پاکستان اور فقیر ایپی رح — لائق شاہ درپہ خیل

0

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے معروف محقق اور ادیب جناب لائق شاہ درپہ خیل مرحوم نے، اپنی طویل تحقیق پر مبنی پشتو کتاب “وزیرستان” میں وزیرستان سے تعلق رکھنے والی روحانی و طلسماتی شخصیت جناب حاجی مرزا علی خان المعروف بہ فقیر ایپی رح پر “پاکستان اور فقیر ایپی “کے عنوان سے ایک باب تحریر کیا ہے۔ لائق شاہ درپہ خیل کا یہ کہنا ہے کہ کتاب میں پیش کیے گئے زیادہ تر واقعات عینی شاہدین، ان کے خاندان اور ان کے اپنے مشاہدات پر مبنی ہیں۔ اور یہ کہ ان کو اپنے چچا کے ہمراہ جناب فقیر کی خدمت میں شرفِ باریابی بھی حاصل رہا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کتاب میں جو کہ پشتو میں ہے، فرسٹ ہینڈ معلومات درج ہیں۔ دوسری بات یہ کہ مصنف کے بقول ان کے خاندان کے بزرگوں کےجناب حاجی فقیر ایپی صاحب سے گہرے مراسم تھے۔ 1946 ء کے ہندو مسلم فسادات کے ہنگام مسلم لیگ کی ایماء پر تشکیل دیے گئے ایک وفد نے جس میں مصنف کے چچا ملک زرگل شاہ بھی شامل تھے، فسادات کے شکار علاقوں کا دورہ کیا تھا جن میں کلکتہ، بہار اور دوسرے علاقے شامل تھے۔
اردو ترجمے میں پشتو اور اردو میں مستعمل مشترکہ الفاظ کو جوں کا توں رکھا گیا ہے۔

مصنف اپنی تصنیف میں لکھتے ہیں کہ، قیام پاکستان کے وقت جناب فقیر ایپی کے گھرانے میں سواۓ اپنے ایک نوجوان بھتیجے نیاز علی خان کے کوئی دوسرا فرد ایسا نہیں تھا جس سے وہ کوئی مفید صلاح مشورہ کرتے یہی وجہ تھی جب پاکستان قائم ہوا تو، جناب فقیر ایپی، گورویک (فقیر ایپی کا مرکز) کےبعض بااثر افراد کے اکسانے پر پاکستان سے مفاہمت نہ کرسکے۔ اس کے ساتھ ہی افغان حکومت کے نمائندے بھی، باوجود سخت سردی کے وادئ شوال اور مکین میں فقیر ایپی کے ساتھ ملاقاتیں کرتے رہے۔ اور پھر چند روز بعد فقیر ایپی کے کچھ نمائندے افغان حکمرانوں کے ساتھ ملاقات کے لیے ارگن چلے گئے۔ اس ملاقات کے نتیجے میں اکتوبر 1947ء میں فقیر ایپی نے مولوی محمد ظاہر شاہ کی سربراہی میں وزیراور داوڑ قبائل کا ایک وفد کابل بھیجا۔ اس وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور توپوں کی سلامی دی گئی۔ واپسی پر اس وفد کے ساتھ افغان حکومت نے بریگیڈیر شیرباز اور اکبر جان کو گورویک بھیجا۔ ان دو اصحاب نے فقیر ایپی کے ساتھ صلاح مشورہ کیا۔ بعد میں افغان وفد جب رخصت ہونے لگا تو اپنے ساتھ فقیرِشیوہ کے عم زاد گل خاتم، خانصاحب گل احمد خان بورہ خیل وزیر کے فرزند میرابات اور غیزل طوری خیل پر مشتمل ایک اور وفد کابل لے گیا۔

مصنف کتاب وزیرستان

اس کے علاوہ بنوں اور چارسدہ سے بھی کانگریس کے بے شمار ارکان فقیر ایپی سے ملنے جوک درجوک گورویک کا رخ کرتے رہے۔ اس طرح ایک جانب فقیر ایپی کو پاکستان سے بدظن کرنے کے لیے کوششیں جاری وساری تھیں تو دوسری جانب 14 اگست 1947ء کے بعد بھی فوج کے رزمک بریگیڈ ہیڈکوارٹر، ڈویژنل کمانڈر ہیڈ کوارٹر، برگیڈ ہیڈ کوارٹر وانا، میرانشاہ کے سکاؤٹس قلعے اوراور سکاؤٹس کی تمام پوسٹس پر کافی عرصے تک برطانوی یونین جیک لہراتا رہا۔ اسی طرح صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) کا گورنر سرجارج کننگھم اورچیف سیکریٹری انگریز تھا۔ قبائل کا ریزیڈنٹ میجر کاکس انگریز تھا۔ اور جنوبی وزیرستان کا پولیٹیکل ایجنٹ ڈانکن انگریز تھا۔ مختصر یہ کہ قانون بھی انگریز کا تھا۔ یہ وہ تمام عوامل تھے جس کی وجہ سے فقیر ایپی اور پاکستان کے مابین بدگمانی کی ایک وسیع خلیج حائل تھی۔ چونکہ فقیر ایپی سیاسی کھلاڑی نہیں تھے اس وجہ سے جب کانگریسی ارکان، افغان حکومت کے ایجنٹوں اور اپنے مشیروں نے فقیر ایپی کے پاکستان کے خلاف کان بھرنے شروع کیےکہ پاکستان اسلامی حکومت نہیں ہے بلکہ انگریز حکومت کا تسلسل ہے تو فقیر ایپی بھی آہستہ آہستہ پاکستان سے دور ہوتے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ فقیر ایپی کو اس خوش فہمی میں بھی مبتلا کیا گیا کہ،

” اگر آپ پختونستان کے نام سے ایک آزاد مملکت کا اعلان کردیں تو روس، بھارت اور افغانستان تینوں حکومتیں امداد کرنے پر آمادہ ہیں۔ اس طرح ایک جانب پشتونوں کی ایک آزاد مملکت قائم ہوجائے تو دوسری جانب اس مملکت میں آئینِ مصطفی جاری ہوجائے گا۔”

آخر میں یہ کہ فقیر ایپی ان سیاسی بازی گروں کے دکھائے گئے سبز باغوں کے جھانسے میں آگئےاور پاکستان کے خلاف ایک آزاد مملکت کا اعلان کردیا اور اس کی ماسکو، کابل اور دہلی نے خوب تشہیر شروع کردی۔

اس سلسلے میں فقیر ایپی نے ایک قاضی بھی مقرر کردیا۔ جو ان کی جانب سے وزیرستان میں مقدموں کے فیصلےکرتا تھا۔ سال 1948ء میں جب سخت قحط پڑا تو فقیر ایپی نے قبائل کی سہولت کے لیے اُرگن اور مرغہ میں غلے کے گودام بھی کھولے۔ افغان حکومت کے ایجنٹ ایک بار پھر گورویک پہنچے اور وزیرستان بھر میں پھرے اور ملک خاندان کے چچا عبداللہ خان عرف ماریٹی کے ساتھ گفت وشنید کی۔ انھون نے ماریٹی سے کہا کہ سال 1933ء سے، پک ملنگ کے ہنگاموں کی وجہ سے افغان حکومت نے آپ لوگوں کی مراعات کا جو سلسلہ بند کردیا تھا وہ دوبارہ جاری کردیا جائے گا۔

مارچ 1948ء میں فقیر ایپی نے مولانا ظاہر شاہ کی سربراہی میں وزیر اور داوڑ قبائل ایک اور وفد کابل روانہ کیا۔ اس وفد نے کابل میں بھارت کے سفیر کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب حکومت پاکستان اور فقیر ایپی کے مابین ناچاقی نے جنم لیا۔

افغان حکومت نے فقیر ایپی کے مرکز گورویک میں نام نہاد پشتونستان کا عملہ بھیجا۔ پریس لگوایا اور لوگوں کی باقاعدہ تنخواہیں مقرر کیں۔ اور ہندوستان سے تخریبی مواد پہنچایا گیا۔ قصہ مختصر یہ کہ گورویک میں پاکستان کے خلاف وزیرستان کے ہزاروں نفوس جمع ہوکر جرگے اور باہم مشورتے کرتے۔ یہ سلسلہ کافی عرصے تک چلتا رہا اور اس دوران کبھی نہ کبھی کافی ناخوشگوار واقعات پیش آتے رہے۔
۔ ۔ ۔ ۔

مترجم سمیع اللہ

“بخدمت جناب والا شان پنڈت جواہر لعل نہرو
بادشاہ ہند دام اقبالہ،

گزارش بحضور انور اینکہ مسمی اول حسن آنجناب سے بہت خوش ہوکر واپس آیا۔ میں بہت مشکور ہوں کہ جناب نےزبانی گفتگو کی۔ گزارش ہے کہ پاکستان نے یعنی انگریز نے بہت عرصہ سے کشمیر میں تکلیف بنا رکھی ہے۔ خدا مجھے اورآپ کو توفیق دے کہ ہم اہالیانِ کشمیر کو اس آفت سے نجات دلائیں۔ خدا کے فضل سے اب پاکستان کمزور ہوگیا ہےاور کچھ نہیں کرسکتا ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ جونہی آپ کی مدد ہم کو پہنچ جاوے تو میں سرحدی لوگوں کو ایک دم لڑائی پر مجبور کردوں گا۔ کیونکہ کافی عرصہ سے پاکستان یعنی انگریز نےسرحد کے لوگوں کو بھوکا مارا ہے اورننگا کر رکھا ہے۔ جس وقت اپنے وطن میں ان کو امداد پہنچ جاوے تب وہ معمولی تنخواہ پرمیرے ساتھ شامل ہوسکیں گےاور آپ ہندوستان کی طرف سے حملہ کردیں گے۔ اس بار اول حسن آپ کے پاس آرہا ہے کیونکہ کابل کے بادشاہ نے سب سفیروں پر سخت پہرہ بٹھایا ہے، اس لیے آپ کے سفیر تک پہنچنا مشکل ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اول حسن آپ کے اختیار سے کابل میں آپ کے سفیر کے پاس ہوائی جہاز میں جا سکے۔ تب وہاں سب کام تسلی بخش ہوگا۔ اول حسن آپ کی خدمت میں ضروری باتیں بیان کردے گا۔

تسلیمات۔ دستخط فقیر ایپی۔ “

اس موقع پر اول حسن سے، فقیر ایپی کے زیر دستخط ایک اور خط بھی برآمد ہوا تھا۔ یہ خط بھی6 مئی 1948 ء کو لکھا گیا تھا اور اس افسر کے نام تھا جس سے اول حسن نے پہلی بار دہلی میں ملاقات کی تھی۔ خط کا مضمون مندرجہ ذیل صورت میں لکھا گیا:

” عالی جناب جرنیل صاحب!
عرض ہے کہ اول حسن نے آپ کی بہت تعریف کہ ہے۔ میں جناب سے بہت خوش ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ آئندہ بھی میرے ملک کی حالت سے پنڈت جی کو باخبر رکھیں گے۔ تاکہ ہمارے کام میں کوئی نقصان نہ ہو۔ تسلیمات۔ یہ اچھا موقع ہے، ہمیں آرام سے نہیں بیٹھنا چاہیے۔ ”

اسلم خان کا واقعہ:
پاکستان اور فقیر ایپی کے مابین جو تلخ واقعات پیدا ہوئے تھے، ان میں اسلم خان کا واقعہ اس وقت کی ایک نئی تخریب کاری تھی۔ 12 دسمبر 1947ء کو ایک نامعلوم بندے نےشمالی وزیرستان کے نائب پولیٹیکل افسر اسلم خان گنڈہ پور کے نام، اسلم خان ہی کے نوکر کو لکڑی سے بنا ایک چھوٹا بکس اور خط حوالے کیا۔ ان دنوں میں اسلم خان رخصت پر تھا۔ جب وہ واپس آیا تو شام کے وقت نوکر نے وہ بکس اور خط دکھایا۔ جب اسلم خان نے وہ خط کھولا تو اس میں اس بکس کی چابی تھی۔ اور یہ بھی لکھا تھا کہ یہ خط ملک صادقی کابل خیل وزیر کی جانب سے ہے۔ اور یہ کہ بکس میں خفیہ دستاویزات ہیں، جو کہ میں گورویک سے لایا ہوں۔ اسلم خان نے بکس کھولنے کے لیے نوکر کو کنجی دی۔ اس نے جیسے ہی بکس کھولا اچانک دھماکہ ہوا۔ اسلم خان اور اس کا نوکر دونوں ہی زخمی ہوئے۔ نوکر تو ہسپتال میں دم توڑ گیا لیکن اسلم خان تادم مرگ اپنی ٹانگ میں درد محسوس کرتا رہا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ بکس میں بم نصب تھااوراس کا کنکشن بکس کے اوپری حصے کے ساتھ تھا۔ یہ بکس گورویک میں گلبات نامی مائیزر مداخیل وزیرنے بنایا تھا۔ اور تجربے میں اپنی انگلیاں بھی گنوا چکا تھا۔ اس واقعے کے علاوہ معمولی نوعیت کے اور بے شمار دشمنانہ واقعات رونما ہوئے تھے۔ مگر 29 جون 1948ء ملخو کے داوڑوں، جولائی 1948ء میں خدر خیل وزیروں، یکم فروری 1949ء کو ملک اژدر زیارت، 12 جون 1949ء کو مغلگی، 26 جولائی 1950ء کو وانا کے احمد زئی وزیروں، 9 ستمبر 1950ء کو مکین کے درے اور 3 اکتوبر 1950ء کو وانا اور شولم کے علاقے میں پشتونستان کے حق میں ہونے والے اجتماعات پر ہونے والی بمباریوں میں ایک تعداد ہلاک شدگا ن اور زخمیوں کی رہی۔

لیاقت علی خان کی میران شاہ آمد:
پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان 16 جنوری 1948ء کو میران شاہ تشریف لائےاور وزیروں اور داوڑوں کے سرکردہ شخصیات کے ساتھ جرگہ کیا اور ان سے خطاب میں کہا کہ:
“میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ قبائل کے لیے پاکستان کی نئی اسلامی مملکت میں روشن مستقبل موجود ہے۔ کیونکہ اس حکومت کی بنیاد محبت اور عالمی اسلامی اخوت پر استوار کی گئی ہے۔ ”
وزیرا عظم نے جرگے کے شرکاء کو افواج کے انخلاء کے بارے میں بھی بتایا کہ:
“یہ حکومت پاکستان کی پالیسی نہیں کہ اپنے علاقے میں فوجوں کو استعمال کرے۔ ”

وزیراعظم نے جب اپنی بات مکمل کی تو جرگے میں موجود قبائلی بزرگوں نے وزیراعظم کے سامنے کشمیری مسلمانوں کی زبوں حالی پر کافی افسوس کا اظہار کیا اور ان سے اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کرنے کے لیے اجازت مانگی۔ جرگے کے شرکاء نے اس موقعے پر اپنے محترم مہمان کی خدمت میں قائد اعظم ریلیف فنڈ کے لیے دو ہزار روپے بھی پیش کیے۔ لیاقت علی خان کی روانگی کےوقت تک اس فنڈ میں مزید تین ہزار روپوں کا اضافہ ہوا۔
آخر میں وزیرستان کے مشران نے وزیراعظم کو بتایا کہ:
“ہم پاکستان میں شمولیت کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ ”

فقیر ایپی پر حقیقت کا کھلنا:
افغان اور بھارتی اہلکاروں کی پشت پناہی اور اپنے کم فہم مشیروں کے مشوروں کی بدولت فقیر ایپی نے کافی عرصے تک پاکستان سے متعلق اپنی رائے نہیں بدلی۔ آخر کار کافی غور وفکر اور تلخ تجربات کے بعد ان پر یہ بات کھلی کہ نہ تو پاکستان غیر اسلامی حکومت ہے اور نہ ہی دہلی اور کابل اپنی باتوں میں سچے ہیں۔ بلکہ کابل اور دہلی دونوں اپنے اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے فقیر ایپی کے مرکز گورویک کو غلط طریقے سے استعمال کررہے ہیں۔ اب فقیر ایپی آہستہ آہستہ دونوں مملکتوں سے پیچھے ہٹتے گئے۔ افغان حکومت نے جب فقیر ایپی کی بدلی سوچ کو بھانپ لیا تو حیلے بہانے سے پشتونستان کا عملہ، ایجنٹ اور سازوسامان گورویک سے گردیز منتقل کردیا۔ اور وہاں قبائل کے لیے مرکز قائم کردیا۔ فقیر ایپی کے خصوصی اور معتبر خلفاء مولوی محمد ظاہر شاہ، فقیر شیر علی خان عرف جنگی ملا، مولوی وارث شاہ، عبداللہ خان عرف ماریٹائی، غیزلے اور خلیفہ عبدالطیف نے جب یہ حال دیکھا تو وہ سب بھی افغانستان چلے گئے۔ فقیر ایپی یک تنہا، اکیلے گورویک میں رہ گئے۔ اور وزیرستان میں افغان حکومت کے خلاف دورے شروع کیے۔ دوسلی کے مقام پر ایک بڑے جرگے کے سامنے، جس میں مصنف (لائق شاہ درپہ خیل) موجود تھا، برملا یہ اعلان کیا کہ:

“بھائیو! افغان حکومت نے اب تک مجھے مغالطے میں رکھا ہوا تھا اور مجھےاسلام کے نام پر سخت فریب دیا۔ اگر افغان حکمران میرے نام پر پھر کبھی کسی بھی قسم کا پروگرام بنانا چاہیں تو آپ لوگ ان سے کسی بھی قسم کا تعاون نہیں کرنا۔ “

اس کے بعد فقیر ایپی نے بالکل خاموشی اختیار کرلی۔ پاکستان سے نہ تو دوستی کا رشتہ رکھا اور نہ ہی دشمنی کا۔ اس لیے کہ شریعت محمدی کا نفاذ نہیں تھا۔ اسی طرح افغان حکومت کے ساتھ بھی تادم مرگ کسی بھی قسم کے تعلقات منقطع رکھے۔ یہ الگ بات ہے کہ افغان حکومت کی ترغیب سے فقیر ایپی کی جانب سے خودساختہ نمائندے سامنے آتے رہے اور پشتونستان تحریک کی آڑمیں فوائد سمیٹتے رہے۔ فقیر ایپی نے ایسے خوساختہ خلفاء پر متعدد بار لشکر کشی کی اور ان کے گھروں کو نزرآتش کیا۔

شمع آزادی کے اس پروانے فقیر ایپی نے 15اور 16 اپریل 1960ء کی درمیانی شب اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔
انا للہ وانا الیہ راجعون

(وزیرستان، مصنف لائق شاہ درپہ خیل، صفحات 812-823۔ ترجمہ سمیع اللہ خان)

 

(Visited 227 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: