اکال گڑھ، علی پور چٹھہ : بچپن کی کچھ یادیں (قسط ۱) — فلک شیر

0

اکال گڑھ یعنی علی پور چٹھہ تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ…. یاد پڑتا ہے کہ 1990ء کے مارچ اپریل میں ہم اپنے گاؤں ورپال چٹھہ سے یہاں منتقل ہوئے تھے. وجہ ہجرت وہی جو ہمیشہ سے رہی ہے، کچھ بڑھتے ہوئے خاندانوں کے باہم سماجی تعلقات اور کچھ دانے پانی پہ لگی مہر…. والد صاحب قبلہ، فیاض الرحمان چیمہ صاحب اسی قصبہ (کچھ احباب کا خیال ہے کہ یہ اب شہر ہے، چلیے یونہی سہی) کے واحد مردانہ ہائی سکول میں اورینٹل ٹیچر تھے اور اس گناہگار کی بہتر تعلیم کے بارے بھی ان کا خیال تھا کہ علی پور منتقل ہونا بہتر رہے گا…. خیر محلہ درس القرآن میں حافظ سعید صاحب مرحوم کی مسجد کی عقبی گلی میں ایک شکستہ سا مکان میسر آیا، یوں ایک دوپہر والدہ اور میں وہاں آ پہنچے، والد صاحب پہلے ہی سامان کے ساتھ پہنچ چکے تھے۔ ایک آدھ دن گھر کے سامان کی ترتیب وغیرہ کے بعد مجھے مڈل سکول المعروف اڈے والے سکول میں داخل کروا دیا گیا۔ سکول کی پہلی یاد جو ذہن میں ہے، وہ یہی ہے کہ سکول بازار میں موجود تھا اور دکانیں آج کی طرح ہر انچ پہ نہیں پائی جاتی تھیں، سکول کے سامنے نکڑ میں پھل فروش کی دکان تھی اور اس کے سامنے عین چوک کے وسط میں دہی بڑے بیچتے ایک پیارے سے بزرگ ہوتے تھے۔ جیب خرچ سب بچوں کا محدود سا ہوتا تھا، سو پھل فروش کی دکان سے جوس پینا عیدی یا کسی غیبی خزانے کی دریافت تک معطل و مؤخر رکھا جاتا تھا اور اس میں کسی دکھ کی شمولیت غالباً نہیں ہوتی تھی، ایک شاہانہ سی ادا تھی، کہ پھر سہی۔ ویسے بھی ابھی گھروں میں پکے سالن روٹی میں لذت اور رچاؤ موجود تھا، برگر پزا اور ہر گلی میں دو دو “فوڈ پوائنٹ” موجود نہ تھے۔ خیر سکول پہ پھر کبھی بات ہو گی ان شاءاللہ۔ ابھی تو آج کی کھینچی اس تصویر کے حوالے سے کچھ۔

یہ تصویر پکی ڈیوڑھی کی ہے، اس سے متصل محلہ کو محلہ پکی ڈیوڑھی کہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں یہ شہر کا دروازہ تھا اور اسی کے ذریعے لوگ اندر باہر آیا جایا کرتے تھے، ایسا ہی ہو گا، ہم نے تو جب دیکھا، تب شہر پناہ کہیں نہ تھی، یہی ایک بڑا سا دروازہ تھا، جس کے نیچے سے یقیناً کسی زمانے میں ہاتھی تک گزر سکتا ہو گا۔ داخل ہوتے ہی دونوں طرف دو زینے ہیں، جو اوپر کی طرف چڑھتے ہیں، جن کے پیچھے دوتھڑے سے بنے ہیں، جو دراصل دو نوں طرف بنے دو کمروں اور ان کے پیچھے کی دو کوٹھریوں کا مختصر سا خلفی حصہ ہیں۔ ایک اس زمانے میں غالباً یونین کونسل کے کاٹھ کباڑ، عرف عام میں جیسے ریکارڈ کہتے ہیں، کا مسکن تھا اور آج کل ایک عدد لائبریری، جس میں کسی ذی روح کو اس فقیر نے کبھی داخل ہوتے نہیں دیکھا، غالباً اس کی ایک وجہ وہاں داستانِ امیر حمزہ و شُتر غمزہ کے بعد کے زمانے کی کسی کتاب کا موجود نہ ہونا ہے۔ دوسری طرف ایک صاحب رہتے تھے، جن کا نام اکبر صاحب تھا، وہ انگریزی زبان میں ماہر گنے جاتے تھے، ان کی رہائش تھی۔ اس سے آگے دائیں طرف لڑکیوں کے ہائی سکول والی گلی تھی، ، جبکہ بائیں طرف ماسٹر جان صاحب والی گلی۔ اسی طرف سے سیدھا چلتے جائیں تو تھوڑا آگے جا کر دائیں طرف ایک رستہ نکلتا تھا، جو “دائرہ” تھا، عرف عام میں ہم سب جسے “دارہ” کہتے تھے۔ یہ گو یا ایک ڈیرہ، بیٹھک، بچوں کے کھیلنے کی جگہ اور اہل تشیع، جو اس کے اردگرد رہائش پذیر تھے، ان کی مذہبی مجالس کی جگہ تھی۔ اس دارے سے آگے جو گلی نکلتی تھی، وہاں ماسٹر چاند اور ان کے بھائی علی حیدر صاحبان کی رہائش تھی، علی حیدر صاحب کے بچے انہیں چچا کہتے تھے، جو مجھے عجیب لگتا تھا، کہ کوئی اپنے والد کو چچا کیسے کہہ سکتا ہے، حالانکہ خود میں اپنی والدہ کو بچپن سے اب تک باجی کہتا چلا آ رہا ہوں، کبھی عجیب محسوس نہیں ہوا۔ یہ دونوں بزرگ کثیرالعیال تھے اور علی حید ر صاحب کا بیٹا عقیل شاہ بعد میں ہائی سکول میں میرا ہم جماعت بھی بنا۔ ان کی رہائش ہندوؤں کے زمانے کی بنی ایک دومنزلہ عمارت میں تھی، وہی پرانی چھوٹی اینٹ کی چنائی اور سیمنٹ کے ساتھ چونے اور دیگر مقویات کی آمیزش، چھت کافی اونچی، اس پہ کبوتروں کی کابک اور منڈیریں قدآدم سے کافی اونچی۔ خیر ان کے گھر تو شاید سات آٹھ برس میں گنتی کے چند دفعہ ہی گیا ہوں گا، کیونکہ وہاں پھیلا اندھیرا، تاریک سیڑھیاں اور ہندوؤں کے زمانے کی عمارت ہونے کے حوالے سے سنی سینہ بہ سینہ کہانیاں ہی اتنی تھیں، کہ ادھر جانا سیدھا سادھا کسی مرجینا کے غا ر میں جانے برابر تھا۔

بہرحال محلہ درس القرآن والا مکان چند ہی ماہ کے بعد چھوڑ کر اسی پکی ڈیوڑھی محلہ میں لڑکیوں کے ہائی سکول کے قریب ایک مہاجر بزرگ بابا جی عزیز نمبردار کے چھوٹے چھوٹے دو متصل مکانوں میں سے ایک میں آ مقیم ہوئے۔ ہمارے والا گھر نسبتاً بڑا تھا، دونوں گھروں کے درمیان ایک مختصر سی دیوار اور اس سے بھی مختصر سا کھڑکی نما دروازہ تھا۔ دونوں گھر اتنے قریب واقع ہوئے تھے کہ ایک دوسرے کی غیبت کرنے کے لیے پچھلے کمروں میں جانا پڑتا تھا۔ بہرحال اس ساتھ والے گھر میں دو ہی خاندان ہمارے ساتھ رہے، ایک تو خاتون ٹیچر تھیں اور ان کی چھوٹی چھوٹی بچیاں، جن میں سے ایک کو کسی بھی قسم کی ادویات سے خدا واسطے کا بیر تھا، جہاں ہے جیسے ہے جو بھی ہے کی بنیاد پہ وہ کسی بھی قسم کی دوائی کواندر اتارنے کی کوشش کرتی تھی۔ یہ خاندان اہل تشیع کا تھا اور انہی کے ہاں پہلی دفعہ میں نے محرم الحرام میں نویں دسویں کو چارپائیاں اُلٹی دیکھیں اور انہیں ننگے پاؤں چلتے دیکھا، سچی بات ہے مجھے بڑا ترس آیا کہ یہ لوگ ایسا کیوں کر رہے ہیں، بعد میں پتہ چلا کہ یہ انکا مذہبی طریقہ ہے۔ یہ خاتون دل کی بہت اچھی تھیں اور میری والدہ کے ساتھ ان کا بڑا محبت بھرا تعلق بعد میں، جب وہ ایک اور محلے اپنا مکان بنا کر چلی گئیں، تب بھی قائم رہا۔ دوسرا مکان ایک چٹھہ خاندان تھا، جن کے دو بچے میرے ہم عمر تھے اور ان کی والدہ سے میری والدہ صاحبہ کا بہنوں جیسا رشتہ اب بھی قائم ہے، گو کہ اب وہ لاہور ہوتے ہیں۔

پکی ڈیوڑھی محلہ میں کوئی درجن بھر پرانے حویلی نما مکانا ت ہندوؤں کے زمانے کے موجود تھے اور ان کا رقبہ کھلااور تعمیر پرانے انداز کی، جیسا کہ اوپر ایک مکان کے ذکر میں بتا چکا ہوں۔ ان مکانوں میں سے ایک مکان بازار کی طرف کھلنے والی گلی، جس کے سامنے کسی بزرگ کی آرام گاہ بھی ہے، میں موجود تھا، اس کے بارے میں ہم بچوں میں ایک روایت اپنے تواتر کی وجہ سے صحیح و مستند تسلیم کی جاتی تھی، تواتر نہ بھی ہوتا، تو کیا تھا، دن رات جب آ پ کی آنکھوں کے سامنے ایسی پراسرار عمارتیں موجود رہیں، ان کے اندر گھسنے کی ہمت نہ ہو، تو تخیل اندر کی کہانیاں خود ہی گھڑ لیتا ہے، جسے کہیں سے ذرا بھی تڑکا کان پڑی کسی بات کا لگ جائے تو روایت خود ہی پختہ ہوجاتی ہے۔ ویسے بھی یہ بازار اس محلے کی عام گلیوں کے برعکس کافی چوڑا تھا اور سر شام ہی وہاں نیم اندھیرا اور قدیم داستانوں والی الف لیلوی سی خاموشی طاری ہوجاتی تھی، گویا ابھی کچھ ہوا کہ ہوا، ایسے میں مجھے وہاں سے کبھی گزرنا ہوتا تھا، تو ایک فارمولا میں نے خود ہی سے گھڑ لیا تھا، میں آنکھیں بند کر لیتا، پوری رفتار سے دوڑنا شروع کر دیتا اور آیت الکرسی کا ورد مسلسل جاری رکھتا، حتی کہ ایک ڈیڑھ منٹ بعد غلام رسول جراح والی نکر آتی اور ساتھ ہی جان میں جان بھی۔ اس حویلی والی روایت تو رہ ہی گئی، تو وہ کچھ یوں تھی کہ اس حویلی سے دو دیگیں سونے کی برآمد ہوئی ہیں اور اس کی کھدائی کے دوران اور بھی بہت کچھ ملا ہے۔ جو اس کے مالکوں نے، جن کا بڑے بازار میں کپڑے کا کاروبار ہے، چھپا دیا ہے۔ کچھ ہی دیر بعد اس خالی جگہ پہ ایک عالی شان کوٹھی نمودار ہوئی، جسے میں نے لازماً انہی دیگوں میں سے ایک کی کرامت قرار دیا اور خزانے کی تلاش تیز کر دی۔ ظاہر ہے خود تو ایسی عمارتوں کے قریب پھٹکنا بھی میرے لیے مشکل تھا، تو ایک دو دوست جن کی رہائش ایسی ہی ایک دوعمارتوں میں تھی، ان کے ساتھ کبھی ان کے گھر جاتا، تو اپنی جاسوسی کی صلاحیتیں، جنہیں علی عمران ایم ایس سی، ڈی ایس سی(آکسن) المعروف ایکس ٹو اور عمرو عیار کی کہانیاں پڑھ پڑھ کر بہتر کرنے کی مسلسل جدوجہد جاری رکھتا تھا، استعمال کرتے ہوئے اندازہ لگاتا کہ خزانہ کہاں سے مل سکتا ہے، افسوس کہ اس سلسلہ میں کوئی مستقل مزاج اور سنجیدہ مزاج ساتھی میسر نہ آنے کی وجہ سے کوئی خاص کامیابی نہ ہوئی اور واحد خزانہ جو میرے ہاتھ لگا، وہ چند اٹھنیاں اور ایک چونی تھی۔ ہوا یوں کہ ایک دن استاد محترم حکیم محمد علی الہاشمی، جن کے والد مشہدی کلہ باندھے گویا ابھی بھی مجھے مولانا اسحاق کھٹانہ مرحوم کے جمعہ میں بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں، اللہ اکبر!۔ ۔ تو ہاشمی صاحب کی گلی میں ایک دوست کے گھر کے ساتھ ایسی ہی ایک پرانی عمارت، ملبہ جس کا اٹھایا جا چکا تھا، میں کرکٹ کھیلنے گئے تو مجھے اس عمارت کی ڈیڑھ فٹ چوڑی دیوار کی ایک طرف ایک لڑکا کچھ کھودتا اور پھر چاروں طرف دیکھتے بھالتے بھاگتا ہوا نظر آیا، میرے کان کھڑے ہوئے اور میں نے سمجھا کہ لو جی، آج خزانے کی کنجی ہاتھ آئی، یہ لونڈا ہو نہ ہو، کسی خفیہ ریکٹ کا نمائندہ ہے اور یہاں اپنے خزانے کے رستے کی کنجی چھپانے آیا ہے، سو تمام احتیاطیں استعمال کرتے ہوئے جا کر وہاں سے اینٹ ہٹا کر دیکھی تو اوپر بیان کیا گیا “خزانہ” ہاتھ لگا، بس اس واقعے نے میرے اس مزعومہ کیریر پہ قریب قریب فل اسٹاپ لگا دیا۔

ہمارے گھر کی پچھلی سمت ایک بڑا سا گھر تھا، جس میں ایک راجپوت فیملی منتقل ہوئی، آنٹی بہت صابر اور سلجھی ہوئی خاتون تھیں، پہلی دفعہ ان سے راجپوتوں کی مخصوص زبان سننے کا موقع ملا۔ ہماری چھت اور ان کی چھت ملی ہوئی تھی اور ضرورت کے وقت آنا جانا بھی تھا، ان دونوں میرے پاس ایک توتا تھا، پہلے جسے طوطا کہتے تھے، پھر ہمارے ماہرین لسانیات، شاید رشید حسن خان جیسے بزرگوں نے اسے مناسب نہ سمجھا اور توتا کہلانا درست ٹھہرا، چلیں جو پیا من بھائے وہی سہی، تو ایک عدد ‘گانی والا توتا’ میرے پاس تھا۔ اصل میں مجھے اس نسل کے توتوں کا بچپن سے ہی بہت شوق تھا، لیکن والد صاحب سے اس قسم کے شوق کا اظہار مشکل ہوتا تھا۔ یہ والا توتا بھی میرے ماموں نے مجھے کہیں سے لا کر دیا تھا شاید۔ بہرحال جیسے کہانی میں ایک توتا ہوتا ہے اور اس توتے میں شہزادے کی یا جادوگر کی جان ہوتی ہے، تو اس توتے میں میری جان تھی، گو کہ میں شہزاددہ تھا نہ جادوگر، عام سا ایک بچہ تھا، خوفزدہ سا، انٹروورٹ سا۔ تو ایک دن ان ہمسایوں کی اک بچی مجھ سے اس توتے کو کچھ دیر کھیلنے کے لیے لے گئی، مروت آڑے آ گئی، آج بھی آ جاتی ہے اور کسی کو نہ کہتے ہوئے مشکل آ پڑتی ہے، ورنہ توتے کو ایک منٹ خود سے دور کرنا میرے لیے مشکل ہوتا تھا۔
خیر! آگے دیکھتے ہیں توتے کا کیا بنتا ہے 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

(Visited 308 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: