خواتین کا ایک سو نواں عجوبہ، سوری، عالمی دن مبارک ہو۔ لالہ صحرائی

0

جیسے شکاگو کے مزدوروں کا مسئلہ ان کا عالمی دن منانے کا باعث بنا اسی طرح سے 1908 میں انٹرنیشنل لیڈیز گارمنٹ یونین کی بھی ایک ہڑتال ہوئی تھی، اس کے اگلے سال امریکہ کی سوشلسٹ پارٹی نے 28 فروری 1909 کو نیویارک میں اس واقعے کی یاد میں ایک دن منایا جہاں سے خواتین کے عالمی دن منانے کا باقائدہ آغاز ہوا۔

کل 8 مارچ 2017 بروز بدھ خواتین کا 109 واں عالمی دن انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جائے گا (اس موقع پر خواتین نے خاطرخواہ “دلچسپی” لی تو امید ہے مردوں کی طرف سے جوش و خروش سے بھی منایا جائے)

اس موقع پر انٹرنیشنل کمیونیٹی کا سوشل میڈیا کے لئے رواں سال کا ہیش ٹیگ سلوگن ہے
#BeBoldForChange
یعنی کہ تبدیلی کیلئے موٹی ہو جائیں
(خواہ ڈائیٹنگ چھوڑنی پڑے)

پچھلے سال کا سلوگن تھا
“Make It Happenn”
لیکن ہوا ہواوا کچھ نہیں
امسال بھی یہی امید ہے پھر بھی اس موقع پر کچھ گزارشات بہت ضروری ہیں

خواتین کو اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھنے کا موقع بھی دینا چاہئے اور عملی زندگی میں ان کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک، جسمانی تشدد، جنسی ہیرسمنٹ اور ہر قسم کے متعصبانہ سلوک کی بھی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔

پاکستانی معاشرے میں مخلوط-ایجوکیشن ، مخلوط ورکنگ کلاس، بڑھتی ہوئی شرح طلاق اور اچھے رشتوں کی عدم دستیابی کی بنا پر خود خواتین جتنے بڑے پیمانے پر غیراخلاقی تعلقات میں گھرتی چلی جا رہی ہیں اسے دیکھ کر نکاح کو آسان بنانے پر سنجیدہ غور کرنا چاہئے۔

جہیز پر پابندی عائد کرنا مناسب نہیں بلکہ یوں کرنا چاہئے کہ جہیز دینے کی ذمے داری شوہر کے اوپر ڈال دینی چاہئے اور اس کی لسٹ بھی لڑکی کی مرضی سے بننی چاہئے، مرد ہو تو پھر مرد بنو اور مردوں والے کام کرکے بھی دکھاؤ، لڑکی والے صرف بارات کا کھانا دیں گے اور باقی پیسے جو چاہیں اپنی بیٹی کے نام فکس-ڈیپازٹ کرا دیں تاکہ لڑکی اپنے جیب خرچ کیلئے شوہر اور سسرال کی محتاج نہ رہے، لڑکے والے اپنے ولیمے میں جو جی چاہے کریں لیکن نکاح میں صرف پچیس لوگوں سے زیادہ بارات لے کے مت آئیں، خاص طور پہ “شریکہ” تو بلکل مت لائیں-

شادی شدہ مردوں کی کنواری لڑکی سے شادی پر سخت پابندی لگائیں اس کے بدلے میں اسے بیوہ یا مطلقہ کے ساتھ دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی اجازت سے کلی طور پر مستثنٰی قرار دینا چاہئے، جس شخص کی آمدنی دولاکھ روپے ماہانہ یا زیادہ ہو اسے دو شادیوں کا قانونی حق بلکہ ذمے داری دی جانی چاہئے۔

لبرل خواتین کو خوش کرنے اور بیوی کا پلڑا بھاری کرنے کی کوشش میں معاشرے کے سر پہ ایسی تلواریں نہ لٹکائیں جس سے بیویوں کے ڈر سے لوگ بیک ڈیٹ میں دوسری شادی، چوری چھپے ناجائیز تعلقات، دوسری شادی کی اجازت نہ دینے پر گھریلو جھگڑوں کی نمود حتٰی کہ نہ ماننے کی صورت میں پہلی بیوی کو طلاق کا خدشہ بھی بڑھ جائے۔

خواتین کو آلتو فالتو حقوق کیلئے لڑنے کی بجائے آسان نکاح اور ازدواجی زندگی کی مصیبتیں کم کرنے کیلئے ایک ایسے رول آف ہوم بزنس یا میٹریمونیل چارٹر آف ڈیمانڈ پر سوسائیٹی کو قائل کرنے کی مہم چلانی چاہئے جس میں خانگی زندگی کے ان-رٹن-لاء کی چکی میں پسنے سے بچ رہے۔

روشن خیالی کے ذوق میں گرفتار خواتین کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ شادی کے بعد گھر کی رونق اور خاندان کا ادارہ صرف انہی کے دم قدم سے آباد اور قائم و دائم ہے لہذا روشن خیالی کے چکر میں اتنا بھی باہر نہ نکل جائیں کہ گھر جانا مشکل ہو جائے یا خاندان کا ادارہ آپ کی دسترس سے باہر ہو جائے، دوسری طرف مردوں سے بھی گزارش ہے کہ عورت کو بھی انسان سمجھیں اور انہیں مناسب حد تک ہر ضروری رعائیت، سہولت اور آزادی دیں جس میں انہیں گھر کے اندر قیدی اور حبس بیجا کا احساس نہ ہو بلکہ آپ کے گھر میں انہیں تحفظ اور اپنائیت کا احساس کسی طور بھی مجروح نہ ہو۔

یہ مضمون کافی حد تک چونکہ مردوں کے خلاف جا رہا تو طاقت کا توازن درست رکھنے اور مرد حضرات کی دلجوئی کے لئے عرض ھے کہ ناامید ہونے کی ضرورت نہیں، جیسے پانی اپنا راستہ خود بناتا ہے ایسے ہمیں بھی اپنی راہیں آسان کرنے کی کوششیں شروع کر دینی چاہئے، اس سلسلے میں معروف روحانی اسکالر عامل جنید بنگالی صاحب نے مردوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ خواتین اگر دوسری شادی والے مطالبات پر ناک منہ چڑھانے سے باز نہ آئیں تو پھر بہت جلد بذریعہ مؤکلات پہلی بیوی سے دوسری شادی کی اجازت دلوانے کا طریقہء کار وضع کرلیا جائے گا کیونکہ یہ سب مردوں کا مشترکہ مسئلہ ہے بلکہ ان کا اپنا ذاتی مسئلہ بھی یہی ہے۔

امید ہے کہ “محبوب آپ کے قدموں میں” کے مصداق عنقریب یہ سلوگن بھی جلد ہی مارکیٹ میں آ جائے گا “دوسری شادی کا اجازت نامہ آپ کی ہتھیلی پر”۔

جب تک بنگالی بابا سہولت کی کوئی راہ نہیں نکال لیتے تب تک “خواتین کا عالمی دن مبارک ہو”۔

#BeBoldForChange
تبدیلی کیلئے موٹی ہو جائیں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: