’’مجاہد انجینئر‘‘ اور خواہشات کا ٹکراؤ —— فرحان کامرانی

0

سماجی میڈیا کی ریس میں آرکٹ (orkut) کو پٹے بھی لگ بھگ 6 سال تو ہو گئے مگر اس میں بعض چیزیں تھیں بڑی دلچسپ۔ اس کے پروفائل میں اپنے تعارف (about me) کا حصہ بڑا مرکزی ہوتا۔ ہر کوئی اس حصے میں ”اوپر سے آنے“ کی کوشش کرتا تھا۔ راقم بھی تب نوجوان تھا اور ادبی، فلسفی اور ”بھاری“ بننے کے چکر میں اُس نے اس خانے میں ایک بھاری بھرکم شعر لکھ چھوڑاا تھا۔

ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

ادبی باتیں کرنے، دن رات شعر و ادب پڑھنے اور علم نفسیات سے فلرٹ کرنے کا انجام یہ ہوا کہ بعد میں علم نفسیات سے ہی شادی کرنی پڑی اور ادب و شاعری سب ہاتھ سے گئی۔ زندگی میں اور اس کی خواہشات میں ایک مرکز ہو سکتا ہے دو نہیں۔ علم نفسیات تو شائد بہت سے لوگوں کے لئے جز وقتی سرگرمی ہو مگر ادب و شاعری وغیرہ سے تخلیقی دلچسپی کبھی بھی جز وقتی سرگرمی نہیں ہوا کرتی۔ اسی طرح زندگی میں ہزاروں چیزیں ہیں جو خون جگر کی طالب ہوتی ہیں۔

آرکٹ پر ہی راقم نے ایک ”جماعتی“بچے کے تعارف کے حصے میں بڑی دلچسپ بات پڑھی تھی۔ لکھا تھا ”مجاہد انجینئر“۔یہ مرکب ہزاروں (معذرت کے ساتھ لاکھوں لکھا جا نہیں سکتا اس لئے کہ جماعت کے کارکن تین تانگوں میں پورے آ جاتے ہیں) جماعتیوں کی زندگی کا سرورق پر لکھا عنوان بھی ہے اور عمومی طور پر ہمارے سماج کی سب سے بڑی کمزوری کا ہی ایک برملا اظہار بھی۔ ہم سب ہی کسی نہ کسی قسم کے ”مجاہد انجینئر“بننا چاہتے ہیں، اسی لئے نہ تو مجاہدین بن پا رہے ہیں نہ ہی انجینئر۔

کچھ عرصہ قبل کراچی میں ایک اسکول کھلا تھا۔ یہ ایک مذہبی اسکول تھا جس میں حفظ قرآن کے ساتھ ”عصری“ تعلیم بھی فراہم کی جاتی تھی۔اس اسکول کا سلوگن تھا ”متوازن دین و دنیا“ ساتھ ایک تصویر بنی تھی جس میں میزان کے ایک پلڑے میں دنیا دکھائی گئی تھی اور دوسرے میں قرآن مجید۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ دونوں پلڑے بالکل برابر تھے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ لوگ اپنے مذہب سے اتنے دور ہو گئے کہ یہ بھی بھول گئے کہ قرآن کیا، قرآن کا محض ایک کلمہ بھی صرف اس دنیا کے مال و دولت پر ہی نہیں سارے عالم پر بھاری ہے۔ مذہبی اعتبار سے ہدایت اور دنیا داری کے پلڑے بھی برابر نہیں ہو سکتے، جن کے پاس ہدایت ہے، انھوں نے اپنی حیات دنیوی میں مال و دولت کو ٹھکرا کر آخرت کو ترجیح دی۔

مگر معاشرہ یہ بات سمجھ نہیں پا رہا۔ لوگوں کوبچوں کو حافظ بنوانا ہے کہ ان کا جنت میں مقام پکا ہو جائے مگر وہ ساتھ ہی ان کو دنیاوی تعلیم بھی دینا چاہتے ہیں کہ وہ دنیا کے نظام میں بھی ہر دوسرے عام آدمی کی طرح فٹ ہو جائیں۔اس نظام میں جو تمام ان معیارات پر کھڑا ہے جو قرآن سے فرق ہی نہیں بلکہ متصادم ہے۔ ایسا نظام جو لالچ، حرص و ہوس کو اپنا معیار بناتا ہے اور طاقت کو پوجتا ہے، جس کی معیشت سودی، کاروبار جوا اور جہاں کا علم الحاد پر مبنی۔ قرآن صرف یاد کرنے کی نہیں عمل کرنے کی کتاب ہے، پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ جس کتاب میں سود کو حرام قرار دیا گیا ہو اس کا عامل سودی نظام کو مان لے؟

مگر ہمارے ملک نے تو سود کی اور ہر نوع کی قبیح چیزوں کی جواز جوئی کرنے والے نام نہاد عالم بھی پیدا کر دیے۔ شائد یہی ہے متوازن دین و دنیا؟ قرآن میں ہی بنی اسرائیل کا ذکر ہے کہ جب ان کو سبت کے دن دریا جا کر مچھلی پکڑنے سے رکنے کا حکم ملا تو انہوں نے اپنے گھرں کے سامنے سے نہر نکال لی اور ہفتے کو اپنے گھروں کے دروازے پر بیٹھ کر مچھلی پکڑنے لگے۔ خدا کے حکم سے ان کے چہرے بندر جیسے ہو گئے، یہ تھا تاویل پر عذاب۔

مگر اب یہ سارا ہی سماج بڑی حد تک مذہب کو اس کی روح کے ساتھ قبول کرنے پر تیار نہیں۔ اب بس مذہب کا کچھ حصہ ہی اس سماج کو کفایت کرتا ہے۔”مجاہد انجینئر“ میں ”مجاہد“ ایک بڑھک ہے اور ”انجینئر“ حقیقت۔ ”متوازن دین و دنیا“ میں ”دین“ ایک شو پیس ہے اور دنیا حقیقت۔ ہمارا معاشرہ کیوں کہ الحمد اللہ ایک افادی معاشرہ ہے اس لئے لوگ بڑے زور سے پوچھتے ہیں کہ اسکولوں میں اردو، مطالعہ پاکستان اور سماجی علوم جیسے مضامین کیوں پڑھائے جاتے ہیں، یہ تو محض غیر ضروری ہیں۔ ہمارا معاشرہ اتنا کھل کر پوچھ نہیں پاتا مگر وہ یہ سوال پوچھنا اسلامیات کے بارے میں بھی چاہتا ہے۔ پھر ابھی تک اسلام کے ساتھ ”جذبات“ بہرحال وابستہ ہیں۔ امریکا وغیرہ کے بم اور گستاخانہ خاکے بھی لوگوں کو بار بار یاد دلا دیتے ہیں کہ وہ مسلم ہیں۔ راقم کو کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ تب کیا ہو اگر ایک دن مغرب اور دیگر غیر مسلم قوتیں مسلمانوں پر ہر نوع کا ظلم و زیادتی بالکل ہی ترک کر دیں؟ کیا پھر بھی لوگوں کے مذہب سے کوئی جذبات منسلک رہیں گے؟ یعنی سوال یہ ہے کہ کیا ہماری اسلامیت محض کفر کو دیکھ کر جاگتی ہے؟ کیا بروز قیامت ہم سے کسی کافر کے اعمال کا سوال ہو گا یا ہم سب اپنے اپنے اعمال کا جواب دیں گے؟

مذہب کسی کے لئے لیبل ہے، کسی کے لئے تمغہ، کسی کے لئے ٹوپی اور کسی کے لئے سائبان۔ لوگوں کو مطلب کے وقت مذہب یاد آ جاتا ہے، باقی سب کچھ مصلحت کے حسین عنوان کے تحت کر لیا جاتا ہے، لوگوں نے اسلام کو حسب ذائقہ اختیار کرنے کو اپنا کسی نوع کا پیدائشی حق سمجھ لیا ہے۔

یادش بخیر، حضرت عبداللہ ؓ بن سلام صحابی رسول تھے جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے۔بنی اسرائیل کے یہاں اونٹ حرام تھا، آپ جب مسلمان ہوئے تو اونٹ کا گوشت کھانے سے اجتناب کرتے تھے، آپ کے دل میں اس کے لئے کراہت تھی۔ کہنے کو تو یہ ایک چھوٹی سی بات تھی، کہنے کو تو یہ ایک مرضی کا معاملہ تھا، اونٹ کھانا حلال ہے، فرض تو نہیں ہے۔ مگر کیوں کہ کراہت اونٹ نہ کھانے کی وجہ تھی اور حلال سے کراہت اور وہ بھی پچھلے ایمان کی وجہ سے دین کی روح کے خلاف تھا، اس لئے ان کے لئے قرآن میں آیت نازل ہو گئی (مفہوم) کہ ”اللہ کے دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔“ اللہ کا دین مکمل ہے اور 1400 سال سے مکمل ہے۔ تاویلات سے تاغوت کواسلام میں ملا کر اسے مصلحت دنیا کہنے والوں کو نہ تو دین مل رہا ہے نہ ہی دنیا۔ جماعت اسلامی کو نہ تو جمہوریت ہی مل پا رہی ہے نہ اسلام نہ انقلاب۔ مجاہد انجینئر نہ مجاہدبن پا رہے ہیں نہ انجینئر۔ ہاں مجاہد بریلوی جیسے صحافی بن جائیں تو ایک الگ بات ہے۔

(Visited 221 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: