“بندر کے ہاتھ میں استرا ” ایک جھوٹی کہانی۔ ——— نبیلہ کامرانی

0

بہت ہی پرانے زمانے کا ذکر ہے، ایک چھوٹے سے قصبے میں لوگ ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔ شہر میں اس قدر امن و امان کے لوگ گھروں اور دکانوں پر تالا بھی نہ لگاتے۔ آبادی بھی مختصر تھی سب ہی ایک دوسرے سے بخوبی واقف تھے۔

اس لیے چوری اور راہزنی کا کوئی رواج ہی نہیں، اس قصبے کہ ساتھ ہی ایک جنگل تھا ہرا بھرا حسین، اس جنگل کی خاص بات وہاں کے بندر تھے ہر شاخ پہ بندر جھولتے۔

کچھ بندر تھوڑے شوخ بھی تھے، جب قصبہ میں سناٹا ہوتا وہ آزادی سے گھومتے پھرتے گھروں میں گھس جاتے اور کھانا چوری کرتے۔ وہاں کے لوگ بندروں کی ان شرارتوں کے عادی تھے۔

جیسا کہ ہم نے آغاز میں ہی بتایا کہ لوگ اپنی دکانوں کو بھی کھلا ہی چھوڑ کے گھر چلے جاتے تھے، ایک روز ایک بندر نائ کی دکان میں گھس گیا۔ وہاں اسے کھانے کا تو کوئی سامان نہ ملا لیکن اس نے نائ کی پوری دکان درہم برہم کر ڈالی، اور جاتے وقت نائ کا استرا اپنے ساتھ لے گیا۔

انگلی صبح جب بازار میں دکاندار آئے تو پورے قصبے میں شور مچ گیا کہ ہو نہ ہو یہ کسی پاگل بندر کی شوخی ہے۔ سب دکانداروں نے دکان کی صفائی اور ترتیب میں نائ کی مدد کی جب سب کچھ اپنی جگہ واپس چلا گیا تو نائ نے شور مچا دیا کہ کمبخت بندر جاتے وقت میرا استرا بھی لے گیا ہے اب کیا ہوگا؟

کہیں وہ کسی پہ حملہ نہ کر دے میں نے کل گھر جاتے وقت ہی استرے کو دھار لگائ تھی۔ وہ سر پیٹ پیٹ کہ رو رہا تھا کہ یا خدا یہ کیا ہو گیا اب ہمارا کیا ہو گا؟۔

سب لوگوں نے نائ کو دلاسہ دیا کہ بھلا بندر کو کیا پتا کہ استرا سے کیا ہو سکتا ہے۔ اس نے جنگل کے راستے میں لازمی طور پر استرا پھینک دیا ہو گا تم پریشان نہ ہو۔ سب کی تسلی پہ نائ خاموش ہو گیا لیکن اس کا خوف اپنی جگہ رہا۔

دو چار روز میں زندگی معمول پر آ گئی، نائ بھی اب نئے استرے سے حجامت بنانے لگا، لیکن اس کو جب بھی استرے کا خیال آتا اسکی روح لرز جاتی۔
ایک صبح سب ہی اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے کہ شور اٹھا بندر، بندر کے ہاتھ میں استرا!!!
نائ خوف کے مارے نیم بیہوش، روتے ہوئے کہنے لگا میں کہتا تھا نا یہ بہت ہی برا ہوا ہے اب کیا ہوگا۔

بندر باری باری دکان پر جاتا استرا دکھا کے اپنی پسند کی شے لے جاتا، روز بروز بندر کی اس ڈاکہ زنی کی وارداتوں میں اضافہ اور شہرت بڑھتی گئی۔ اب جب بندر قصبہ کی طرف آتا پیچھے تماشائی بھی چلتے۔ بندر کچھ سامان کھاتا کچھ پھینک دیا کرتا ایک بوڑھی بھکارن وہ سارا سامان پیچھے چل کر جمع کرتی، اس نے ناجانے کیسے بندر سے دوستی کر لی تھی یوں لگتا جیسے وہ بندر کی ماں ہو۔

بندر کے اعتماد میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ اب وہ دکانوں اور گھروں میں گھس جاتا لوگ اس سے اس قدر ڈرتے کہ کبھی تو وہ استرا بھی نہ دکھاتا، عورتوں کو وہ فحش حرکات کرکے دکھاتا وہ بندر کو دور سے دیکھ کے ہی عورتیں چھپ جاتیں۔ تماشائیوں کی بھیڑ میں اب کچھ چھوٹے موٹے اچکے بھی آنے لگے تھے۔ کہاں تو وہ قصبہ جنت کی مانند تھا دیکھتے دیکھتے کچھ ہی عرصے میں جہنم بن گیا۔

قصبہ میں ایک دکان قصائی کی بھی تھی۔ اس روز بندر اپنے مخصوص اعتماد کے ساتھ قصاب کی دکان میں داخل ہوا قصائی اسی وقت گائے پٹخ کر بیٹھا چھری کو دھار لگا رہا تھا۔

بندر قصائی کے سامنے آیا اور اپنا استرا دکھایا، قصائی نے اسی لمحے تیز دھار چھری کا وار بندر کی گردن ہے کیا کہ بندر کا سر تن سے جدا ہوا اور گیند کی مانند لٹکتا بوڈھی بھکارن کہ پیروں سے ٹکرایا۔
بوڑھی بھکارن نے زور کی چیخ ماری میرا بندر میرا بچہ! یہ تو نے کیا کر دیا؟
قصائی ایک ہاتھ میں بندر کا سر دوسرے ہاتھ میں تیز دھار چھری لیے دکان سے باہر آیا اور تماشائیوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا!
” دیکھ لو اپنے سے زیادہ طاقتور سے مقابلہ کرنے کا انجام کیا ہو تا ہے۔ تم سب یہاں سے دور چلے جاؤ ورنہ سب کا یہی حال کروں گا، میں تو اس دن کا انتظار کر رہا تھا کہ کب یہ کمبخت مجھے لوٹنے آئے اور کب میں حساب برابر کروں”

عزیز قارئین!
جیسا کی کہانی کے عنوان میں بتا دیا گیا ہے کہ یہ ایک جھوٹی کہانی ہے، کسی بھی قسم کی مماثلت یا مشابہت اتفاقی ہے۔

(Visited 444 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: