لمحہ فکریہ : پاکستان کے موجودہ حالات کا تاریخی تجزیہ —- محمد خان قلندر

0

اس بات سے قطع نظر کہ اس میں حقیقت کتنی ہے اور سیاست کتنی، پاکستان کی جو تصویر ارباب اختیار خود دنیا کے منظر نامے پر دکھا رہے ہیں وہ ہر ذی شعور پاکستانی شہری کے لئے بے حد باعث تشویش ہے۔

سوال یہ ہونا چاہیئے کہ کیا واقعی ہم بدترین معاشی بحران کا اس قدر شکار ہیں کہ کسی لمحے ملک دیوالیہ ہو سکتا ہے؟
اگر یہ خطرہ منڈلا رہا ہے تو فوری طور پے خوف پیدا ہو گا کہ ہماری ملکی سیکیورٹی اور ایٹمی اثاثے بھی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں ! سیاسی عدم استحکام کا علاج تو حکومت بدلنے اور نئے الیکشن کرانے سے ممکن ہو سکتا ہے لیکن داخلی امن و امان، سیکیورٹی اور معیشت کے مسائل دگرگوں ہو جائیں تو یہ عدم استحکام تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔
جب حکومت کے اعلی ترین ذمہ داران کی طرف سے بھی تشویش اور خطرات لاحق ہونے کی بات تسلسل سے ہونے لگے تو عام لوگوں میں خوف اور عدم اعتماد کی فضا پورے نظام کے لئے خطرہ ہوتی ہے۔ ماضی قریب میں چاہے مختلف وجوہات کی وجہ سے عوامی منفی ردعمل سے کتنے وسائل سے مالامال ممالک بدحالی کا شکار ہو چکے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حقیقت کیا ہے؟
یہ اعداد و شمار تو موم کی ناک ہوتے ہیں۔ ہندسوں کا کھیل ہے ضرورت کے مطابق ان کی جمع تفریق۔ فیصد۔ اعشاریہ اور نسبت تناسب۔ تقابل چارٹ بنا کے مطلوبہ نتائج پیش کئے جا سکتے ہیں۔ مقصد بے چینی اور بے یقینی پیدا کرنا ہو تو ان میں رکھی گئی غلطیاں بہت معاون ہوتی ہیں۔

اس پس منظر کے ساتھ اگر آج پاکستان کی معاشی اور سماجی بدحالی کا تجزیہ کیا جائے تو یہ عیاں ہوتا ہے کہ حکومتی اکابرین کی انتظامی قابلیت سوالیہ نشان ہے!
یہ خرابی نہ گزشتہ دس ماہ میں اچانک پیدا ہوئ ہے اور نہ ہی یہ گزشتہ دس سال میں ہی پروان چڑھی اور اب نمودار ہو گئی۔ لازم یہ ہے کہ ملک کے قیام سے اب تک سسٹم میں پیدا ہونے والی اور پیدا کی گئی بتدریج خرابی کی جڑ پکڑی جائے اس کے محرکات سمجھے جائیں۔ عوامل کا تجزیہ کیا جائے۔ پھر اس کے تدارک کا بندوبست کرتے اس خرابی کے دوبارہ فعال ہونے سے روکنے کا بندوبست کیا جائے !
اب سوال اٹھے گا کہ یہ کرے گا کون؟

ہم نے کھلے دل سے عالمی اداروں کے آگے گھٹنے ٹیک کے یہ اقرار کر لیا ہے کہ بائیس کروڑ آبادی کے ملک میں جو ایٹمی طاقت ہے، دنیا کی بہترین فوج موجود ہے۔ ہماری انٹیلیجنس ایجنسی سر فہرست ہے پر ہمارے پاس فنانس کے پروفیشنل بلکل نہیں ہیں ہماری ملکی مالیاتی ادارے صرف پیشہ ور بابُو اور کلرک رکھتے ہیں۔ پالیسی ساز مہارت عدیم ہے۔
ہم نے ملک کی اعلی ترین قیادت کے لیول پر اندرون ملک اور بیرون ملک ببانگ دُہل اعتراف کیا ہے ہماری اکانومی کرپشن کا گڑھ ہے ہم منی لانڈرنگ کرتے ہیں ایوان اقتدار میں کرپٹ ترین لوگ بیٹھتے رہے ہیں۔ اس اعتراف کا مطلب یہ ہے کہ ملکی انتظامیہ کا ہر پرزہ کرپٹ ہے چاہے کسی بھی ادارے کا ہو۔

اگلا سوال یہ بنتا ہے کہ اس زبوں حالی کا ذمہ دار کون تھا اور اب ہے؟
لاجیکل جواب یہ ہو گا کہ ملک کے اقتدار اعلی کا اعلی ترین ادارہ۔ جمہوریت میں پارلیمان جو مقننہ بھی ہے منتظم بھی۔جب ڈکٹیٹر راج ہو تو وہ اور اسکے معاونین۔ اس میں فوجی اور جمہوری ڈکٹیٹر دونوں شامل کیجئیے۔ آسانی کے لئے اسے اشرافیہ سمجھ لیجئے۔
آئیے اس تنزل کی تاریخ کے ادوار دیکھیں کہ پچاس کی دہائ میں ہمارا نوزائیدہ ملک جس کی اکانومی سرپلس تھی۔ امریکی ڈالر کی قدر ایک روپے سے چار روپوں تک تھی۔ غیر ملکی قرضے سے ہمارا واسطہ نہ تھا۔ وسائل تب بھی مسائل سے کم تھے غربت بھی تھی۔ کساد بازاری بھی ہوئ۔ آٹا چینی کی راشن بندی بھی رہی۔ قوم کے مزاج میں طاقت تھی۔ عوام بھوکی بھی رہتی لیکن یوں مایوس۔ خوف زدہ اور ذہنی انتشار کا شکار نہ تھی۔ تب بھی عالمی ادارے کہتے تھے کہ یہ ملک چند سال بھی نہی چل پائے گا۔ ٹوٹ جائے گا۔ اس وقت قوم نے عوام نے قربانیاں دیں ملک کو سنبھالا۔ اہل ثروت نے لاکھوں کی تعداد میں بھارت سے آنے والوں کو پناہ دی۔

تو آخر ایسا کیا ہوا کہ اگلے چودہ سال میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔ ہم مقروض ہو گئے۔ ڈالر دس روپے سے بڑھ گیا؟
آگے بڑھنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ راقم کا فوجی خاندان سے تعلق ہے۔ فوجی ادارے میں ملازمت کی فوج سے محبت خون میں ہے لیکن حقائق کی تشریح ملکی سلامتی کے لئے بے لاگ کرنی فرض ہے۔ تقسیم ہند کے وقت بھارت میں کتنی ریاستوں کوطاقت استعمال کر کے قبضہ کر کے ملک میں شامل کیا گیا۔ بھارت کو ریاستی ادارے انگریزوں سے بنے بنائے مل گئے تھے۔ پاکستان میں بلوچستان کے سردار اور نواب، بہالپور۔ سوات اور دیگر اکائیاں بخوشی و برضا شامل ہوئیں۔

اس بات کا سارا کریڈٹ قائداعظم کے، ، ویژن، ، کو جاتا ہے قبائلی علاقوں میں وہاں کے نظام کو جاری رکھنے کی اجازت بہت بڑا سود مند فیصلہ تھا کہ وہ لوگ کشمیر کی آزادی میں نوزائیدہ فوج کے شانہ بشانہ شریک ہوئے۔ اُس وقت ملک میں سیاسی عناصر کی اکثریت انگریز دور کے مراعات یافتہ جاگیر دار اور نواب و خان۔ سردار و دیگر پر مشتمل تھی۔ اعلان آزادی کے بعد جو پہلے تقسیم کے مخالف تھے وہ بھی پاکستان کو تسلیم کرتے سیاسی دھارے میں شامل ہو گئے۔ یہ لوگ اپنی روایات کے حامل تھے۔ ان کے درمیان اقتدار میں حصہ دار بننے کی خوائش فطری تھی۔ باہم رقابت بھی تھی۔ محلاتی سازشیں بھی لازم تھیں لیکن یہ سب بھلے اپنے اپنے علاقہ اثر میں اپنا سیاسی کنٹرول رکھنے کو جبر اور زیادتی بھی کرتے ہوں گے لیکن معززین میں شمار لوگ کسی مالی یا مالیاتی کرپشن۔ رشوت یا بدعنوانی میں شریک ہونا افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔

اسی لئے جب جنرل ایوب خان نے مارشل لا کے تحت ایبڈو کا قانون نافذ کر کے ان کی اکثریت پر کرپشن و بدعنوانی کے الزام میں گھر بھیج دیا تو سوائے دو چار کے کسی نے اس اقدام کو چیلنج نہیں کیا تھا کیونکہ اس الزام پر عدالتی کاروائ بھی ان کی مزید بدنامی کا باعث ہوتی۔ یوں ملک میں سیاسی قیادت کا پہلا بڑا خلا پیدا ہوا۔ جسے پُر کرنے کے لئے بنیادی جمہوریت کا نظام نافذ کیا گیا۔ اسمبلیوں میں تو چند سو منتخب ارکان حکومت سازی کرتے تھے ان کی جگہ ملک میں اسی ہزار کے لگ بھگ ( تعداد یاد نہی) لوکل باڈیز کے نمائندوں پر مشتمل صدر کے انتخاب کا الیکٹورل کالج بنا۔ اس نئی کھیپ میں پرانے جاگیرداروں وڈیروں کی اولاد بھی شامل ہوئ لیکن نئی بننے والی صنعتی اور تاجر اشرافیہ کا اثر رسوخ حاوی ہو گیا۔ جن کے بارے میں، ، بیس گھرانے ہیں آباد، ، تو آپ نے سُنا ہو گا۔

جب سیاست زمینداروں کے ہاتھ سے اہل حرفت کے پاس گئی تو وہ لوگ بھی زمیندار سے صنعتکار بننے لگے۔ملک کی زراعت کو اور سیاست میں شرافت کو منفعت بازی کا یہ پہلا بڑا جھٹکا لگا تو سماج میں بھی سرمایہ دار قابض ہو گئے۔ اسی دور میں یورپ سے متروک صنعتی مشینری۔ سودی قرضے۔ پے درآمد کی گئی۔ حکومت کے اخراجات کے لئے بھی قرضے لینا ملک کو ترقی یافتہ بنانے کا طریق ٹھہرا۔ یوں قرض بھی ایک عامل پیداوار بنا اور سُود پیداواری اخراجات میں شامل ہو گیا۔
جاری ہے۔
بقیہ اگلی قسط میں۔۔۔

(Visited 87 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: