو دنوں آنسو پیتی رہ جاتی۔ شاماں نے معذور بیٹی کو جنم دیا تو مدھو کی نفرت اور نحوست ایک ساتھ کئی درجے پھلانگ گئی۔ اسے اندر کمرے میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔ جاڑوں کی لمبی راتیںہوں یا گرمیوں کی چلچلاتی دوپہریں، وہ صحن کے کونے میں بنی چھوٹی سی کوٹھڑی میں گزار دیتی۔
شاماں کو یاد آتا تو کھانا پٹخ دیتی ورنہ مدھو بھوکی ہی سو جاتی۔

اس کا سارا پچپن تنہا گزرا۔ لوگ اس کے سائے سے بھی بدکتے تھے۔ گلی میں اسے آتا دیکھ کر دروازے دھڑ دھڑ بند ہونے لگتے۔ شاماں کے سنائے ہوئے نحوست کے قصوں نے مدھو کے لیے گھر باہر جہنم دہکا دیا۔

شاماں اسے دیکھتی تو اس کے سینے پر جیسے سانپ لوٹنے لگتے۔ جانے کیا کھا کر مدھو کی ماں نے اسے جنا تھا۔ جو بھی دیکھتا، دیکھتا ہی رہ جاتا۔ گلال ملے میدے کی سی رنگت، سرخ رسیلے ہونٹ، سیاہ لانبے بال، جنہیں ہفتوں تیل صابن نصیب نہ ہوتا لیکن ان کی چمک پھر بھی چندھیائے رکھتی۔ شاماں کی نفرت مدھو کے ساتھ جوان ہوتی گئی۔ مدھو بھی اپنے نام کی ایک تھی۔ اس نے درد اندر اتارنا سیکھ لیا تھا، لیکن اندر ااُترا ہوا درد زہر بن جاتا ہے۔ سو یہی مدھو کے ساتھ ہوا۔ اس کی زبان کا ڈسا پانی نہیں مانگتا تھا۔ ایسی ایسی گالیاں اور کوسنے دیتی کہ شاماں جیسی عورت بھی زچ ہوجاتی۔

وہ اٹھارہ سال کی ہوچکی تھی اور گاؤں کی نوٹنکی میں اس کی دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی۔ شاماں کے لاکھ کوسنے پر بھی اس نے نوٹنکی میں ناچ بند نہ کیا۔ ۔ ۔ کیا غضب کا ناچتی تھی۔ نوٹنکی کے کرتا دھرتا بنسی مہاراج اسے بیٹی کی طرح چاہتے تھے۔ انھوں نے مدھوکے کہنے پر باقاعدہ اسے ناچ کی تعلیم بھی دینا شروع کردی۔

”گرو جی میرے پاس گرو دکھشنا میں دینے کو کچھ بھی نہیں۔ “
اس کی آواز بھرّا گئی۔
”ایک چیز تم گرو دکھشنا میں دے سکتی ہو بٹیا!“
مہاراج اپنے نرم لہجے میں بولے۔
”کہیے مہاراج“
وہ سراپا عقیدت تھی۔
”تم پورے من سے نرت سیکھو اور پھر اس کلا میں اپنا نام کماؤ، یہی میری گرو دکھشنا ہوگی۔ “

انھوں نے محبت سے مدھو کے سر پر ہاتھ رکھا تو اس کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے۔ اس نے اپنا تن من سب رقص میں جھونک دیا۔ اس کا چاندنی جیسا دودھیا بدن جب دھیرے دھیرے اپنے راز کھولتے ہوئے نرت کے بھاؤ بتاتا تو بڑے بڑوں کا ایمان ڈولنے لگتا۔ گرو جی اس سے بہت خوش تھے۔

اس دن برابر والے گاؤں میں شادی تھی، نوٹنکی ٹولی بھی وہاں مدعو تھی۔ گرو مہاراج نے خاص طور پر مدھو کو آنے کاکہا تھا۔ تیز روشنیوں میں سرخ گھاگھرے اور چھوٹی سی کسی ہوئی چولی میں جب مدھو کے سیماب بدن کے زاوئیے کھلنے شروع ہوئے تو دل گھنگھرو بن گئے۔ پیسوں کی برسات شروع ہوئی تو چھوٹی سی چولی تنگ پڑنے لگی۔

اسی دن شاماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں، مگر جاتے سمے معذور بیٹی، بوڑھا بیمار شوہر اور گھنگھرو مدھو کو بخش گئی۔ مدھو بھی جانے کیسا نصیب لکھوا کر لائی تھی۔ ساری عمر دوسروں کے رحم و کرم پر گزار دی۔ جو دوسروں نے چاہا وہی ہوا۔ وہ چاہے بابا ہوں۔ ۔ ۔ شاماں ہو یا یہ رینوکا۔ ۔ ۔ نہ چاہتے ہوئے بھی سب کی دیکھ بھال کرنا پڑی۔

”کیا میرا جیون کی سندرتا پر کوئی حق نہیں ہے؟“
”ماں کی مرتیو میرا دوش کیسے ہوئی؟ رینوکا روگ لکھواکر لائی تو کیا میں نے بھگوان سے سفارش کی تھی؟“
”اور اب شاماں گئی۔ ۔ ۔ ۔ اس سے تو اچھا تھا بھگوان مجھے ہی اٹھالیتا۔ “

اسے شاماں کے مرنے کا دکھ تھا۔ کم ازکم گھر میں زندگی کا احساس تو رہتا تھا، اب تو قبرستان کی سی خاموشی تھی۔ مدھو کا دم گھنٹے لگتا۔ رینوکا سارا دن جھلنگا سی چارپائی پڑی رہتی۔ مدھو کھانا رکھ دیتی تو کھالیتی، ورنہ بڑے بڑے دیدے گھماتے ہوئے نامراد خلاؤں میں جانے کیا گھورا کرتی۔

بابا نے بھی شاماں کے بعد چپ سادھ لی تھی۔ کبھی مدھوسے آنکھ ملاکر بات نہ کی۔ شاید اندر سے شرمسار تھا۔ شاماں کی ہر زیادتی پر اس نے کبھی جواب طلبی نہ کی تھی اور اب تقدیر نے اسے مدھو ہی کے رحم و کرم پر لاڈالا تھا، لیکن مدھو سب بھلاکر ان کی دیکھ ریکھ میں لگ گئی۔ اوپر سے سماج کی نفرت کا بھاری طوق اسے زندگی بوجھ لگنے لگتی۔ روز سوت کات کر چادر بنانا کب آسان ہوتا ہے۔ گو نوٹنکی میں اس کا کام بہت سراہا جاتا تھا۔ اس سے پیسوں کی چنتا کچھ کم ہوگئی تھی، لیکن کبھی کبھی وہ اس سب سے اس قدر اُوبھ جاتی کہ مرنے کو جی چاہتا۔

بلراج سے اس کی ملاقات گرو مہاراج نے کروائی تھی۔ اسے راج بھون کے لیے مورتی تراشنا تھی اور وہ کسی سندر ملیح چہرے کی تلاش میں تھا۔ جب گرو مہاراج نے اسے مدھو سے ملوایا تو اسے لگا اس کی تلاش مکمل ہوگئی ہے۔ بلراج نے اسے خاصی بڑی رقم یکمشت ادا کردی تھی، لیکن ایک مسئلہ تھا۔ اسے مورتی مکمل ہونے تک بلراج کے ساتھ سٹوڈیو میں ہی رہنا تھا۔

”گروجی، بابا اور رینوکا کا کیا ہوگا؟“
مدھو قدرے فکر مند تھی۔
”تم فکر مت کر پتری، میں کوئی انتظام کروادوں گا۔ ۔ ۔ تم جاؤ ایسے موقعے بار بار نہیں آتے۔ راج بھون کی مورتی کے لیے تمہارا چناؤ بڑی بات ہے۔ بٹیا بہت بڑی بات مانو، تمہارے دن پھرگئے۔ “

گرو مہاراج بہت خوش تھے۔ اس نے ان روپیوں میں سے کچھ روپے بابا کے ہاتھ میں تھمائے اور جانے کی اجازت چاہی۔
”بابا سندری موسی روز آکر کھانا اور دوسرے کام کر دیا کرے گی۔ رات کو بھیم چاچا ادھر ہی سوئیں گے۔ تم پریشان مت ہونا، میں کچھ دنوں میں لوٹ آؤں گی۔“
بابا نے ایک نظر اسے دیکھا اور کانپتا ہاتھ اس کے سر پر رکھ دیا۔ مدھو کو لگا جیسے جلتی دوپہر میں اچانک کہیں سے نمودار ہونے والا بادل برسنے لگا ہو۔

لمبے گیسو، غلافی آنکھوں اور گھٹے ہوئے تنومند جسم والا بلراج ساحر تھا۔ اس کے ہاتھوں کے لمس سے پتھروں میں جیسے زندگی اگنے لگتی۔ تیشے کی ہر حرکت پتھر میں ڈھلی زندگی کے نشیب و فراز سے نقاب سرکاتی جاتی۔ بلراج خاصا منہ پھٹ اور بے باک تھا۔ مدھو پہروں اس کے سامنے بے لباس کھڑی رہتی۔ شروع شروع میں اسے یہ سب بہت مشکل لگتا۔ بلراج کے باربار کہنے کے باوجود اس کے بدن میں ایک ان دیکھا سا تناؤ رہتا۔ بلراج کی نگاہیں اسے چبھنے لگتیں اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بدن چرانے لگتی۔

”دیکھو مدھو ایسے کام نہیں چلے گا، تمہارے بدن کا تناؤ مجھے کچھ کرنے نہیں دیتا“
بلراج سخت غصے میںتھا۔
”سوچو تم یہاں اکیلی ہو، بالکل اکیلی“

اس کے کھردرے ہاتھ مدھو کے برہنہ شانوں پر ٹکے تھے۔ مدھو کا بدن آنچ دینے لگا۔ بلراج نے بھی اس کی کپکپاہٹ محسوس کرلی۔ اس کے لبوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ ابھری۔ اس نے ایک جھٹکے سے مدھو کو بانہوں میں بھر لیا۔

مدھو نے وحشت زد ہ انداز میں اسے دیکھا لیکن لہو میں جاگتی آنچ نے اسے بے سدھ کردیا تھا۔ بہت دھیرے سے اس نے آنکھیں موند لیں۔ جسم کے مختلف حصوںکو چھوتی ہوئی گرم سانسیں کسی نئے جہاں کا در وا کر رہی تھیں۔ ۔ ۔ مدھو کے لیے یہ سب کچھ بہت انوکھا تھا، نیا اور خوبصورت۔ ۔ ۔ چکاچوند کردینے والا۔ ۔ ۔ محبتوں کو ترسی ہوئی ہوس کے کھردرے ہاتھوں کا محبت کا الوہی لمس جان کر تن من ہار بیٹھی تھی اور وہ بھی اپنے سے بیس سال بڑے مرد کے سامنے۔ ۔ ۔ خود سپرگی میں منزلیں طے کرتے کرتے اچانک مدھو کو احساس ہوا چاہنے اور چاہے جانے کا احساس کتنا خوبصورت ہے۔

”بلراج تم مجھے چھوڑ تو نہیں دو گے؟“
وسوسے مدھو کو ڈسنے لگے۔
”زندگی کون تیاگتا ہے مدھو“

بلراج کی سرگوشی مدھو کو سرشار کر جاتی۔ مورتی مکمل ہونے والی تھی۔ مدھو کا دل انجانے خدشوں سے لرز لرز جاتا۔ دن بدن پھولتے پیٹ کو چھپانا اب ناممکن تھا۔ بلراج کو علم ہوا اس نے چند نوٹ اس کی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے بہت سرد مہری سے اسے پاپ سے مکت ہوجانے کا مشورہ دے ڈالا۔ مدھو سکتے کی سی کیفیت میں کھڑی اسے دیکھتی رہی۔

”یہ تم کیا کہہ رہے ہو بلراج ؟“
اس کی آنکھوں میں اچنبھا تھا۔
”تمہارے بھلے کی بات کی ہے، کشٹ بھوگنا چاہتی ہو تو اور بات ہے۔“
”کیا مطلب؟ تم پتا ہو اس کے۔“
”پتا“
بلراج کا قہقہہ بہت طویل تھا۔
”ارے کاہے ہلکان ہوتی ہے اس بالی عمریا میں عیش کے دن ہیں، بس عیش سے غرض رکھ۔“
وہ داہنی آنکھ دبا کر بولا۔
”یہاں تو یہ سب چلتا رہتا ہے۔ اب میں ہر ایک کو تو گلے میں لٹکانے سے رہا۔“
اس کے لہجے کی انی مدھو کو دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی۔

بلراج کے لیے تو یہ بہت عام سی بات تھی۔ راجہ صاحب کا خاص اور منہ چڑھا تھا۔ گو راج رجواڑوں کے زمانے بیت گئے تھے۔ ۔ ۔ راجہ صاحب بھی بس نام ہی کے راجہ رہ گئے تھے۔ نہ وہ پہلے والا کرّ وفر تھا نہ ہی وہ لوگ جو راجاؤں کا مان سمان ہو اکرتے تھے۔ راجہ صاحب اپنی پشتینی حویلی کو راج بھون کا نام دے کر ہی بہت خوش تھے۔

لیکن مرا ہو ا ہاتھی بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔ حویلی میں وہی نوکروں کی فوج، وہی تام جھام، وہی اللے تللے آج بھی اسی طرح برقرار تھے۔ ہر سال شیوراتری پر راج بھون کے دیوانِ خاص میں نئی مورتی ایستادہ کی جاتی تھی۔ یہ پرکھوں سے چلی آرہی ایک رسم تھی۔ جسے اب تک نبھایا جا رہا تھا۔ بلراج ہر بار شہکار تخلیق کرتا تھا، اسی لیے راجہ صاحب اسے بہت مانتے تھے۔

مدھو ایک ٹک اسے دیکھے گئی۔ گو وہ بچپن سے ٹھکرائے جانے کا درد سہتی آئی تھی لیکن آج جانے کیوں دل کی رگیں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔ غصہ بے بسی میں ڈھلنے لگا اور بے بسی آنسوؤں میں ڈھل گئی۔ آج پہلی بار وہ نصیب پر شاکی تھی۔ آج اس کا گلہ اپنے آپ سے تھا۔

”اور سنو جلدی اٹھ جانا مورتی میں جو تھوڑا بہت کام باقی ہے، وہ ختم کرنا ہے۔ راجہ صاحب نے دو دن بعد کامہورت نکلوایا ہے استھاپنا کے لیے۔ “ بہت آرام سے کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔

مدھو کے اندر جیسے چھناکے سے کوئی چیز ٹوٹ گئی۔ اس نے نفرت سے اپنے پھولے ہوئے پیٹ کو دیکھا اور زمین پر تھوک دیا۔ اس کی وہی ازلی بے حسی عود آئی تھی۔ اسی رات نہایت خاموشی سے وہ گاؤں واپس آگئی۔ سندری موسی وہیں موجود تھی، جہاندیدہ عورت تھی، بنا کہے اس کی حالت سمجھ گئی۔

”چل میرے ساتھ۔“ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر قدرے سختی سے بولی۔ ”میں شالنی سے بات کرتی ہوں، کوئی کاڑھا ہی بناکر دے دے تجھے، کس کس سے چھپائے گی اس پاپ کو۔“
”ابھی آتی ہوں اسے اندر رکھ لوں“

اس نے زمین پر پڑی کپڑوں کی پوٹلی کی طرف اشارہ کیا۔ گرہ کھول کر اس نے چادر میں لپٹی کوئی چیز نکالی۔ یہ اس کے اپنے سنگی مجسمے کاٹوٹا ہوا پاؤں تھا جس کی چھنگلی غائب تھی۔ پاؤں میں بندھے گھنگھرو سنگ تراش کے ماہرِ فن ہونے کی بیّن دلیل تھے۔ ایک گہری سانس لے کر اس نے ٹوٹا ہوا پاؤں جستی صندوق میں رکھا اور چپ چاپ موسی کے ساتھ ہو لی سنگ تراش کا تیشہ خود اسی کو گھائل کرگیا تھا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: