ہمارا چہرہ ۔۔۔ عماد بزدار

0

میں دودھ لینے دکان گیا۔شرعی وضع قطع کا مالک دکاندار کسی گاہک کو چلہ چار مہینہ کے فضائل بیان کر رہا تھا۔میں نے ایک کلو دودھ کا کہا دکاندار نے ملازم کو کہہ دیا کہ بھائی کو کلو دودھ دے دیں۔ ملازم نے دودھ شاپر میں ڈال دیا ، اسی لمحے میرا ایک عزیز ،جو کہ دکاندار کا جاننے والا تھا،بھی اسی دکان آ پہنچا۔ میرے عزیز کے دیکھتے ہی دکاندار موصوف نے ملازم کو کہا یہ والی نہیں جو دودھ اندر پڑی ہے، بھائی کو لا کر دیں۔ ۔ چلہ چار مہینے کے فضائل بیان کرنے والا دکاندار موصوف پتہ نہیں ’’من غش فلیس منا‘‘ کی کیا ٹرانسلیشن کرتے ہونگے؟؟ ٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴ……………… کافی عرصہ بعد گاؤں جانا ہوا۔عزیزوں رشتے داروں سے ملا۔ ایک رشتے دار جو کہ سکول ٹیچر ہیں،سے پوچھا کہ ڈیوٹی ٹائمنگ کیا ہیں؟؟بتانے لگے مجھ پہ اللہ کا خاص کرم ہے اس معاملے میں اللہ نے آسانیاں پیدا کی ہوئی ہیں ہیڈ ماسٹر بہت ہی اچھا آدمی ہے مجھے سکول جانا ہی نہیں پڑتا مہینے کے آخر تنخواہ لینے جاتا ہوں۔ پھر خود ہی وضاحت سے بتانے لگے کہ چونکہ میں مسجد کا خاص خیال رکھتا ہوں ۔ مسجد کا پانی بھرنا، صفیں درست کرنا، صفائی ستھرائی یہ سب میں کرتا ہوں۔شاید اسی کے بدلے اللہ مجھے گھر بیٹھے نواز رہا ہے۔ …………….. ہم شہر میں کاروبار کرتے ہیں ایک دن دکان جانا ہواتو دیکھا ایک لمبی داڑھی اور نورانی چہرے والے صاحب بھائی کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ موضوع گفتگو ایک حضرت صاحب تھے جو موصوف کے پیر بھی تھے۔حضرت صاحب کی کشفی صلاحیتوں بارے مبالغہ آمیز بیان کے دوران موصوف پہ رقت طاری ہو گیا،آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ساتھ ساتھ بتانے لگے مجھ پہ حضرت صاحب کا خاص نظر کرم ہےحصول رزق کی کوششیں حضرت صاحب کی دعا سے آسان ہو گیئں ۔ پتہ چلا موصوف ایک یوٹیلیٹی سٹور چلاتے ہیں۔ جب حضرت صاحب کے فضائل و مناقب بیان ہو چکےتو بھائی سے پوچھنے لگے آپ کو اگر چینی ہول سیل ریٹ پہ چاہیے تو کسی بھی وقت مجھے بتا دیجیئے میرے پاس اچھا خاص سٹاک پڑا ہے۔ ۔ موصوف کرتے کیا تھے، چینی یوٹیلیٹی ریٹ پہ بجائے عام پبلک کو بیچنے کے دکانداروں کو مارکیٹ پرائس سے کچھ کم پر بیچ کر منافع کھرا کرتے تھے بلکہ کرتے ہیں۔ ………………… میرے ایک دوست کا بیوی سے جھگڑا ہو گیا بیوی کا اعتراض یہ تھا کہ آپ مجھ سے زیادہ موبائل کو وقت دیتے ہیں۔ بات بڑھتی گئی دوست غصے میں آ گیا اور موبائل اٹھا کر دیوار پر مار دی۔ جب غصہ ٹھنڈا ہو گیا تو ہوش آیا اچھا خاصا نقصان کر بیٹھا ہوں۔ ۔ اگلے دن وارنٹی کارڈ اٹھایا اور میرے ساتھ متعلقہ موبائل فون کے دفتر پہنچا۔ انہوں نے ایک پیپر دیا کہ اس پر آپ لکھیں کہ کیسے آپ کا موبائل ٹوٹا ؟ یاد رہے اگر موبائل آپ کی لاپرواہی سے ٹوٹا تو انشورینس کمپنی ازالہ  نہیں کرے گی۔اس لیے کہانی ایسی لکھیں جس میں آپ کی لاپرواہی موبائل ٹوٹنے کی وجہ نہ ہو۔ ۔میں نے جب یاد دلانے کی کوشش کی کہ یار یہ تو سراسر آپ کی وجہ سے ٹوٹی تو دوست غصے میں آ کر کہنے لگا تمھارا دماغ خراب ہو گیا ہے ہم جب موبائل خریدتے ہیں تو ایکسی ڈینٹل کووریج کے پیسے بھی دیتے ہیں اب ہمارا حق ہے کہ ہم نقصان کلیم کریں۔ میں نے کچھ اختلاف کرنے کی کوشش کی کہ بھائی صاحب وہ ایکسی ڈینٹل کووریج کے پیسے آپ نے ادا کیے اور اسی مد میں ہونے والے کسی نقصان کو کلیم کرنے کے آپ دعوےدار ہو سکتے ہیں آپ نے تو جان بوجھ کر موبائل دیوار پر مار دیا تھا اس لیے آپ نقصان کلیم نہیں کر سکتے لیکن اگر آپ کلیم کریں گے تو یہ انشورینس کمپنی کو صریح دھوکا دینے کے مترادف ہو گا۔ ۔ متعلقہ موبائل کمپنی کے سٹاف، جو کہ دو خواتین تھیں، کہنے لگیں ’سر آپ کونسی دنیا کے رہنے والے ہیں انشورینس کمپنی کو کونسا پتہ ہوتا ہے آپ وجہ میں لکھیں کہ آپ کی گاڑی کا ایکسی ڈینٹ ہو گیا موبائل جیب سے گر کر ٹوٹ گیا آپ کو نیا موبائل مل جائے گا اور یہ کوئی آپ پہلے نہیں ہیں ہر کوئی ایسے کلیم کرتا ہے۔‘ ۔ ہم چپ رہے کچھ نہ  کہا………………… سوشل سیکیورٹی والے میرے دفتر آئے اور کہا کہ آپ کی منتھلی کنٹریبیوشن نہیں آ رہی  (یاد رہے ہر صنعتی ادارے کو ہر ورکر کی ہر مہینے ایک مخصوص اماؤنٹ اد اکرنی پڑتی ہے، محکمہ انہیں ایک کارڈ ایشو کرتا ہے جس سے غریب ورکر سوشل سیکورٹی ہسپتالوں میں فری علاج کرا سکتے ہیں اور ان کے بچے ادارے کے سکولوں میں فری تعلیم حاصل کر سکتے ہیں)۔ میں نے انہیں کمرے میں بٹھایا اور باس کے کمرے میں پہنچا۔ ۔ حاجی صاحب عمرے کے دوران کی جانے والی دعاؤں کی ایک کتاب پڑھنے میں مصروف تھے حاجی صاحب حسب رویت آخری عشرہ مقامت مقدسہ میں گزارنے کی تیاری میں تھے۔ ۔ میں نے جب سوشل سیکورٹی والوں کے آنے کا بتایا تو حاجی صاحب کو جیسے کرنٹ لگ گیا کہنے لگے ’ابھی پچھلے مہینے تو سلیم کے ذریعے انہیں ۵۰،۰۰۰ دیے  تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ ۶ مہینے تک آپ کو تکلیف نہیں دیں گے۔ اللہ غرق کرے ان رشوت خوروں کو‘‘۔ ……………. ٹیکس آفس میری ہیرنگ تھی ۱۵ سے ۲۰ صفحے اٹھائے میں ایڈیشنل کمشنر کے آفس پہنچا۔ ان کے نوٹس کا جواب سٹاف کے حوالے کر کے کمشنر سے ملنے کے لیے انتظارگاہ میں بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دیر میں بلاوا آگیا۔ میں اندر گیا محترمہ کسی گھریلو مسئلے بارے فون پر کسی سے بات چیت  میں مصروف تھیں۔میرے کاغذات اس کے سامنے پڑے تھے۔فون سے فری ہو کر اس نے میرے دیے گئے کاغذات اٹھائے کچھ دیر تک الٹ پلٹ کر دیکھتی رہی پھر بیل بجائی۔ فورا سے بیشتر ایک دست بستہ ملازم جی میڈم کہتے ہوئے پہنچ گیا۔محترمہ نے حکم نادر شاہی صادر کیا کہ فواد کو اندر بھیج دو۔ ملازم واپس چلا گیا تھوڑی ہی دیر میں مسٹر فواد کمرے میں تھے۔ محترمہ نے میرے کاغذات اس کے حوالے کیے اور کہا مجھے ان میں سے ویلتھ سٹیٹمنٹ ڈھونڈ کر دکھاؤ اور میں سوچنے لگا کہ ٹھیک ہی کہتے ہیں خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے۔ …………….. ان تمام واقعات میں آپ میں سے کسی کو اپنا چہرہ نظر آتا ہے تو شرمندہ ہونے کی قطعا ضرورت نہیں کیونکہ ’’ہم زندہ قوم ہیں۔‘

 

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: