رشـتہ ——– شاہین کاظمی کا یادگار افسانہ

0

اس قبر جیسی تنگ و تاریک سی جگہ سے جیسے کسی نے اُسے اچانک باہر لا پٹخا۔ عجیب دل دہلا دینے والی آواز تھی، جیسے صورِ اسرافیل پھونکا جا رہا ہو۔ اس کا پورا بدن تشنج کا شکار تھا۔ تیز کٹار کی طرح سینے میں ابھرتی ڈوبتی سانسیں لگتا تھا۔ جیسے گلے میں کوئی چیز اٹکی ہوئی ہے۔ اس نے پوری توانائی صرف کرکے گلا صاف کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ہوسکی۔ پھیپھڑوں میں اترتی سرد ہوا آگ سی دہکا رہی تھی۔ اسے پنڈلیوں پر سخت جلن محسوس ہوئی۔ چند گہری خراشیں تھیں، جن سے متواتر لہو بہہ رہا تھا۔ اس نے مچی مچی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کی لیکن بوجھل اور متورم پپوٹے اوپر نہ اٹھ سکے۔ عین سر پر چمکتے سورج کی تیز روشنی اسے اپنی جلد چٹختی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس پر سرد ہوا، جیسے ہڈیوں میں اترتی جارہی تھی۔ دور تک پھیلے ہوئے اس ویرانے میں کسی ذی روح کا نام و نشان تک نہ تھا۔ ہر طرف پھیلا ہوا موت کا سا سکوت، سورج کی تیز کرنیں آنکھوں میں اترنے لگیں۔

اچانک اس کی نظر اس بے حس و حرکت وجود پر پڑی جو اس کے قریب ہی برف پر پڑا تھا۔ شاید وہ کوئی خاتون تھی اور یقیناً تکلیف میں تھی۔ اس کی کراہوں کی آواز وہ بآسانی سُن سکتا تھا۔ جانے وہ کون تھی اور اس ویرانے میں کیا کر رہی تھی۔

سردی عروج پر تھی۔ پچھلے کئی دنوں سے برفباری کا سلسلہ جاری تھا۔ ہر طرف برف کی سفید چادر سی بچھ گئی تھی۔ رابعہ کی طبیعت صبح سے قدرے ناساز تھی۔ سارا جسم جیسے پھوڑا بنا ہوا تھا۔ اس پریہ اداس کردینے والا موسم۔ وہ اس وقت گھرمیں بالکل اکیلی تھی۔ دو گھنٹے پہلے مظفرکا فون آیا تھاکہ وہ دو دن تک آپائے گا۔ وہ ایک دم پریشان سی ہوگئی۔ تنہائی سے اُسے شدید وحشت ہوتی تھی لیکن مظفر کی جاب ایسی تھی کہ اسے ہفتہ ہفتہ بھر گھر سے باہر رہنا پڑتا تھا۔ ایسے میں رابعہ کے لیے وقت کاٹنا مشکل ہوجاتا اور پھر ایسی حالت میں تو انسان ویسے ہی بہت زود حس ہو جا تا ہے۔
ا
س نے چادر کو اپنے گرد اچھی طرح لپیٹا اور آتش دان میں مزید لکڑیاں جھونکنے لگی کہ اچانک اٹھنے والے درد نے اسے دہرا کر دیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کیسا درد ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی تو ڈاکٹر کے پاس گئی تھی اور اس نے مزید چھ ہفتے کا ٹائم دیا تھا۔ وہ ایک دم پریشان ہو گئی۔

”یا اللہ! میں کیا کروں!“

درد تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ اس نے اپنی پڑوسن سے مدد لینے کا سوچا لیکن پھر کچھ سوچ کر رک گئی اور خود ہی ڈاکٹر کے پاس جانے کا ارادہ کیا۔ کوٹ پہنا اور چائے کا آخری گھونٹ بھر کر کپ میز پر رکھا اور چابیاں اٹھاکر باہر آگئی۔ موسم کے تیور کچھ بہتر لگ رہے تھے۔ گھنے بادلوں کو چیرتی ہوئی سورج کی کرنیں برف سے آنکھ مچولی کھیل رہی تھیں۔ اس نے لمحے بھر کو سوچا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔

رابعہ آج سے چند سال پہلے بیاہ کر جرمنی آئی تھی۔ آنکھوں میں ڈھیروں خواب سجائے۔ مظفرگو اچھا انسا ن تھا، اس کا بہت خیال رکھتا تھا، لیکن جاب کی وجہ سے اسے مناسب وقت نہ دے پاتا۔ جب بھی وہ شہر سے باہر ہوتا دن میں دس دس بار رابعہ سے فون پر بات کرتا۔ رابعہ اس کی مجبوری سمجھنے کے باوجود چڑ چڑے پن کا شکار ہوجاتی اور اکثر اس سے بات کرتے ہوئے رو پڑتی۔ کچھ دوری پر ایک اور پاکستانی فیملی تھی۔ کبھی کبھار ان سے بات ہوجاتی لیکن آنا جانا بہت کم تھا۔

اسے بہت شدت سے بچے کی خواہش تھی۔ شادی کے پورے پانچ سال بعد اس کی امید برآئی۔ وہ بے انتہا خوش تھی۔ اس نے ابھی سے چھوٹے چھوٹے کپڑے اور سویٹر بنانے شروع کر دئیے تھے۔ اب تنہائی اسے بری طرح کھلتی نہ تھی، اسے ایک مصروفیت مل گئی تھی۔ ساری ساری رات اپنے ہونے والے بچے سے باتیں کرتی۔ اسے لگتا کوئی اس کے ساتھ ہے۔ کبھی کبھی تو اسے محسوس ہوتا کہ وہ نہ صرف اس کی باتیں سن رہا ہے بلکہ سمجھ بھی رہا ہے۔ وہ جب بھی پریشان ہوتی اسے لگتا بچے نے اس کی پریشانی بھانپ لی ہے۔ اس کی غیرمعمولی حرکات اور بے چینی رابعہ فوراً محسوس کرلیتی۔

جوں جوں وقت گزر رہا تھا، اس تعلق میں پختگی آرہی تھی۔ وہ بڑی شدت سے محسوس کرتی تھی کہ بچے پر اس کے مزاج کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ خاص طور پر پریشانی کی حالت میں اسے لگتا وہ بھی پریشان ہے۔ اس نے اس بات کا ذکر اپنی ڈاکٹر سے بھی کیا۔

”ہاں ایسا بالکل ممکن ہے، ماں پر بچے کے مزاج کا گہرا اثر ہوتا ہے، اسی لیے تو ماؤں کو خوش رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ “

صفائی کے باوجود سڑکیں برف سے اٹی ہوئی تھیں۔ اس پہاڑی علاقے میں اتنی برف میں گاڑی چلانا بہت مشکل تھا۔ وہ بہت احتیاط سے گاڑی چلا رہی تھی۔ اس تنگ پہاڑی سڑک پر یو کی شکل کا موڑ کاٹتے ہوئے اسے لگا گاڑی قابو سے باہر ہورہی ہے۔ اس کا پاؤں بے اختیار بریک پر پڑا، لیکن گاڑی بری طرح پھسلتی چلی گئی۔ اس نے اپنے حواس برقرار رکھتے ہوئے سٹیئرنگ سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن گاڑی کسی بدمست سانڈ کی سڑک پر دوڑتے ہوئے داہنی طرف والے جنگل میں جاگھسی اور زور دار دھماکے سے درخت سے جاٹکرائی۔

درد کا ایک چنگھاڑتا ہوا عفریت جیسے اپنے تیز دھار ناخنوں سے اسے چھیلنے لگا۔ رابعہ کو کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ ٹوٹے ہوئے شیشوں کے تیز دھار ٹکڑوں نے اس کے چہرے کو بری طرح زخمی کردیا تھا۔ وہ گرم ابلتے ہوئے لہو کی دھاریں محسوس کرسکتی تھی۔ اس نے اپنی ٹانگوں کو حرکت دینے کی کوشش کی اور پاؤں سے ہینڈل دباکر سیٹ کو پیچھے دھکیل کر کھلے دروازے سے باہر لڑھک گئی۔ خنجر کی طرح تیز دھار برف نے اس کی پنڈلیوں کو بری طرح کاٹ کر رکھ دیا۔ شدید درد تن بدن کو چیر رہا تھا۔ اس کے حلق سے ایک طویل چیخ برآمد ہوئی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس ننھے سے وجودکو سنبھال پاتی، اس کا ذہن تاریکیوں میں ڈوب گیا۔

اس پر جانکنی کی سی کیفیت طاری تھی۔ پھیپھڑے ہوا کی کمی سے پھٹتے ہوئے محسوس ہورہے تھے۔ پوری طاقت سے آکسیجن کو اندر اتارنے کی کوشش میں اس کی گردن کی رگیں نمایاں ہوگئی تھیں۔ اس نے بہت بے بسی سے چاروں طرف دیکھنے کی کوشش کی، لیکن متورم آنکھیں نہ کھل سکیں۔ بدن میں اینٹھن اور تشنج بڑھنے لگا تھا۔ اس نے ایک بار پھر کسی کو پکارنے کی کوشش کی، لیکن حلق سے انتہائی باریک سی چیخ نما آواز ہی نکل پائی۔

سرد ہوا پنڈلیوں کی گہری خراشوں پر نشتر کا کام کررہی تھی۔ یکایک اس کے بدن پر شدید کپکپی طاری ہوگئی۔ پھیپھڑوں میں آگ سی بھر گئی۔ اسے لگا جیسے کو ئی لوہے کا خاردار ٹکڑا اس کے حلق میں اتارکر پوری طاقت سے گھمارہا ہو اور اس کے ساتھ اس کے تمام تر اندرونی اعضاء لپٹ کر باہر آر ہے ہوں۔ اس کے جسم پر بری طرح لرزہ طاری تھا۔ ہر سرِ مُو سے پسینہ پھوٹ نکلا۔ اس نے آخری کوشش کے طور پر پھر کسی کو مدد کے لیے پکارنے کی کوشش کی، لیکن حلق میں پھنسے لعاب نے پھر سے آواز کا گلا گھونٹ دیا۔

وہ خاتون ابھی تک اسی طرح پڑی ہوئی تھی۔ اس کی کراہوں کی آواز اسے بہت مانوس سی لگی۔ اسے لگا وہ اسے جانتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کا کوئی بہت گہرا رشتہ ہے، لیکن کیا؟ اسے یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ خاتون کی کراہیں اسے بے چین کیے دے رہی تھیں۔

وہ مررہا تھا۔ اس کا بدن دھیرے دھیرے نیلا پڑ نے لگا۔ آخری سانسیں لیتے ہوئے اس نے پھر آنکھیں کھولنے کی ناکام کوشش کی۔ اچانک اسے ہلکی سے گرمائش کا احساس ہوا۔ شاید کسی نے اس پر کوئی کپڑا ڈالا تھا۔ اسے اپنا بدن فضا میں معلق ہوتا ہوا محسوس ہوا۔ چند آوازیں سماعت سے ٹکرائیں جنہیں ڈوبتا ہوا دماغ کوئی بھی مفہوم دینے سے قاصر تھا۔ اس کے بدن نے آخری بار جھر جھری لی اور ساکت ہوگیا۔

ایمبولینس کی تیز آواز، بھاگتے دوڑتے قدم، تیز روشنیاں اور حرکت کرتے در و دیوار، یا شاید اسے ایسا لگ رہا تھا۔ وہ عجیب سوتی جا گتی کیفیت میں تھی۔ ذہن ابھی بھی پوری طرح بیدار نہیں تھا۔ ایک خواب کی سی کیفیت تھی لیکن آری کی طرح کاٹتا درد حواس جھنجھوڑنے لگا۔ منظر دھیرے دھیرے واضح ہونے لگا۔ آوازوں کا مفہوم سمجھ آرہا تھا۔ اسے اپنی پنڈلیوں اور کمر میں شدید جلن کا احساس ہوا۔ چہرے پر خون جم کر سخت ہوگیا تھا۔ زبان خشک ہوکر تالو سے چپک سی گئی تھی۔ نیم غشی میں اس نے بارہا مدد کے لیے پکارنا چاہا، لیکن حلق سے آواز نہ نکل سکی۔ اچانک اسے اپنے اندر گہری خاموشی اور خالی پن کا احساس ہوا۔ اس کا دل اچھل کر جیسے حلق میں آگیا اور آنکھیں پوری طرح کھل گئیں۔ بہت بے چینی سے اس نے اِدھر اُدھر دیکھنے کی کوشش کی۔ وہ شاید کسی اسپتال میں تھی۔

”یا اللہ“
”مائی بے بیِ“
”میرا بچہ کہاں ہے؟ کیا ہوا ہے اسے؟“
وہ ہذیانی انداز میں چیخنے لگی۔
”آئی ایم سوری“
نرس نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس کے پہلو کی طرف اشارہ کیا۔

وہ سٹریچر پر تھی اور اس کے پہلو میں سفید چادر میں لپٹا ہوا اس کا بچہ دم توڑ چکا تھا۔

(Visited 80 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: