یا پیر روم! مرید ہندی حاضر است (۳) ——— محمد وسیم تارڑ

0

گذشتہ سے پیوستہ: پچھلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

”قونیا جانے والی آخری بس کچھ دیر پہلے روانہ ہو چکی ہے۔ “ ترک نوجوان نے امریکی انداز میں معذرت کی۔ ”آپ کو کل تک انتظار کرنا ہو گا۔ “ یہ الفاظ میرے اوپر بجلی کی طرح گرے۔ مجھے ایسے محسوس ہوا کہ جیسے کسی بدقسمت پروانے کو روشنی کی ذرا سی لو دکھا کر شمع گل کر دی گئی ہو۔ ایک لمحے کیلئے مجھے دست، اعداد، نجوم اور ستاروں کے ان تمام ماہرین پر یقین آ گیاجنہوں نے اس سال کو میرے لیے بدقسمت قرار دیا تھا۔ احمد فراز مرحوم یاد آگئے۔
آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی

اب میرا قونیا جا پانا شاید ممکن نہیں تھا۔ میری ویزا دستاویزات صرف اگلے 48گھنٹوں تک کارآمد تھیں جب کہ مجھے استانبول سے قونیا کا 22گھنٹے طویل دو طرفہ سفر درکار تھا۔ لیکن اگلے ہی لمحے ایک منصوبہ میرے ذہن میں ابھرا۔ میں براہ راست قونیا کے بجائے براستہ انقرابھی تو جا سکتا تھا۔ میں ایک بار پھر ٹکٹ گھر کی طرف لپکا۔ ”کیا مجھے انقرا کیلئے کوئی ٹکٹ مل سکتا ہے؟“ میں نے قدرے گرگڑا کر پوچھا۔ ”جی ہاں“ نوجوان نے ذرا توقف کے بعد کہا ”انقرا جانے والی آخری بس میں ایک نشست خالی ہے۔“ خوشی کی ایک لہر میں وجود میں رچ بس گئی۔ میں نے ایک گہرا سانس لیا اور زمانے بھر کی خوشی کو اپنے اندر سمو لیا۔ قونیا کی کشش اور مولانا کا عشق تمام نجومیوں اور اہل جوتش کو شکست دے چکا تھا۔

”پاسپورٹ اور ستر لیرا۔ “نوجوان نے ٹکٹ کاٹ کر میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے بٹوا نکالا اور اپنی کل جمع پونجھی کو تین بار گنا۔ اس خواہش کے تحت کہ شاید اگلی بار رقم کچھ بڑھ جائے مگر بٹوے سے کل دو سو نوے لیرا برآمد ہوئے۔ ایک سو ڈالر کا نوٹ اس کے علاوہ تھا جس پر اکڑفوں بینجمن فریکلن پھٹی پھٹی نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔ میں نے جلدی سے ستر لیرا نوجوان کے حوالے کر دیے اور گاڑی میں اپنی نشست سنبھال لی۔

گاڑی آتو گار سے روانہ ہوئی تو رات گہری ہو چکی تھی۔ مجھے صبح تک انقرا پہنچنا تھا اور پھرکسی دوسری گاڑی سے کل سہ پہر تک قونیا۔ دالسلام قونیا جو ہزاروں سالوں سے مسلمان عقیدت مندوں کے خوابوں کی سرزمین ہے۔ مرشد مولانا روم اور سید شمس تبریز کی مقدس دھرتی قونیا، جس کی ایک جھلک کیلئے ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں ’جلالی‘ نامساعد حالات اور مسافت کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہوئے رخت سفر باندھتے ہیں۔ میں بھی ان لاکھوں خوش نصیبوں میں سے ایک تھا۔ میں بھی’درویش‘ تھا۔ میں بھی’جلالی‘ تھا۔ مولانا روم کا ادنی سا عاشق۔ محبت کی تبلیغ کرتا فقیر۔ سلسلہ مولویہ کا ایک ہندی مرید۔ انہیں خیالات میں میں نے اپنی نیم وا آنکھیں موند لیں۔

گاڑی ایک زبردست جھٹکے سے رکی تو میری آنکھ کھل گئی۔ سرزمین روم میں صبح ہو چکی تھی۔ سورج کی روشنی کھڑکی کے پردوں سے چھن چھن کر اندر اخل ہو رہی تھی۔ میں پچھلے چھ گھنٹوں سے دنیا و مافیہا سے بے خبر سو رہا تھا۔ ایک گورا چٹا کرخت مزاج بڈھا گاڑی میں داخل ہوا۔ اس نے میرا پاسپورٹ طلب کیا اور اسے خاصا الٹ پلٹ کر دیکھنے کے بعدمجھے واپس لوٹا دیا۔ غیر ملکیوں سے معمول کی پوچھ گچھ کے بعد گاڑی کو آگے بڑھنے کی اجازت مل گئی۔

اب انقرا ایک گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ گاڑی انتہائی وسیع و عریض میدانوں میں سے ہوتی ہوئی برق رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی۔ سڑک کے دونوں ا طراف حد نظر سر سبز کھیت اور خوبصورت ڈھلوانیں تھیں۔ نیلگوں آسمان پر بادل روئی کے گالوں کی طرح تیر رہے تھے۔ افق کے اس پار سے سورج طلوع ہو رہا تھا۔ مشرق سے برستی سنہری کرنوں سے ہر شہ چمک اٹھی تھی۔ اجلا اجلا منظر اب اور بھی زیادہ دلکش ہو گیا تھا۔ کہیں کہیں انسانی آبادی کے آثار نظر آ جاتے۔ دور دراز بلند مقام پر کوئی گاؤں دکھائی دے جاتا۔ پہاڑ کی چوٹی پر بنے ہوئے چند گھروندے یا بھیڑوں کے کچھ ریوڑ۔ ایک کم عمر ترک چرواہا لکڑیاں اٹھائے پہاڑی پگڈنڈی چڑھ رہا تھا۔ اس نوجوان چرواہے نے اپنی مختصر سی زندگی میں کئی رتیں دیکھیں تھیں اور اس کے مضبوط جسم نے بہت سے موسموں کی سختیاں جھیلی تھیں۔ ہر سال دسمبر میں برف گری، جیٹھ اور ہاڑ میں لو چلی، کئی آندھیاں آئیں اور بہت سا مینابرسا مگردنوں کا تغیر اور موسموں کی شدت اس نوخیز چرواہے کے معمولات میں کوئی فرق نہ لا سکی۔ وہ مسلسل پہاڑی پکڈنڈی پر چلتا رہا اور اس کے پیچھے پیچھے تھوتھنی پھیلائے ہوئے پالتو کتا دم ہلا تا رہا۔

مجھے اپنا گاؤں یاد آ گیا جہاں عبیدو منج ہمیشہ پو پوٹھتے ہی ہاتھ میں بالٹی لیے دودھ دھونے کے لیے کھو کا رخ کرتا تھا۔ بڈھی بھینسیں اپنے مالک کو دیکھتے ہی ڈکڑانے لگتیں اور سر کو زور زود سے دائیں بائیں جھٹکتیں۔ آنکھوں میں سرما اور سر میں سرسوں کا تیل ڈالے، کمر سے تہمد باندھے اور بغیر بازؤں کی کرتی زیب تن کیے عبیدو منج بھینسوں کو انتہائی فصاحت سے گندی گندی گالیاں بکتا جاتا۔ جب کبھی وہ اپنی بڑھی ہوئی مونچھوں کو تاؤ دیتا بالکل رابندر ناتھ ٹیگور کا گماں ہوتا۔ جب کبھی وہ قہقہہ لگاتا تو اس کے گلے سے انجن کی پخ پخ کی سی آواز برآمد ہوتی اور تمباکو کے سبب پیلے پڑ چکے سامنے کے دانت باہر نکل آتے۔ وہ اکثر لے میں آ کرگنگنانے لگتا۔ ”دشمن مرے تے خوشی نہ کریے، سجناں وی مر جاناں۔ “ گاؤں سے ایک کوس دور کسی کچی پکڈنڈی پر بابا بہادر خاں ہاتھ میں چھمک لیے ایک فربہ بھیڑ کو ہانکتے ہوئے خاک اڑاتا چلتاچلا جاتا۔ ”ہرہُررَرڑڑڑڑڑڑ۔ ۔ ۔ کِک کِک کِک۔ “برسوں پہلیایک روز بابا بہادر خاں اپنی بھیڑ کے پیچھے چلتا چلتا مر گیا اور پچھلے برس ہاتھ میں دودھ کی بالٹی تھامے عبیدو منج کی روح بھی پرواز کر گئی۔ موت ضدی سے ضدی انسان کو شکست دے دیتی ہے۔ انسان کو اس کی بے مائیگی کا احساس دلاتی ہے۔ موت کے ہاتھوں انسان کس قدر بے بس ہے۔ یہ زندگی کس قدر عارضی ہے۔ اس عظیم کائنات میں انسان کس قدر غیر اہم ہے۔ شاید قدرت کے بہت بڑے کھیل میں انسان محض ایک کھلونا ہے۔ کسی لیکھک نے درست کہا کہ اس دنیا میں انسان کی حیثیت ایک زرے سے بھی کم تر ہے کہ اس زرے نے ہمیشہ رہنا ہے جب کہ انسان نے جلد ختم ہو جانا ہے۔
ہے فقیر دا ہاسا، اے دنیا کھیل تماشا۔
”قہوہ پیئے گا؟“ بس میزبان نے میرے خیالات کا تسلسل توڑ دیا۔

(جاری ہے)

(Visited 34 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: